🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2864. -- باب: لا يرد نكاح غير الكفؤ إذا رضيت به الزوجة، ومن له الأمر معها وكان مسلما
-- باب: اس بیان میں کہ غیر کفو (غیر ہمسر) کا نکاح رد نہیں کیا جائے گا جب بیوی اور وہ شخص جسے اس کے ساتھ فیصلہ کرنے کا اختیار ہے اس پر راضی ہوں اور وہ (شوہر) مسلمان ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13784
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ التَّرَّسِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" زَوَّجْتُ الْمِقْدَادَ وَزَيْدًا لِيَكُونَ أَشْرَفُكُمْ عِنْدَ اللهِ أَحْسَنَكُمْ خُلُقًا"، هَذَا مُنْقَطِعٌ وَفِيمَا قَبْلَهُ كِفَايَةٌ وَالْمِقْدَادُ هُوَ ابْنُ عَمْرِو بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ مَالِكٍ، حَلِيفُ الْأَسْوَدِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ، فَنُسِبَ إِلَيْهِ، وَلَمْ يَكُنْ مِنْ صُلْبِهِمْ، وَقَدْ زُوِّجَتْ مِنْهُ ضُبَاعَةُ بِنْتُ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمٍ.
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے مقداد اور زید کی شادی کی، تاکہ وہ اللہ کے ہاں بلند مرتبہ ہو جو تم سے اچھے اخلاق کا ہو۔“
یہ روایت منقطع ہے اور اس سے پہلے والی روایت کافی ہے۔
(ب) سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ عمرو بن ثعلبہ بن مالک کے بیٹے ہیں، وہ بنو زہرہ کے ایک آدمی اسود کے حلیف تھے، اس لیے ان کی طرف منسوب ہو گئے، حالانکہ وہ ان کی نسل سے نہ تھے، اور سیدہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب بن ہاشم رضی اللہ عنہا کا نکاح ان سے کیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13784]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»

الحكم على الحديث: ضعيف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13785
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، أنبأ أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ" أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ، وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَبَنَّى سَالِمًا، وَزَوَّجَهُ ابْنَةَ أَخِيهِ هِنْدَ بِنْتَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ، وَهُوَ مَوْلًى لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، كَمَا تَبَنَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا"، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، فَهَذِهِ قُرَشِيَّةٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ زُوِّجَتْ مِنْ مَوْلًى.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر میں حاضر ہوئے تھے، انہوں نے سالم کو منہ بولا بیٹا بنایا ہوا تھا۔ انہوں نے اپنی بھتیجی کی شادی ان سے کردی، یعنی ہند بنت ولید بن عتبہ، وہ انصار کی ایک عورت کے غلام تھے، جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کو منہ بولا بیٹا بنایا ہوا تھا۔
(ب) امام بخاری رحمہ اللہ ابوالیمان سے نقل فرماتے ہیں: یہ قریشی تھیں، بنو عبدشمس بن عبدمناف سے تھیں۔ ان کی شادی غلام سے کی گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13785]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 4000»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13786
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، أنبأ ابْنُ مَخْلَدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَتِيقُ، ثنا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْجُمَحِيِّ، عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ:" رَأَيْتُ أُخْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ تَحْتَ بِلَالٍ".
حنظلہ بن ابی سفیان جمحی اپنی والدہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بہن کو بلال رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دیکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13786]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الدارقطني 207»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13787
وَفِيمَا ذَكَرَ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنْ هَارُونَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، مُرْسَلًا أَنَّ بَنِي بُكَيْرٍ، أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا:" زَوِّجْ أُخْتَنَا مِنْ فُلَانٍ، فَقَالَ:" أَيْنَ أَنْتُمْ عَنْ بِلَالٍ"، فَعَادُوا فَأَعَادَ ثَلَاثًا، فَزَوَّجُوهُ قَالَ: وَكَانَ بَنُو بُكَيْرٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مِنْ بَنِي لَيْثٍ"، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، فَذَكَرَهُ.
زید بن اسلم رحمہ اللہ مرسل روایت نقل فرماتے ہیں کہ بنو بکیر کے بیٹے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ انہوں نے عرض کیا کہ ہماری بہن کی شادی فلاں سے کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال (رضی اللہ عنہ) کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟“ انہوں نے پھر وہی بات دہرائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہی بات دہرائی، تو انہوں نے شادی کر دی۔ راوی کہتے ہیں کہ بنو بکیر مہاجرین کے قبیلہ بنو لیث سے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13787]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13788
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الزَّاهِدُ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّ أَخًا لِبِلَالٍ كَانَ يَنْتَمِي فِي الْعَرَبِ، وَيَزْعُمُ أَنَّهُ مِنْهُمْ، ⦗٢٢٣⦘ فَخَطَبَ امْرَأَةً مِنَ الْعَرَبِ، فَقَالُوا: إِنْ حَضَرَ بِلَالٌ زَوَّجْنَاكَ قَالَ: فَحَضَرَ بِلَالٌ، فَقَالَ: أَنَا بِلَالُ بْنُ رَبَاحٍ، وَهَذَا أَخِي وَهُوَ" امْرُؤُ سُوءٍ سِيِّئُ الْخُلُقِ وَالدِّينِ، فَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ تُزَوِّجُوهُ، فَزَوِّجُوهُ وَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ تَدَعُوهُ فَدَعُوهُ، فَقَالُوا: مَنْ تَكُنْ أَخَاهُ نُزَوِّجْهُ، فَزَوَّجُوهُ".
عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے میرے والد نے بیان کیا کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کا ایک بھائی تھا جو اپنی نسبت عرب کی طرف کرتا تھا اور اپنے آپ کو عرب ہی خیال کرتا تھا۔ اس نے عرب کی ایک عورت کو پیغامِ نکاح دیا۔ انہوں نے کہا: اگر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آ جائیں تو ہم آپ کی شادی کر دیں گے۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آ گئے تو انہوں نے کہا: میں بلال بن رباح ہوں اور یہ میرا بھائی جو دین و اخلاق کے اعتبار سے برا ہے۔ اگر تم چاہو تو شادی کر دو اور شادی کرا دو۔ اگر تم چھوڑنا چاہو تو چھوڑ دو۔ انہوں نے کہا: جس کے آپ بھائی ہوں ہم اس کی شادی کر دیتے ہیں، تو انہوں نے شادی کر دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13788]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2865. -- باب: لا يرد النكاح بنقص المهر، إذا رضيت المرأة به، وكانت مالكة لأمرها لأن المهر لها دون الأولياء
-- باب: اس بیان میں کہ مہر کم ہونے کی وجہ سے نکاح کو رد نہیں کیا جائے گا، جب عورت اس پر راضی ہو اور وہ اپنے معاملات کا خود اختیار رکھتی ہو، کیونکہ مہر اس کا حق ہے نہ کہ اولیاء کا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13789
أَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرَوَيْهِ بْنِ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حَمْدَانَ الْقَطِيعِيُّ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةً تَزَوَّجَتْ عَلَى نَعْلَيْنِ، فَجِيءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا:" أَرَضِيتِ مِنْ نَفْسِكِ وَمَالِكِ بِنَعْلَيْنِ؟" فَقَالَتْ: نَعَمْ فَأَجَازَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، وَفِيهِ أَخْبَارٌ أُخَرُ مَوْضِعُهَا كِتَابُ الصَّدَاقِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے دو جوتوں کے عوض نکاح کر لیا، تو اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو صرف دو جوتوں کے عوض راضی ہے؟“ اس نے کہا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13789]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2866. -- باب: ما جاء في عضل الولي والمرأة تدعو إلى كفاءة
-- باب: ولی کے نکاح سے روکنے (عضل) کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان، درآں حالیکہ عورت ہمسر (کفو) کی طرف بلا رہی ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q13790
قَالَ اللهُ تَعَالَى وَهُوَ أَصْدَقُ الْقَائِلِينَ: {فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ} [البقرة: 232] .
اللہ تعالیٰ نے، اور وہ سب کہنے والوں سے زیادہ سچا ہے، فرمایا: ﴿فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ﴾ ”تو انہیں اپنے (سابقہ) شوہروں سے نکاح کرنے سے نہ روکو۔“ [سورة البقرة: 232] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: Q13790]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13790
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ التَّمِيمِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ} [البقرة: ٢٣٢] قَالَ: حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ الْمُزَنِيُّ أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِ قَالَ:" كُنْتُ زَوَّجْتُ أُخْتًا لِي مِنْ رَجُلٍ، فَطَلَّقَهَا حَتَّى إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا جَاءَ، فَخَطَبَهَا، فَقُلْتُ لَهُ: زَوَّجْتُكَ وَأَفْرَشْتُكَ وَأَكْرَمْتُكَ، فَطَلَّقْتَهَا، ثُمَّ جِئْتَ تَخْطُبُهَا، لَا وَاللهِ لَا تَعُودُ إِلَيْهَا أَبَدًا قَالَ: وَكَانَ رَجُلًا لَا بَأْسَ بِهِ وَكَانَتِ امْرَأَتُهُ تُرِيدُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهِ قَالَ: فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَةَ، فَقُلْتُ: الْآنَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللهِ فَزَوَّجْتُهَا إِيَّاهُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَفْصٍ.
حضرت حسن رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ﴾ [سورة البقرة: 232] ”تم ان عورتوں کو مت روکو جو اپنے خاوندوں سے نکاح کرنا چاہیں۔“ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ مجھے سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی کہ میں نے اپنی بہن کا نکاح ایک مرد سے کر دیا، اس نے طلاق دے دی، جب اس کی عدت ختم ہوئی تو اس نے دوبارہ نکاح کا پیغام دیا۔ میں نے اس سے کہا: میں نے تیرا نکاح کیا اور تیری عزت کی لیکن تو نے طلاق دے دی۔ پھر نکاح کا پیغام لے کر آگئے ہو۔ اللہ کی قسم! اب تو اس کی طرف کبھی نہ لوٹے گا۔ راوی کہتے ہیں: آدمی میں کوئی عیب بھی نہ تھا اور عورت بھی واپسی کا ارادہ رکھتی تھی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اب میں نے اس کا نکاح اس کے ساتھ کر دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13790]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1530»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13791
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ بِهَمَذَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ السَّمُرِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ مُوسَى، يَقُولُ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهَا، ⦗٢٢٤⦘ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَإِنْ أَصَابَهَا، فَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا أَصَابَهَا، وَإِنْ تَشَاجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ" وَرُوِّينَا عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللهِ، وَشُرَيْحٍ، قَالُوا:" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ إِلَّا امْرَأَةً يَعْضِلُهَا الْوَلِيُّ فَتَأْتِي السُّلْطَانَ أَوِ الْقَاضِيَ" وَعَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قَالَ: كَتَبَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِنْ كَانَ كُفُؤًا، فَقُولُوا لِأَبِيهَا يُزَوِّجُهَا، فَإِنْ أَبَى، فَزَوِّجُوهَا، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس عورت نے اپنے اولیاء کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیا، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے۔ اگر خاوند نے ہمبستری کر لی تو عورت کے لیے حق مہر ہے، اگر ولی آپس میں جھگڑا کریں تو بادشاہ اس کا ولی ہے جس کا کوئی ولی نہیں۔“
(ب) مجالد، شعبی سے اور وہ سیدنا علی اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما اور شریح سے نقل فرماتے ہیں کہ نکاح ولی کے بغیر جائز نہیں، مگر وہ عورت جس کو اس کا ولی روکے تو وہ بادشاہ یا قاضی کے پاس آ جائے۔
(ج) زیاد بن علاقہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے لکھا: اگر کفو موجود ہو تو عورت کے باپ سے کہو کہ ان کی شادی کر دیں، اگر وہ انکار کرے تو تم اس کی شادی کر دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13791]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر الارواء 1340»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2867. -- باب: ما جاء في تفسير العضل الآخر الذي نهى الله سبحانه وتعالى عنه
-- باب: اس دوسری قسم کے عضل (نکاح سے روکنے) کی تفسیر کے بیان میں جس سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13792
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ يَعْنِي ابْنَ زَكَرِيَّا، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَابْنُ سَمُرَةَ الْأَحْمَسِيُّ قَالَا: ثنا أَسْبَاطٌ، ثنا الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ الشَّيْبَانِيُّ: وَذَكَرَهُ عَنْ عَطَاءٍ أَبُو الْحَسَنِ السُّوَائِيُّ، وَلَا أَظُنُّهُ ذَكَرَهُ إِلَّا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ {لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ} [النساء: ١٩] قَالَ:" وَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا مَاتَ كَانَ أَوْلِيَاؤُهُ أَحَقَّ بِامْرَأَتِهِ مِنْ وَلِيِّ نَفْسِهَا إِنْ شَاءَ بَعْضُهُمْ تَزَوَّجَهَا، وَإِنْ شَاءُوا زَوَّجُوهَا وَإِنْ شَاءُوا لَمْ يُزَوِّجُوهَا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي ذَلِكَ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ أَسْبَاطٍ.
عطاء ابو الحسن السوائی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت ﴿لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ﴾ [سورة النساء: 19] کے بارے میں نقل فرماتے ہیں: ”تمہارے لیے حلال نہیں کہ تم عورتوں کے وارث ہو جاؤ زبردستی اور مت منع کرو ان کو۔“ جب مرد فوت ہو جاتا تو اس کے ورثاء اس کی عورت کے، اس کے ولیوں سے زیادہ حق دار ہوتے۔ اگر ان میں سے کوئی چاہتا تو اس سے شادی کر لیتا یا اس کی شادی کرا دیتا، اگر نہ چاہتے تو شادی نہ کرتے، تو یہ آیت اسی کے بارے میں نازل ہوئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13792]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 4579»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں