السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2486. -- باب: ما يكون إحياء، وما يرجى فيه من الأجر
-- باب: احیاء (آباد کرنا) کس چیز سے ثابت ہوتا ہے، اور اس میں جس اجر کی امید کی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 11821
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا ابْنُ مُبَارَكٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ نَجِيحٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ عُمَرَ" جَعَلَ التَّحَجُّرَ ثَلَاثَ سِنِينَ، فَإِنْ تَرَكَهَا حَتَّى يَمْضِيَ ثَلَاثُ سِنِينَ فَأَحْيَاهَا غَيْرُهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا".
حضرت عمرو بن شعیب رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نشان لگانے کی مدت تین سال مقرر کی، پس اگر وہ چھوڑ دے یہاں تک کہ تین سال گزر جائیں، پھر اس آدمی کے علاوہ کسی اور نے آباد کیا تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11821]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11822
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَسَنِ بْنِ الْقَاسِمِ الْأَزْرَقِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ نَضْلَةَ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ قَامَ بِفِنَاءِ دَارِهِ فَضَرَبَ بِرِجْلِهِ وَقَالَ: سَنَامُ الْأَرْضِ إِنَّ لَهَا سَنَامًا، زَعَمَ ابْنُ فَرْقَدٍ الْأَسْلَمِيُّ أَنِّي لَا أَعْرِفُ حَقِّيَ مِنْ حَقِّهِ، لِي بَيَاضُ الْمَرْوَةِ وَلَهُ سَوَادُهَا، وَلِي مَا بَيْنَ كَذَا إِلَى كَذَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ:" لَيْسَ لِأَحَدٍ إِلَّا مَا أَحَاطَتْ عَلَيْهِ جُدْرَانُهُ، إِنَّ إِحْيَاءَ الْمَوَاتِ مَا يَكُونُ زَرْعًا أَوْ حَفِيرًا أَوْ يُحَاطُ بِالْجُدْرَانِ" ⦗٢٤٦⦘ قَالَ الشَّيْخُ: قَوْلُهُ: إِنَّ إِحْيَاءَ الْمَوَاتِ إِلَى آخِرِهِ، أَظُنُّهُ مِنْ قَوْلِ الشَّافِعِيِّ؛ فَقَدْ رَوَاهُ الْحُمَيْدِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَسَنِ دُونَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
علقمہ بن نضلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ اپنے گھر کے صحن میں کھڑے تھے، انہوں نے اپنا پاؤں زمین پر مارا اور کہا: زمین کوہان کی طرح ہے اور ابن فرقد اسلمی رضی اللہ عنہ نے گمان کیا کہ میں اپنا حق اس کے حق سے نہیں پہچانتا، میرے لیے سفید اور اس کے لیے سیاہ ہے اور میری زمین یہاں سے وہاں تک ہے۔ پس سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا: ہر ایک کے لیے وہی ہے جس کا احاطہ اس کی دیواروں نے کیا ہے۔ بیشک بنجر زمینوں کو آباد کرنا وہ ہے جو زرعی ہوں یا ان میں گڑھا کھودا گیا ہو یا دیواروں سے ان کا احاطہ کر لیا جائے۔
شیخ (بیہقی) فرماتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ”بنجر زمینوں کو آباد کرنا“ سے آخر تک کے الفاظ امام شافعی کا قول ہیں، کیونکہ حمیدی نے اسے عبدالرحمن بن حسن سے ان الفاظ کے بغیر روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11822]
شیخ (بیہقی) فرماتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ”بنجر زمینوں کو آباد کرنا“ سے آخر تک کے الفاظ امام شافعی کا قول ہیں، کیونکہ حمیدی نے اسے عبدالرحمن بن حسن سے ان الفاظ کے بغیر روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11822]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ امام شافعي 4/46»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11823
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَكِيمِ بْنُ رُزَيْقٍ قَالَ: قَرَأْتُ كِتَابَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى أَبِي:" أَنْ أَجِزْ لَهُمْ مَا أَحْيَوْا بِبُنْيَانٍ أَوْ حَرْثٍ".
حکیم بن رزیق فرماتے ہیں: میں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا خط پڑھا جو میرے والد کی طرف آیا تھا کہ جو انہوں نے آباد کیا وہ ان کو دیواروں یا کھیتی کے ساتھ دے دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11823]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ الخراج 292»
الحكم على الحديث: صحيح
2487. -- باب: من أقطع قطيعة أو تحجر أرضا ثم لم يعمرها أو لم يعمر بعضها
-- باب: جس شخص کو کوئی جاگیر دی گئی، یا اس نے کسی زمین کے گرد پتھر رکھ کر حد بندی کی، پھر اس نے اسے یا اس کے کچھ حصے کو آباد نہ کیا۔
حدیث نمبر: 11824
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ مِنَ الْمَعَادِنِ الْقَبَلِيَّةِ الصَّدَقَةَ، وَإِنَّهُ أَقْطَعَ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْعَقِيقَ أَجْمَعَ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لِبِلَالٍ:" إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُقْطِعْكَ لِتُحْجِرَهُ عَنِ النَّاسِ، لَمْ يُقْطِعْكَ إِلَّا لِتَعْمَلَ" قَالَ: فَأَقْطَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِلنَّاسِ الْعَقِيقَ.
حارث بن بلال اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پرانی کانوں سے صدقہ وصول کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کو عقیق کی زمین دی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ میں بلال رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے نہ دی تھی کہ تو لوگوں سے روک لے، بلکہ کام کرنے کے لیے دی تھی۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ زمین لوگوں میں الاٹ کر دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11824]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11825
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا يُونُسُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ: جَاءَ بِلَالُ بْنُ الْحَارِثِ الْمُزَنِيُّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَقْطَعَهُ أَرْضًا، فَقَطَعَهَا لَهُ طَوِيلَةً عَرِيضَةً، فَلَمَّا وَلِيَ عُمَرُ قَالَ لَهُ:" يَا بِلَالُ، إِنَّكَ اسْتَقْطَعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضًا طَوِيلَةً عَرِيضَةً قَطَعَهَا لَكَ، وَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ لِيَمْنَعَ شَيْئًا يُسْأَلُهُ، وَإِنَّكَ لَا تُطِيقُ مَا فِي يَدَيْكَ" فَقَالَ: أَجَلْ، قَالَ:" فَانْظُرْ مَا قَوِيتَ عَلَيْهِ مِنْهَا فَأَمْسِكْهُ، وَمَا لَمْ تُطِقْ فَادْفَعْهُ إِلَيْنَا نَقْسِمْهُ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ" فَقَالَ: لَا أَفْعَلُ وَاللهِ، شَيْءٌ أَقْطَعَنِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ:" وَاللهِ لَتَفْعَلَنَّ" فَأَخَذَ مِنْهُ مَا عَجَزَ عَنْ عِمَارَتِهِ فَقَسَمَهُ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ.
سیدنا عبداللہ بن ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زمین بطور جاگیر مانگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لمبی چوڑی زمین دے دی۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے کہا: اے بلال! تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لمبی چوڑی زمین حاصل کی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سوال کرنے والے کو خالی نہ لوٹاتے تھے اور تو اس کی طاقت نہیں رکھتا جو تیرے پاس ہے۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو اس کو دیکھ جو طاقت رکھتا ہے اتنی رکھ لے اور باقی دے دے، ہم مسلمانوں میں تقسیم کر دیں، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ایسا نہ کروں گا جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تجھے ایسا ضرور کرنا پڑے گا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے وہ زمین لے لی جسے وہ آباد کرنے سے عاجز تھے اور مسلمانوں میں تقسیم کر دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11825]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11826
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قَالَ:" قَطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَقِيقَ رَجُلًا وَاحِدًا، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَثُرَ عَلَيْهِ، فَأَعْطَاهُ بَعْضَهُ وَقَطَعَ سَائِرَهُ النَّاسَ".
ابن طاؤس اپنے والد سے اور وہ مدینہ کے ایک آدمی سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عقیق نامی جگہ ایک آدمی کو دی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ میں اسے زیادہ محسوس کیا تو بعض اس کو دی اور بعض دوسرے لوگوں میں بانٹ دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11826]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2488. -- باب: من أقطع قطيعة فباعها
-- باب: اس شخص کے بیان میں جسے کوئی جاگیر دی گئی اور اس نے اسے فروخت کر دیا
حدیث نمبر: 11827
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي سَبْرَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الربيع الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، ⦗٢٤٧⦘ عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فِي مَوْضِعِ الْمَسْجِدِ تَحْتَ دَوْمَةٍ فَأَقَامَ ثَلَاثًا، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى تَبُوكَ، وَإِنَّ جُهَيْنَةَ لَحِقُوهُ بِالرَّحْبَةِ، فَقَالَ لَهُمْ:" مَنْ أَهْلُ ذِي الْمَرْوَةِ؟" فَقَالُوا: بَنُو رِفَاعَةَ مِنْ جُهَيْنَةَ، فَقَالَ:" قَدِ أَقْطَعْتُهَا لِبَنِي رِفَاعَةَ"، فَاقْتَسَمُوهَا، فَمِنْهُمْ مَنْ بَاعَ وَمِنْهُمْ مَنْ أَمْسَكَ، فَعَمِلَ ثُمَّ سَأَلْتُ أَبَاهُ عَبْدَ الْعَزِيزِ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَحَدَّثَنِي بِبَعْضِهِ وَلَمْ يُحَدِّثْنِي بِهِ كُلِّهِ.
سیدنا سبرہ بن عبدالعزیز اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دومہ کے نیچے مسجد والی جگہ پر اترے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین دن ٹھہرے، پھر تبوک کی طرف گئے اور جہینہ قبیلے کے لوگ رحبہ کے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”مروہ والے کون ہیں؟“ انہوں نے جواب دیا: جہینہ کے بنو رفاعہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے بنو رفاعہ کے لیے زمین الاٹ کی ہے۔“ انہوں نے اسے تقسیم کر لیا، ان میں سے بعض نے بیچ دیا اور بعض نے روک لیا اور کام کیا، پھر (ابن وہب کہتے ہیں:) میں نے سبرہ کے والد عبدالعزیز سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث کچھ بیان کی، مکمل بیان نہیں کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11827]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2489. -- باب: ما لا يجوز إقطاعه من المعادن الظاهرة
-- باب: ظاہری کانوں میں سے جنہیں بطور جاگیر عطا کرنا جائز نہیں ان کا بیان
حدیث نمبر: 11828
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا نُعَيْمٌ يَعْنِي ابْنَ حَمَّادٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ قَيْسٍ الْمَآرِبِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلَانِيُّ، الْمَعْنَى وَاحِدٌ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ قَيْسٍ الْمَآرِبِيَّ حَدَّثَهُ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ شَرَاحِيلَ، عَنْ سُمِيِّ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ سُمَيْرٍ - قَالَ ابْنُ الْمُتَوَكِّلِ: ابْنِ عَبْدِ الْمُدَانِ، عَنْ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ" أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَقْطَعَهُ الْمِلْحَ"، قَالَ ابْنُ الْمُتَوَكِّلِ: الَّذِي بِمَأْرِبَ، فَقَطَعَهُ لَهُ، فَلَمَّا أَنْ وَلَّى قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمَجْلِسِ: أَتَدْرِي مَا قَطَعْتَ لَهُ، إِنَّمَا قَطَعْتَ لَهُ الْمَاءَ الْعِدَّ، قَالَ:" فَانْتُزِعَ مِنْهُ" قَالَ: وَسَأَلْتُهُ عَمَّا يُحْمَى مِنَ الْأَرَاكِ، قَالَ:" مَا لَمْ تَنَلْهُ خِفَافٌ"، وَقَالَ ابْنُ الْمُتَوَكِّلِ: أَخْفَافُ الْإِبِلِ.
سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ وفد کی شکل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نمک کی کان مانگی۔ ابن المتوکل رحمہ اللہ نے کہا: وہ جو مارب میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دے دی۔ جب وہ لے کر واپس ہوئے تو مجلس میں سے ایک آدمی نے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے اسے کیا دیا ہے؟ آپ نے اسے جاری پانی دے دیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ واپس لے لی۔ راوی فرماتے ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ پیلو کے درختوں میں سے کون سے چراگاہ کے طور پر محفوظ کیے جا سکتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاں تک کھر نہ پہنچیں۔“ ابن المتوکل رحمہ اللہ نے کہا: اونٹوں کے کھر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11828]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11829
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا ابْنُ مُبَارَكٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ قَيْسٍ الْمَآرِبِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ" أَنَّهُ اسْتَقْطَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِلْحَ الَّذِي بِمَأْرِبَ، فَأَرَادَ أَنَ يُقْطِعَهُ إِيَّاهُ، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّهُ كَالْمَاءِ الْعِدِّ، فَأَبَى أَنَ يُقْطِعَهُ" قَالَ الْأَصْمَعِيُّ: الْمَاءُ الْعِدُّ: الدَّائِمُ الَّذِي لَا انْقِطَاعَ لَهُ، وَهُوَ مِثْلُ مَاءِ الْعَيْنِ وَمَاءِ الْبِئْرِ.
سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نمک کی کان مانگی، جو مارب میں تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دینے کا ارادہ کیا تو ایک آدمی نے کہا: ”وہ جاری پانی کی طرح ہے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دینے سے انکار کر دیا۔
اصمعی کہتے ہیں: «الْمَاءُ الْعِدُّ» سے مراد وہ دائمی پانی ہے جو کبھی ختم نہ ہو، جیسے چشمے اور کنویں کا پانی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11829]
اصمعی کہتے ہیں: «الْمَاءُ الْعِدُّ» سے مراد وہ دائمی پانی ہے جو کبھی ختم نہ ہو، جیسے چشمے اور کنویں کا پانی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11829]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11830
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا كَهْمَسٌ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ مَنْظُورٍ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا بُهَيْسَةُ، عَنْ أَبِيهَا، قَالَتِ: اسْتَأْذَنَ أَبِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَمِيصِهِ فَجَعَلَ يُقَبِّلُ وَيَلْتَزِمُ، ثُمَّ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ: الْمَاءُ، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ:" الْمِلْحُ"، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ:" أَنْ تَفْعَلَ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ".
بنو فزارہ کے ایک آدمی سیار بن منظور نے اپنے والد سے اور انہوں نے بہیسہ نامی عورت سے اور انہوں نے اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ میرے والد نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی۔ وہ داخل ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بوسہ لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چمٹ گئے اور کہا: اے اللہ کے نبی! کون سی چیز ہے جس کا روکنا حلال نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی۔“ پھر انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کون سی چیز ہے جس کا روکنا حلال نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نمک۔“ پھر انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کون سی چیز ہے جس کا روکنا حلال نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو جو بھی اچھا کام کرے تیرے لیے بہتر ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11830]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف