السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2551. -- باب: من لا يرث من ذوي الأرحام
-- باب: ذوی الارحام (رشتہ داروں) میں سے جو وراثت کے حقدار نہیں ان کا بیان
حدیث نمبر: 12202
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ، سَمِعَ أَبَا أُمَامَةَ يَقُولُ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" إِنَّ اللهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ".
شرحبیل بن مسلم خولانی نے ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ میں حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، میں نے سنا کہ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ہر حق والے کو اس کا حق دیا ہے، پس وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12202]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ الطيالسي 1223»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12203
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُجَبَّرِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ مِنْ أهْلِ الْعَالِيَةِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ رَجُلًا هَلَكَ وَتَرَكَ عَمَّةً وَخَالَةً، انْطَلِقَ تَقْسِمْ مِيرَاثَهُ، فَتَبِعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ وَقَالَ:" يَا رَبِّ، رَجُلٌ تَرَكَ عَمَّةً وَخَالَةً"، ثُمَّ سَارَ هُنَيَّةً ثُمَّ قَالَ:" يَا رَبِّ، رَجُلٌ تَرَكَ عَمَّةً وَخَالَةً"، ثُمَّ سَارَ هُنَيَّةً ثُمَّ قَالَ:" يَا رَبِّ، رَجُلٌ تَرَكَ عَمَّةً وَخَالَةً"، ثُمَّ قَالَ: لَا أَرَى يَنْزِلُ عَلَيَّ شَيْءٌ، لَا شَيْءَ لَهُمَا".
عطاء بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اہل العالیہ میں سے ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ایک آدمی فوت ہوا ہے، اس نے پھوپھی اور خالہ کو چھوڑا ہے، آپ چلیں اور اس کی وراثت تقسیم کر دیں“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گدھے پر بیٹھ کر آئے اور فرمایا: ”اے رب! ایک آدمی نے پھوپھی اور خالہ کو چھوڑا ہے“، پھر تھوڑی دیر چلے، پھر کہا: ”اے رب! ایک آدمی نے پھوپھی اور خالہ کو چھوڑا ہے“۔ پھر تھوڑی دیر چلے۔ پھر کہا: ”اے رب! ایک آدمی نے پھوپھی اور خالہ کو چھوڑا ہے“، پھر کہا: ”میں نہیں خیال کرتا کہ مجھ پر کوئی چیز نازل ہو، ان کے لیے کچھ نہیں ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12203]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12204
وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ إِلَى قُبَاءَ يَسْتَخِيرُ فِي مِيرَاثِ الْعَمَّةِ وَالْخَالَةِ، فَأُنْزِلَ عَلَيْهِ لَا مِيرَاثَ لَهُمَا" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنا أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ فَذَكَرَهُ، وَرَوَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ مَوْصُولًا بِذِكْرِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِيهِ.
سیدنا عطاء بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کر قباء کی طرف گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھوپھی اور خالہ کے بارے میں استخارہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا کہ ”ان کے لیے میراث نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12204]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12205
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَحْمَدَ الْفَارِسِيُّ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، أنا أَبُو سَعِيدٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْخَلَّالِيُّ، أنا أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ مَعَانِيَ هَذِهِ الْفَرَائِضِ وَأُصُولَهَا عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَأَمَّا التَّفْسِيرُ، فَتَفْسِيرُ أَبِي الزِّنَادِ عَلَى مَعَانِي زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ:" لَا يَرِثُ ابْنُ الْأَخِ لِلْأُمِّ بِرَحِمِهِ ذَلِكَ شَيْئًا، وَلَا تَرِثُ الْجَدَّةُ أُمُّ أَبِي الْأُمِّ، وَلَا الْخَالَةُ، أَظُنُّهُ قَالَ: وَلَا الْجَدُّ أَبُو الْأُمِّ، وَلَا ابْنَةُ الْأَخِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ، وَلَا الْعَمَّةُ أُخْتُ الْأَبِ لِلْأُمِّ وَالْأَبِ، وَلَا الْخَالَةُ، وَلَا مَنْ هُوَ أَبْعَدُ نَسَبًا مِنَ الْمُتَوَفَّى مِمَّنْ هُوَ فِي هَذَا الْكِتَابِ، لَا يَرِثُ أَحَدٌ مِنْهُمْ بِرَحِمِهِ ذَلِكَ شَيْئًا".
حضرت خارجہ بن زید رحمہ اللہ اپنے والد حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان فرائض کے مفاہیم اور اصول زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے ہیں اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے مفاہیم کی تفسیر ابوالزناد رحمہ اللہ سے ہے۔ انہوں نے کہا: ماں شریک بھائی کا بیٹا اس رشتے کی وجہ سے کسی چیز کا وارث نہیں بنتا، اور نہ نانا کی ماں وارث بنتی ہے اور نہ خالہ، میرا گمان ہے کہ انہوں نے یہ بھی کہا: اور نہ نانا، اور نہ سگے بھائی کی بیٹی، اور نہ پھوپھی جو باپ کی سگی بہن ہو، اور نہ خالہ، اور نہ وہ جو اس کتاب میں مذکور لوگوں میں سے نسب کے اعتبار سے فوت شدہ سے زیادہ دور ہو، ان میں سے کوئی بھی اپنے اس رشتے کی وجہ سے کسی چیز کا وارث نہیں بنتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12205]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12206
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ ⦗٣٥١⦘ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَنْظَلَةَ الزُّرَقِيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ مَوْلًى لِقُرَيْشٍ كَانَ قَدِيمًا يُقَالُ لَهُ: ابْنُ مَرْسَا، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عَنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا صَلَّى الظُّهْرَ قَالَ:" يَا يَرْفَأُ، هَلُمَّ الْكِتَابَ" لِكِتَابٍ كَانَ كَتَبَهُ فِي شَأْنِ الْعَمَّةِ يَسْأَلُ عَنْهَا وَيَسْتَخِيرُ فِيهَا، فَأَتَاهُ بِهِ يَرْفَأُ، فَدَعَا بِتَوْرٍ أَوْ قَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ، فَمَحَا ذَلِكَ الْكِتَابَ فِيهِ ثُمَّ قَالَ:" لَوْ رَضِيَكَ اللهُ لَأَقَرَّكَ، لَوْ رَضِيَكَ اللهُ لَأَقَرَّكَ".
قریش کے ایک غلام جنہیں ابن مرسا کہا جاتا تھا، وہ کہتے ہیں: میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا، جب انہوں نے ظہر کی نماز پڑھائی تو کہا: اے یرفاء! وہ خط لاؤ جسے عمر نے پھوپھی کے بارے میں لکھا تھا، جس میں وہ اس کے متعلق سوال کرتے اور اس بارے میں استخارہ کرتے تھے۔ جب یرفاء وہ خط لایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دھات کا ایک پیالہ منگوایا، اس میں پانی تھا اور اس میں اس خط کو مٹا دیا، پھر کہا: اگر اللہ تعالیٰ کی رضا ہوتی تو وہ تجھے قائم رکھتا، اگر اللہ تعالیٰ کی رضا ہوتی تو وہ تجھے قائم رکھتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12206]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12207
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ كَثِيرًا يَقُولُ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ:" عَجَبًا لِلْعَمَّةِ تُورَثُ وَلَا تَرِثُ" وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بِخِلَافِهِ، وَرِوَايَةُ الْمَدَنِيِّينَ أَوْلَى بِالصِّحَّةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
محمد بن ابی بکر بن عمرو بن حزم نے اپنے والد سے بارہا سنا، وہ کہتے تھے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ پھوپھی کا معاملہ عجب ہے کہ اس کے بھتیجے اس کے وارث ہوتے ہیں لیکن وہ وارث نہیں ہوتی۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف بھی روایت کیا گیا ہے، لیکن اہل مدینہ کی روایت صحیح ہونے کے زیادہ لائق ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12207]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف بھی روایت کیا گیا ہے، لیکن اہل مدینہ کی روایت صحیح ہونے کے زیادہ لائق ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12207]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2552. -- باب: من قال بتوريث ذوي الأرحام
-- باب: ذوی الارحام کو وارث قرار دینے والے کے قول کا بیان
حدیث نمبر: 12208
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ عَلِّمُوا غِلْمَانَكُمُ الْعَوْمَ، وَمُقَاتِلَتَكُمُ الرَّمْيَ. قَالَ: وَكَانُوا يَخْتَلِفُونَ بَيْنَ الْأَغْرَاضِ، فَجَاءَ سَهْمٌ غَرْبٌ فَأَصَابَ غُلَامًا فَقَتَلَهُ فِي حِجْرِ خَالٍ لَهُ، لَا يُعْلَمُ لَهُ أَصْلٌ. قَالَ: فَكَتَبَ أَبُو عُبَيْدَةَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَسْأَلُهُ إِلَى مَنْ يَدْفَعُ عَقْلَهُ، قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" اللهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ".
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا کہ اپنے لڑکوں کو تیرنا سکھاؤ اور اپنے فوجیوں کو تیراندازی سکھاؤ، اور وہ نشانوں کے درمیان آتے جاتے تھے۔ پس ایک نامعلوم تیر آیا اور ایک لڑکے کو لگا اور اس کو قتل کر دیا، وہ اپنے ماموں کی پرورش میں تھا، اس کے نسب کا پتا نہ تھا، راوی کہتے ہیں: حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا اور سوال کیا کہ اس کی دیت کس کو دیں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «اللّٰهُ وَرَسُولُهُ مَوْلٰى مَنْ لَا مَوْلٰى لَهُ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ» ”اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے والی ہیں، جس کا کوئی والی نہ ہو اور ماموں اس کا وارث ہوگا جس کا کوئی وارث نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12208]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ احمد 1/ 28/ 189۔ ابن ماجه 2737»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 12209
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ بُدَيْلٍ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَلْحَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ، عَنِ الْمِقْدَامِ صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ تَرَكَ كَلًّا فَإِلَيْنَا، وَرُبَّمَا قَالَ: إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ، وَأَنَا وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ، أَعْقِلُ عَنْهُ وَأَرِثُهُ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ، يَعْقِلُ عَنْهُ وَيَرِثُهُ".
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو قرض چھوڑے وہ ہمارے ذمہ ہے“، اور فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول کے ذمہ ہے، اور وہ جو مال چھوڑے وہ اس کے ورثاء کے لیے ہے، اور میں اس کا وارث ہوں جس کا کوئی وارث نہ ہو، میں اس کی طرف سے دیت دوں گا اور وارث بنوں گا، اور ماموں اس کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو، وہ اس کی دیت دے گا اور اس کا وارث بنے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12209]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 12210
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا حَمَّادٌ، عَنْ بُدَيْلٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ، عَنِ الْمِقْدَامِ الْكِنْدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ، فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيْعَةً فَإِلِيَّ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ، وَأَنَا مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ، أَرِثُ مَالَهُ وَأَفُكُّ عَانَهُ، وَالْخَالُ مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ، يَرِثُ مَالَهُ وَيَفُكُّ عَانَهُ" قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ الزُّبَيْدِيُّ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ عَائِذٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ وَرَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ.
سیدنا مقدام کندی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ہر مومن کے زیادہ قریب ہوں، اس کی اپنی جان سے بھی۔ جو کوئی آدمی قرض چھوڑے یا اولاد چھوڑے، وہ میرے ذمہ ہے اور جو مال چھوڑے وہ اس کے وارثوں کے لیے ہے اور میں اس کا والی ہوں، جس کا کوئی والی نہ ہو، میں اس کے مال کا وارث ہوں اور اس کے قیدیوں کو آزاد کراؤں گا اور ماموں اس کا والی ہے جس کا کوئی والی نہ ہو، وہ اس کے مال کا وارث ہوگا اور اس کے قیدیوں کو آزاد کرائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12210]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 12211
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَتِيقٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حُجْرٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَنَا وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ، أَفُكُّ عُنِيَّهُ وَأَرِثُ مَالَهُ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ، يَفُكُّ عُنِيَّهُ وَيَرِثُ مَالَهُ".
صالح بن یحییٰ بن مقدام اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس کا وارث ہوں جس کا کوئی وارث نہ ہو، میں اس کے قیدیوں کو چھڑاؤں گا اور اس کے مال کا وارث ہوں اور ماموں اس کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو، وہ اس کے قیدیوں کو چھڑائے گا اور اس کے مال کا وارث بنے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12211]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره