السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2552. -- باب: من قال بتوريث ذوي الأرحام
-- باب: ذوی الارحام کو وارث قرار دینے والے کے قول کا بیان
حدیث نمبر: 12212
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَزْهَرِ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ الْغَلَّانِيُّ قَالَ: كَانَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ" يُبْطِلُ حَدِيثَ: الْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ، يَعْنِي حَدِيثَ الْمِقْدَامِ، وَقَالَ: لَيْسَ فِيهِ حَدِيثٌ قَوِيٌّ" قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ أَضْعَفَ مِنْ ذَلِكَ.
یحییٰ بن معین رحمہ اللہ حدیثِ مقدام رضی اللہ عنہ کو باطل خیال کرتے تھے، یعنی: ”ماموں اس کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو۔“ اور انہوں نے کہا: اس بارے میں کوئی قوی حدیث نہیں ہے۔
یہ ایک اور سند سے بھی مروی ہے جو اس سے بھی زیادہ ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12212]
یہ ایک اور سند سے بھی مروی ہے جو اس سے بھی زیادہ ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12212]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 12213
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْخَالُ وَارِثٌ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ماموں وارث ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12213]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 12214
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْخَالُ وَارِثٌ" هَذَا مُخْتَلَفٌ فِيهِ عَلَى شَرِيكٍ كَمَا تَرَى، وَلَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ماموں وارث ہے۔“
جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں، اس میں شریک پر اختلاف ہے، اور لیث بن ابی سلیم قابلِ حجت نہیں ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12214]
جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں، اس میں شریک پر اختلاف ہے، اور لیث بن ابی سلیم قابلِ حجت نہیں ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12214]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 12215
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتُ:" اللهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ" هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ مِنْ قَوْلِ عَائِشَةَ مَوْقُوفًا عَلَيْهَا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ مَوْقُوفًا، وَقَدْ كَانَ أَبُو عَاصِمٍ يَرْفَعُهُ فِي بَعْضِ الرِّوَايَاتِ عَنْهُ، ثُمَّ شَكَّ فِيهِ؛ فَالرَّفْعُ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے والی ہیں جس کا کوئی والی نہ ہو اور ماموں وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو۔“
محفوظ یہی ہے کہ یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے، ان پر موقوف ہے، اور اسی طرح عبدالرزاق نے اسے ابن جریج سے موقوف روایت کیا ہے، ابوعاصم اپنی بعض روایات میں اسے مرفوع بیان کرتے تھے، پھر انہیں اس میں شک ہو گیا، پس اس کا مرفوع ہونا محفوظ نہیں ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12215]
محفوظ یہی ہے کہ یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے، ان پر موقوف ہے، اور اسی طرح عبدالرزاق نے اسے ابن جریج سے موقوف روایت کیا ہے، ابوعاصم اپنی بعض روایات میں اسے مرفوع بیان کرتے تھے، پھر انہیں اس میں شک ہو گیا، پس اس کا مرفوع ہونا محفوظ نہیں ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12215]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 12216
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، فَذَكَرَهُ مَرْفُوعًا. وَكَانَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ يَقُولَانِ: عَمْرُو بْنُ مُسْلِمٍ صَاحِبُ طَاوُسٍ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ ⦗٣٥٤⦘ وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ مُرْسَلًا.
ابو عاصم رحمہ اللہ نے مرفوع روایت ذکر کی ہے۔
امام احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین کہتے تھے: طاؤس کے شاگرد عمرو بن مسلم قوی نہیں ہیں، اور یہ ابن طاؤس سے مرسل بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12216]
امام احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین کہتے تھے: طاؤس کے شاگرد عمرو بن مسلم قوی نہیں ہیں، اور یہ ابن طاؤس سے مرسل بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12216]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 12217
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا سُفْيَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، ثنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ الدَّحْدَاحِ كَانَ رَجُلًا أَتِيًّا فِي بَنِي أُنَيْفٍ، أَوْ فِي بَنِي الْعَجْلَانِ، مَاتَ، فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ لَهُ وَارِثٌ؟" فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ وَارِثًا، فَدَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَاثَهُ إِلَى ابْنِ أُخْتِهِ، وَهُوَ أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ لَفْظُ حَدِيثِ الْأَرْدَسْتَانِيِّ، وَحَدِيثُ أَبِي عَبْدِ اللهِ مُخْتَصَرًا، لَمْ يُسَمِّ الْوَارِثَ وَالْمُوَرَّثَ، وَهُوَ مُنْقَطِعٌ.
ثابت بن دحداح رضی اللہ عنہ نامی بنی انیف یا بنی عجلان میں ایک اجنبی آدمی تھے، وہ فوت ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا: ”کیا اس کا کوئی وارث ہے؟“ انہوں نے اس کا کوئی وارث نہ پایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وراثت اس کے بھانجے کو دے دی اور وہ ابولبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ تھے۔
یہ سند منقطع ہے۔
(الف) ثابت بن دحداح رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ فوت ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم اس کا نسب جانتے ہو؟“ اس نے کہا: نہیں اور وہ تو ہم میں اجنبی تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وراثت کا فیصلہ اس کے بھانجے کے حق میں کیا۔
شیخ فرماتے ہیں: وہ احد کے دن فوت ہوئے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12217]
یہ سند منقطع ہے۔
(الف) ثابت بن دحداح رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ فوت ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم اس کا نسب جانتے ہو؟“ اس نے کہا: نہیں اور وہ تو ہم میں اجنبی تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وراثت کا فیصلہ اس کے بھانجے کے حق میں کیا۔
شیخ فرماتے ہیں: وہ احد کے دن فوت ہوئے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12217]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12218
وَذَلِكَ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْيَزَنِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ ⦗٣٥٥⦘ الْمُسَيِّبِ، فِي قِصَّةٍ ذَكَرَهَا قَالَ:" فَلَمْ يَلْبَثِ ابْنُ الدَّحْدَاحِ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى جَاءَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ يَوْمَ أُحُدٍ، فَخَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَاتَلَهُ، فَقُتِلَ شَهِيدًا" قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَإِنَّمَا نَزَلَتْ آيَةُ الْفَرَائِضِ فِيمَا يُثْبِتُ أَصْحَابُنَا فِي بَنَاتِ مَحْمُودِ بْنِ مَسْلَمَةَ، وَقُتِلَ يَوْمَ خَيْبَرَ، وَقِيلَ: نَزَلَتْ بَعْدَ أُحُدٍ فِي بَنَاتِ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، وَهَذَا كُلُّهُ بَعْدَ أَمْرِ ثَابِتِ بْنِ الدَّحْدَاحَةِ قَالَ الشَّيْخُ: فِيمَا ذَكَرْنَا مِنْ حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَقَوْلِهِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا يَرِثُنِي كَلَالَةٌ، فَكَيْفَ الْمِيرَاثُ؟ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرَائِضِ، دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهَا نَزَلَتْ بَعْدَ أُحُدٍ، فَإِنَّ قَبْلَ أُحُدٍ كَانَ أَبُوهُ حَيًّا، وَإِنَّمَا قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ شَهِيدًا، وَخَلَّفَ جَابِرًا وَبَنَاتٍ لَهُ، فَحِينَ مَرِضَ جَابِرٌ كَانَ لَهُ أَخَوَاتٌ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ أَبٌ وَلَا وَلَدٌ، فَقَالَ: إِنَّمَا يَرِثُنِي كَلَالَةٌ، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرَائِضِ، وَقَدْ قِيلَ: إِنَّمَا نَزَلَتْ فِيهِ آيَةُ الْفَرَائِضِ الَّتِي فِي آخِرِ سُورَةِ النِّسَاءِ، وَنَزَلَتِ الَّتِي فِي أَوَّلِهَا فِي ابْنَتَيْ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، كَمَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ابن دحداح تھوڑی دیر ٹھہرے، یہاں تک کہ قریش کے کفار آگئے احد کے دن۔ وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ان سے لڑے اور شہید کردیے گئے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: فرائض کی آیت محمود بن سلمہ کی بیٹیوں کے بارے میں نازل ہوئی، وہ خیبر کے دن فوت ہوگئے تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ احد کے بعد سعد بن ربیع کی بیٹیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ سب ثابت بن دحداح کے معاملے کے بعد کی باتیں ہیں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حدیث جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما جو ہم نے ذکر کی ہے ان کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنا کہ کلالہ میرا وارث بنا ہے، پس میراث کیسے تقسیم ہوگی تو آیت فرائض نازل ہوئی، یہ اس پر دلالت کرتی ہے کہ آیت فرائض احد کے بعد نازل ہوئی۔ اس لیے کہ احد سے پہلے ان کے والد زندہ تھے اور احد کے دن وہ شہید کردیے گئے اور انہوں نے جابر اور اپنی بیٹیوں کو چھوڑا تھا، جب جابر رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو ان کی بہنیں تھیں، نہ ان کے باپ تھے اور نہ اولاد تو کہا: میں نے کلالہ کو وارث بنایا ہے، پس آیت فرائض نازل ہوئی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بارے میں وہ آیت فرائض نازل ہوئی جو ﴿سورة النساء﴾ کے آخر میں ہے اور وہ آیت فرائض جو شروع میں ہے وہ سعد بن ربیع کی بیٹیوں کے بارے میں نازل ہوئی جیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12218]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: فرائض کی آیت محمود بن سلمہ کی بیٹیوں کے بارے میں نازل ہوئی، وہ خیبر کے دن فوت ہوگئے تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ احد کے بعد سعد بن ربیع کی بیٹیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ سب ثابت بن دحداح کے معاملے کے بعد کی باتیں ہیں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حدیث جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما جو ہم نے ذکر کی ہے ان کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنا کہ کلالہ میرا وارث بنا ہے، پس میراث کیسے تقسیم ہوگی تو آیت فرائض نازل ہوئی، یہ اس پر دلالت کرتی ہے کہ آیت فرائض احد کے بعد نازل ہوئی۔ اس لیے کہ احد سے پہلے ان کے والد زندہ تھے اور احد کے دن وہ شہید کردیے گئے اور انہوں نے جابر اور اپنی بیٹیوں کو چھوڑا تھا، جب جابر رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو ان کی بہنیں تھیں، نہ ان کے باپ تھے اور نہ اولاد تو کہا: میں نے کلالہ کو وارث بنایا ہے، پس آیت فرائض نازل ہوئی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بارے میں وہ آیت فرائض نازل ہوئی جو ﴿سورة النساء﴾ کے آخر میں ہے اور وہ آیت فرائض جو شروع میں ہے وہ سعد بن ربیع کی بیٹیوں کے بارے میں نازل ہوئی جیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12218]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12219
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ، ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ الزَّمِّيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةُ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ بِابْنَتَيْهَا مِنْ سَعْدٍ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَاتَانِ ابْنَتَا سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، قُتِلَ أَبُوهُمَا مَعَكَ شَهِيدًا يَوْمَ أُحُدٍ، وَإِنَّ عَمَّهُمَا أَخَذَ مَالَهُمَا اسْتِفَاءً، وَلَمْ يَتْرُكْ لَهُمَا مَالًا، وَلَا تُنْكَحَانِ إِلَّا وَلَهُمَا مَالٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقْضِي اللهُ فِي ذَلِكَ"، فَأَنْزَلَ اللهُ الْمِيرَاثَ، فَأَرْسَلَ إِلَى عَمِّهِمَا فَدَعَاهُ فَقَالَ:" أَعْطِ ابْنَتَيْ سَعْدٍ الثُّلُثَيْنِ، وَأَعْطِ أُمَّهُمَا الثُّمُنَ، وَلَكَ مَا بَقِيَ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی بیوی اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ جو سعد سے تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ دونوں سعد کی بیٹیاں ہیں، ان کا باپ آپ کے ساتھ احد میں شہید کر دیا گیا تھا، اور ان کے چچا نے ان دونوں کا مال بھی لے لیا ہے اور ان کے لیے کچھ نہیں چھوڑا اور یہ دونوں مال کے بغیر شادی بھی نہیں کر سکتیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ان کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے آیت المیراث نازل فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چچا کو بلایا اور فرمایا: ”سعد کی دو بیٹیوں کو دو تہائی دو اور ان کی والدہ کو آٹھواں حصہ دو اور باقی تیرے لیے ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12219]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12220
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: أُتِيَ زِيَادٌ فِي رَجُلٍ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ عَمَّتَهُ وَخَالَتَهُ، فَقَالَ:" هَلْ تَدْرُونَ كَيْفَ قَضَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِيهَا؟" قَالُوا: لَا، فَقَالَ:" ⦗٣٥٦⦘ وَاللهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ بِقَضَاءِ عُمَرَ فِيهَا جَعَلَ الْعَمَّةَ بِمَنْزِلَةِ الْأَخِ، وَالْخَالَةَ بِمَنْزِلَةِ الْأُخْتِ، فَأَعْطَى الْعَمَّةَ الثُّلُثَيْنِ، وَالْخَالَةَ الثُّلُثَ" وَرَوَاهُ الْحَسَنُ وَجَابِرُ بْنُ زَيْدٍ وَبَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ وَغَيْرُهُمْ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَعَلَ لِلْعَمَّةِ الثُّلُثَيْنِ، وَلِلْخَالَةِ الثُّلُثَ وَجَمِيعُ ذَلِكَ مَرَاسِيلُ، وَرِوَايَةُ الْمَدَنِيِّينَ عَنْ عُمَرَ أَوْلَى أَنْ تَكُونَ صَحِيحَةً، وَاللهُ أَعْلَمُ.
شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: زیاد کے پاس ایک ایسے آدمی کا (کیس) لایا گیا جو فوت ہو چکا تھا اور اس نے (ورثاء میں) پھوپھی اور خالہ چھوڑی تھی۔ انہوں نے کہا: کیا تم جانتے ہو، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں کیسے فیصلہ کیا؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ زیاد نے کہا: میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلے کو لوگوں میں سب سے زیادہ جانتا ہوں، انہوں نے پھوپھی کو بھائی کی جگہ رکھا اور خالہ کو بہن کی جگہ رکھا، پس پھوپھی کو دو تہائی اور خالہ کو ایک تہائی دیا۔
حسن، جابر بن زید، بکر بن عبداللہ مزنی اور دیگر نے روایت کیا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پھوپھی کو دو تہائی اور خالہ کو ایک تہائی دیا، اور یہ سب مرسل روایات ہیں، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اہل مدینہ کی روایت صحیح ہونے کے زیادہ لائق ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12220]
حسن، جابر بن زید، بکر بن عبداللہ مزنی اور دیگر نے روایت کیا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پھوپھی کو دو تہائی اور خالہ کو ایک تہائی دیا، اور یہ سب مرسل روایات ہیں، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اہل مدینہ کی روایت صحیح ہونے کے زیادہ لائق ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12220]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12221
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَزِيدُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ:" الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ، وَالْعَمَّةُ بِمَنْزِلَةِ الْأَبِ، وَابْنَةُ الْأَخِ بِمَنْزِلَةِ الْأَخِ، وَكُلُّ ذِي رَحِمٍ بِمَنْزِلَةِ الرَّحِمِ الَّتِي تَلِيهِ، إِذَا لَمْ يَكُنْ وَارِثٌ ذُو قَرَابَةٍ" وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: أَنْزِلُوهُمْ مَنَازِلَ آبَائِهِمْ، يَقُولُ: وَرِّثْ كُلَّ إِنْسَانٍ بِمَنْزِلَةِ أَبِيهِ.
مسروق عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ خالہ ماں کی مانند ہے اور پھوپھی باپ کی جگہ ہے اور بھتیجی بھائی کی جگہ ہے اور ہر محرم رشتہ دار دوسرے ذی رحم کی جگہ پر ہوگا، جو اس سے ملتا ہے جب کوئی قرابت دار وارث نہ ہو۔
(ب) مسروق فرماتے ہیں کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ان کو باپ کی جگہ پر رکھو، وہ کہتے تھے کہ ہر انسان کو اس کے باپ کی جگہ پر وارث بناؤ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12221]
(ب) مسروق فرماتے ہیں کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ان کو باپ کی جگہ پر رکھو، وہ کہتے تھے کہ ہر انسان کو اس کے باپ کی جگہ پر وارث بناؤ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12221]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً