🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2853. جماع أبواب اجتماع الولاة، وأولاهم، وتفرقهم، وتزويج المغلوبين على عقولهم والصبيان وغير ذلك -- باب: لا ولاية لأحد مع أب
یہ جامع ابواب ہیں جن میں اولیاء کے جمع ہونے، ان میں ولایت کے سب سے زیادہ حق دار ہونے، ان کے باہمی اختلاف، ان لوگوں کے نکاح کرانے جن کی عقل زائل ہو چکی ہو، بچوں کے نکاح کرانے اور دیگر متعلقہ امور کا بیان ہے۔ -- باب: اس بیان میں کہ باپ کی موجودگی میں کسی اور شخص کو ولایت کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13746
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عَيَّاشٌ السُّكَّرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِيمَا يَحْسِبُ حَمَّادٌ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ خَدِيجَةَ بِنْتَ خُوَيْلِدٍ، وَكَانَ أَبُوهَا يَرْغَبُ عَنْ أَنْ يُزَوِّجَهُ، فَصَنَعَتْ طَعَامًا وَشَرَابًا، فَدَعَتْ أَبَاهَا وَنَفَرًا مِنْ قُرَيْشٍ، فَطَعِمُوا وَشَرِبُوا حَتَّى ثَمِلُوا، فَقَالَتْ خَدِيجَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا لِأَبِيهَا: إِنَّ مُحَمَّدًا يَخْطُبُنِي، فَزَوِّجْهُ، فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ، فَخَلَّقَتْهُ وَأَلْبَسَتْهُ حُلَّةً، وَكَانُوا يَصْنَعُونَ بِالْآبَاءِ إِذَا زَوَّجُوا بَنَاتَهُمْ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ السُّكْرُ نَظَرَ، فَإِذَا هُوَ مُخَلَّقٌ عَلَيْهِ حُلَّةٌ، فَقَالَ مَا شَأْنِي؟ قَالَتْ: زَوَّجْتَنِي مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، فَقَالَ: أَنَا أُزَوِّجُ يَتِيمَ أَبِي طَالِبٍ؟ فَقَالَ: لَا لَعَمْرِي، فَقَالَتْ خَدِيجَةُ: أَمَا تَسْتَحِي تُرِيدُ أَنْ تُسَفِّهَ نَفْسَكَ عِنْدَ قُرَيْشٍ تُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّكَ كُنْتَ سَكْرَانَ، فَلَمْ تَزَلْ بِهِ حَتَّى أَقَرَّ.
عمار بن ابی عمار حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ حماد کا گمان تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کا تذکرہ کیا، لیکن ان کے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی شادی کرنے سے بے رغبت تھے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کھانے پینے کا اہتمام کیا اور اپنے والد اور قریبیوں کے ایک گروہ کو دعوت دی۔ جب انہوں نے کھا پی لیا اور مدہوش ہو گئے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنے والد سے کہا: محمد بن عبداللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے مجھے شادی کا پیغام دیا ہے، آپ میری شادی کر دیں، تو ان کے والد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شادی کر دی، تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنے والد کو خوشبو لگائی اور حلہ پہنایا۔ یہ اس وقت کرتے تھے جب والد اپنی بیٹیوں کی شادی کرتے تھے۔ جب ان کے والد سے نشے کی کیفیت ختم ہوئی تو انہوں نے اپنے اوپر خوشبودار حلہ دیکھا تو کہنے لگے: میری یہ کیا حالت ہے؟ تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کہنے لگی: آپ نے میری شادی محمد بن عبداللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے کر دی ہے۔ انہوں نے کہا: میں ابوطالب کے یتیم سے شادی کروں گا؟ نہیں، میری عمر کی قسم! حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں: کیا آپ کو اس بات سے حیا نہیں آتی کہ آپ قریشیوں کے نزدیک بیوقوف ٹھہریں کہ آپ لوگوں کو اس بات کی خبر دیں کہ آپ نشہ کی حالت میں تھے؟ وہ یہی بات بار بار ان کو کہتی رہیں یہاں تک کہ انہوں نے اقرار کر لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13746]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13747
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُؤَمَّلِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مِقْسَمٍ أَبِي الْقَاسِمِ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ ذَكَرَ قِصَّةَ تَزْوِيجِ خَدِيجَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَذَكَرَتْ أَنَّهَا كَلَّمَتْ أَخَاهُ، فَكَلَّمَ أَبَاهُ، وَقَدْ سُقِيَ خَمْرًا، فَذَكَرَ لَهُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَكَانَهُ وَسَأَلَهُ أَنْ يُزَوِّجَهُ خَدِيجَةَ، فَزَوَّجَهُ خَدِيجَةَ، وَنَامَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ صَاحِيًا، ⦗٢١٠⦘ فَأَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ زَوَّجَهُ، فَقَالَ: أَيْنَ صَاحِبُكُمُ الَّذِي تَزْعُمُونَ أَنِّي زَوَّجْتُهُ، فَبَرَزَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِ قَالَ: إِنْ كُنْتُ زَوَّجْتُهُ فَسَبِيلُ ذَلِكَ، وَإِنْ لَمْ أَكُنْ فَعَلْتُ فَقَدْ زَوَّجْتُهُ" وَرُوِّينَا عَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ خَدِيجَةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَأَنْكَحَهُ إِيَّاهَا أَبُوهَا خُوَيْلِدُ بْنُ أَسَدٍ.
سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی شادی کا قصہ ذکر کیا کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھائی سے بات کی اور انہوں نے اپنے والد سے اور ان کے والد نے شراب پی رکھی تھی۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مرتبہ کا تذکرہ کیا اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی شادی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی شادی کردی۔ پھر سو گئے، پھر ہوش کی حالت میں بیدار ہوئے اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی شادی سے انکار کردیا۔ پھر کہنے لگا: تمہارا وہ صاحب کہاں ہے کہ جس کے بارے میں تمہارا گمان ہے کہ میں نے اس سے شادی کردی ہے؟ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سامنے آئے تو اس نے آپ کو دیکھا تو کہنے لگے: اگر میں نے شادی کردی ہے تو درست، اگر نہیں کی تو اب میں نے شادی کردی ہے۔
(ب) امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے زمانہ جاہلیت میں نکاح کیا اور ان کا نکاح ان کے والد خویلد بن اسد نے کروایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13747]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»

الحكم على الحديث: ضعيف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13748
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: لَمَّا مَاتَتْ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا جَاءَتْ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا تَزَوَّجُ؟ قَالَ:" وَمَنْ؟" قَالَتْ: إِنْ شِئْتَ بِكْرًا وَإِنْ شِئْتَ ثَيِّبًا قَالَ:" وَمَنِ الْبِكْرُ وَمَنِ الثَّيِّبُ؟" قَالَتْ: أَمَّا الْبِكْرُ فَابْنَةُ أَحَبِّ خَلْقِ اللهِ إِلَيْكَ عَائِشَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ، وَأَمَّا الثَّيِّبُ فَسَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ قَدْ آمَنَتْ بِكَ، وَاتَّبَعَتْكَ قَالَ:" فَاذْكُرِيهِمَا لِي" قَالَتْ: فَأَتَتْ أُمَّ رُومَانَ، فَقَالَتْ: يَا أُمَّ رُومَانَ مَاذَا أَدْخَلَ اللهُ عَلَيْكُمْ مِنَ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ؟ قَالَتْ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَتْ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ عَائِشَةَ قَالَتْ: انْتَظِرِي فَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ آتٍ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: أَوَ تَصْلُحُ لَهُ وَهِيَ ابْنَةُ أَخِيهِ؟ قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا أَخُوهُ وَهُوَ أَخِي وَابْنَتُهُ تَصْلُحُ لِي" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قُولِي لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيَأْتِ قَالَ: فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمُلِّكَهَا قَالَتْ خَوْلَةُ: ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَى سَوْدَةَ وَأَبُوهَا شَيْخٌ كَبِيرٌ قَدْ جَلَسَ عَنِ الْمَوَاسِمِ، فَحَيَّيْتُهُ بِتَحِيَّةِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَقُلْتُ: أَنْعِمْ صَبَاحًا قَالَ:" مَنْ أَنْتِ؟" قُلْتُ: خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ قَالَتْ: فَرَحَّبَ بِي وَقَالَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ: قَالَتْ: قُلْتُ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَذْكُرُ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ، فَقَالَ: كُفُوٌ كَرِيمٌ، مَاذَا تَقُولُ صَاحِبَتُكِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ تُحِبُّ قَالَ: فَقُولِي لَهُ فَلْيَأْتِ قَالَتْ: فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمُلِّكَهَا. وَقَدِمَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فَجَعَلَ يَحْثُو عَلَى رَأْسِهِ التُّرَابَ أَنْ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْدَةَ" وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ.
یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جب خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا فوت ہو گئیں تو خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول! کیا آپ شادی نہ کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کس سے؟“ کہنے لگی: کنواری سے چاہو یا بیوہ سے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کنواری کون؟ اور بیوہ کون؟“ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا کہنے لگی کہ کنواری تو اس شخص کی بیٹی ہے جو اللہ کی مخلوق میں سے آپ کو سب سے زیادہ محبوب ہے، یعنی عائشہ بنت ابی بکر (رضی اللہ عنہما)، اور بیوہ سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا جس نے ایمان قبول کرنے کے بعد آپ کی پیروی بھی کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے پاس میرا تذکرہ کرنا۔“ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: وہ ام رومان رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور کہا: اے ام رومان! اللہ نے تمہارے گھر میں خیر و برکت کو داخل کر دیا ہے۔ ام رومان رضی اللہ عنہا نے پوچھا: وہ کیا؟ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا کہنے لگیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ کیا ہے۔ ام رومان رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: ذرا انتظار کرو، ابوبکر ابھی آجاتے ہیں۔ اتنی دیر میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے تو ام رومان رضی اللہ عنہا نے اس بات کا تذکرہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کیا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: کیا یہ ان کے لیے درست ہے؟ یہ ان کے بھائی کی بیٹی ہے۔ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس کا بھائی اور وہ میرے بھائی، لیکن اس کی بیٹی سے نکاح درست ہے۔“ اس نے حدیث کو ذکر کیا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہیں کہ آپ آ جائیں۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر نکاح کر لیا۔ پھر سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی۔ ان کے والد بوڑھے آدمی تھے، وہ کام کاج سے فارغ بیٹھے تھے۔ سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے جاہلیت والا سلام کہا، میں نے کہا: آپ کی صبح اچھی ہو۔ وہ کہنے لگے: آپ کون؟ میں نے کہا: خولہ بنت حکیم، تو انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور جو اللہ نے چاہا کہا۔ کہتی ہیں: میں نے کہا کہ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ کرتے ہیں (یعنی نکاح کا ارادہ رکھتے ہیں) وہ کہنے لگے: اچھا کفو ہے، آپ کی سہیلی (سودہ) کیا کہتی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں! وہ پسند کرتی ہیں۔ کہنے لگے: جاؤ ان سے کہہ دینا آ جائیں۔ خولہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لیا، جب عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ آیا تو اس نے اپنے سر پر خاک ڈالنا شروع کر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سودہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لیا ہے۔ باقی حدیث کو بھی اس نے ذکر کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13748]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13749
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَنَّ شُعَيْبَ بْنَ أَبِي حَمْزَةَ، أَخْبَرَهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: أَخْبَرَنِي، وَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، يُحَدِّثُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ مِنْ خُنَيْسِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا، فَتُوُفِّيَ بِالْمَدِينَةِ، قَالَ عُمَرُ: فَلَقِيتُ ⦗٢١١⦘ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَفْصَةَ، فَقُلْتُ: إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ، فَقَالَ: سَأَنْظُرُ فِي أَمْرِي، فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ، ثُمَّ لَقِيَنِي، فَقَالَ: قَدْ بَدَا لِي أَنْ لَا أَتَزَوَّجَ يَوْمِي هَذَا، قَالَ عُمَرُ: فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ فَقُلْتُ: إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ، فَصَمَتَ أَبُو بَكْرٍ وَلَمْ يَرْجِعْ إِلِيَّ شَيْئًا، فَكُنْتُ عَلَيْهِ أَوْجَدَ مِنِّي عَلَى عُثْمَانَ، فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ ثُمَّ خَطَبَهَا إِلِيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: لَعَلَّكَ وَجَدْتَ عَلَيَّ حِينَ عَرَضْتَ عَلَيَّ حَفْصَةَ، فَلَمْ أَرْجِعْ إِلَيْكَ شَيْئًا؟ قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرْجِعَ إِلَيْكَ فِيمَا عَرَضْتَ عَلَيَّ، إِلَّا أَنِّي قَدْ كُنْتُ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ ذَكَرَ حَفْصَةَ فَلَمْ أَكُنْ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ تَرَكَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبِلْتُهَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بیٹی حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما جب بیوہ ہوئیں، خنیس بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ (جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی اور بدری تھے) کی مدینہ میں وفات کی وجہ سے، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ پر اپنی بیٹی کو پیش کیا (یعنی نکاح کا کہا)۔ میں نے کہا: ”اگر آپ چاہیں تو میں آپ کا نکاح حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما سے کر دوں۔“ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں اپنے معاملہ میں سوچ و بچار کر لوں۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں چند دن ٹھہرا رہا، پھر عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی مجھ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہہ دیا کہ: ”میں آج کے دن شادی نہ کروں گا۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور کہا: ”اگر آپ چاہیں تو میں آپ کا نکاح حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما سے کر دوں۔“ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے، مجھے کچھ جواب نہ دیا۔ میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر اپنے اندر غم پایا۔ چند دنوں کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کا پیغام دے دیا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا نکاح کر دیا، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ ملے اور فرمانے لگے: ”آپ کو پریشانی ہوتی ہوگی جب آپ نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما کو نکاح کے لیے میرے اوپر پیش کیا اور میں نے کچھ بھی جواب نہ دیا۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ”ہاں۔“ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ”مجھے کسی چیز نے بھی جواب سے نہ روکا تھا جب آپ نے نکاح کے لیے کہا، البتہ میں یہ جانتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما کا تذکرہ کیا تھا، لیکن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کو ظاہر کرنا نہ چاہتا تھا، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھوڑ دیتے تو میں قبول کر لیتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13749]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 4145۔ 4005۔ 5122۔ 5129»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2854. -- باب: ولاية الأخ
-- باب: بھائی کی ولایت کے ثبوت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13750
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْعَدْلُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي ابْنُ نَاجِيَةَ، وَعِمْرَانُ قَالَا: ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أنا خَالِدٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ،" إِنَّ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ زَوَّجَ أُخْتَهُ رَجُلًا، فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَةً، فَبَانَتْ مِنْهُ، ثُمَّ جَاءَ يَخْطُبُهَا، فَأَبَى عَلَيْهِ، وَقَالَ: أَفْرَشْتُكَ كَرِيمَتِي، ثُمَّ طَلَّقْتَهَا ثُمَّ جِئْتَ تَخْطُبُهَا، لَا وَاللهِ لَا أُزَوِّجُكَهَا، وَكَانَتِ الْمَرْأَةُ قَدْ هَوِيَتْ أَنْ تُرَاجِعَهُ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى {وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ، فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ، فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ} [البقرة: ٢٣٢] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ قَالَ مَعْقِلٌ: نَعَمْ أُزَوِّجُكَهَا" لَفْظُ حَدِيثِ خَالِدٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ.
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے اپنی بہن کا نکاح ایک آدمی سے کر دیا، اس نے طلاق دے دی جس کی وجہ سے وہ اس سے جدا ہو گئی۔ پھر اس آدمی نے معقل رضی اللہ عنہ کی بہن کو پیغامِ نکاح دیا تو معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا اور کہنے لگے: میں نے تجھے اپنی عزت کا بستر عطا کیا، پھر تو نے طلاق دے دی۔ اب پھر نکاح کا پیغام لے کر آیا ہے، اللہ کی قسم! اب میں تیرا نکاح نہ کروں گا، اور عورت بھی اس کی طرف واپسی کی خواہش مند تھی تو اللہ نے یہ آیت اتاری: ﴿وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ﴾ [سورة البقرة: 232] ”اور جب تم عورتوں کو طلاق دو وہ اپنی عدتِ مقررہ کو پہنچ جائیں تو تم ان کو اپنے خاوندوں سے نکاح کرنے سے مت روکو۔“ (آیت کے آخر تک) معقل رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، میں اس کا نکاح تجھ سے کر دوں گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13750]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 4230»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2855. -- باب: ولاية ابن العم وإذا كان هو وليا فابن الأخ ثم العم أولى أن يكون وليا
-- باب: چچا زاد بھائی کی ولایت کا بیان، اور جب وہ ولی بن سکتا ہے تو بھتیجا اور پھر چچا ولی بننے کے بدرجہ اولیٰ حق دار ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13751
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ زِيَادٍ الْعَدْلُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا {وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي، لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ، وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ} [النساء: ١٢٧] قَالَتْ:" هَذِهِ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ، هُوَ وَلِيُّهَا ⦗٢١٢⦘ لَعَلَّهَا تَكُونُ شَرِيكَتَهُ فِي مَالِهِ، وَهُوَ أَوْلَى بِهَا، فَيَرْغَبُ عَنْهَا أَنْ يَنْكِحَهَا، وَيَعْضِلُهَا لِمَا لَهَا، فَلَا يُنْكِحُهَا غَيْرَهُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَشْرَكَهُ أَحَدٌ فِي مَالِهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى عَنْ وَكِيعٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ هِشَامٍ.
ہشام بن عروہ اپنے والد سے اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں: ﴿وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَن تَنكِحُوهُنَّ﴾ [سورة النساء: 127] ”اور جو یتیم بچیوں کے بارے میں تم پر کتاب میں پڑھا جاتا ہے کہ وہ یتیم بچیاں تم ان کو ان کے مقرر کردہ حق مہر ادا نہیں کرتے اور تم ان سے نکاح کی رغبت رکھتے ہو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ یہ یتیم بچی ایک آدمی کی کفالت میں تھی، وہ اس کا ولی تھا، شاید کہ وہ اس کے مال میں حصہ دار تھی اور وہ اس کا زیادہ حق دار تھا لیکن اس سے نکاح کی رغبت نہ رکھتا تھا اور اس کے مال کی وجہ سے کسی دوسرے سے اس کا نکاح بھی نہ کرتا تھا کہیں دوسرا اس کے مال میں حصہ دار نہ بن جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13751]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري في مواطن كثيره۔ مسلم 3018»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2856. -- باب: الابن يزوجها إذا كان عصبة لها بغير البنوة
-- باب: اس بیان میں کہ بیٹا اس عورت کا نکاح کروا سکتا ہے جب وہ بیٹے کے رشتے کے علاوہ کسی اور جہت سے اس کا عصبہ (ولی) بنتا ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13752
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، حَدَّثَنِي ابْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ، فَلْيَقُلْ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللهُمَّ عِنْدَكَ أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِي، فَأْجُرْنِي فِيهَا وَأَبْدِلْنِي بِهَا خَيْرًا مِنْهَا"، فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُهَا، فَجَعَلْتُ كُلَّمَا طَلَبْتُ أَبْدَلَنِي بِهَا خَيْرًا مِنْهَا قُلْتُ فِي نَفْسِي، وَمَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ؟ ثُمَّ قُلْتُهَا، فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا بَعَثَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَخْطُبُهَا عَلَيْهِ، فَقَالَتْ لِابْنِهَا: يَا عُمَرُ قُمْ، فَزَوِّجْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَزَوَّجَهُ" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، وَلَيْسَ فِي رِوَايَةِ الْأَصْبَهَانِيِّ ذِكْرُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَلَا ذِكْرُ الْعِدَّةِ، وَلَكِنْ قَالَ: قَالَتْ: فَخَطَبَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِي شَاهِدٌ قَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْهُمْ شَاهِدٌ، وَلَا غَائِبٌ إِلَّا سَيَرْضَى بِهِ، فَقُلْتُ: يَا عُمَرُ قُمْ فَزَوِّجْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَعُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ كَانَ عَصَبَةً لَهَا، وَذَاكَ لِأَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ هِيَ هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مَخْزُومٍ، وَعُمَرُ هُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ، وَأَبُو سَلَمَةَ اسْمُهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْأَسَدِ بْنِ هِلَالِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مَخْزُومٍ.
ابن عمر بن ابی سلمہ اپنے والد (عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ) سے اور وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کو مصیبت پہنچے وہ «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ”بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں“ پڑھے۔ (اور یہ کہے:) «اللَّهُمَّ عِنْدَكَ أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِي، فَأْجُرْنِي فِيهَا، وَأَبْدِلْنِي بِهَا خَيْرًا مِنْهَا» ”اے اللہ! میں اپنی مصیبت پر تیری جانب سے صبر (کے ثواب) کی امید رکھتی ہوں، اس مصیبت میں مجھے اجر دے اور مجھے اس سے اچھا نعم البدل عطا فرما۔““ (ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:) جب ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو میں نے یہ کلمات کہنے شروع کر دیے۔ لیکن جب بھی میں ان کے نعم البدل کا تذکرہ کرتی تو اپنے دل میں سوچتی کہ ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر کون ہوگا؟ پھر میں یہ کلمات کہتی رہی۔ جب عدت مکمل ہوگئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو پیغامِ نکاح دے کر بھیجا تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بیٹے سے کہا: اے عمر! کھڑے ہو جاؤ، آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح کر دیں، تو انہوں نے آپ کا نکاح کر دیا۔
(ب) یہ ابو عبداللہ رحمہ اللہ کی حدیث ہے، لیکن اصبہانی کی روایت میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور عدت کا تذکرہ نہیں ہے۔ لیکن اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نکاح کا پیغام دیا۔ میں نے کہا: میرے ولیوں میں سے کوئی موجود نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی (ولی) موجود یا غائب ایسا نہیں جو میرے اس نکاح پر راضی نہ ہو۔“ میں نے کہا: اے عمر! کھڑے ہو جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح کر دو۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ ان کا عصبہ بھی تھا؛ کیونکہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا نسب نامہ یہ ہے: ہند بنت ابی امیہ بن المغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم اور عمر یہ ابن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ ہیں اور ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کا نام عبداللہ بن عبدالاسد بن ہلال بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13752]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ او اصله في الصحيح لغير هذا۔ وانظر الاروآ 1819»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13753
أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ، حَدَّثَنِي جَدِّي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَذَكَرَهُ وَسَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا نَصْرٍ الْكَلَابَاذِيَّ الْحَافِظَ رَحِمَهُ اللهُ، يَقُولُ:" عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ تِسْعِ سِنِينَ وَمَاتَ فِي خِلَافَةِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ".
حافظ ابو نصر کلاباذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ نو سال کے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے اور عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ عبدالملک بن مروان کی خلافت میں فوت ہوئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13753]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13754
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ، ثنا الْوَاقِدِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ أُمَّ سَلَمَةَ قَالَ:" مُرِي ابْنَكِ أَنْ يُزَوِّجَكِ، أَوْ قَالَ: زَوَّجَهَا ابْنُهَا وَهُوَ يَوْمَئِذٍ صَغِيرٌ لَمْ يَبْلُغْ"، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَكَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَابِ النِّكَاحِ مَا لَمْ يَكُنْ لِغَيْرِهِ.
سلمہ بن عبداللہ بن سلمہ بن ابی سلمہ اپنے والد سے اور وہ دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بیٹے کو حکم دے کہ وہ تیرا نکاح کر دے“ یا فرمایا: ”اس کے بیٹے نے نکاح کر دیا“ وہ ابھی بالغ بھی نہ ہوئے تھے۔
شیخ فرماتے ہیں: نکاح کے معاملے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ (خصوصیات) حاصل تھیں جو آپ کے علاوہ کسی اور کو حاصل نہ تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13754]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13755
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ،" أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ خَطَبَ أُمَّ سُلَيْمٍ، فَقَالَتْ: يَا أَبَا طَلْحَةَ أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنَّ إِلَهَكَ الَّذِي تَعْبُدُ خَشَبَةٌ تَنْبُتُ مِنَ الْأَرْضِ نَجَرَهَا حَبَشِيُّ بَنِي فُلَانٍ؟ إِنْ أَنْتَ أَسْلَمْتَ لَمْ أُرِدْ مِنْكَ مِنَ الصَّدَاقِ غَيْرَهُ قَالَ: حَتَّى أَنْظُرَ فِي أَمْرِي قَالَ: فَذَهَبَ ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، قَالَتْ: يَا أَنَسُ زَوِّجْ أَبَا طَلْحَةَ"، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ابْنُهَا وَعَصَبَتُهَا فَإِنَّهُ أَنَسُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّضْرِ بْنِ ضَمْضَمِ بْنِ زَيْدِ بْنِ حَرَامٍ مِنْ بَنِي عَدِيِّ بْنِ النَّجَّارِ، وَأُمُّ سُلَيْمٍ هِيَ ابْنَةُ مِلْحَانَ بْنِ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام دیا تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: ”اے ابو طلحہ! کیا آپ جانتے نہیں کہ جس کی آپ عبادت کرتے ہیں، وہ لکڑی کا ہے جو زمین سے اگتی ہے؟ اسے بنو فلاں کے ایک حبشی نے تراشا ہے، اگر آپ اسلام قبول کر لیں تو میں اس کے علاوہ آپ سے حق مہر کا مطالبہ نہیں کروں گی۔“ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: (ٹھہرو) یہاں تک کہ میں اپنے معاملے میں غور کر لوں۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ چلے گئے پھر دوبارہ آئے تو کہنے لگے: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔“ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اے انس! ابو طلحہ کا نکاح کر دو۔“
شیخ فرماتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے بیٹے اور عصبہ بھی ہیں کیونکہ انس بن مالک بن نصر بن ضمضم بن زید بن حرام بنو عدی بن النجار؛ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا ملحان بن خالد بن یزید کی صاحبزادی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13755]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ دون قوله (قالت يا انس)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں