🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2484. -- باب:: سواء كل موات لا مالك له أين كان
-- باب: ہر وہ بنجر زمین جس کا کوئی مالک نہ ہو وہ برابر ہے، چاہے وہ کہیں بھی ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11801
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَقْطَعَ النَّاسَ الدُّورَ، فَقَالَ لَهُ حَيٌّ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو عَبْدِ بْنِ زُهْرَةَ نَكِّبْ عَنَّا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلِمَ ابْتَعَثَنِي اللهُ إِذًا؟ أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُقَدِّسُ أُمَّةً لَا يُؤْخَذُ لِلضَّعِيفِ فِيهِمْ حَقُّهُ؟".
یحییٰ بن معدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو گھر الاٹ کیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک قبیلے بنو عمید بن ذھرہ نامی نے آپ سے کہا کہ ہم سے ام عبد کے بیٹے کو دور کردو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اللہ نے کس لیے بھیجا ہے؟ اللہ تعالیٰ اس وقت تک امت کو پاک نہیں کرتا جب تک کمزوروں کا حق دوسروں سے لے کر ان تک پہنچا نہیں دیا جاتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11801]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ الام 4/48»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11802
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَقْطَعَ الزُّبَيْرَ أَرْضًا".
ہشام اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ کو زمین الاٹ کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11802]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ الام 4 48»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11803
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَقْطَعَ الزُّبَيْرَ، وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ أَقْطَعَ، وَأَنَّ عُمَرَ أَقْطَعَ النَّاسَ الْعَقِيقَ".
ہشام اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ کو زمین دی، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی جاگیر دی اور عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو عقیق نامی جگہ بطور جاگیر دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11803]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11804
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَتْ:" كُنْتُ أَنْقُلُ النَّوَى مِنْ أَرْضِ الزُّبَيْرِ الَّتِي أَقْطَعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَأْسِي وَهِيَ مِنِّي عَلَى ثُلُثَيْ فَرْسَخٍ" أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ.
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، انہوں نے کہا: میں اپنے سر پر کھجور کی گٹھلیاں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی زمین سے لاتی تھی، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بطور جاگیر دی تھی اور وہ زمین مجھ سے دو تہائی فرسخ دور تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11804]
تخریج الحدیث: «بخاري 3151، مسلم:2182»

الحكم على الحديث: بخاري 3151، مسلم:2182
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2485. -- باب: ما جاء في الحمى
-- باب: چراگاہ محفوظ کرنے (حمیٰ) کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11805
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ مِلْحَانَ، وَعُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، قَالَا: ثنا يَحْيَى، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" ⦗٢٤٢⦘ لَا حِمَى إِلَّا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ"، قَالَ: وَبَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمَى النَّقِيعَ، وَأَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حَمَى الشَّرَفَ وَالرَّبَذَةَ لَفْظُ حَدِيثِ عُبَيْدٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ هَكَذَا.
حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چراگاہ صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے“۔ راوی کہتے ہیں: ہمیں پتہ چلا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نقیع کی چراگاہ تیار کروائی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شرف اور ربذہ کی چراگاہ تیار کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11805]
تخریج الحدیث: «بخاري 2370»

الحكم على الحديث: بخاري 2370
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11806
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا حِمَى إِلَّا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ" قَالَ الزُّهْرِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ كَانَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ حِمًى، بَلَغَنِي أَنَّهُ كَانَ يَحْمِيهِ لِإبلِ الصَّدَقَةِ.
سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ ”چراگاہ صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے۔“
زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بھی ایک چراگاہ تھی، مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ وہ اسے صدقہ کے اونٹوں کے لیے محفوظ رکھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11806]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبد الر زاق 19750»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11807
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَاهَانَ الْحَرَّانِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمَى النَّقِيعَ وَقَالَ:" لَا حِمَى إِلَّا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ" قَالَ الْبُخَارِيُّ: هَذَا وَهْمٌ. قَالَ الشَّيْخُ: لِأَنَّ قَوْلَهُ: حَمَى النَّقِيعَ، مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ.
صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نقیع کو چراگاہ بنایا اور فرمایا: ”چراگاہ صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے“۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ وہم ہے۔ شیخ (بیہقی) فرماتے ہیں: کیونکہ ”نقیع کو چراگاہ بنایا“ کے الفاظ زہری کا قول ہیں، اور ابن ابی الزناد نے بھی عبدالرحمن بن حارث سے اسی طرح بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11807]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11808
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" حَمَى النَّقِيعَ لِخَيْلِ الْمُسْلِمِينَ تَرْعَى فِيهِ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نقیع کی چراگاہ مسلمانوں کے گھوڑوں کے لیے تیار کروائی کہ ”وہ اس میں چریں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11808]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11809
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اسْتَعْمَلَ مَوْلًى لَهُ يُدْعَى هُنَيًّا عَلَى الْحِمَى، ⦗٢٤٣⦘ فَقَالَ لَهُ:" يَا هُنِيُّ، اضْمُمْ جَنَاحَكَ عَنِ الْمُسْلِمِينَ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ؛ فَإِنَّ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ مُجَابَةٌ، وَأَدْخِلْ رَبَّ الصُّرَيْمَةِ وَالْغُنَيْمَةِ، وَإِيَّايَ وَنَعَمَ ابْنِ عَفَّانَ وَنَعَمَ ابْنِ عَوْفٍ؛ فَإِنَّهُمَا إِنْ تَهْلِكْ مَاشِيَتُهُمَا يَرْجِعَانِ إِلَى نَخْلٍ وَزَرْعٍ، وَإِنَّ رَبَّ الصُّرَيْمَةِ وَالْغُنِيمَةِ إِنْ تَهْلِكْ مَاشِيَتُهُمَا يَأْتِنِي بِبَيْتِهِ فَيَقُولُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَفَتَارِكُهُمْ أَنَا لَا أَبَا لَكَ؟ فَالْمَاءُ وَالْكَلَأُ أَيْسَرُ عَلَيْكَ مِنَ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، وَايْمُ اللهِ إِنَّهُمْ لَيَرَوْنَ أَنِّي قَدْ ظَلَمْتُهُمْ، إِنَّهَا لَبِلَادُهُمْ قَاتَلُوا عَلَيْهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَأَسْلَمُوا عَلَيْهَا فِي الْإِسْلَامِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا الْمَالُ الَّذِي أَحْمِلُ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللهِ مَا حَمَيْتُ عَلَى النَّاسِ فِي بِلَادِهِمْ شِبْرًا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ مَالِكٍ.
زید بن اسلم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے ہنی نامی غلام کو (سرکاری) چراگاہ کا حاکم بنایا تو انہیں یہ ہدایت کی کہ اے ہنی! مسلمانوں سے اپنے ہاتھ روکے رکھنا (ان پر ظلم نہ کرنا) اور مظلوم کی بدعا سے ہر وقت بچتے رہنا، کیونکہ مظلوم کی بدعا قبول ہوتی ہے اور ابن عوف اور ابن عفان رضی اللہ عنہما (امیر) کے مویشیوں کے بارے میں تجھے ڈرتے رہنا چاہیے (یعنی ان کے امیر ہونے کی وجہ سے دوسرے غریبوں کے مویشیوں پر چراگاہ میں انہیں مقدم نہ رکھنا)؛ کیونکہ اگر ان کے مویشی ہلاک بھی ہو جائیں گے تو یہ امیر لوگ اپنے کھجور کے باغات اور کھیتوں سے اپنی معاش حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن گنے چنے اور گنی چنی بکریوں کا مالک (غریب) کہ اگر اس کے مویشی ہلاک ہو گئے تو وہ اپنے بچوں کو میرے پاس لائے گا اور فریاد کرے گا: یا امیر المومنین! کیا میں انہیں چھوڑ دوں؟ اس لیے (پہلے ہی سے) ان کے لیے چارے اور پانی کا انتظام کر دینا میرے لیے اس سے زیادہ آسان ہے کہ میں ان کے لیے سونے چاندی کا انتظام کروں اور خدا کی قسم! وہ (اہل مدینہ) یہ سمجھتے ہوں گے کہ میں نے ان کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ کیونکہ یہ زمینیں انہی کی ہیں، انہوں نے جاہلیت کے زمانہ میں ان کے لیے لڑائیاں لڑی ہیں اور اسلام لانے کے بعد بھی ان کی ملکیت کو بحال رکھا گیا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر وہ اموال (گھوڑے) نہ ہوتے جن پر جہاد میں لوگوں کو سوار کرتا ہوں تو ان کے علاقہ میں ایک بالشت زمین کو بھی چراگاہ نہ بناتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11809]
تخریج الحدیث: «بخاري 3059»

الحكم على الحديث: بخاري 3059
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11810
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى أَبِي أُسَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: سَمِعَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ وَفْدَ أَهْلِ مِصْرَ قَدْ أَقْبَلُوا، فَاسْتَقْبَلَهُمْ، فَلَمَّا سَمِعُوا بِهِ أَقْبَلُوا نَحْوَهُ، قَالَ: وَكَرِهَ أَنْ يَقْدَمُوا عَلَيْهِ الْمَدِينَةَ، فَأَتَوْهُ فَقَالُوا لَهُ: ادْعُ بِالْمُصْحَفِ وَافْتَحِ السَّابِعَةَ، وَكَانُوا يُسَمُّونَ سُورَةَ يُونُسَ السَّابِعَةَ، فَقَرَأَهَا حَتَّى أَتَى عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ {أَفَرَأَيْتُمْ مَا أَنْزَلَ اللهُ لَكُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْهُ حَرَامًا وَحَلَالًا قُلْ آللَّهُ أَذِنَ لَكُمْ أَمْ عَلَى اللهِ تَفْتَرَونَ}، قَالُوا: لَهُ قِفْ، أَرَأَيْتَ مَا حَمَيْتَ مِنَ الْحِمَى، آللَّهُ أَذِنَ لَكَ أَمْ عَلَى اللهِ تَفْتَرِي؟ فَقَالَ:" امْضِهْ، نَزَلَتْ فِي كَذَا وَكَذَا، فَأَمَّا الْحِمَى فَإِنَّ عُمَرَ حَمَى الْحِمَى قَبْلِي لِإبلِ الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا وُلِّيتُ زَادَتْ إِبِلُ الصَّدَقَةِ فَزِدْتُ فِي الْحِمَى لِمَا زَادَ فِي الصَّدَقَةِ".
ابو اسید انصاری رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو سعید کہتے ہیں: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے سنا کہ اہل مصر کا وفد آیا ہے تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کا استقبال کیا۔ جب انہوں نے سنا تو وہ بھی متوجہ ہوئے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کا مدینہ آنا بھی مکروہ خیال کیا۔ وہ آپ کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: مصحف منگواؤ اور ساتویں سورت کی تلاوت کرو (اور سابقہ سورہ یونس کا نام لیتے تھے)۔ آپ نے تلاوت شروع کی۔ جب اس آیت پر پہنچے: ﴿قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْهُ حَرَامًا وَحَلَالًا قُلْ آللَّهُ أَذِنَ لَكُمْ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرُونَ﴾ [سورة يونس: 59] ”کہہ دیں تمہارا کیا خیال ہے جو اللہ نے تمہارے لیے رزق نازل کیا پس تم نے اپنی مرضی سے حلال اور حرام بنا لیا ہے کہہ دیں: کیا اللہ نے تم کو اجازت دی ہے یا تم اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو۔“ انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا: ٹھہر جاؤ! آپ کا کیا خیال ہے آپ نے جو چراگاہ بنائی ہے؟ کیا اللہ نے آپ کو اجازت دی ہے یا تم نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے؟ آپ نے کہا: پڑھتے جاؤ! یہ آیت فلاں بارے میں نازل ہوئی ہے۔ پس رہا چراگاہ کا معاملہ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پہلے صدقہ کے اونٹوں کے لیے بنائی تھی۔ پس جب میں خلیفہ بنا تو صدقہ کے اونٹ بھی زیادہ ہو گئے اس لیے میں نے چراگاہ میں زیادتی کر دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11810]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن ابي شيبه 37690»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں