🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2871. -- باب: ما جاء في نكاح اليتيمة تكون في حجر وليها، فيرغب في نكاحها
-- باب: اس یتیم بچی کے نکاح کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان جو اپنے ولی کی پرورش میں ہو اور وہ (ولی) اس سے نکاح کرنے کی رغبت رکھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13812
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ وَهُوَ أَبُو الطَّاهِرِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ وَقَالَ فِي آخِرِهِ: قَالَ يُونُسُ: وَقَالَ رَبِيعَةُ فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى} [النساء: ٣] قَالَ: يَقُولُ:" اتْرُكُوهُنَّ إِنْ خِفْتُمْ فَقَدْ أَحْلَلْتُ لَكُمْ أَرْبَعًا".
ربیعہ رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ﴾ [سورة النساء: 3] ”اگر تمہیں خوف ہو کہ تم یتیم بچیوں کے بارے میں انصاف نہ کر سکو گے“ کے متعلق فرماتے ہیں کہ تم ان کو چھوڑ دو، اگر تمہیں بے انصافی کا خوف ہے، میں نے تمہارے لیے چار بیویاں حلال ٹھہرائی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13812]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13813
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ هُوَ الْحَافِظُ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو الْجَهْمِ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقُرَشِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِي، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {يَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ} [النساء: ١٢٧] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ قَالَتْ:" هِيَ الْيَتِيمَةُ فِي حِجْرِ الرَّجُلِ قَدْ شَرِكَتْهُ فِي مَالِهِ، فَيَرْغَبُ عَنْهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا، وَيَرْغَبُ أَنْ يُزَوِّجَهَا، فَيَدْخُلُ عَلَيْهِ فِي مَالِهَا، فَيَحْبِسُهَا، فَنَهَاهُمُ اللهُ عَنْ ذَلِكَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ هِشَامٍ، وَاخْتُلِفَ فِي لَفْظِهِ عَلَى هِشَامٍ، وَحَدِيثُ الزُّهْرِيِّ أَكْمَلُ وَأَحْفَظُ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ﴾ [سورة النساء: 127] ”وہ آپ سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے: اللہ تم کو ان کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے“ کے بارے میں فرماتی ہیں کہ ایک یتیم بچی کسی آدمی کی پرورش میں تھی، وہ بچی اس کے مال میں شریک تھی، لیکن وہ مرد اس سے نکاح نہیں کرنا چاہتا تھا اور نہ ہی کسی دوسرے سے اس کا نکاح کرنا چاہتا تھا کہ وہ اس کے مال میں اس کا شریک بن جائے گا، اس لیے اس کو روکے رکھتا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرما دیا۔
ہشام سے اس کے الفاظ میں اختلاف کیا گیا ہے اور زہری کی حدیث زیادہ مکمل اور زیادہ محفوظ ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13813]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2872. -- باب: لا يزوج نفسه امرأة هو وليها كما لا يشتري من نفسه شيئا هو ولي بيعه
-- باب: اس بیان میں کہ کوئی شخص خود اپنے ساتھ اس عورت کا نکاح نہیں کر سکتا جس کا وہ ولی ہو، جیسا کہ وہ خود سے کوئی ایسی چیز نہیں خرید سکتا جسے بیچنے کا وہ مجاز (وکیل یا ولی) ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13814
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ ⦗٢٣١⦘ دُرُسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ بَشَّارٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ الْحَكَمُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِأَرْبَعَةٍ وَلِيٍّ وَشَاهِدَيْنِ وَخَاطِبٍ" وَلَهُ شَاهِدٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِإِسْنَادٍ مُنْقَطِعٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نکاح چار کی موجودگی میں ہوگا: 1 ولی، 2 دو گواہ، 3 نکاح کرنے والا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقطع سند کے ساتھ اس کا ایک شاہد بھی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13814]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13815
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ رَوْحُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ التَّمِيمِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو يَعْلَى الزُّبَيْرِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْمَاسَرْجِسِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِأَرْبَعٍ خَاطِبٍ وَوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْنِ" هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ إِلَّا أَنَّ قَتَادَةَ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوعًا وَالْمَشْهُورُ عَنْهُ مَوْقُوفٌ، وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.
قتادہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نکاح چار کی موجودگی میں ہے: 1۔ نکاح کرنے والا، 2۔ ولی، 3۔ دو گواہ۔
یہ سند صحیح ہے، مگر قتادہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو نہیں پایا۔ ایک دوسری ضعیف سند سے یہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً بھی مروی ہے، لیکن ان سے مشہور موقوف ہے، اور ایک دوسری سند سے یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13815]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13816
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الصَّابُونِيُّ الْفَقِيهُ، بِنَيْسَابُورَ سَنَةَ ثَلَاثِمِائَةٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ الْجَرَّاحِ الْخُوَارِزْمِيُّ، ثنا الْمُغِيرَةُ بْنُ مُوسَى، ثنا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَخَاطِبٍ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ" وَرُوِيَ ذَلِكَ أَيْضًا مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا، وَمِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مَرْفُوعًا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نکاح چار کی موجودگی میں ہوتا ہے: 1 ولی، 2 نکاح کرنے والا، 3 دو عادل گواہ۔“
یہ روایت ایک دوسری ضعیف سند سے ابوسلمہ کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً بھی مروی ہے، اور ایک اور ضعیف سند سے ہشام بن عروہ عن ابیہ عن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مرفوعاً بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13816]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2873. -- باب: الأب يزوج ابنه الصغير
-- باب: اس بیان میں کہ باپ اپنے نابالغ بیٹے کا نکاح کر سکتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13817
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ" زَوَّجَ ابْنًا لَهُ ابْنَةَ أَخِيهِ وَابْنُهُ صَغِيرٌ يَوْمَئِذٍ" ⦗٢٣٢⦘ وَهَذَا مَحْمُولٌ عَلَى أَنَّ أَخَاهُ أَوْجَبَ الْعَقْدَ وَابْنُ عُمَرَ قَبِلَهُ لِابْنِهِ الصَّغِيرِ، وَرُوِّينَا فِي ذَلِكَ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَالْحَسَنِ، وَالشَّعْبِيِّ وَالنَّخَعِيِّ، وَرُوِيَ عَنِ الْحَسَنِ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا:" إِذَا أَنْكَحَ الرَّجُلُ ابْنَهُ وَهُوَ كَارِهٌ فَلَا نِكَاحَ لَهُ، وَإِذَا زَوَّجَهُ وَهُوَ صَغِيرٌ جَازَ نِكَاحُهُ"، وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ:" الصَّدَاقُ عَلَى الِابْنِ الَّذِي أَنْكَحْتُمُوهُ"، وَرُوِيَ عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا أَنْكَحَ الرَّجُلُ ابْنَهُ الصَّغِيرَ فَنِكَاحُهُ جَائِزٌ وَلَا طَلَاقَ لَهُ"، وَعَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ:" لَا يَجُوزُ لَهُ طَلَاقٌ، يَعْنِي عَلَى الْمَجْنُونِ".
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے چھوٹے بچے کی شادی اپنی بھتیجی سے کر دی اور ان کا بیٹا اس وقت چھوٹا تھا۔ یہ محمول کیا جائے گا کہ ان کے بھائی نے نکاح کو ثابت کر دیا اور ان کے چچا نے ان کے بیٹے کے چھوٹے ہونے کی وجہ سے بھی قبول کر لیا۔
(ب) سیدنا حسن رحمہ اللہ ضعیف سند سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ ”جب کوئی شخص اپنے بیٹے کی شادی کرے اور وہ اس کو ناپسند کرے تو کوئی نکاح نہیں ہے اور جب بچپن میں اس کا نکاح ہو جائے تو جائز ہے۔“
(ج) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حق مہر اس کے ذمہ ہے جس بچے کا تم نکاح کر رہے ہو۔
(د) سیدنا عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنے چھوٹے بچے کی شادی کر دے تو اس کا نکاح جائز ہے اور کوئی طلاق نہیں۔
(ذ) امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجنون (پاگل) کی طلاق جائز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13817]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2874. -- باب: الكلام الذي ينعقد به النكاح
-- باب: ان کلمات کا بیان جن سے نکاح منعقد ہو جاتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q13818
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا} [الأحزاب: 37] ، وَقَالَ تَعَالَى: {وَامْرَأَةً مُؤْمِنَةً إِنْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنْ أَرَادَ النَّبِيُّ أَنْ يَسْتَنْكِحَهَا خَالِصَةً لَكَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ} [الأحزاب: 50] مَعَ آيَاتٍ سِوَاهُمَا ذَكَرَهَا، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: سَمَّى اللهُ النِّكَاحَ اسْمَيْنِ النِّكَاحَ، وَالتَّزْوِيجَ وَأَبَانَ أَنَّ الْهِبَةَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُونَ الْمُؤْمِنِينَ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: ﴿فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا﴾ ”پھر جب زید نے اس سے اپنی حاجت پوری کر لی (یعنی طلاق دے دی) تو ہم نے اس کا نکاح آپ سے کر دیا۔“ [سورة الأحزاب: 37]
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَامْرَأَةً مُؤْمِنَةً إِنْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنْ أَرَادَ النَّبِيُّ أَنْ يَسْتَنْكِحَهَا خَالِصَةً لَكَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ﴾ ”اور کوئی مومن عورت اگر اپنے آپ کو نبی کے لیے ہبہ کر دے، اگر نبی اس سے نکاح کرنا چاہیں، (یہ حکم) خاص آپ کے لیے ہے، دوسرے مومنوں کے لیے نہیں۔“ [سورة الأحزاب: 50] “ ان دونوں کے علاوہ کچھ اور آیات کے ساتھ جو انہوں نے ذکر کیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے نکاح کے دو نام رکھے ہیں: نکاح اور تزویج، اور یہ واضح فرما دیا کہ ہبہ (کے ذریعے نکاح) صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے، دوسرے مومنوں کے لیے نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: Q13818]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13818
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ، فَقَامَتْ قِيَامًا طَوِيلًا، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تُصْدِقُهَا إِيَّاهُ؟" فَقَالَ: مَا عِنْدِي إِلَّا إِزَارِي هَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكَ إِنْ أَعْطَيْتَهَا إِزَارَكَ جَلَسْتَ لَا إِزَارَ لَكَ، فَالْتَمِسْ شَيْئًا" قَالَ: لَا أَجِدُ شَيْئًا قَالَ:" فَالْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ" فَالْتَمَسَ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ؟" قَالَ: نَعَمْ سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا لِسُوَرٍ سَمَّاهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، وَفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ وَغَيْرُهُمْ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَدْ زَوَّجْتُكَهَا"، وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنْهُ:" قَدْ أَنْكَحْتُكَهَا عَلَى مَا مَعَكَ مِنَ ⦗٢٣٣⦘ الْقُرْآنِ"، وَقَالَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى عَنْهُ:" قَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ".
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی: ”اے اللہ کے رسول! میں نے اپنا نفس آپ کے لیے ہبہ کر دیا ہے“، وہ بہت دیر کھڑی رہی تو ایک شخص کھڑا ہوا، اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ کو اس کی ضرورت نہیں تو میرا نکاح اس سے کر دیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا مہر دینے کے لیے کچھ ہے؟“ اس نے کہا: ”میری یہ چادر ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ چادر اس کو دے دو گے تو تمہارے پاس کوئی چادر نہ ہوگی، کوئی اور چیز تلاش کرو“، اس نے کہا: ”میں کچھ بھی نہیں پاتا“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوہے کی انگوٹھی ہی تلاش کرو“، اس کو تلاش کے باوجود کچھ نہ ملا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا قرآن کا کوئی حصہ یاد ہے؟“ اس نے کہا: ”فلاں فلاں سورت“، اس نے ان کا نام لیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن کے عوض میں نے تیرا اس سے نکاح کر دیا (یعنی قرآن اس کو یاد کروا دینا)“
(ب) سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ دو روایتوں میں سے ایک سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تیرا نکاح اس سے کر دیا ہے اس کے عوض جو تجھے قرآن یاد ہے“
(ج) ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تیرا نکاح اس کے ساتھ کر دیا ہے، اس کے عوض جو تیرے پاس قرآن ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13818]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1425»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13819
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ زِيَادٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ الْقَوْمِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ هَذِهِ الْقِصَّةَ وَلَمْ يَذْكُرِ الْإِزَارَ قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَنْكِحْنِيهَا، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فَقَالَ:" قَدْ أَنْكَحْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ". أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا۔ انہوں نے یہ قصہ ذکر کیا، لیکن چادر کا نام نہیں لیا اور کہتے ہیں ایک شخص کھڑا ہوا۔ کہنے لگا: میرا نکاح اس سے کر دو۔ اس کے آخر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تیرا نکاح اس سے کردیا جو تیرے پاس قرآن ہے اس کے بدلے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13819]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13820
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، يَقُولُ: كُنْتُ فِي الْقَوْمِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَتِ امْرَأَةٌ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ زَوِّجْنِيهَا، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: اذْهَبْ" فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا عَلَى مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ".
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں لوگوں کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا۔ ایک عورت کھڑی ہوئی۔ انہوں نے حدیث کو ذکر کیا اور کہتے ہیں: لوگوں میں سے ایک شخص کھڑا ہوا۔ اس نے کہا: میری شادی اس سے کر دیں۔ اس کے آخر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ میں نے تیرا نکاح اس سے کر دیا جو تجھے قرآن یاد ہے اس کے عوض۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13820]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں