السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2683. جماع أبواب تفريق الخمس -- باب: سهم الله وسهم رسوله صلى الله عليه وسلم من خمس الفيء والغنيمة
باب: خمس (پانچواں حصہ) تقسیم کرنے کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: مالِ فے اور مالِ غنیمت کے خمس میں سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حصے کا بیان
حدیث نمبر: 12942
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ الْمَشَّاطُ، قَالَا: ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ، قَالَ:" خُمْسُ اللهِ وَالرَّسُولِ وَاحِدٌ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِيهِ مَا شَاءَ".
عطاء رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 41] کے بارے میں منقول ہے کہ خمس اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جہاں چاہتے صرف کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12942]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12943
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ، ثنا الْوَلِيدُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْعَلَاءِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ الْأَسْوَدَ قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَبْسَةَ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَعِيرٍ مِنَ الْمَغْنَمِ، فَلَمَّا سَلَّمَ أَخَذَ وَبَرَةً مِنْ جَنْبِ الْبَعِيرِ ثُمَّ قَالَ:" وَلَا يَحِلُّ مِنْ غَنَائِمِكُمْ مِثْلُ هَذَا، إِلَّا الْخُمُسَ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ" قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَدْ مَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي مَاضِيًا، وَصَلَّى اللهُ وَمَلَائِكَتُهُ عَلَيْهِ، فَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ عِنْدَنَا فِي سَهْمِهِ، فَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ: يُرَدُّ عَلَى السُّهْمَانِ الَّتِي ذَكَرَهَا اللهُ مَعَهُ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ: يَضَعُهُ الْإِمَامُ حَيْثُ رَأَى عَلَى الِاجْتِهَادِ لِلْإِسْلَامِ وَأَهْلِهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ: يَضَعُهُ فِي الْكُرَاعِ وَالسِّلَاحِ، وَالَّذِي أَخْتَارُ أَنْ يَضَعَهُ الْإِمَامُ فِي كُلِّ أَمْرٍ حُصِّنَ بِهِ الْإِسْلَامُ وَأَهْلُهُ، مِنْ سَدِّ ثَغْرٍ، أَوْ إِعْدَادِ كُرَاعٍ أَوْ سِلَاحٍ، أَوْ إِعْطَاءِ أَهْلِ الْبَلَاءِ فِي الْإِسْلَامِ نَفْلًا عِنْدَ الْحَرْبِ وَغَيْرِ الْحَرْبِ إِعْدَادًا لِلزِّيَادَةِ فِي تَعْزِيرِ الْإِسْلَامِ وَأَهْلِهِ، عَلَى مَا صَنَعَ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْطَى الْمُؤَلَّفَةَ، وَنَفَّلَ فِي الْحَرْبِ، وَأَعْطَى عَامَ خَيْبَرَ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِهِ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ أَهْلَ حَاجَةٍ وَفَضْلٍ، وَأَكْثَرُهُمْ أَهْلُ فَاقَةٍ، نَرَى ذَلِكَ وَاللهُ أَعْلَمُ كُلَّهُ مِنْ سَهْمِهِ.
عمرو بن عتبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں غنیمت کے اونٹ کے پاس نماز پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کر کے اونٹ کے پہلو سے بال پکڑے، پھر فرمایا: ”تمہاری غنیمتوں سے اتنا بھی میرے لیے حلال نہیں ہے سوائے خمس کے اور خمس بھی تم پر لوٹا دیا جاتا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزر چکے ہیں، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اور اللہ اور اس کے فرشتے آپ پر اپنی رحمتیں نازل فرمائیں۔ ہمارے اہل علم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے کے بارے میں اختلاف کیا ہے؛ بعض نے کہا: اسے ان حصوں پر لوٹا دیا جائے گا جن کا اللہ نے ذکر کیا ہے۔ بعض نے کہا: امام کی مرضی سے صرف ہوگا جہاں وہ چاہے گا، اسلام اور اہل اسلام کے لیے اور بعض نے کہا: وہ اسے اسلحہ وغیرہ کے لیے رکھ لے گا اور مجھے پسند یہ ہے کہ امام اسے رکھ لے گا، اسلام کے معاملات کے لیے اور اہل اسلام کے لیے، اسلحہ وغیرہ کے لیے یا اسلام میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو بطور انعام دینے کے لیے، جنگ میں ہوں یا حالتِ جنگ کے علاوہ۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف کیا تھا؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تالیف کے لیے دیا، حرب میں دیا اور خیبر کے سال اپنے صحابہ کو دیا، مہاجرین اور انصار میں سے ضرورت مندوں اور فضیلت والوں کو، اور ان میں اکثر ضرورت مند تھے، سب کو حصے سے دیا۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم تالیفِ قلب کے لیے بھی دیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12943]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزر چکے ہیں، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اور اللہ اور اس کے فرشتے آپ پر اپنی رحمتیں نازل فرمائیں۔ ہمارے اہل علم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے کے بارے میں اختلاف کیا ہے؛ بعض نے کہا: اسے ان حصوں پر لوٹا دیا جائے گا جن کا اللہ نے ذکر کیا ہے۔ بعض نے کہا: امام کی مرضی سے صرف ہوگا جہاں وہ چاہے گا، اسلام اور اہل اسلام کے لیے اور بعض نے کہا: وہ اسے اسلحہ وغیرہ کے لیے رکھ لے گا اور مجھے پسند یہ ہے کہ امام اسے رکھ لے گا، اسلام کے معاملات کے لیے اور اہل اسلام کے لیے، اسلحہ وغیرہ کے لیے یا اسلام میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو بطور انعام دینے کے لیے، جنگ میں ہوں یا حالتِ جنگ کے علاوہ۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف کیا تھا؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تالیف کے لیے دیا، حرب میں دیا اور خیبر کے سال اپنے صحابہ کو دیا، مہاجرین اور انصار میں سے ضرورت مندوں اور فضیلت والوں کو، اور ان میں اکثر ضرورت مند تھے، سب کو حصے سے دیا۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم تالیفِ قلب کے لیے بھی دیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12943]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 12944
َفِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ: لَمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ يَوْمَ حُنَيْنٍ مَا أَفَاءَ، قَسَمَ فِي النَّاسِ فِي الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ، وَلَمْ يَقْسِمْ أَوْ لَمْ يُعْطِ الْأَنْصَارَ شَيْئًا، فَكَأَنَّهُ وَجَدَ إِذْ لَمْ يُصِبْهُمْ مَا أَصَابَ، أَوْ كَأَنَّهُمْ وَجَدُوا إِذْ لَمْ يُصِبْهُمْ مَا أَصَابَ النَّاسَ، فَخَطَبَهُمْ فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَلَمْ أَجِدْكُمْ ضُلَّالًا فَهَدَاكُمُ اللهُ بِي؟ وَكُنْتُمْ مُتَفَرِّقِينَ فَأَلَّفَكُمُ اللهُ بِي؟ وَعَالَةً فَأَغْنَاكُمُ اللهُ بِي؟" ⦗٥٥٢⦘ قَالَ: كُلَّمَا قَالَ شَيْئًا قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ، قَالَ:" مَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تُجِيبُوا؟"، قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ، قَالَ:" لَوْ شِئْتُمْ قُلْتُمْ جِئْتَنَا كَذَا وَكَذَا، أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالْبَعِيرِ وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللهِ إِلَى رِحَالِكُمْ؟ لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ، وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ وَشِعْبَهَا، الْأَنْصَارُ شِعَارٌ وَالنَّاسُ دِثَارٌ، إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً؛ فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى.
عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب اللہ نے اپنے رسول کو حنین کے دن مال لوٹایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تالیفِ قلب کے لیے لوگوں میں تقسیم کیا اور انصار کو کچھ نہ دیا۔ ان کو اس کا ملال ہوا کہ لوگوں کو جو دیا ہے، ہمیں نہیں دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خطبہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انصار کی جماعت! کیا میں نے تم کو گمراہ نہ پایا تھا؟ پس اللہ نے تم کو میری وجہ سے ہدایت دی اور تم علیحدہ علیحدہ تھے، پس اللہ نے تم کو میری وجہ سے ملا دیا اور تمہیں غنی کر دیا۔“ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ایک جملے پر کہتے تھے کہ ہم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ احسان مند ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان باتوں کا جواب دینے میں تمہیں کیا چیز مانع رہی؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم احسان مند ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہتے تو اس طرح بھی کہہ سکتے تھے، کیا تم راضی نہیں کہ لوگ بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھروں میں لے جاؤ؟ اگر ہجرت کی فضیلت نہ ہوتی تو میں بھی انصار کا ایک آدمی بن جاتا۔ اگر لوگ کسی گھاٹی یا وادی میں چلیں تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی میں چلوں گا۔ انصار اس کپڑے کی طرح ہیں جو ہمیشہ جسم کے ساتھ رہتا ہے اور دوسرے لوگ اوپر والے کپڑے کی طرح ہیں۔ تم کو میرے بعد دوسروں سے پیچھے چھوڑ دیا جائے گا، پس تم صبر کرنا یہاں تک کہ مجھے حوض پر مل لینا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12944]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 4336»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12945
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: بَعَثَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ بِالْيَمَنِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَهَبِيَّةٍ فِي تُرْبَتِهَا، فَقَسَمَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ زَيْدٍ الطَّائِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي نَبْهَانَ، وَبَيْنَ الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي مُجَاشِعٍ، وَبَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ حِصْنٍ وَبَيْنَ عَلْقَمَةَ بْنِ عُلَاثَةَ الْعَامِرِيِّ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي كِلَابٍ، فَغَضِبَتْ قُرَيْشٌ وَقَالَتْ: يُعْطِي صَنَادِيدَ أَهْلِ نَجْدٍ وَيَدَعُنَا؟ فَقَالَ:" إِنَّمَا أَتَأَلَّفُهُمْ"، فَجَاءَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ، نَاتِئُ الْجَبِينِ، مُشْرَبُ الْوَجْنَتَيْنِ، كَثُّ اللِّحْيَةِ، مَحْلُوقُ الرَّأْسِ، فَقَالَ: اتَّقِ اللهَ يَا مُحَمَّدُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَمَنْ يُطِعِ اللهَ إِذَا عَصَيْتُهُ؟ أَيَأْمَنُنِي عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ وَلَا تَأْمَنُونِي؟" فَسَأَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ قَتْلَهُ، قَالَ: أُرَاهُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، فَمَنَعَهُ، فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ، لَئِنْ لَقِيتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ. وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ وَالِدِ الثَّوْرِيِّ.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یمن سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سونا بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چار آدمیوں: اقرع بن حابس حنظلی، عیینہ بن حصن، زید طائی (بنی نبہان سے) اور علقمہ بن علاثہ عامری (بنی کلاب سے) میں تقسیم کر دیا۔ پس قریش غصے میں آ گئے اور کہا: ”آپ نے اہل نجد کے سرداروں کو دے دیا ہے اور ہمیں چھوڑ دیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ان کو تالیفِ قلب کے لیے دیا ہے۔“ پھر ایک آدمی آیا جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی، گال پھولے ہوئے، پیشانی ابھری ہوئی، داڑھی بہت گھنی اور سر منڈا ہوا تھا، اس نے کہا: ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے ڈرو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں ہی اللہ کی نافرمانی کروں گا تو پھر اس کی فرمانبرداری کون کرے گا؟ اللہ تعالیٰ نے زمین پر مجھے دیانت دار بنا کر بھیجا ہے، کیا تم مجھے امین نہیں سمجھتے؟“ اس شخص کی گستاخی پر ایک صحابی (راوی کہتے ہیں میرے خیال میں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے) نے اسے قتل کرنے کی اجازت چاہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے روک دیا، پھر جب وہ شخص وہاں سے چلنے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن کی تلاوت کریں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے، یہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو زندہ چھوڑیں گے، اگر میں نے ان کو پا لیا تو ان کو ایسے قتل کروں گا جیسے قومِ عاد کا قتل ہوا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12945]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3344»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12946
وَأَمَّا النَّفْلُ فَفِيمَا: أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:" بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً إِلَى نَجْدٍ، فَخَرَجْتُ فِيهَا فَأَصَبْنَا إِبِلًا وَغَنَمًا، فَبَلَغَتْ سُهْمَانُنَا اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا، وَنَفَّلَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا بَعِيرًا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ كَمَا مَضَى.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ نجد کی طرف بھیجا، میں بھی اس میں گیا، ہمیں اونٹ اور بکریاں ملیں، ہمارا حصہ بارہ اونٹوں تک پہنچ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایک اور دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12946]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1749»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12947
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، ثنا الْحَكَمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُنَفِّلُ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ، يَعْنِي الْآيَةَ، فِي الْمَغْنَمِ، فَلَمَّا نَزَلَتْ تَرَكَ النَّفْلَ الَّذِي كَانَ يُنَفِّلُ، فَصَارَ ذَلِكَ فِي خُمُسِ الْخُمُسِ، وَهُوَ سَهْمُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَسَهْمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَرُوِّينَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ قَالَ: كَانَ النَّاسُ يُعْطَوْنَ النَّفْلَ مِنَ الْخُمُسِ.
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آیتِ غنیمت نازل ہونے سے پہلے لوگوں کو مال دیتے تھے، جب آیت نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح پہلے دیتے تھے، اس طرح دینا چھوڑ دیا۔ پس یہ خمس کا پانچواں ہوگیا اور وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12947]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 12948
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، كَانَ مَعَ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ فِي غَزَاةٍ غَزَاهَا، فَأَصَابُوا سَبْيًا، فَأَرَادَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ أَنْ يُعْطِيَ أَنَسًا مِنَ السَّبْيِ قَبْلَ أَنْ يَقْسِمَ، فَقَالَ أَنَسٌ:" لَا، وَلَكِنِ اقْسِمْ، ثُمَّ أَعْطِنِي مِنَ الْخُمُسِ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ابن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ایک غزوہ میں عبیداللہ بن ابی بکرہ کے ساتھ تھے، پس ان کو قیدی ملے، عبیداللہ نے تقسیم سے پہلے ہی انس رضی اللہ عنہ کو ایک قیدی دینے کا ارادہ کیا، انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”نہیں بلکہ پہلے تقسیم کرو، پھر خمس سے مجھے دینا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12948]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12949
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمَّا افْتُتِحَتْ خَيْبَرُ سَأَلَتْ يَهُودُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِرَّهُمْ عَلَى أَنْ يَعْمَلُوا عَلَى النِّصْفِ مِمَّا خَرَجَ مِنْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُقِرُّكُمْ فِيهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا"، فَكَانُوا عَلَى ذَلِكَ، وَكَانَ الثَّمَرُ يُقْسَمُ عَلَى السُّهْمَانِ مِنْ نِصْفِ خَيْبَرَ، وَيَأْخُذُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخُمُسَ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْعِمُ كُلَّ امْرَأَةٍ مِنْ أَزْوَاجِهِ مِنَ الْخُمُسِ مِائَةَ وَسْقٍ تَمْرًا، وَعِشْرِينَ وَسْقًا شَعِيرًا فَلَمَّا أَرَادَ عُمَرُ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ أَرْسَلَ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُنَّ: مَنْ أَحَبَّ مِنْكُنَّ أَنْ أَقْسِمَ لَهَا نَخْلًا بِخَرْصِهَا مِائَةَ وَسْقٍ فَيَكُونُ لَهَا أَصْلُهَا وَأَرْضُهَا وَمَاؤُهَا، وَمِنَ الزَّرْعِ مَزْرَعَةَ خَرْصٍ عِشْرِينَ وَسْقًا فَعَلْنَا، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ نَعْزِلَ الَّذِي لَهَا فِي الْخُمُسِ كَمَا هُوَ فَعَلْنَا.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب خیبر فتح ہوا تو یہود نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ان کو برقرار رکھیں اس شرط پر کہ وہ نصف پر کام کریں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم کو برقرار رکھتا ہوں اس شرط پر جب تک ہماری مرضی ہوگی۔“ پس وہ اسی شرط پر تھے اور خیبر کے نصف پھل حصوں میں تقسیم ہوتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے خمس لیتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کو خمس سے ایک سو وسق کھجور اور بیس وسق جَو دیتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب یہود کو نکالنے کا ارادہ کیا تو ازواج مطہرات کی طرف پیغام بھیجا کہ تم میں سے جس کا جی چاہے میں اس کو اتنے درخت دے دوں، جن میں سے سو وسق کھجور اپنی اصل کے ساتھ اور پانی کے ساتھ دے دوں، اسی طرح کھیتی میں سے بیس وسق جَو کے برابر درخت بھی دے دوں اور جو چاہے گی کہ میں اس کے لیے خمس سے حصہ نکالا کروں گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12949]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابوداود 3008»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12950
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنٍ لِمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، عَمَّنْ أَدْرَكَ مِنْ أَهْلِهِ، وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، فَذَكَرَا قِسْمَةَ خَيْبَرَ، قَالَا:" ثُمَّ قَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُمُسَهُ بَيْنَ أَهْلِ قَرَابَتِهِ وَبَيْنَ نِسَائِهِ وَبَيْنَ رِجَالٍ وَنِسَاءٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَعْطَاهُمْ مِنْهَا، فَقَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنَتِهِ فَاطِمَةَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ مِائَتَيْ وَسْقٍ، وَلعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِائَةَ وَسْقٍ، وَلِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ مِائَتَيْ وَسْقٍ، مِنْهَا خَمْسُونَ وَسْقًا نَوًى، وَلِعِيسَى بْنِ نُقِيمٍ مِائَتَيْ وَسْقٍ، وَلِأَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِائَتَيْ وَسْقٍ" فَذَكَرَا جَمَاعَةً مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ قَسَمَ لَهُمْ مِنْهَا.
عبداللہ بن ابی بکر بن حزم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ خیبر کی تقسیم کا ذکر ہوا تو انہوں نے کہا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خمس کو اپنے رشتہ داروں، اپنی بیویوں، آدمیوں اور مسلمان عورتوں میں تقسیم کیا اور اس میں سے ان کو دیا، پس اس میں سے اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سو وسق اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے لیے ایک سو وسق، اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے لیے دو سو وسق، ان میں سے پچاس وسق گٹھلی والی کھجور کے اور عیسیٰ بن نقیم کو دو سو وسق اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بھی دو سو وسق دیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12950]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2684. -- باب: سهم ذي القربى من الخمس
-- باب: خمس میں سے قریبی رشتہ داروں (اہلِ بیت) کے حصے کا بیان
حدیث نمبر: 12951
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَنَّهُ قَالَ: مَشَيْتُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَعْطَيْتَ بَنِي الْمُطَّلِبِ وَتَرَكْتَنَا، وَإِنَّمَا نَحْنُ وَهُمْ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا بَنُو الْمُطَّلِبٍ وَبَنُو هَاشِمٍ شَيْءٌ وَاحِدٌ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ وَابْنِ يُوسُفَ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، وَزَادَ قَالَ: وَلَمْ يَقْسِمِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ وَلَا لِبَنِي نَوْفَلٍ.
جبیر بن مطعم اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں اور عثمان بن عفان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، ہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ نے بنی مطلب کو دیا اور ہم کو چھوڑ دیا اور ہم اور وہ ایک جیسے ہی ہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی مطلب اور بنی ہاشم ایک ہی چیز ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12951]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3140»
الحكم على الحديث: صحيح