السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2681. -- باب: التسوية في الغنيمة والقوم يهبون الغنيمة
-- باب: مالِ غنیمت کی تقسیم میں برابری کرنے اور لوگوں کے اپنا مالِ غنیمت ہبہ کر دینے کا بیان
حدیث نمبر: 12932
قَالَ: وَثنا يُوسُفُ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَلْقِينَ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ. وَرَوَاهُ مُوسَى بْنُ دَاوُدَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ:" فَإِنْ رَمَيْتَ بِسَهْمٍ فِي جَنْبِكَ فَاسْتَخْرَجْتَهُ فَلَسْتَ بِأَحَقَّ بِهِ مِنْ أَخِيكَ الْمُسْلِمِ". وَفِي ذَلِكَ بَيَانُ مَا رُوِّينَا، وَقَدْ مَضَى حَدِيثُ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَخَذَ يَوْمَ حُنَيْنٍ، أَوْ قَالَ: يَوْمَ خَيْبَرَ، وَبَرَةً مِنْ جَنْبِ بَعِيرٍ فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِي مِمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَيْكُمْ قَدْرَ هَذِهِ إِلَّا الْخُمُسَ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ".
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین یا خیبر کے دن اونٹ کی اون کو پکڑا اور فرمایا: ”اے لوگو! میرے لیے اس میں سے اتنا بھی حلال نہیں ہے جو اللہ نے تم پر لوٹایا ہے سوائے خمس کے اور خمس بھی تم پر ہی لوٹایا جاتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12932]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12933
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحُنَيْنٍ، فَلَمَّا أَصَابَ مِنْ هَوَازِنَ مَا أَصَابَ مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَسَبَايَاهُمْ أَدْرَكَ وَفْدُ هَوَازِنَ بِالْجِعْرَانَةِ وَقَدْ أَسْلَمُوا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، لَنَا أَصْلٌ وَعَشِيرَةٌ، وَقَدْ أَصَابَنَا مِنَ الْبَلَاءِ مَا لَمْ يَخْفَ عَلَيْكَ، فَمُنَّ عَلَيْنَا مَنَّ اللهُ عَلَيْكَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نِسَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ أَحَبُّ إِلَيْكُمْ أَمْ أَمْوَالُكُمْ؟" فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، خَيَّرْتَنَا بَيْنَ أَحْسَابِنَا وَبَيْنَ أَمْوَالِنَا، أَبْنَاؤُنَا وَنِسَاؤُنَا أَحَبُّ إِلَيْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكُمْ، وَإِذَا أَنَا صَلَّيْتُ بِالنَّاسِ فَقُومُوا وَقُولُوا: إِنَّا نَسْتَشْفِعُ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُسْلِمِينَ، وَبِالْمُسْلِمِينَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي أَبْنَائِنَا وَنِسَائِنَا، فَسَأُعْطِيكُمْ عِنْدَ ذَلِكَ وَأَسْأَلُ لَكُمْ". فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ الظُّهْرَ قَامُوا فَقَالُوا مَا أَمَرَهُمْ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ⦗٥٤٨⦘ فَهُوَ لَكُمْ"، فَقَالَ الْمُهَاجِرُونَ: فَمَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: وَمَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ: أَمَّا أَنَا وَبَنُو تَمِيمٍ فَلَا، وَقَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ: أَمَّا أَنَا وَبَنُو سُلَيْمٍ فَلَا، فَقَالَتْ بَنُو سُلَيْمٍ: بَلْ مَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ: أَمَّا أَنَا وَبَنُو فَزَارَةَ فَلَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَمْسَكَ مِنْكُمْ بِحَقِّهِ فَلَهُ بِكُلِّ إِنْسَانٍ سِتَّةُ فَرَائِضَ مِنْ أَوَّلِ فَيْءٍ نُصِيبُهُ"، فَرَدُّوا إِلَى النَّاسِ نِسَاءَهُمْ وَأَبْنَاءَهُمْ، ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتَّبَعَهُ النَّاسُ يَقُولُونَ: يَا رَسُولَ اللهِ، اقْسِمْ عَلَيْنَا فَيْئَنَا، حَتَّى اضْطَرُّوهُ إِلَى شَجَرَةٍ فَانْتُزِعَتْ عَنْهُ رِدَاءُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، رُدُّوا عَلَيَّ رِدَائِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ كَانَ لَكُمْ عَدَدُ شَجَرِ تِهَامَةَ نَعَمًا لَقَسَمْتُهُ عَلَيْكُمْ، ثُمَّ مَا أَلْفَيْتُمُونِي بَخِيلًا وَلَا جَبَانًا وَلَا كَذَّابًا"، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَنْبِ بَعِيرٍ وَأَخَذَ مِنْ سَنَامِهِ وَبَرَةً فَجَعَلَهَا بَيْنَ أُصْبُعَيْهِ فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، وَاللهِ مَا لِي مِنْ فَيْئِكُمْ وَلَا هَذِهِ الْوَبَرَةِ إِلَّا الْخُمُسَ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ؛ فَأَدُّوا الْخِيَاطَ وَالْمَخِيطَ؛ فَإِنَّ الْغُلُولَ عَارٌ وَنَارٌ وَشَنَارٌ عَلَى أَهْلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِكُبَّةٍ مِنْ خُيُوطِ شَعَرٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخَذْتُ هَذَا لِأَخِيطَ بِهِ بَرْذَعَةَ بَعِيرٍ لِي دَبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا حَقِّي مِنْهَا لَكَ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَمَّا إِذَا بَلَغَ الْأَمْرُ هَذَا فَلَا حَاجَةَ لِي بِهَا، فَرَمَى بِهَا مِنْ يَدِهِ.
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو ہوازن کے مالوں اور قیدیوں میں سے جو حاصل کرنا تھا حاصل کر لیا تو ہوازن کے وفد نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جعرانہ میں پا لیا اور وہ مطیع ہو چکے تھے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے لیے اصل ہے اور قبیلہ ہے اور ہمیں وہ مصیبت آئی ہے جو آپ پر مخفی نہیں ہے، پس آپ ہم پر احسان کریں، اللہ آپ پر احسان کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہیں تمہاری بیویاں اور اولاد زیادہ محبوب ہے یا تمہارا مال؟“ تو انھوں نے کہا: آپ نے ہمیں ہماری (عورتوں) اور مالوں میں اختیار دیا ہے، تو ہمیں ہماری اولاد اور ہماری بیویاں زیادہ محبوب ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس قدر میرا اور بنی عبدالمطلب کا حصہ ہے تو وہ میں تم کو دے چکا ہوں، اور جب میں لوگوں کو نماز پڑھاؤں تو تم کھڑے ہو جانا اور کہنا کہ ہم اپنی اولاد اور اپنی عورتوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسلمانوں کے پاس اور مسلمانوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سفارشی بناتے ہیں۔ پس میں تم کو اس وقت دے دوں گا اور میں تمہارے لیے سفارش کروں گا۔“ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھائی تو وہ کھڑے ہوئے اور انھوں نے وہی کہا جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو میرا اور بنی عبدالمطلب کا حصہ ہے وہ تمہارے لیے ہے۔“ یہ سن کر مہاجرین رضی اللہ عنہم نے بھی کہا: ہمارے حصے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہیں، اور انصار رضی اللہ عنہم نے کہا: ہمارے حصے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہیں۔ سیدنا اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اور بنو تمیم اس میں شامل نہیں، اور سیدنا عباس بن مرداس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اور بنو سلیم بھی اس میں شامل نہیں ہیں۔ (تب) بنو سلیم نے کہا: ہمارے حصے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہیں۔ سیدنا عیینہ بن بدر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اور بنو فزارہ اس میں شامل نہیں ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے تم میں سے اپنا حق روکا ہے تو اس کے لیے چھ اونٹ ہیں، پہلے مالِ فئی میں سے ہم اس کو اس کا حصہ دیں گے، پس ان لوگوں کو ان کی عورتیں اور اولاد لوٹا دو۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے، وہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے لیے ہمارا مال تقسیم کر دیں، یہاں تک کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر کر ایک درخت کی طرف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر مبارک آپ سے الگ ہوگئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! میری چادر مجھ پر لوٹاؤ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تہامہ کے درختوں کے برابر بھی جانور ہوں تو میں وہ تم میں تقسیم کر دوں گا، پھر تم مجھے بخیل، بزدل اور جھوٹا نہ پاؤ گے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک اونٹ کے پاس کھڑے ہوئے اور اس کی کوہان سے بال پکڑے، اسے اپنی ہتھیلی میں رکھا اور فرمایا: ”اے لوگو! تمہارے مالِ غنیمت میں سے میرے لیے کچھ نہیں ہے اور نہ ہی یہ بال، سوائے خمس کے اور خمس بھی تمہیں ہی لوٹا دیا جائے گا۔“ پھر فرمایا: ”اے لوگو! سوئی اور دھاگا بھی دے دو، کیونکہ مالِ غنیمت میں خیانت کرنے والے کے لیے قیامت کے دن شرم، آگ اور ننگ ہوگی۔“ انصار کا ایک آدمی بالوں کا ایک گچھا لے کر آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اسے درست کرنے کے لیے پکڑا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا حق بھی تیرے لیے ہے۔“ اس آدمی نے کہا: جب یہ بات ہے تو مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں اور اسے پھینک دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12933]
تخریج الحدیث: «حسن۔ احمد 2/ 184»
الحكم على الحديث: حسن
2682. -- باب: ما كان النبي صلى الله عليه وسلم يعطي المؤلفة قلوبهم وغيرهم من المهاجرين وما يستدل به على أنه إنما كان يعطيهم من الخمس دون أربعة أخماس الغنيمة
-- باب: نبی کریم ﷺ کا تالیفِ قلب کے لیے (نومسلموں) اور دیگر مہاجرین کو عطیات دینے کا بیان، اور اس بات کا استدلال کہ آپ ﷺ انہیں مالِ غنیمت کے بقیہ چار حصوں کے بجائے خمس (پانچویں حصے) سے عطا فرماتے تھے
حدیث نمبر: 12934
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ الدَّيْرُعَاقُولِيُّ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ نَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، فِيمَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ، فَطَفِقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ الْمِائَةَ مِنَ الْإِبِلِ، فَقَالُوا: يَغْفِرُ اللهُ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُكُنَا، وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ، قَالَ: فَحُدِّثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَقَالَتِهِمْ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْأَنْصَارِ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ لَمْ يَدْعُ مَعَهُمْ غَيْرَهُمْ، فَلَمَّا جَاءَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ؟" فَقَالَ لَهُ فُقَهَاؤُهُمْ: أَمَّا ذَوُو رَأْيِنَا فَلَمْ يَقُولُوا شَيْئًا، وَأَمَّا نَاسٌ مِنَّا حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ فَقَالُوا: يَغْفِرُ اللهُ لِرَسُولِ اللهِ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُكُنَا، وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِنِّي أُعْطِي رِجَالًا حَدِيثِي عَهْدٍ بِكُفْرٍ؛ أَتَأَلَّفُهُمْ، أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالْأَمْوَالِ وَتَرْجِعُونَ إِلَى رِحَالِكُمْ بِرَسُولِ اللهِ، لَمَا تَنْقَلِبُونَ بِهِ ⦗٥٤٩⦘ خَيْرٌ مِمَّا يَنْقَلِبُونَ بِهِ؟" قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ رَضِينَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ بَعْدِي أَثَرَةً شَدِيدَةً؛ فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلَقَوَا اللهَ وَرَسُولَهُ عَلَى الْحَوْضِ". قَالَ أَنَسٌ: إِذًا نَصْبِرُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ:" فَإِنِّي عَلَى الْحَوْضِ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ أَبِيهِ:" فَإِنِّي عَلَى الْحَوْضِ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انصار کے آدمیوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہوازن کے اموال میں سے اللہ نے جو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا ہے (اس میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے آدمیوں کو ایک سو اونٹ دیے۔ انہوں نے کہا: اللہ رسول کو معاف کرے، آپ قریش کو دیتے ہیں اور ہمیں چھوڑتے ہیں اور ہماری تلواریں ان کے خون سے لت پت ہیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی بات بیان کی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلایا اور چمڑے کے خیمے میں جمع کرلیا، کسی کو نہ چھوڑا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے تمہاری طرف سے کیا بات پہنچی ہے؟“ ان کے سمجھ دار لوگوں نے کہا: ہمارے معزز لوگوں نے کچھ نہیں کہا اور ہمارے نو عمر لوگ جو ہیں انہوں نے ایسی بات کہی ہے، انہوں نے کہا ہے کہ اللہ اپنے رسول کو معاف کرے کہ قریش کو دیتے ہیں اور ہمیں چھوڑتے ہیں اور ہماری تلواروں سے ان کا خون ٹپک رہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایسے لوگوں کو دیتا ہوں جو نئے نئے اسلام میں داخل ہوتے ہیں۔ اس طرح میں ان کی دلجوئی کرتا ہوں، کیا تم اس پر راضی نہیں کہ دوسرے لوگ مال و دولت ساتھ لے جائیں اور تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ اپنے گھر لے جاؤ۔ اللہ کی قسم! جو چیز تم اپنے ساتھ لے جاؤ گے وہ اس سے بہتر ہے جو وہ لے جا رہے ہیں۔“ انصار نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم راضی ہیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد تم دیکھو گے کہ تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی، اس وقت صبر کرنا یہاں تک کہ اللہ اور اس کے رسول سے آ ملو۔ میں حوضِ کوثر پر ملوں گا۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم صبر کریں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12934]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 4331۔ مسلم 1059»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12935
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ، ثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الْحَدِيثِ:" فَوَاللهِ مَا تَنْقَلِبُونَ بِهِ خَيْرٌ مِمَّا يَنْقَلِبُونَ بِهِ" وَقَالَ فِي آخِرِهِ: قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ:" فَلَمْ نَصْبِرْ".
”اللہ کی قسم! تم جس چیز کو لے کر پلٹو گے وہ اس سے بہتر ہے جسے لے کر وہ پلٹیں گے۔“ اس کے آخر میں ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: ”لیکن ہم نے صبر نہ کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12935]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12936
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ قَالَتِ الْأَنْصَارُ: وَاللهِ إِنَّ هَذَا هُوَ الْعَجَبُ، إِنَّ سُيُوفَنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَاءِ قُرَيْشٍ، وَإِنَّ غَنَائِمَنَا تُقْسَمُ بَيْنَهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ إِلَى الْأَنْصَارِ خَاصَّةً فَقَالَ:" مَا هَذَا الَّذِي بَلَغَنَا عَنْكُمْ؟" وَكَانُوا لَا يَكْذِبُونَ، فَقَالُوا هُوَ الَّذِي بَلَغَكَ، فَقَالَ:" أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالْغَنَائِمِ وَتَذْهَبُوا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بُيُوتِكُمْ؟" ثُمَّ قَالَ:" لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا سَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الْحَسَنِ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ، وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَدْ يَقُولُ الْقَائِلُ فِي خُمُسِ الْغَنِيمَةِ إِذَا مُيِّزَ مِنْهَا: نَحْنُ غَنِمْنَا هَذَا، وَيُرِيدُونَ أَنَّ سَبَبَ مِلْكِ ذَلِكَ بِهِمْ، وَذَلِكَ مَوْجُودٌ فِي كَلَامِ النَّاسِ، وَعَلَى ذَلِكَ كَلِمَةُ الْأَنْصَارِ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخُمُسِ:" هُوَ لِي، ثُمَّ هُوَ مَرْدُودٌ فِيكُمْ"، فَلَمَّا أَعْطَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَبْعَدِينَ أَنْكَرَتْ ذَلِكَ الْأَنْصَارُ الَّذِينَ هُمْ أَوْلِيَاؤُهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَأَخْبَرَنَا بَعْضُ أَصْحَابِنَا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى الْأَقْرَعَ وَأَصْحَابَهُ مِنْ خُمُسِ الْخُمُسِ.
ابوالتیاح کہتے ہیں: میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ جب فتح مکہ کا دن تھا تو انصار نے کہا: ”اللہ کی قسم! یہ تعجب کی بات ہے کہ ہماری تلواریں قریش کے خون سے لت پت ہوئیں اور ہماری غنیمتیں ان میں تقسیم کی جاتی ہیں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا پتا چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو خاص طور پر بلایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”تم سے ہمیں کیا بات پہنچی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ہم جھوٹ نہیں بولتے تھے، جو آپ کو پہنچا ہے وہ صحیح ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم راضی نہیں کہ لوگ غنیمتیں لے جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے اپنے گھروں میں جاؤ؟ اگر کسی وادی میں لوگ چلیں تو میں انصار کی گھاٹی میں چلوں گا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: غنیمت کے خمس کے بارے میں کہنے والے کہتے ہیں کہ جب اس میں تمیز کی جائے، ہم نے یہ غنیمت پائی اور وہ اس کی ملکیت کے سبب یہ ارادہ رکھتے تھے اور یہ انصار کے کلام میں موجود تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خمس میرے لیے ہے پھر تم میں لوٹا دیا جاتا ہے،“ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دور والوں کو دیا تو انصار کے ان لوگوں نے انکار کیا جو آپ کے قریبی تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اقرع اور اس کے ساتھیوں کو خمس کا خمس دیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12936]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: غنیمت کے خمس کے بارے میں کہنے والے کہتے ہیں کہ جب اس میں تمیز کی جائے، ہم نے یہ غنیمت پائی اور وہ اس کی ملکیت کے سبب یہ ارادہ رکھتے تھے اور یہ انصار کے کلام میں موجود تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خمس میرے لیے ہے پھر تم میں لوٹا دیا جاتا ہے،“ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دور والوں کو دیا تو انصار کے ان لوگوں نے انکار کیا جو آپ کے قریبی تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اقرع اور اس کے ساتھیوں کو خمس کا خمس دیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12936]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3146»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12937
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو الطَّاهِرِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، أَنَّ أَيُّوبَ حَدَّثَهُ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ ⦗٥٥٠⦘ عُمَرَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ بَعْدَ أَنْ رَجَعَ مِنَ الطَّائِفِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ يَوْمًا فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، فَكَيْفَ تَرَى؟ قَالَ:" اذْهَبْ فَاعْتَكِفْ يَوْمًا" وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْطَاهُ جَارِيَةً مِنَ الْخُمُسِ، فَلَمَّا أَعْتَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَايَا النَّاسِ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا عَبْدَ اللهِ، اذْهَبْ إِلَى تِلْكَ الْجَارِيَةِ فَخَلِّ سَبِيلَهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، وَاسْتَشْهَدَ بِهِ الْبُخَارِيُّ.
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے، لوٹنے کے بعد عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ مسجد الحرام میں ایک دن کا اعتکاف کروں گا، پس آپ کا کیا خیال ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور ایک دن کا اعتکاف کرو۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں خمس سے ایک لونڈی دی تھی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے قیدیوں کو آزاد کیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے عبداللہ (رضی اللہ عنہما)! جاؤ اس لونڈی کو بھی آزاد کر دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12937]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1656»
الحكم على الحديث: صحيح
2683. جماع أبواب تفريق الخمس -- باب: سهم الله وسهم رسوله صلى الله عليه وسلم من خمس الفيء والغنيمة
باب: خمس (پانچواں حصہ) تقسیم کرنے کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: مالِ فے اور مالِ غنیمت کے خمس میں سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حصے کا بیان
حدیث نمبر: 12938
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْحَسَنِ إِسْمَاعِيلَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الشَّعْرَانِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ جَدِّي يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ يَقُولُ: قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ:" إِنَّمَا اسْتَفْتَحَ اللهُ الْكَلَامَ فِي الْفَيْءِ وَالْغَنِيمَةِ بِذِكْرِ نَفْسِهِ؛ لِأَنَّهَا أَشْرَفُ الْكَسْبِ، وَإِنَّمَا يُنْسَبُ إِلَيْهِ كُلُّ شَيْءٍ يُشَرَّفُ وَيُعَظَّمُ، وَلَمْ يَنْسِبِ الصَّدَقَةَ إِلَى نَفْسِهِ؛ لِأَنَّهَا أَوْسَاخُ النَّاسِ".
سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے فئی اور غنیمت میں کلام کی ابتدا اپنی طرف سے کی، اس لیے کہ وہ بہترین کمائی ہے اور اس کی طرف ہر عزت اور شرف والی چیز منسوب ہوتی ہے اور صدقہ اس کی طرف منسوب نہیں ہوتا؛ اس لیے کہ وہ لوگوں کی میل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12938]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تذكرة الحفاظ 654»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12939
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ} [الأنفال: ٤١] ، فَقَالَ:" هَذَا مِفْتَاحُ كَلَامِ: لِلَّهِ مَا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ".
قیس بن مسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے حسن بن محمد رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمانِ الٰہی ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 41] کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: یہ کلام کی ابتدا ہے، (کیونکہ) دنیا اور آخرت میں جو کچھ ہے وہ اللہ ہی کا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12939]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12940
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ قَالَ: سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ الْجَزَّارِ قُلْتُ: كَمْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْخُمُسِ؟ قَالَ:" خُمُسُ الْخُمُسِ".
موسیٰ بن ابی عائشہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے یحییٰ بن جزار رحمہ اللہ سے سوال کیا، میں نے کہا: خمس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کتنا ہوتا تھا؟ انہوں نے کہا: خمس کا پانچواں حصہ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12940]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12941
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِي قَوْلِهِ {وَاعْلَمُوا أَنَّمَا ⦗٥٥١⦘ غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ} [الأنفال: ٤١] ، قَالَ:" يُقَسَّمُ الْخُمُسُ عَلَى خَمْسَةِ أَخْمَاسٍ، فَخُمُسُ اللهِ وَالرَّسُولِ وَاحِدٌ، وَيُقَسَّمُ مَا سِوَى ذَلِكَ عَلَى الْآخَرِينَ" وَرُوِّينَا عَنْ مُجَاهِدٍ وَقَتَادَةَ كَذَلِكَ، وَعَنْ عَطَاءٍ قَالَ: خُمْسُ اللهِ وَرَسُولِهِ وَاحِدٌ.
ابراہیم سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 41] کے بارے میں منقول ہے، فرماتے ہیں: خمس پانچ حصوں میں تقسیم ہوتا تھا اور ان میں سے ایک حصہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اور باقی دوسروں میں تقسیم ہوتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12941]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف