🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2679. -- باب: المدد يلحق بالمسلمين قبل أن ينقطع الحرب، أو لم يأتوا حتى ينقطع الحرب، وما روي في الغنيمة أنها لمن شهد الوقعة
-- باب: جنگ ختم ہونے سے پہلے یا جنگ ختم ہونے کے بعد مسلمانوں کی کمک پہنچنے کا بیان، اور اس روایت کا بیان کہ مالِ غنیمت صرف اسی کے لیے ہے جو جنگ میں حاضر ہوا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12922
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ:" مَا شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَغْنَمًا إِلَّا قَسَمَ لِي، إِلَا خَيْبَرَ؛ فَإِنَّهَا كَانَتْ لِأَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ خَاصَّةً" وَكَانَ أَبُو مُوسَى وَأَبُو هُرَيْرَةَ جَاءَا بَيْنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَبَيْنَ خَيْبَرَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غنیمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھے بھی دیا مگر خیبر کے علاوہ، اس لیے کہ وہ خاص اہل حدیبیہ کے لیے تھی اور سیدنا ابوموسیٰ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما خیبر اور حدیبیہ کے درمیان آئے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12922]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12923
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا خُثَيْمُ بْنُ عِرَاكٍ، عَنْ ⦗٥٤٤⦘ أَبِيهِ، عَنْ نَفَرٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ، قَالُوا: إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَقَدْ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ وَاسْتَخْلَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ رَجُلًا مِنْ بَنِي غِفَارٍ يُقَالُ لَهُ سِبَاعُ بْنُ عُرْفُطَةَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:" فَوَجَدْنَاهُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنْ صَلَاتِنَا أَتَيْنَا سِبَاعَ بْنَ عُرْفُطَةَ فَزَوَّدَنَا تَمْرًا، حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ فَتَحَ خَيْبَرَ، وَكَلَّمَ الْمُسْلِمِينَ فَأَشْرَكونَا فِي سُهْمَانِهِمْ" وَرَوَاهُ رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ خُثَيْمِ بْنِ عِرَاكٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، وَقَالَ: فَاسْتَأْذَنَ النَّاسَ أَنْ يَقْسِمَ لَنَا مِنَ الْغَنَائِمِ، فَأَذِنُوا لَهُ، فَقَسَمَ لَنَا..
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مدینہ میں آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کی طرف چلے گئے اور بنی غفار کا آدمی مدینہ پر نائب مقرر تھا، اسے سباغ بن عرفطہ کہا جاتا تھا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے اسے صبح کی نماز کے وقت پایا، نماز سے فارغ ہو کر ہم اس کے پاس آئے، اس نے کھجوروں سے ہماری ضیافت کی، یہاں تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور خیبر فتح ہو چکا تھا اور مسلمانوں نے بات کی، پس انہوں نے ہمیں اپنے حصوں میں شریک کیا۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے اجازت طلب کی کہ ”ہمیں بھی غنیمت سے دیا جائے“، انہوں نے اجازت دے دی، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بھی دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12923]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12924
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، أنا أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، فَذَكَرَهُ. الرِّوَايَاتُ فِي قُدُومِهِ بَعْدَ فَتْحِ خَيْبَرَ أَصَحُّ، ثُمَّ رِوَايَةُ مَنْ رَوَى أَنَّهُ لَمْ يُسْهِمْ لَهُ، أَرَادَ قِسْمَةَ مَنْ شَهِدَهَا، وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ أَشْرَكَهُمْ فِي سُهْمَانِهِمْ بِرِضَاهُمْ كَمَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
وہ روایات جو فتح خیبر کے بعد ان کا آنا بتاتی ہیں، وہ زیادہ صحیح ہیں اور اسے حصہ نہ دینا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ تھا کہ ”تقسیم اس کے لیے ہے جو اس میں حاضر ہو“ اور احتمال ہے کہ ان کو حصوں میں لوگوں کی رضامندی سے شریک کیا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12924]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12925
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَمْ يَقْسِمْ لِغَائِبٍ فِي مَغْنَمٍ لَمْ يَشْهَدْهُ إِلَّا يَوْمَ خَيْبَرَ قَسَمَ لِغَائِبِ أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ مِنْ أَجْلِ أَنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى كَانَ أَعْطَى خَيْبَرَ الْمُسْلِمِينَ مِنْ أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ فَقَالَ {وَعَدَكُمُ اللهُ مَغَانِمَ كَثِيرَةً تَأْخُذُونَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هَذِهِ} [الفتح: ٢٠] ، وَكَانَتْ لِأَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ مَنْ شَهِدَ مِنْهُمْ، وَمَنْ غَابَ، وَلِمَنْ شَهِدَ مِنَ النَّاسِ غَيْرِهِمْ" وَعَنْ يُونُسَ قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: بَلَغَنَا وَاللهُ أَعْلَمُ أَنَّهُ قَسَمَ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ بَدْرٍ، وَكَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَخَلَّفَ عَلَى امْرَأَتِهِ رُقَيَّةَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَصَابَتْهَا الْحَصْبَةُ، فَجَاءَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ بَشِيرًا بِوَقْعَةِ بَدْرٍ وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى قَبْرِ رُقَيَّةَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْفِنُهَا، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَبَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ لِطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ وَسَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، وَكَانَا غَائِبَيْنِ بِالشَّامِ قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رُوِّينَا عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ أَنَّهُ لَمْ يَغِبْ عَنْ خَيْبَرَ مِنْ أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ إِلَّا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيَّ، وَأَمَّا قِسْمَتُهُ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَغَيْرِهِ مِنْ غَنَائِمَ بَدْرٍ فَقَدْ مَضَتِ الدَّلَالَةُ فِي هَذَا الْكِتَابِ عَلَى أَنَّهَا كَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُهَا حَيْثُ أَرَاهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِنَّمَا صَارَتِ الْغَنِيمَةُ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ بَعْدَ قِسْمَةِ بَدْرٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے لیے حصہ نہ رکھا جو غنیمت کے وقت موجود نہ تھا، سوائے فتحِ خیبر کے، اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتحِ خیبر کا مال اہل حدیبیہ کے لیے تقسیم کیا، اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَعَدَكُمُ اللَّهُ مَغَانِمَ كَثِيرَةً تَأْخُذُونَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هَذِهِ﴾ [سورة الفتح: 20] کی وجہ سے۔ پس وہ غنیمت اہل حدیبیہ کے لیے تھی، جو ان میں سے حاضر تھا یا غائب، ان لوگوں کے علاوہ جو وہاں حاضر تھے اور یہ بھی منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے لیے حصہ تقسیم کیا تھا، حالانکہ وہ اپنی بیوی کی دیکھ بھال کے لیے پیچھے رہے تھے (سیدہ رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رضی اللہ عنہا) بیماری نے ان کو روکا تھا اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ واقعہ بدر کی خوشخبری لے کر آئے تھے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، سیدہ رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رضی اللہ عنہا کو قبر میں دفن کر رہے تھے۔ ابن شہاب کہتے ہیں: اور ہمیں یہ بات بھی پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلحہ بن عبیداللہ اور سعید بن زید رضی اللہ عنہما کے لیے بھی حصہ تقسیم کیا، حالانکہ وہ دونوں شام میں غائب تھے۔
شیخ فرماتے ہیں: ابن اسحاق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حدیبیہ والوں میں سے خیبر میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی اور غائب نہ تھا اور بدر میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے تقسیم اس بنیاد پر تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مقرر کیا تھا جہاں اللہ تعالیٰ نے چاہا اور بدر کے بعد غنیمت اس کے لیے تھی جو واقعہ میں حاضر ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12925]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12926
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ الْأَحْمَسِيِّ قَالَ: غَزَتْ بَنُو عُطَارِدٍ مَاءَ الْبَصْرَةِ، وَأُمِدُّوا بِعَمَّارٍ مِنَ الْكُوفَةِ، فَخَرَجَ قَبْلَ الْوَقْعَةِ، وَقَدِمَ بَعْدَ الْوَقْعَةِ فَقَالَ: نَحْنُ شُرَكَاؤُهُمْ فِي الْغَنِيمَةِ. فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُطَارِدٍ فَقَالَ: أَيُّهَا الْعَبْدُ الْمُجَدَّعُ، تُرِيدُ أَنْ نَقْسِمَ لَكَ غَنَائِمَنَا؟ وَكَانَتْ أُذُنُهُ أُصِيبَتْ فِي سَبِيلِ اللهِ، فَقَالَ: عَيَّرْتُمُونِي بِأَحَبِّ أُذُنِيَّ، أَوْ خَيْرِ أُذُنِيَّ. قَالَ: فَكَتَبَ فِي ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَتَبَ" أَنَّ الْغَنِيمَةَ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ" وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قِصَّةٍ أُخْرَى أَنَّهُ كَتَبَ: إِنَّمَا الْغَنِيمَةُ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ.
طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بنو عطارد نے غزوہ لڑا اور وہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوفہ سے مدد کے لیے گئے تھے۔ وہ واقعہ سے پہلے نکل گئے اور واقعہ کے بعد آگئے اور کہا: ہم بھی تمہارے ساتھ غنیمت میں شریک ہیں۔ بنو عطارد کے ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا: اے غلام! تو ارادہ رکھتا ہے کہ ہم تیرے لیے بھی اپنی غنیمت سے حصہ نکالیں؟ اور ان کا کان اللہ کے راستے میں کاٹا گیا تھا، انہوں نے کہا: تم مجھے میرے کانوں کی عار دلاتے ہو، میری محبوب چیز سے۔ پس انہوں نے اس بارے میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لکھا تو انہوں نے جواب دیا: غنیمت اس کے لیے ہے جو واقعہ میں حاضر ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12926]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ سعيد بن منصور 2791»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12927
وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْغَسَّانِيُّ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، وَرَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَا:" سَارَتِ الرُّومُ إِلَى حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ وَهُوَ بِأَرْمِينِيَّةَ، فَكَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ يَسْتَمِدُّهُ، فَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِذَلِكَ، فَكَتَبَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى أَمِيرِ الْعِرَاقِ يَأْمُرُهُ أَنْ يُمِدَّ حَبِيبًا، فَأَمَدَّهُ بِأَهْلِ الْعِرَاقِ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ سَلْمَانَ بْنَ رَبِيعَةَ الْبَاهِلِيَّ، فَسَارُوا يُرِيدُونَ غِيَاثَ حَبِيبٍ، فَلَمْ يَبْلُغُوهُمْ حَتَّى لَقِيَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ الْعَدُوَّ، فَفَتَحَ اللهُ لَهُمْ. فَلَمَّا قَدِمَ سَلْمَانُ وَأَصْحَابُهُ عَلَى حَبِيبٍ سَأَلُوهُمْ أَنْ يُشْرِكُوهُمْ فِي الْغَنِيمَةِ وَقَالُوا: قَدْ أَمْدَدْنَاكُمْ، وَقَالَ أَهْلُ الشَّامِ: لَمْ تَشْهَدُوا الْقِتَالَ، لَيْسَ لَكُمْ مَعَنَا شَيْءٌ وَأَبَى حَبِيبٌ أَنْ يُشْرِكَهُمْ، وَحَوَى وَأَصْحَابُهُ عَلَى غَنِيمَتِهِمْ، فَتَنَازَعَ أَهْلُ الشَّامِ وَأَهْلُ الْعِرَاقِ فِي ذَلِكَ حَتَّى كَادَ يَكُونُ بَيْنَهُمْ فِي ذَلِكَ كَوْنٌ، فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِرَاقِ: إِنْ تَقْتُلُوا سَلْمَانَ نَقْتُلْ حَبِيبَكُمْ، وَإِنْ تَرْحَلُوا نَحْوَ ابْنِ عَفَّانَ نَرْحَلْ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ الْغَسَّانِيُّ: فَسَمِعْتُ أَنَّهَا أَوَّلُ عَدَاوَةٍ وَقَعَتْ بَيْنَ أَهْلِ الشَّامِ وَأَهْلِ الْعِرَاقِ".
عطیہ بن قیس اور راشد بن سعد رحمہما اللہ کہتے ہیں: رومی حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی طرف چلے تھے اور وہ آرمینیہ میں تھے۔ پس انہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا کہ وہ ان کی مدد کریں۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو لکھا۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے عراق کے امیر کو لکھا اور حکم دیا کہ وہ حبیب رضی اللہ عنہ کی مدد کرے، پس اس نے اہل عراق کو مدد کے لیے تیار کیا اور ان پر سلیمان بن ربیعہ باہلی رضی اللہ عنہ کو امیر بنا دیا۔ وہ حبیب رضی اللہ عنہ کی مدد کے لیے چلے۔ پس انہوں نے ان کو نہ پایا، یہاں تک کہ اسے اور اس کے ساتھیوں کو دشمن نے پا لیا۔ اللہ نے ان کو فتح دے دی، جب سلیمان رضی اللہ عنہ اور اس کے ساتھی حبیب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے سوال کیا کہ ان کو بھی غنیمت میں شریک کرو، ہم نے تمہاری مدد کی ہے اور اہل شام نے کہا: تم ہمارے ساتھ لڑائی میں شریک نہیں ہوئے، تمہارے لیے ہمارے پاس کوئی چیز نہیں ہے، حبیب رضی اللہ عنہ نے ان کو شریک کرنے سے انکار کر دیا اور وہ اور ان کے ساتھی مال غنیمت پر حاوی ہو گئے، پس اہل شام اور اہل عراق میں اتنا تنازع بن گیا کہ قریب تھا ان میں کوئی (لڑائی) ہو جاتی۔ بعض عراقیوں نے کہا: اگر تم ہمارے سلیمان کو قتل کرو گے تو ہم تمہارے حبیب کو قتل کر دیں گے اور اگر تم عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس جانا چاہو تو ہم بھی جائیں گے۔ ابوبکر غسانی کہتے ہیں: میں نے سنا کہ وہ پہلی دشمنی تھی جو اہل عراق اور اہل شام میں پیدا ہوئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12927]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2680. -- باب: السرية تخرج من عسكر في بلاد العدو
-- باب: دشمن کے علاقے میں لشکر سے روانہ ہونے والے دستے (سریہ) کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12928
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنِي أَبِي، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ أَبِي: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ عَبْدُ اللهِ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ ⦗٥٤٦⦘ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ:" لَمَّا فَرَغَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ بَعَثَ أَبَا عَامِرٍ عَلَى جَيْشِ أَوْطَاسَ، فَلَقِيَ دُرَيْدَ بْنَ الصِّمَّةِ، فَقُتِلَ دُرَيْدٌ، وَهَزَمَ اللهُ أَصْحَابَهُ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ.
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم حنین سے فارغ ہوئے تو آپ نے ابو عامر رضی اللہ عنہ کو اوطاس کے لشکر پر بھیجا، پس وہ درید بن صمہ کو ملے، درید قتل کر دیا گیا اور اللہ نے اس کے ساتھیوں کو شکست دے دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12928]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 4323۔ مسلم 2498»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12929
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ مَا كَانَ مِنْ حِلْفٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَإِنَّ الْإِسْلَامَ لَمْ يَزِدْهُ إِلَّا شِدَّةً، وَلَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ، وَالْمُسْلِمُونَ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، يَرُدُّ عَلَيْهِمْ أَقْصَاهُمْ، تُرَدُّ سَرَايَاهُمْ عَلَى قَعَدَتِهِمْ" وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ.
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال خطبہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! جس کا جاہلیت میں کوئی عہد و پیمان تھا، پس اسلام اس کو اور مضبوط کرتا ہے اور اسلام میں کوئی (غلط) عہد و پیمان نہیں ہے اور مسلمان اپنے علاوہ دوسروں کے خلاف جماعت اور قوت ہیں، ان کا ادنیٰ شخص بھی ان کی طرف سے امان دے سکتا ہے، ان میں سے دور والا (غنیمت) ان کی طرف لوٹائے گا اور ان کے سرایا (کی غنیمت) پیچھے بیٹھنے والوں پر بھی لوٹائی جائے گی۔“ لمبی حدیث کا ٹکڑا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12929]
تخریج الحدیث: «حسن۔ احمد 6681»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12930
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ حَبِيبَ بْنَ مَسْلَمَةَ" غَزَا الرُّومَ، فَأَخَذُوا رَجُلًا فَاتَّهَمُوهُ، فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّهُ عَيْنٌ، فَقَالَ: هَذَا مَلِكُ الرُّومِ فِي النَّاسِ وَرَاءَ هَذَا الْجَبَلِ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: أَشِيرُوا عَلَيَّ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: نَرَى أَنْ تُقِيمَ حَتَّى يَلْحَقَ بِكَ النَّاسُ، وَكَانُوا مُنْقَطِعِينَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: نَرَى أَنْ تَرْجِعَ إِلَى فِئَتِكَ وَلَا تَقْدُمْ عَلَى هَؤُلَاءِ؛ فَإِنَّهُ لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِمْ، فَقَالَ: أَمَّا أَنَا فَأُعْطِي اللهَ عَهْدًا لَا أَخِيسُ بِهِ، لَأُخَالِطَنَّهُمْ. فَلَمَّا ارْتَفَعَ النَّهَارُ إِذَا هُوَ بِهِمْ قَدْ مَلَئُوا الْأَرْضَ، فَحَمَلَ وَحَمَلَ أَصْحَابُهُ، فَانْهَزَمَ الْعَدُوُّ وَأَصَابُوا غَنَائِمَ كَثِيرَةً، فَلَحِقَ النَّاسُ الَّذِينَ لَمْ يَحْضُرُوا الْقِتَالَ وَقَالُوا: نَحْنُ شُرَكَاؤُكُمْ فِي الْغَنِيمَةِ، وَقَالَ الَّذِينَ شَهِدُوا الْقِتَالَ: لَيْسَ لَكُمْ نَصِيبٌ؛ لَمْ تَحْضُرُوا الْقِتَالَ، وَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَكَانَ مِمَّنْ حَضَرَ مَعَ حَبِيبٍ: لَيْسَ لَكُمْ نَصِيبٌ، فَكَتَبَ بِذَلِكَ إِلَى مُعَاوِيَةَ، فَكَتَبَ أَنِ اقْسِمْ بَيْنَهُمْ كُلِّهِمْ، قَالَ: وَأَظُنُّ مُعَاوِيَةَ كَانَ كَتَبَ بِذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَتَبَ بِذَلِكَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" وَقَالَ الشَّاعِرُ:.
ابن ابی ذئب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی کہ سیدنا حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے روم کا غزوہ لڑا، انہوں نے ایک آدمی کو پکڑا اور اس پر (جاسوسی کا) شبہ کیا، اس نے خبر دی کہ وہ جاسوس ہے اور بتایا کہ روم کا بادشاہ لشکر کے ساتھ اس پہاڑ کے پیچھے ہے، انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: تم مجھے کوئی مشورہ دو، بعض نے کہا: ہم آپ کے لیے یہی بہتر سمجھتے ہیں کہ آپ یہاں ٹھہرے رہیں یہاں تک کہ باقی لوگ آپ سے آ ملیں، اور بعض نے کہا کہ آپ اپنی جماعت کی طرف لوٹ جائیں اور ان کی طرف نہ بڑھیں کیونکہ ہمیں ان کا سامنا کرنے کی طاقت نہیں ہے، انہوں نے کہا: میں اللہ سے عہد کرتا ہوں کہ میں اپنا پیمان نہیں توڑوں گا بلکہ میں انہی کے درمیان رہوں گا، جب دن چڑھا تو وہ (رومی) زمین پر پھیل گئے، پس انہوں نے خود بھی حملہ کیا اور اپنے ساتھیوں کو بھی ابھارا، چنانچہ دشمن کو شکست ہوئی اور انہیں غنیمتیں ملیں، پھر وہ لوگ آ ملے جو قتال میں حاضر نہ ہوئے تھے، انہوں نے کہا: ہم بھی غنیمت میں تمہارے شریک ہیں، مگر جو قتال میں حاضر ہوئے تھے انہوں نے کہا: تمہارے لیے کوئی حصہ نہیں ہے کیونکہ تم قتال میں حاضر نہیں ہوئے تھے، اور سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: جو لوگ حاضر ہوئے وہ حبیب کے ساتھ تھے، تمہارے لیے کوئی حصہ نہیں ہے، چنانچہ انہوں نے یہ معاملہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا تو انہوں نے لکھا کہ مالِ غنیمت سب میں تقسیم کر دو، راوی کہتے ہیں: میرا گمان ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا تھا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ جواب دیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12930]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2681. -- باب: التسوية في الغنيمة والقوم يهبون الغنيمة
-- باب: مالِ غنیمت کی تقسیم میں برابری کرنے اور لوگوں کے اپنا مالِ غنیمت ہبہ کر دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12931
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَخَالِدٍ، ⦗٥٤٧⦘ وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَلْقِينَ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِوَادِي الْقُرَى وَهُوَ يَعْرِضُ فَرَسًا فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، بِمَا أُمِرْتَ؟ قَالَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولَوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَمَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ نُقَاتِلُ؟ قَالَ:" هَؤُلَاءِ الْيَهُودُ الْمَغْضُوبُ عَلَيْهِمْ، وَهَؤُلَاءِ النَّصَارَى الضَّالُّونَ"، قُلْتُ: فَمَا تَقُولُ فِي الْغَنِيمَةِ؟ قَالَ:" لِلَّهِ خُمُسُهَا، وَأَرْبَعَةُ أَخْمَاسِهَا لِلْجَيْشِ"، قُلْتُ: فَمَا أَحَدٌ أَوْلَى بِهِ مِنْ أَحَدٍ؟ قَالَ:" لَا، وَلَا السَّهْمُ تَسْتَخْرِجُهُ مِنْ جَنْبِكَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ أَخِيكَ الْمُسْلِمِ".
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ بلقین کے ایک آدمی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وادی قریٰ میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑا پیش کیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو کس بات کا حکم دیا گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ کہیں: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ» ”اللہ کے سوا کوئی اور معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں“، جب وہ یہ کہیں گے تو انہوں نے اپنا خون اور اپنے مال مجھ سے محفوظ کر لیے سوائے حق کے اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ سے لڑنے والے کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہودی جن پر غضب ہوا اور عیسائی جو گمراہ ہیں۔“ میں نے کہا: آپ غنیمت کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے لیے خمس ہے اور باقی چار حصے لشکر کے ہیں۔“ میں نے کہا: کون دوسرے سے زیادہ بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، یہاں تک کہ وہ تیر جسے تو اپنے پہلو سے نکالے، اس کا بھی تو اپنے مسلمان بھائی سے زیادہ حق دار نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12931]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں