🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3161. -- باب: عدة الوفاة
-- باب: وفات کی عدت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15463
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْعَدْلُ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، نا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ هَاهُنَا" فَقَرَأَ عَلَيْهِمْ سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَبَيَّنَ لَهُمْ مِنْهَا فَأَتَى عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ {إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ} [البقرة: ١٨٠] فَقَالَ نُسِخَتْ هَذِهِ الْآيَةُ، ثُمَّ قَرَأَ حَتَّى أَتَى عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا} [البقرة: ٢٣٤] إِلَى قَوْلِهِ {غَيْرَ إِخْرَاجٍ} [البقرة: ٢٤٠] فَقَالَ وَهَذِهِ الْآيَةُ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ کھڑے ہوئے اور لوگوں کو وہاں خطاب کیا اور سورہ بقرہ کی ان پر تلاوت کی اور ان کے لیے کھول کر بیان کیا اور جب اس آیت پر پہنچے: ﴿اِنْ تَرَکَ خَیْرَا۟ ۖ اِلْوَصِیَّةُ لِلْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبِیْنَ﴾ [سورة البقرة: 180] ”اگر وہ مال چھوڑیں تو والدین اور قریبی رشتہ داروں کے لیے وصیت ہے۔“ فرمایا: یہ آیت منسوخ ہو چکی ہے۔ پھر تلاوت کی حتیٰ کہ اس آیت پر پہنچے: ﴿وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا وَّصِیَّةً لِّاَزْوَاجِھِمْ مَّتَاعًا اِلَی الْحَوْلِ غَیْرَ اِخْرَاجٍ﴾ [سورة البقرة: 240] پھر فرمایا: یہ آیت بھی منسوخ ہو چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15463]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15464
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، نا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، نا شُعْبَةُ، نا حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهَا، أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا فَرَمَدَتْ فَخَشَوْا عَلَى عَيْنِهَا فَأَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنُوهُ فِي الْكُحْلِ، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَكْتَحِلْ قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَمْكُثُ فِي شَرِّ أَحْلَاسِهَا أَوْ فِي شَرِّ أَبْنِيَتِهَا فَإِذَا كَانَ حَوْلٌ فَمَرَّ كَلْبٌ رَمَتْ بِبَعْرَةٍ فَلَا حَتَّى تَمْضِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.
سیدہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اپنی والدہ (سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا) سے نقل فرماتی ہیں کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہو گیا اور اس کی آنکھیں خراب ہو گئیں۔ انہوں نے اس کی آنکھوں کے بارے میں خوف محسوس کیا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی کہ کیا وہ سرمہ ڈال سکتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سرمہ نہ لگائے۔ تم میں سے کوئی (عورت جاہلیت میں) ایک برے کمبل اور بدترین گھر میں ٹھہری رہتی اور جب سال ہو جاتا تو ایک کتا گزرتا وہ اس کی لید اس کو مارتی، تو وہ سرمہ نہ لگائے جب تک اس پر چار ماہ اور دس دن نہ گزر جائیں۔“
اس کو امام بخاری رحمہ اللہ نے آدم سے روایت کیا ہے اور مسلم رحمہ اللہ نے ایک دوسری سند سے نقل فرمایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15464]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15465
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ نَافِعٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ أُمَّ سَلَمَةَ، وَأُمَّ حَبِيبَةَ تَذْكُرَانِ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ أَنَّ زَوْجَ ابْنَتِهَا تُوُفِّيَ وَاشْتَكَتْ عَيْنَهَا أَفَأَكْحُلُهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عِنْدَ رَأْسِ الْحَوْلِ فَإِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ.
سیدہ زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ دونوں ذکر کر رہی تھیں کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس نے ذکر کیا کہ اس کی بیٹی کا شوہر فوت ہو گیا ہے اور اس کی آنکھیں خراب ہو گئی ہیں، کیا وہ سرمہ لگا سکتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری ایک تو سال کے اختتام پر لید سے رمی کی جاتی تھی اور یہ تو صرف چار ماہ اور دس دن ہیں۔“
اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15465]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15466
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ ⦗٧٠٣⦘ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ وَزَادَ فِيهِ قَالَ حُمَيْدٌ: فَقُلْتُ لِزَيْنَبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَمَا رَأْسُ الْحَوْلِ؟ فَقَالَتْ زَيْنَبُ: كَانَتِ الْمَرْأَةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا هَلَكَ زَوْجُهَا عَمَدَتْ إِلَى شَرِّ بَيْتٍ لَهَا فَجَلَسَتْ فِيهِ حَتَّى إِذَا مَرَّتْ بِهَا سَنَةٌ خَرَجَتْ وَرَمَتْ بِبَعْرَةٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حمید بن نافع انصاری رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے اس کے ہم معنی حدیث بیان کی ہے اور اس میں کچھ اضافہ کیا ہے۔ حمید نے کہا: میں نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے پوچھا: سال کی ابتدا کیا ہے؟ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جاہلیت میں جب عورت کا خاوند فوت ہو جاتا تو وہ بدترین گھر کا قصد کرتی جو اس کے لیے ہوتا، وہ اس میں بیٹھ جاتی یہاں تک کہ جب اس پر سال گزر جاتا تو وہ نکلتی اور لید کا ٹکڑا مارتی، یعنی اپنے جسم سے لگا کر پھینکتی اور اللہ ہی زیادہ جانتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15466]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3162. -- باب: عدة الحامل من الوفاة
-- باب: حاملہ بیوہ کی عدت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15467
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا هِشَامٌ ح وَأنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ نُفِسَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ فَجَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَتْهُ فِي أَنْ تُنْكَحَ فَأَذِنَ لَهَا" وَفِي رِوَايَةِ جَعْفَرٍ قَالَ:" تُوُفِّيَ زَوْجُ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةِ فَلَمْ تَمْكُثْ إِلَّا لَيَالِيَ يَسِيرَةً حَتَّى نُفِسَتْ، فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لَهَا فِيهِ فَنَكَحَتْ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ قَزَعَةَ عَنْ مَالِكٍ.
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا اپنے خاوند کی وفات کے چند راتوں بعد زچگی کی حالت کو پہنچیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کرنے کے بارے میں اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی؛ اور جعفر کی روایت میں ہے کہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کا خاوند فوت ہو گیا، وہ چند راتیں ٹھہریں پھر وہ زچگی کو پہنچیں، جب وہ اپنے نفاس سے فارغ ہوئیں تو انہوں نے یہ معاملہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نکاح کی اجازت دے دی، انہوں نے نکاح کر لیا۔
اس کو امام بخاری رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15467]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15468
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنا الْحَسَنُ هُوَ ابْنُ سُفْيَانَ نا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَا: نا أَبُو الطَّاهِرِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُتْبَةَ، كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَرْقَمِ الزُّهْرِيِّ يَأْمُرُهُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الْأَسْلَمِيَّةِ فَيَسْأَلَهَا عَنْ حَدِيثِهَا وَعَمَّا قَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اسْتَفْتَتْهُ فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ يُخْبِرُهُ أَنَّ سُبَيْعَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ بْنِ خَوْلَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَهُوَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا وَتُوُفِّيَ عَنْهَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهِيَ حَامِلٌ فَلَمْ تَنْشَبْ أَنْ وَضَعَتْ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاتِهِ، فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا تَجَمَّلَتْ لِلْخُطَّابِ فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ فَقَالَ لَهَا: مَالِي أَرَاكِ مُتَجَمِّلَةً لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ النِّكَاحَ إِنَّكِ وَاللهِ مَا أَنْتِ بِنَاكِحٍ حَتَّى يَمُرَّ عَلَيْكِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ قَالَتْ سُبَيْعَةُ: فَلَمَّا قَالَ لِي ذَلِكَ جَمَعْتُ ثِيَابِي حِينَ أَمْسَيْتُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ⦗٧٠٤⦘ ذَلِكَ فَأَفْتَانِي" بِأَنِّي قَدْ حَلَلْتُ حِينَ وَضَعْتُ حَمْلِي فَأَمَرَنِي بِالتَّزْوِيجِ إِنْ بَدَا لِي" زَادَ أَبُو عَمْرٍو فِي رِوَايَتِهِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَلَا أَرَى بَأْسًا أَنْ تَتَزَوَّجَ حِينَ وَضَعَتْ وَإِنْ كَانَتْ فِي دَمِهَا غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَقْرَبُهَا زَوْجُهَا حَتَّى تَطْهُرَ، لَفْظُ حَدِيثِ حَرْمَلَةَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ يُونُسَ، ثُمَّ قَالَ: وَتَابَعَهُ ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ.
ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبیداللہ رحمہ اللہ نے انہیں حدیث بیان کی کہ ان کے والد عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری رحمہ اللہ کی طرف خط لکھا، وہ انہیں حکم دے رہے تھے کہ وہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جائیں اور ان سے ان کی حدیث کے بارے میں اور اس کے بارے میں سوال کریں جو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ طلب کیا تھا۔ عمر بن عبداللہ رحمہ اللہ نے عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا، انہیں خبر دیتے ہوئے کہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ وہ سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں اور وہ بنی عامر بن لؤی قبیلے سے تھے، وہ ان میں سے تھے جو بدر میں حاضر ہوئے تھے، وہ حجۃ الوداع کے موقع پر فوت ہوئے اور وہ حاملہ تھیں۔ ان کی وفات کے بعد وہ زیادہ عرصہ نہیں گزری تھیں کہ انہوں نے اپنا حمل وضع کر دیا۔ جب وہ اپنے نفاس سے فارغ ہو گئیں تو انہوں نے نکاح کے خواہش مندوں کے لیے زینت اختیار کی۔ ان کے پاس بنو عبدالدار کا ایک شخص ابوسنابل بن بعکک رضی اللہ عنہ داخل ہوا، اس نے انہیں کہا: ”تجھے کیا ہوا؟ میں تجھے دیکھ رہا ہوں کہ تو نے زینت اختیار کی ہوئی ہے، شاید کہ تو نکاح کا ارادہ رکھتی ہے، اللہ کی قسم! تو نکاح نہیں کر سکتی حتی کہ تجھ پر چار ماہ اور دس دن نہ گزر جائیں۔“ سبیعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب اس نے مجھے یہ کہا تو میں نے اپنے کپڑے سمیٹے، جب شام ہوئی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فتویٰ دیا کہ ”میں حلال ہو چکی ہوں جب میں وضعِ حمل کر چکی“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نکاح کا حکم دیا اگر میں مناسب سمجھوں۔
ابن شہاب رحمہ اللہ نے کہا: میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا کہ وہ وضع حمل کے وقت ہی نکاح کر لے اگرچہ وہ ابھی (نفاس کے) خون میں ہو، البتہ اس کا خاوند اس کے قریب نہ جائے یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15468]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15469
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، نا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ كَتَبَ إِلَيْهِ يَذْكُرُ أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى ابْنِ الْأَرْقَمِ: سَلْ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْتَاهَا حِينَ تُوُفِّيَ زَوْجُهَا؟ قَالَتْ:" أَفْتَانِي إِذَا وَضَعْتُ أَنْ أَنْكِحَ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ.
یزید بن ابی حبیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن شہاب رحمہ اللہ نے ان کی طرف لکھا کہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ نے ان کو اپنے والد سے خبر دی، انہوں نے ابن ارقم رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا کہ تو سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا سے سوال کر کہ کیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فتویٰ دیا جب ان کا خاوند فوت ہوا؟ وہ فرماتی ہیں: ”مجھے فتویٰ دیا کہ جب میں وضع حمل سے فارغ ہو جاؤں تو نکاح کر لوں۔“
اس کو امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں یحییٰ بن بکیر سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15469]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15470
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ح وَأنا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ قَالَا: نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح وَأنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي نا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ سُبَيْعَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ الْأَسْلَمِيَّةَ، وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ فَمَرَّ بِهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ فَقَالَ: قَدْ تَصَنَّعْتِ لِلْأَزْوَاجِ إِنَّهَا أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ سُبَيْعَةُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَذَبَ أَبُو السَّنَابِلِ أَوْ لَيْسَ كَمَا قَالَ أَبُو السَّنَابِلِ قَدْ حَلَلْتِ فَتَزَوَّجِي" هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ وَحَدِيثُ سَعْدَانَ مُخْتَصَرٌ أَنَّ سُبَيْعَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِشَهْرٍ أَوْ أَقَلَّ فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَنْكِحَ، وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ مُرْسَلَةٌ وَفِيمَا قَبْلَهَا مِنَ الْمَوْصُولَةِ كِفَايَةٌ.
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت فرماتے ہیں کہ سبیعہ بنت حارث اسلمیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند کی وفات کے چند راتوں بعد بچے کو جنم دیا، پس ان پر ابو سنابل بن بعکک رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا۔ تو انہوں نے کہا: تو نے نکاح کا پیغام بھیجنے والوں کے لیے خوبصورتی اختیار کی ہوئی ہے، عدت تو چار ماہ دس دن ہے۔ یہ معاملہ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو سنابل نے جھوٹ کہا ہے“ یا یہ کہا کہ ”اس طرح نہیں ہے جس طرح ابو سنابل کہتا ہے، تو حلال ہو گئی ہے تو شادی کر سکتی ہے۔“ یہ الفاظ امام شافعی رحمہ اللہ کی حدیث کے ہیں۔
حدیثِ سعدان مختصر ہے، سبیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند کی وفات کے ایک ماہ بعد یا اس سے بھی کم میں بچے کو جنم دیا۔ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”تو نکاح کر لے۔“ [صحیح]
یہ روایت مرسل ہے اور اس سے پہلے والی موصول روایات میں کفایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15470]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15471
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ نا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، نا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَابْنُ عَبَّاسٍ وَأَبُو هُرَيْرَةَ فَتَذَاكَرْنَا الرَّجُلَ يَمُوتُ عَنِ الْمَرْأَةِ فَتَضَعُ بَعْدَ وَفَاتِهِ بِيَسِيرٍ فَقُلْتُ:" إِذَا وَضَعَتْ فَقَدْ حَلَّتْ"، وَقَالَ ابْنُ ⦗٧٠٥⦘ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:" أَجَلُهَا آخِرُ الْأَجَلَيْنِ فَتَرَاجَعَا بِذَلِكَ" فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ" أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ" فَبَعَثُوا كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقَالَتْ:" إِنَّ سُبَيْعَةَ وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِأَرْبَعِينَ لَيْلَةً وَأَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ يُكَنَّى أَبَا السَّنَابِلِ خَطَبَهَا وَأَخْبَرَنَا أَنَّهَا قَدْ حَلَّتْ فَأَرَادَتْ أَنْ تَتَزَوَّجَ غَيْرَهُ فَقَالَ لَهَا أَبُو السَّنَابِلِ: إِنَّكِ لَمْ تَحِلِّينَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ سُبَيْعَةُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَأَمَرَهَا أَنْ تُزَوَّجَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ.
ابو سلمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے، ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نے اس آدمی کے بارے میں بحث کی جو فوت (اپنی بیوی کو چھوڑ کر) ہو جائے اور وہ اس کی وفات کے چند دن بعد وضع حمل کر دے۔ ابو سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے کہا: جب اس نے وضع حمل کر دیا تو وہ حلال ہو گئی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اس کی عدت دونوں مدتوں میں سے آخری مدت ہے۔ وہ دونوں اس سے ایک دوسرے کی طرف پلٹے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اپنے بھتیجے ابو سلمہ کے ساتھ ہوں، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب کو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند کی وفات کے چالیس راتوں بعد بچے کو جنم دیا اور بنی عبدالدار میں سے ایک آدمی جس کی کنیت ابو سنابل تھی، اس نے منگنی کا پیغام بھیجا اور اس کو خبر دی کہ وہ حلال ہو گئی ہے اور وہ ارادہ کرتی ہے کہ وہ دوسرے مرد سے نکاح کر لے۔ اس کو ابو سنابل نے کہا: تو حلال نہیں ہوئی۔ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے یہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو حکم دیا کہ: ”تو شادی کر لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15471]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15472
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي جَعْفَرٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، نا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ امْرَأَةً يُقَالُ لَهَا سُبَيْعَةُ كَانَتْ تَحْتَ زَوْجِهَا فَتُوُفِّيَ عَنْهَا وَهِيَ حُبْلَى فَخَطَبَهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ فَأَبَتْ أَنْ تُنْكِحَ فَقَالَ وَاللهِ لَا يَصْلُحُ أَنْ تَنْكِحِي حَتَّى تَعْتَدِّي آخِرَ الْأَجَلَيْنِ، فَمَكَثَتْ قَرِيبًا مِنْ عِشْرِينَ لَيْلَةً ثُمَّ نُفِسَتْ فَجَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" انْكِحِي" فَكَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ طُلِّقَتِ الْبَتَّةَ أَنَّهُ أَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ عِنْدَهُ قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا فَكَانَ مُحَمَّدُ بْنُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ يَقُولُ: كَانَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ إِذَا ذَكَرَتْ فَاطِمَةُ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ رَمَاهَا بِمَا كَانَ فِي يَدِهِ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ.
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی کہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں اپنی والدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں، کہ ایک عورت جسے سبیعہ کہا جاتا تھا، وہ اپنے خاوند کے نکاح میں تھی۔ اس کا خاوند فوت ہو گیا اور وہ حاملہ تھی۔ اسے ابوسنابل رضی اللہ عنہ نے نکاح کا پیغام بھیجا تو اس نے انکار کر دیا۔ ابوسنابل رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! تیرے لیے نکاح کرنا درست نہیں یہاں تک کہ تو دو مدتوں میں سے آخری اختیار کر لے۔“ وہ تقریباً بیس راتیں ٹھہری رہی، پھر اسے زچگی ہوئی۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نکاح کر لے۔“ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی، جب انہیں طلاق دی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر منتقل ہو جائیں، کیونکہ وہ نابینا آدمی ہیں تو وہ اپنی عدت ختم ہونے سے پہلے ان کے پاس اپنے کپڑے بھی تبدیل کر سکتی ہیں۔ محمد بن اسامہ بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں: اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے جب بھی فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کسی چیز کا ذکر کرتیں تو ان کے ہاتھ میں جو بھی چیز ہوتی وہ اسے مار دیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15472]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں