السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2867. -- باب: ما جاء في تفسير العضل الآخر الذي نهى الله سبحانه وتعالى عنه
-- باب: اس دوسری قسم کے عضل (نکاح سے روکنے) کی تفسیر کے بیان میں جس سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 13793
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مَعْرُوفٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا} [النساء: ١٩] قَالَ:" كَانَ إِذَا تُوُفِّيَ الرَّجُلُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَمَدَ حَمِيمُ الْمَيِّتِ إِلَى امْرَأَتِهِ، فَأَلْقَى عَلَيْهَا ثَوْبًا، فَيَرِثُ نِكَاحَهَا، فَيَكُونُ هُوَ أَحَقُّ بِهَا مِنْ غَيْرِهِ، فَأَنْزَلَ اللهُ هَذِهِ الْآيَةَ، وَقَوْلُهُ: {وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ} [النساء: ١٩] مِنَ الْمَهْرِ، فَهُوَ الرَّجُلُ يَعْضِلُ امْرَأَتَهُ، فَيَحْبِسُهَا وَلَا حَاجَةَ لَهُ فِيهَا إِرَادَةَ أَنْ تَفْتَدِيَ مِنْهُ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: {وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ} [النساء: ١٩] ، يَقُولُ: وَلَا تَحْبِسُوهُنَّ {لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ} [النساء: ١٩] يَعْنِي: مَا أَعْطَيْتُمُوهُنَّ {إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ} [النساء: ١٩] ، يَعْنِي الْعِصْيَانَ الْبَيِّنَ وَهُوَ النُّشُوزُ، فَقَدْ أَحَلَّ اللهُ الضَّرْبَ وَالْهُجْرَانَ، فَإِنْ أَبَتْ حَلَّتْ لَهُ الْفِدْيَةُ"، وَتَمَامُ هَذَا الْبَابِ يَرِدُ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فِي كِتَابِ الْقَسَمِ حَيْثُ نَقَلْنَا كَلَامَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ.
مقاتل بن حبان رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا﴾ [سورة النساء: 19] ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم زبردستی عورتوں کے وارث بنو۔“ کے بارے میں فرماتے ہیں: جب جاہلیت میں آدمی فوت ہو جاتا تو میت کے ورثاء اس کی بیوی پر کپڑا ڈال کر اس کے نکاح کے وارث بن جاتے تو وہ اس کے نکاح کے زیادہ حق دار ہوتے، اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ﴾ [سورة النساء: 19] ”اور مت روکو ان کو تاکہ لے لو تم وہ چیز جو تم نے ان کو دی ہے“ یعنی حق مہر۔ مرد عورت کو روکتا حالانکہ اس کو اس کی کوئی ضرورت نہ ہوتی صرف فدیہ کا ارادہ رکھتا، یہ اللہ تعالیٰ کا قول «وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ» ”تم مت روکو ان کو۔“ وہ کہتے کہ تم مت منع کرو یا مت روکو۔ «لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ» ”یعنی جو تم نے ان کو عطا کر دیا۔“ ﴿إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ﴾ [سورة النساء: 19] ”یعنی واضح نافرمانی۔“ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے مارنے اور چھوڑنے کی اجازت دی ہے، اگر وہ انکار کرے تو پھر فدیہ بھی جائز ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13793]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
2868. -- باب: الوكالة في النكاح
-- باب: نکاح میں وکالت (کسی کو وکیل مقرر کرنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 13794
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبَانُ، ثنا قَتَادَةُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا أَنْكَحَ الْوَلِيَّانِ، فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا، وَإِذَا بَايَعَ الرَّجُلُ بَيْعًا مِنَ الرَّجُلَيْنِ، فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا".
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو ولی نکاح کر دیں تو پہلے کا نکاح معتبر ہے اور جب کوئی آدمی دو آدمیوں کو مال فروخت کرے تو وہ پہلے خریدار کا ہو گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13794]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 13795
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا أَنْكَحَ وَلِيَّانِ، فَالنِّكَاحُ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا، وَإِذَا بَاعَ رَجُلٌ مَتَاعًا مِنْ رَجُلَيْنِ، فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا" هَكَذَا رِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ وَهُوَ الْمَحْفُوظُ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَا يَكُونُ نِكَاحُ وَلِيَّيْنِ مُتَكَافِئًا حَتَّى يَكُونَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا إِلَّا بِوَكَالَةٍ مِنْهُمَا مَعَ تَوْكِيلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيَّ، فَزَوَّجَهُ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ.
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ ”جب دو ولی نکاح کر دیں تو پہلے ولی کے نکاح کا اعتبار ہوگا اور جب کوئی مرد اپنا سامان دو آدمیوں کو فروخت کر دے تو وہ سامان پہلے خریدار کا ہوگا۔“
جماعت کی روایت اسی طرح ہے اور یہی محفوظ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13795]
جماعت کی روایت اسی طرح ہے اور یہی محفوظ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13795]
حدیث نمبر: 13796
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيَّ إِلَى النَّجَاشِيِّ، فَزَوَّجَهُ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ، وَسَاقَ عَنْهُ أَرْبَعَمِائَةِ دِينَارٍ"، وَرُوِّينَا فِي تَزْوِيجِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عَلِيٍّ مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: فَقَالَ عَلِيٌّ لِحَسَنٍ وَحُسَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ: زَوِّجَا عَمَّكُمَا فَزَوَّجَاهُ.
ابو جعفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کو نجاشی کے پاس بھیجا تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے وکالت کرتے ہوئے ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے 400 دینار ادا کیے۔
(ب) ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہا کے نکاح کے بارے میں جو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوا یہ ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے حسن و حسین رضی اللہ عنہما سے کہا کہ تم اپنے چچا کا نکاح کر دو تو ان دونوں نے نکاح کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13796]
(ب) ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہا کے نکاح کے بارے میں جو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوا یہ ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے حسن و حسین رضی اللہ عنہما سے کہا کہ تم اپنے چچا کا نکاح کر دو تو ان دونوں نے نکاح کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13796]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2869. -- باب: لا يكون الكافر وليا لمسلمة
-- باب: اس بیان میں کہ کوئی کافر کسی مسلمان عورت کا ولی نہیں بن سکتا۔
حدیث نمبر: Q13797
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، وَقَدْ زَوَّجَ ابْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ، وَأَبُو سُفْيَانَ حَيٌّ، لِأَنَّهَا كَانَتْ مُسْلِمَةً وَابْنُ سَعِيدٍ مُسْلِمٌ، وَلَمْ يَكُنْ لِأَبِي سُفْيَانَ فِيهَا وِلَايَةٌ، لِأَنَّ اللهَ تَعَالَى قَطَعَ الْوِلَايَةَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور ابن سعید بن عاص (سیدنا خالد بن سعید رضی اللہ عنہ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدہ ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا کا نکاح کرایا جبکہ ابو سفیان زندہ تھے، کیونکہ وہ مسلمان تھیں اور ابن سعید بھی مسلمان تھے، اور ابو سفیان کو ان پر کوئی ولایت حاصل نہیں تھی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان ولایت ختم کر دی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: Q13797]
حدیث نمبر: 13797
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ، فَمَاتَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ، فَزَوَّجَهَا النَّجَاشِيُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمْهَرَهَا عَنْهُ أَرْبَعَةَ آلَافٍ، وَبَعَثَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ شُرَحْبِيلَ ابْنِ حَسَنَةَ.
عروہ رحمہ اللہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ عبیداللہ بن جحش کے نکاح میں تھیں تو عبیداللہ حبشہ کے علاقے میں فوت ہو گئے، تو نجاشی نے ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا نکاح نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا اور اپنی جانب سے چار ہزار حق مہر ادا کیا اور شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف روانہ کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13797]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13798
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ⦗٢٢٦⦘ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ الَّذِي وَلِيَ نِكَاحَهَا ابْنُ عَمِّهَا خَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ" قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهُوَ ابْنُ ابْنِ عَمِّ أَبِيهَا فَإِنَّهَا أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حَرْبِ بْنِ أُمَيَّةَ، وَالْعَاصُ هُوَ ابْنُ أُمَيَّةَ، وَقَدْ قِيلَ: إِنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ هُوَ الَّذِي وَلِيَ نِكَاحَهَا.
محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے خبر ملی ہے کہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے نکاح میں ولی ان کے چچا کے بیٹے خالد بن سعید بن العاص رضی اللہ عنہ تھے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ ان کے باپ کے چچا کے بیٹے کا بیٹا تھا؛ کیونکہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بنت ابی سفیان بن حرب بن امیہ ہیں اور العاص، امیہ کے بیٹے ہیں۔
(ب) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ان کے نکاح کے ولی تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13798]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ ان کے باپ کے چچا کے بیٹے کا بیٹا تھا؛ کیونکہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بنت ابی سفیان بن حرب بن امیہ ہیں اور العاص، امیہ کے بیٹے ہیں۔
(ب) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ان کے نکاح کے ولی تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13798]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13799
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، وَحَسَّانُ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ قَالَ:" أَنْكَحَهُ إِيَّاهَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ"، وَكَذَلِكَ قَالَ الزُّهْرِيُّ، وَقَدْ مَضَى ذِكْرُهُ، وَعُثْمَانُ هُوَ ابْنُ عَفَّانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ بْنِ أُمَيَّةَ ابْنُ ابْنِ عَمِّ أَبِيهَا، وَأَيُّهُمَا زَوَّجَهَا، فَالْوِلَايَةُ قَائِمَةٌ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ اخْتِلَافًا ثَالِثًا.
ابوالاسود، حضرت عروہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے حبشہ کی زمین میں کروایا تھا۔
(ب) زہری رحمہ اللہ نے بھی اسی طرح کہا ہے جس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے اور عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ، دونوں میں سے جس نے بھی نکاح کروایا ولایت قائم ہے؛ اختلاف تیسرے میں پایا جاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13799]
(ب) زہری رحمہ اللہ نے بھی اسی طرح کہا ہے جس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے اور عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ، دونوں میں سے جس نے بھی نکاح کروایا ولایت قائم ہے؛ اختلاف تیسرے میں پایا جاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13799]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13800
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، وَأَبُو عَمْرٍو الْفَقِيهُ قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ قَالَا: ثنا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا أَبُو زُمَيْلٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" كَانَ الْمُسْلِمُونَ لَا يَنْظُرُونَ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ، وَلَا يُقَاعِدُونَهُ، فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا نَبِيَّ اللهِ ثَلَاثٌ أُعْطِيتُهُنَّ، قَالَ: نَعَمْ قَالَ: عِنْدِي أَحْسَنُ الْعَرَبِ، وَأَجْمَلُهُنَّ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ، أُزَوِّجُكَهَا قَالَ:" نَعَمْ" قَالَ: وَمُعَاوِيَةُ تَجْعَلُهُ كَاتِبًا بَيْنَ يَدَيْكَ؟ قَالَ:" نَعَمْ" قَالَ: وَتُؤَمِّرُنِي حَتَّى أُقَاتِلَ الْكُفَّارَ كَمَا كُنْتُ أُقَاتِلُ الْمُسْلِمِينَ قَالَ:" نَعَمْ" قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ: وَلَوْلَا أَنَّهُ طَلَبَ ذَلِكَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَعْطَاهُ ذَلِكَ؛ لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا قَالَ:" نَعَمْ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْعَظِيمِ وَأَحْمَدَ بْنِ جَعْفَرٍ، فَهَذَا أَحَدُ مَا اخْتَلَفَ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِيهِ، فَأَخْرَجَهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، وَتَرَكَهُ الْبُخَارِيُّ، وَكَانَ لَا يَحْتَجُّ فِي كِتَابِهِ الصَّحِيحِ بِعِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، وَقَالَ: لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ كِتَابٌ فَاضْطَرَبَ حَدِيثُهُ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا الْحَدِيثُ فِي قِصَّةِ أُمِّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَدْ أَجْمَعَ أَهْلُ الْمَغَازِي عَلَى خِلَافِهِ، فَإِنَّهُمْ لَمْ يَخْتَلِفُوا فِي أَنَّ تَزْوِيجَ أُمَّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا كَانَ قَبْلَ رُجُوعِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَأَصْحَابِهِ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ، وَإِنَّمَا رَجَعُوا زَمَنَ خَيْبَرَ، فَتَزْوِيجُ أُمِّ حَبِيبَةَ كَانَ قَبْلَهُ وَإِسْلَامُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حَرْبٍ كَانَ زَمَنَ الْفَتْحِ أَيْ فَتْحِ مَكَّةَ بَعْدَ نِكَاحِهَا بِسَنَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ، فَكَيْفَ يَصِحُّ أَنْ يَكُونَ تَزْوِيجُهَا بِمَسْأَلَتِهِ، وَإِنْ كَانَتْ مَسْأَلَتُهُ الْأُولَى إِيَّاهُ وَقَعَتْ فِي بَعْضِ خَرَجَاتِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَهُوَ كَافِرٌ حِينَ سَمِعَ نَعْيَ زَوْجِ أُمِّ حَبِيبَةَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ، وَالْمَسْأَلَةُ الثَّانِيَةُ ⦗٢٢٧⦘ وَالثَّالِثَةُ وَقَعَتَا بَعْدَ إِسْلَامِهِ لَا يَحْتَمِلُ إِنْ كَانَ الْحَدِيثُ مَحْفُوظًا إِلَّا ذَلِكَ وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
ابوزمیل سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ مسلمان ابوسفیان کی طرف توجہ بھی نہ کرتے تھے اور ان کے ساتھ بیٹھتے بھی نہ تھے۔ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ”اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کو تین چیزیں پیش کرتا ہوں: (1) میرے پاس عرب کی سب سے حسین و جمیل بیٹی (ام حبیبہ) ہے، میں اس کی شادی آپ سے کر دیتا ہوں۔ (2) معاویہ کو آپ اپنا کاتبِ وحی مقرر فرما لیں جو میرا بیٹا ہے۔ (3) اور آپ مجھے امیر مقرر فرما دیں تاکہ میں کفار سے ویسے ہی جہاد کروں جیسے میں مسلمانوں کے خلاف لڑا کرتا تھا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تینوں مرتبہ «نَعَمْ» ”ہاں“ فرمایا۔ ابوزمیل کہتے ہیں: اگر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ چیزیں نہ مانگتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے عطا نہ فرماتے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بھی چیز مانگی جاتی آپ «نَعَمْ» ”ہاں“ ہی فرماتے تھے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث کو چھوڑ دیا ہے، وہ اپنی صحیح میں عکرمہ بن عمار سے دلیل نہیں لیتے تھے اور فرماتے تھے: ان کے پاس کوئی کتاب نہ تھی، اس لیے ان کی حدیث میں اضطراب پیدا ہو گیا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے قصے کے بارے میں ہے، لیکن اہل مغازی کا اس کے خلاف پر اجماع ہے اور ان کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا نکاح سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے حبشہ سے لوٹنے سے پہلے ہو چکا تھا اور وہ خیبر کے زمانے میں واپس آئے تھے، جبکہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا نکاح اس سے پہلے ہی ہو چکا تھا اور ابوسفیان کا اسلام لانا فتحِ مکہ کے سال ہوا جو کہ نکاح کے دو یا تین سال بعد کا واقعہ ہے، تو پھر کیسے درست ہو سکتا ہے کہ ان کا نکاح ابوسفیان کے سوال کی وجہ سے ہوا؟ اگر یہ سوال کی بنیاد پر ہے تو مدینہ کے ان کے بعض سفروں میں اس وقت ممکن ہے جب وہ کافر تھے، جب انہوں نے سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے خاوند کی وفات کی خبر سنی تھی، اور باقی دو سوال تو ان کے اسلام لانے کے بعد واقع ہوئے۔ اگر یہ حدیث محفوظ ہے تو اس کا اس کے سوا کوئی مطلب نہیں ہو سکتا، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13800]
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث کو چھوڑ دیا ہے، وہ اپنی صحیح میں عکرمہ بن عمار سے دلیل نہیں لیتے تھے اور فرماتے تھے: ان کے پاس کوئی کتاب نہ تھی، اس لیے ان کی حدیث میں اضطراب پیدا ہو گیا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے قصے کے بارے میں ہے، لیکن اہل مغازی کا اس کے خلاف پر اجماع ہے اور ان کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا نکاح سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے حبشہ سے لوٹنے سے پہلے ہو چکا تھا اور وہ خیبر کے زمانے میں واپس آئے تھے، جبکہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا نکاح اس سے پہلے ہی ہو چکا تھا اور ابوسفیان کا اسلام لانا فتحِ مکہ کے سال ہوا جو کہ نکاح کے دو یا تین سال بعد کا واقعہ ہے، تو پھر کیسے درست ہو سکتا ہے کہ ان کا نکاح ابوسفیان کے سوال کی وجہ سے ہوا؟ اگر یہ سوال کی بنیاد پر ہے تو مدینہ کے ان کے بعض سفروں میں اس وقت ممکن ہے جب وہ کافر تھے، جب انہوں نے سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے خاوند کی وفات کی خبر سنی تھی، اور باقی دو سوال تو ان کے اسلام لانے کے بعد واقع ہوئے۔ اگر یہ حدیث محفوظ ہے تو اس کا اس کے سوا کوئی مطلب نہیں ہو سکتا، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13800]
تخریج الحدیث: «منكر۔ مسلم 2501»
الحكم على الحديث: منكر
2870. -- باب: إنكاح الوليين
-- باب: دو ولیوں کے نکاح کروانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 13801
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَعْرُوفُ بِابْنِ عُلَيَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا أَنْكَحَ الْوَلِيَّانِ فَالْأَوَّلُ أَحَقُّ" هَكَذَا رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي كِتَابِ تَحْرِيمِ الْجَمْعِ وَفِي الْإِمْلَاءِ، وَزَادَ فِيهِ فِي الْإِمْلَاءِ: وَإِذَا بَاعَ الْمُجِيزَانِ فَالْأَوَّلُ أَحَقُّ، وَرَوَاهُ فِي كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ كَمَا.
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو ولی نکاح کریں تو پہلا زیادہ حق رکھتا ہے۔“
(ب) املاء میں یہ الفاظ زائد ہیں: ”جب دو فروخت کریں تو پہلے کی بات زیادہ معتبر ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13801]
(ب) املاء میں یہ الفاظ زائد ہیں: ”جب دو فروخت کریں تو پہلے کی بات زیادہ معتبر ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13801]
تخریج الحدیث: «منكر۔ تقدم برقم 13794»
الحكم على الحديث: منكر