السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2859. -- باب: اعتبار النسب في الكفاءة
-- باب: کفاءت میں نسب کا اعتبار کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 13764
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَسَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ قَالَا: ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ شَدَّادٌ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللهَ اصْطَفَى بَنِي كِنَانَةَ مِنْ بَنِي إِسْمَاعِيلَ، وَاصْطَفَى مِنْ بَنِي كِنَانَةَ قُرَيْشًا وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ"، وَقَالَ الرَّبِيعُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللهَ اصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ"، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ.
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے بنو کنانہ کو بنو اسماعیل سے چن لیا اور قریش کو بنو کنانہ سے چن لیا اور بنو ہاشم کو قریش سے چن لیا اور بنو ہاشم سے میرا انتخاب کرلیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13764]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 2276»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13765
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالُوا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللهَ ⦗٢١٧⦘ اخْتَارَ الْعَرَبَ، فَاخْتَارَ مِنْهُمْ كِنَانَةَ، أَوْ قَالَ: النَّضْرَ بْنَ كِنَانَةَ شَكَّ حَمَّادٌ، ثُمَّ اخْتَارَ مِنْهُمْ قُرَيْشًا ثُمَّ اخْتَارَ مِنْهُمْ بَنِي هَاشِمٍ، ثُمَّ اخْتَارَنِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ"، هَذَا مُرْسَلٌ حَسَنٌ.
محمد بن علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے عرب کا انتخاب کیا اور عرب سے کنانہ کا انتخاب کیا یا فرمایا: نضر بن کنانہ کا۔“ حماد راوی کو شک ہے، ”پھر ان سے قریش کو چنا اور قریش سے بنو ہاشم کا انتخاب کیا، پھر مجھے بنو ہاشم سے چنا۔“
یہ حسن مرسل روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13765]
یہ حسن مرسل روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13765]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13766
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْجَوَّابِ، ثنا عَمَّارٌ يَعْنِي ابْنَ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ، عَنْ سَلْمَانَ قَالَ:" ثِنْتَانِ، فَضَلْتُمُونَا بِهَا يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ، لَا تُنْكَحُ نِسَاؤُكُمْ وَلَا نَؤُمُّكُمْ" هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ مَوْقُوفٌ.
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ”اے اہل عرب! تم دو خصلتوں کی وجہ سے ہم سے افضل ہو: 1 ہم تمہاری عورتوں سے نکاح نہیں کرتے، یعنی اجازت نہیں۔ 2 اور ہم تمہاری امامت نہیں کرواتے۔“
اس کا محفوظ (درست) طریق موقوف (سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کا قول) ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13766]
اس کا محفوظ (درست) طریق موقوف (سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کا قول) ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13766]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13767
وَقَدْ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَامِدٍ الْبَلْخِيُّ، ثنا مَعْمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَلْخِيُّ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ سَلْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَقَدَّمَ أَمَامَكُمْ أَوْ نَنْكِحَ نِسَاءَكُمْ"، وَرُوِيَ ذَلِكَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ، عَنْ سَلْمَانَ.
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع کیا کہ ”ہم تمہاری امامت کروائیں اور تمہاری عورتوں سے نکاح کریں۔“
یہ روایت سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری ضعیف سند سے بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13767]
یہ روایت سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری ضعیف سند سے بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13767]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2860. -- باب: اعتبار الحرية في الكفاءة
-- باب: کفاءت میں آزادی (غلام نہ ہونے) کا اعتبار کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 13768
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ مِنْ أُنَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَاشْتَرَطُوا الْوَلَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْوَلَاءُ لِمَنْ وَلِيَ النِّعْمَةَ" قَالَتْ: وَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا"، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ زَائِدَةَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
عبدالرحمٰن بن قاسم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انصار کے لوگوں سے بریرہ کو خریدا اور انھوں نے ولاء کی شرط رکھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولاء اس کی ہوتی ہے جو نعمت کا والی بنتا ہے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو اختیار دیا اور اس کا خاوند غلام تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13768]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
2861. -- باب: اعتبار الصنعة في الكفاءة
-- باب: کفاءت میں پیشے (صنعت و حرفت) کا اعتبار کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 13769
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، نا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا بَعْضُ إِخْوَانِنَا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْعَرَبُ بَعْضُهُمْ أَكْفَاءٌ لِبَعْضٍ قَبِيلَةٌ بِقَبِيلَةٍ، وَرَجُلٌ بِرَجُلٍ وَالْمَوَالِي بَعْضُهُمْ أَكْفَاءٌ لِبَعْضٍ قَبِيلَةٌ بِقَبِيلَةٍ، وَرَجُلٌ بِرَجُلٍ، إِلَّا حَائِكٌ أَوْ حَجَّامٌ" ⦗٢١٨⦘ هَذَا مُنْقَطِعٌ بَيْنَ شُجَاعٍ، وَابْنِ جُرَيْجٍ حَيْثُ لَمْ يُسَمِّ شُجَاعٌ بَعْضَ أَصْحَابِهِ، وَرَوَاهُ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عُرْوَةَ الدِّمَشْقِيِّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ نَافِعٍ وَهُوَ أَيْضًا ضَعِيفٌ بِمَرَّةٍ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عرب ایک دوسرے کے لیے کفو ہیں۔ ایک قبیلہ اور نسل کے اعتبار سے دوسرے کا کفو ہے اور آدمی آدمی کا اور غلام ایک دوسرے کے کفو ہیں قبیلہ کے اعتبار سے اور آدمیوں کے اعتبار سے۔ لیکن جولاہا اور نائی۔“
یہ سند شجاع اور ابن جریج کے درمیان منقطع ہے، کیونکہ شجاع نے اپنے ساتھی کا نام نہیں لیا۔ اسے عثمان بن عبدالرحمٰن نے علی بن عروہ دمشقی سے، انہوں نے ابن جریج سے، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے ابن عمر سے روایت کیا ہے اور وہ ضعیف ہے، اور یہ نافع سے ایک اور سند سے بھی مروی ہے اور وہ بھی سخت ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13769]
یہ سند شجاع اور ابن جریج کے درمیان منقطع ہے، کیونکہ شجاع نے اپنے ساتھی کا نام نہیں لیا۔ اسے عثمان بن عبدالرحمٰن نے علی بن عروہ دمشقی سے، انہوں نے ابن جریج سے، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے ابن عمر سے روایت کیا ہے اور وہ ضعیف ہے، اور یہ نافع سے ایک اور سند سے بھی مروی ہے اور وہ بھی سخت ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13769]
تخریج الحدیث: «موضوع»
الحكم على الحديث: موضوع
حدیث نمبر: 13770
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الصَّيْدَلَانِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا زُرْعَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي الْفَضْلِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْعَرَبُ أَكْفَاءٌ بَعْضُهَا بَعْضًا قَبِيلٌ بِقَبِيلٍ، وَرَجُلٌ بِرَجُلٍ وَالْمَوَالِي أَكْفَاءٌ بَعْضُهَا بَعْضًا قَبِيلٌ بِقَبِيلٍ، وَرَجُلٌ بِرَجُلٍ إِلَّا حَائِكٌ أَوْ حَجَّامٌ" وَرُوِيَ ذَلِكَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَهُوَ أَيْضًا ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عرب نسل کے اعتبار سے ایک دوسرے کے کفو ہیں اور غلام بھی نسل کے اعتبار سے ایک دوسرے کے کفو ہیں، سوائے جولاہے اور حجام کے۔“
یہ روایت ایک اور سند سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی مروی ہے اور وہ بھی ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13770]
یہ روایت ایک اور سند سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی مروی ہے اور وہ بھی ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13770]
تخریج الحدیث: «موضوع»
الحكم على الحديث: موضوع
حدیث نمبر: 13771
أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْعَرَبُ لِلْعَرَبِ أَكْفَاءٌ وَالْمَوَالِي أَكْفَاءٌ لِلْمَوَالِي إِلَّا حَائِكٌ أَوْ حَجَّامٌ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عرب ایک دوسرے کے کفو ہیں اور غلام بھی ایک دوسرے کے کفو ہیں، سوائے جولاہے اور حجام کے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13771]
تخریج الحدیث: «موضوع»
الحكم على الحديث: موضوع
2862. -- باب: اعتبار السلامة في الكفاءة
-- باب: کفاءت میں (جسمانی و ذہنی) سلامتی کا اعتبار کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 13772
أَخْبَرَنَا السَّيِّدُ أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، نا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَنْجُذَانِيُّ، نا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا سُلَيْمُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا عَدْوَى، وَلَا هَامَةَ، وَلَا صَفَرَ، وَفِرَّ مِنَ الْمَجْذُومِ فِرَارَكَ مِنَ الْأَسَدِ"، أَوْ قَالَ:" مِنَ الْأُسُودِ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، فَقَالَ: وَقَالَ عَفَّانُ: ثنا سُلَيْمٌ، فَذَكَرَهُ، وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ" وَذَلِكَ مَعَ مَا نَسْتَدِلُّ بِهِ فِي رَدِّ النِّكَاحِ بِالْعُيُوبِ الْخَمْسَةِ إِنْ شَاءَ اللهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی، ہامہ (میت کے سر سے الو نکل کر دہائی دیتا ہے، انتقام لینے تک صبر سے نہیں بیٹھتا، یہ جاہلیت میں کہا کرتے تھے) اور نہ ہی صفر کی کوئی حقیقت ہے، اور کوڑھی سے اس طرح بھاگ جیسے شیر سے بھاگا جاتا ہے“ یا اسود کے لفظ ذکر کیے ہیں۔
(ب) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تندرست انسان کے پاس بیمار کو نہ رکھا جائے۔“ یہ حدیث وہاں آئے گی جہاں پانچ عیوب کی وجہ سے نکاح کو رد کیے جانے پر ہم استدلال کریں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13772]
(ب) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تندرست انسان کے پاس بیمار کو نہ رکھا جائے۔“ یہ حدیث وہاں آئے گی جہاں پانچ عیوب کی وجہ سے نکاح کو رد کیے جانے پر ہم استدلال کریں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13772]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 2220»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13773
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي ⦗٢١٩⦘ ابْنَ الْمُسَيِّبِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ:" إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ وَبِهَا جُنُونٌ أَوْ جُذَامٌ أَوْ بَرَصٌ، أَوْ قَرْنٌ، فَإِنْ كَانَ دَخَلَ بِهَا، فَلَهَا الصَّدَاقُ بِمَسِّهِ إِيَّاهَا وَهُوَ لَهُ عَلَى الْوَلِيِّ" وَاللهُ أَعْلَمُ.
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ جب کوئی مرد کسی عورت سے شادی کرے اور وہ پاگل یا کوڑھی یا پھلبہری والی ہو، یا اس کی شرمگاہ میں رکاوٹ (قرن) ہو، تو اگر مرد نے اس سے دخول کر لیا تو اس کے چھونے کی وجہ سے عورت کو حق مہر ملے گا اور مرد یہ مہر اس کے ولی سے وصول کرے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13773]