🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2555. -- باب: لا يرث القاتل
-- باب: قاتل وارث نہیں ہوتا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12242
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو الشَّيْخِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَهُوَ عَمْرُو بْنُ بَرْقٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَإِنَّهُ لَا يَرِثُهُ، وَإِنَّ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَارِثٌ غَيْرُهُ"، وَإِنْ كَانَ وَلَدَهُ أَوْ وَالِدَهُ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى لَيْسَ لِقَاتِلٍ مِيرَاثٌ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی کو قتل کرے وہ اس کا وارث نہیں بن سکتا اگرچہ اس کے علاوہ اس کا کوئی وارث نہ بھی ہو اور اگرچہ (قاتل) اولاد یا والد ہی کیوں نہ ہو۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ ”قاتل کے لیے میراث نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12242]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ عبدالرزاق 17787»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12243
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْقَاتِلُ لَا يَرِثُ" إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، إِلَّا أَنَّ شَوَاهِدَهُ تُقَوِّيهِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قاتل وارث نہیں بن سکتا۔“
اسحاق بن عبداللہ قابلِ حجت نہیں، البتہ اس کے شواہد اسے تقویت دیتے ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12243]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابن ماجه 2645»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12244
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَمْدَوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ عُمَرُ:" لَا يَرِثُ الْقَاتِلُ خَطَأً وَلَا عَمْدًا".
شعبی سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قاتل وارث نہیں بن سکتا، اگرچہ غلطی سے قتل کرے یا جان بوجھ کر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12244]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12245
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، وَزَيْدٍ، وَعَبْدِ اللهِ، قَالُوا:" لَا يَرِثُ الْقَاتِلُ عَمْدًا وَلَا خَطَأً شَيْئًا".
شعبی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ علی، زید اور عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے تھے: ”قاتل وارث نہیں بن سکتا، جان بوجھ کر قتل کرے یا غلطی سے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12245]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12246
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى، ثنا يَزِيدُ، أنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، أَنَّ رَجُلًا رَمَى بِحَجَرٍ فَأَصَابَ أُمَّهُ فَمَاتَتْ مِنْ ذَلِكَ، فَأَرَادَ نَصِيبَهُ مِنْ مِيرَاثِهَا، فَقَالَ لَهُ إِخْوَتُهُ: لَا حَقَّ لَكَ، فَارْتَفَعُوا إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ:" حَظُّكَ مِنْ مِيرَاثِهَا الْحَجَرُ، وَأَغْرَمَهُ الدِّيَةَ، وَلَمْ يُعْطِهِ مِنْ مِيرَاثِهَا شَيْئًا".
قتادہ، خلاس سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے پتھر پھینکا، وہ اس کی ماں کو لگا اور وہ مر گئی۔ پس اس نے ماں کی وراثت سے اپنا حصہ لینے کا ارادہ کیا، اس کے بھائی نے اسے کہا: تیرا کوئی حق نہیں ہے، پس وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: تیرا حصہ میراث میں صرف پتھر تھا، اور اس پر دیت ڈال دی اور اس عورت کی وراثت سے کچھ نہ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12246]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12247
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى، ثنا يَزِيدُ، أنا حَبِيبُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ:" أَيُّمَا رَجُلٍ قَتَلَ رَجُلًا أَوِ امْرَأَةً عَمْدًا أَوْ خَطَأً مِمَّنْ يَرِثُ، فَلَا مِيرَاثَ لَهُ مِنْهُمَا، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ قَتَلَتْ رَجُلًا أَوِ امْرَأَةً عَمْدًا أَوْ خَطَأً فَلَا مِيرَاثَ لَهَا مِنْهُمَا، وَإِنْ كَانَ الْقَتْلُ عَمْدًا فَالْقَوَدُ إِلَّا أَنْ يَعْفُوا أَوْلِيَاءُ الْمَقْتُولِ، فَإِنْ عَفَوْا فَلَا مِيرَاثَ لَهُ مِنْ عَقْلِهِ، وَلَا مِنْ مَالِهِ، قَضَى بِذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَشُرَيْحٌ وَغَيْرُهُمْ مِنْ قُضَاةِ الْمُسْلِمِينَ".
حضرت جابر بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جو آدمی کسی مرد یا عورت کو عمداً قتل کرے یا غلطی سے، اس کے لیے ان کی وراثت میں سے کچھ نہیں ہے، اور جو عورت کسی مرد یا عورت کو عمداً یا غلطی سے قتل کرے، اس کے لیے ان کی وراثت میں سے کچھ نہیں ہے، اور اگر قتل عمداً ہو تو بدلہ ہے، مگر یہ کہ مقتول کے ورثاء معاف کر دیں۔ اگر وہ معاف کر دیں تو اس کی دیت اور مال سے اس کے لیے کوئی وراثت نہیں ہے۔ اسی طرح عمر بن خطاب اور علی رضی اللہ عنہما، شریح رحمہ اللہ اور دیگر مسلمان قاضیوں نے فیصلہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12247]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12248
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ قَالَ: كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ عَقِيمٌ لَا يُولَدُ لَهُ، وَكَانَ لَهُ مَالٌ كَثِيرٌ، وَكَانَ ابْنُ أَخِيهِ وَارِثَهُ، فَقَتَلَهُ ثُمَّ احْتَمَلَهُ لَيْلًا حَتَّى أَتَى بِهِ حَيًّا آخَرِينَ فَوَضَعَهُ عَلَى بَابِ رَجُلٍ مِنْهُمْ، ثُمَّ أَصْبَحَ يَدَّعِيهِ عَلَيْهِمْ، حَتَّى تَسَلَّحُوا وَرَكِبَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالَ ذَوُو الرَّأْيِ وَالنَّهْيِ: عَلَى مَا يَقْتُلُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَهَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيكُمْ، فَأَتَوْهُ، فَقَالَ:" {إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً قَالُوا أَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا قَالَ أَعُوذُ بِاللهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ} [البقرة: ٦٧] ، قَالَ: فَلَوْ لَمْ يَعْتَرِضُوا الْبَقَرَ لَأَجْزَأَتْ عَنْهُمْ أَدْنَى بَقَرَةٍ، وَلَكِنَّهُمْ شَدَّدُوا فَشُدِّدَ عَلَيْهِمْ حَتَّى انْتَهَوْا إِلَى الْبَقَرَةِ الَّتِي أُمِرُوا بِذَبْحِهَا، فَوَجَدُوهَا عِنْدَ رَجُلٍ لَيْسَ لَهُ بَقَرَةٌ غَيْرَهَا، فَقَالَ: وَاللهِ لَا أَنْقُصُهَا مِنْ مِلْءِ جِلْدِهَا ذَهَبًا، فَأَخَذُوهَا بِمِلْءِ جِلْدِهَا ذَهَبًا، فَذَبَحُوهَا فَضَرَبُوهُ بِبَعْضِهَا، فَقَامَ، فَقَالُوا: مَنْ قَتَلَكَ؟ قَالَ: هَذَا، لِابْنِ أَخِيهِ، ثُمَّ مَالَ مَيِّتًا، فَلَمْ يُعْطَ ابْنُ أَخِيهِ مِنْ مَالِهِ شَيْئًا، وَلَمْ يُوَرَّثْ قَاتِلٌ بَعْدَهُ".
عبیدہ سلمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بنی اسرائیل میں ایک بانجھ آدمی تھا، اس کی کوئی اولاد نہ تھی اور اس کے پاس بہت زیادہ مال تھا اور اس کا ایک بھتیجا اس کا وارث تھا، اس نے اسے قتل کر دیا اور رات کو میت کو اٹھا کر دوسرے قبیلے کے ایک آدمی کے گھر کے دروازے پر رکھ گیا، پھر صبح کے وقت ان پر دعویٰ کر دیا، یہاں تک کہ انہوں نے لڑائی کے لیے اسلحہ نکال لیا اور ایک دوسرے کی طرف سوار ہو کر جانے لگے۔ ایک عقلمند نے کہا: کس وجہ سے تم ایک دوسرے کو قتل کرنے لگے ہو، تم میں اللہ کا پیغمبر موجود ہے، پس اس پیغمبر نے کہا: ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً﴾ [سورة البقرة: 67] ”اللہ تم کو حکم دیتے ہیں کہ ایک گائے ذبح کرو۔“ انہوں نے کہا: ﴿أَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا﴾ [سورة البقرة: 67] ”کیا تو ہم سے مذاق کرتا ہے؟“ اس نے کہا: ﴿أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ﴾ [سورة البقرة: 67] ”میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ میں جاہلوں میں سے ہوں۔“ اگر وہ گائے پر اعتراض نہ کرتے تو ادنیٰ سی گائے بھی کافی تھی لیکن انہوں نے سختی اختیار کی، پس ان پر بھی سختی کر دی گئی، یہاں تک کہ وہ اس گائے کے پاس آئے جس کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا، انہوں نے اسے ایسے آدمی کے پاس پایا کہ اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور گائے نہ تھی۔ اس نے کہا: میں اس کا چمڑا بھرے ہوئے میں سے کچھ کم نہ کروں گا، پس انہوں نے چمڑا بھر کر سونے کے بدلے گائے لی، اس کو ذبح کیا، انہوں نے اس گائے کا کچھ حصہ میت کو لگایا وہ کھڑی ہو گئی۔ انہوں نے پوچھا: تجھے کس نے قتل کیا ہے؟ اس نے کہا: میرے بھتیجے نے۔ پھر وہ مردہ ہو گیا۔ پس اس کے بھتیجے کو اس کے مال میں سے کچھ نہ دیا گیا اور نہ قاتل اس کے بعد اس کا وارث بنایا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12248]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2556. -- باب: من قال: يرث قاتل الخطأ من المال، ولا يورث من الدية
-- باب: اس شخص کے قول کے بیان میں جس نے کہا: خطا سے قتل کرنے والا مال میں سے وارث ہوگا لیکن اسے دیت میں سے وارث نہیں بنایا جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12249
يَعْنِي مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَطِيرِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَيْمُونٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَقَالَ:" لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ، الْمَرْأَةُ تَرِثُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا وَمَالِهِ، وَهُوَ يَرِثُ مِنْ دِيَتِهَا وَمَالِهَا، مَا لَمْ يَقْتُلْ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ عَمْدًا، فَإِنْ قَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ عَمْدًا لَمْ يَرِثْ مِنْ دِيَتِهِ وَمَالِهِ شَيْئًا، وَإِنْ قَتَلَ صَاحِبَهُ خَطَأً وَرِثَ مِنْ مَالِهِ وَلَمْ يَرِثْ مِنْ دِيَتِهِ" قَالَ: وَأنبأ عَلِيٌّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ. قَالَ عَلِيٌّ: مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّائِفِيُّ ثِقَةٌ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ، وَلَيْسَ بِحُجَّةٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرٍو، وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ كَالْمُتَوَقِّفِ فِي رِوَايَاتِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ إِذَا لَمْ يَنْضَمَّ إِلَيْهَا مَا يُؤَكِّدُهَا قَالَ الشَّافِعِيُّ: لَيْسَ فِي الْفَرْقِ بَيْنَ أَنْ يَرِثَ قَاتِلُ الْخَطَأِ وَلَا يَرِثُ قَاتِلُ الْعَمْدِ خَبَرٌ يُتَّبَعُ، ⦗٣٦٤⦘ إِلَّا خَبَرُ رَجُلٍ فَإِنَّهُ يَرْفَعُهُ، لَوْ كَانَ ثَابِتًا كَانَتِ الْحُجَّةُ فِيهِ، وَلَكِنْ لَا يَجُوزُ أَنْ يُثْبَتَ لَهُ شَيْءٌ وَيُرَدُّ لَهُ آخَرُ لَا مُعَارِضَ لَهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: إِذَا لَمْ يَثْبُتِ الْحَدِيثُ فَلَا يَرِثُ عَمْدًا وَلَا خَطَأً شَيْئًا، أَشْبَهُ بِعُمُومِ أَنْ لَا يَرِثَ قَاتِلٌ مِمَّنْ قَتَلَ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو دینوں والے ایک دوسرے کے وارث نہیں بنیں گے اور عورت اپنے خاوند کی دیت اور مال سے وارث بنے گی اور وہ وارث بنے گا عورت کی دیت اور مال کا، جب ان میں سے ایک نے عمداً دوسرے کو قتل نہ کیا ہوگا۔ اگر ایک نے دوسرے کو عمداً قتل کیا تو اس کی دیت اور مال میں سے کسی چیز کا وارث نہ بنے گا، اگر قتلِ خطا کیا تو مال سے وارث ٹھہرے گا، دیت سے نہیں۔“
علی (دارقطنی) رحمہ اللہ نے فرمایا: محمد بن سعید طائفی ثقہ ہیں۔ شیخ (بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسے محمد بن عمر واقدی نے بھی ضحاک بن عثمان اور مخرمہ بن بکیر کے طریق سے روایت کیا ہے، اور وہ حجت نہیں، اور امام شافعی رحمہ اللہ عمرو بن شعیب کی روایات میں توقف کرتے تھے جب ان کے ساتھ کوئی ایسی چیز نہ ملے جو ان کی تائید کرے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”قتلِ خطا کرنے والا وارث بنے اور قتلِ عمد کرنے والا وارث نہ بنے، اس فرق کے بارے میں کوئی قابلِ اتباع خبر نہیں، سوائے ایک آدمی کی خبر کے جو اسے مرفوع بیان کرتا ہے، اگر وہ ثابت ہوتی تو اس میں حجت ہوتی۔ لیکن یہ جائز نہیں کہ اس کی ایک بات ثابت مانی جائے اور اس کی دوسری بات رد کر دی جائے جس کا کوئی معارض نہیں۔“
جب یہ حدیث ثابت نہیں تو وہ وارث نہیں بنے گا، عمداً یا خطاً قتل کرے، اس عموم سے واضح ہے کہ قاتل نے جسے قتل کیا اس کا وارث نہیں بن سکے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12249]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً۔ السلسلة الضعيفه 4674»

الحكم على الحديث: ضعيف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2557. -- باب: ميراث من عمي موته
-- باب: جس شخص کی موت پوشیدہ رہی (جس کے مرنے کا علم نہ ہو سکا) اس کی وراثت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12250
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: أَمَرَنِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَيْثُ قُتِلَ أَهْلُ الْيَمَامَةِ" أَنْ يُوَرِّثَ الْأَحْيَاءَ مِنَ الْأَمْوَاتِ، وَلَا يُوَرِّثَ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ".
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا جب اہل یمامہ شہید ہوئے کہ فوت شدہ کے زندوں کو وارث بنایا جائے اور ان فوت شدہ میں سے ایک دوسرے کو وارث نہ بناؤ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12250]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»

الحكم على الحديث: ضعيف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12251
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ: أَمَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَيَالِيَ طَاعُونِ عَمْوَاسٍ قَالَ:" كَانَتِ الْقَبِيلَةُ تَمُوتُ بِأَسْرِهَا فَيَرِثُهُمْ قَوْمٌ آخَرُونَ" قَالَ:" فَأَمَرَنِي أَنْ أُوَرِّثَ الْأَحْيَاءَ مِنَ الْأَمْوَاتِ، وَلَا أُوَرِّثَ الْأَمْوَاتَ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ" قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ وَرَّثَ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ مِنْ تِلَادِ أَمْوَالِهِمْ، وَفِي رِوَايَةٍ أَنَّهُ قَالَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَرِّثْ هَؤُلَاءِ، فَوَرَّثَهُمْ مِنْ تِلَادِ أَمْوَالِهِمْ وَعَنْ قَتَادَةَ أَنَّ عُمَرَ وَرَّثَ أَهْلَ طَاعُونِ عَمْوَاسٍ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ، فَإِذَا كَانَتْ يَدُ أَحَدِهِمَا وَرِجْلُهُ عَلَى الْآخَرِ وَرَّثَ الْأَعْلَى مِنَ الْأَسْفَلِ وَلَمْ يُوَرِّثِ الْأَسْفَلَ مِنَ الْأَعْلَى وَهَاتَانِ الرِّوَايَتَانِ مُنْقَطِعَتَانِ، وَقَدْ قِيلَ: عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ عُمَرَ، وَهُوَ أَيْضًا مُنْقَطِعٌ، فَمَا رُوِّينَا عَنْ عُمَرَ أَشْبَهُ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے طاعونِ عمواس میں حکم دیا جب کہ ایک قبیلہ ہلاک ہو گیا تھا اور ان کا وارث ایک دوسری قوم کو بنایا گیا تھا، انہوں نے کہا کہ میں فوت شدہ کا وارث ان کے زندہ لوگوں کو بناؤں اور فوت شدہ لوگوں کو ایک دوسرے کا وارث نہ بناؤں۔
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے بعض کو بعض کے موروثی مال کا وارث بنایا اور ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا ان کو وارث بنا دو، پس انہوں نے ان کو موروثی مالوں کا وارث بنا دیا۔ قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے طاعونِ عمواس والوں کا وارث بعض کو بنایا، جب ایک کا ہاتھ اور پاؤں دوسرے پر تھا تو اعلیٰ کو نچلے پر فوقیت دے کر وارث بنایا اور نچلے کو بلند پر وارث نہیں بنایا۔
یہ دونوں روایتیں منقطع ہیں، اور یہ بھی کہا گیا ہے: قتادہ سے، وہ رجاء بن حیوہ سے، وہ قبیصہ بن ذؤیب سے، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے، اور یہ بھی منقطع ہے۔ پس جو ہم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے وہی زیادہ درست ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12251]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»

الحكم على الحديث: ضعيف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں