السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3162. -- باب: عدة الحامل من الوفاة
-- باب: حاملہ بیوہ کی عدت کا بیان۔
حدیث نمبر: 15473
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، نا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، نا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى وَأَصْحَابُهُ يُعَظِّمُونَهُ كَأَنَّهُ أَمِيرٌ فَذَكَرُوا آخِرَ الْأَجَلَيْنِ فَذَكَرْتُ حَدِيثَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ فِي سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ قَالَ: فَغَمَزَ إِلِيَّ بَعْضُ أَصْحَابِهِ فَفَطِنْتُ فَقُلْتُ: إِنِّي لَحَرِيصٌ عَلَى الْكَذِبِ إِنْ كَذَبْتُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ وَهُوَ بِنَاحِيَةِ الْكُوفَةِ قَالَ: فَاسْتَحَى وَقَالَ: وَلَكِنَّ عَمَّهُ لَمْ يَكُنْ يَقُولُ ذَلِكَ قَالَ: وَلَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ فِيهِ عَنْ عَبْدِ اللهِ شَيْئًا قَالَ: فَقُمْتُ فَلَقِيتُ أَبَا عَطِيَّةَ مَالِكَ بْنَ الْحَارِثِ فَسَأَلْتُهُ فَذَهَبَ يُحَدِّثُنِي حَدِيثَ سُبَيْعَةَ قُلْتُ: إِنِّي لَسْتُ عَنْ هَذَا أَسْأَلُكَ وَلَكِنْ هَلْ سَمِعْتَ فِيهِ مِنْ عَبْدِ اللهِ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ كُنَّا مَعَ عَبْدِ اللهِ فَسَأَلْنَا عَنْهَا فَقَالَ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ وَضَعَتْ مِنْ قَبْلِ الْأَرْبَعَةِ الْأَشْهُرِ ⦗٧٠٦⦘ وَعَشْرٍ قُلْنَا حَتَّى تَمْضِيَ قَالَ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ مَضَتِ الْأَرْبَعَةُ الْأَشْهُرُ وَعَشْرٌ قَبْلَ أَنْ تَضَعَ قَالَ: قُلْنَا حَتَّى تَضَعَ قَالَ: فَقَالَ: تَجْعَلُونَ عَلَيْهَا التَّغْلِيظَ وَلَا تَجْعَلُونَ لَهَا الرُّخْصَةَ لَنَزَلَتْ سُورَةُ النِّسَاءِ الْقُصْرَى بَعْدَ الطُّولَى وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، فَقَالَ وَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو النُّعْمَانِ فَذَكَرَهُ.
محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور ان کے ساتھی ان کی تعظیم کر رہے تھے گویا کہ وہ ان کے امیر ہیں۔ انہوں نے دو مدتوں میں سے آخری مدت کا تذکرہ کیا اور میں نے وہ حدیث ذکر کر دی جو عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ کی ہے، سبیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے بارے میں۔ ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: ان کے کسی ساتھی نے مجھے آنکھ سے اشارہ کیا تو میں سمجھ گیا اور میں نے کہا: میں جھوٹ پر حریص نہیں ہوں، اگر میں عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ پر جھوٹ کہوں تو عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ کوفہ کی ایک جانب ہیں۔ ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: انہوں نے کچھ حیا محسوس کی اور کہا: لیکن ان کے چچا یہ بات نہیں کہتے تھے۔ ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: اور میں نے اس بارے میں عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کچھ نہیں سنا تھا۔ ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں کھڑا ہوا اور میں ابو عطیہ مالک بن حارث رحمہ اللہ سے ملا، میں نے ان سے سوال کیا، وہ شروع ہوئے، مجھے سبیعہ رضی اللہ عنہا کی حدیث بیان کرنے لگے۔ میں نے کہا: میں نے اس بارے میں آپ سے سوال نہیں کیا، کیا آپ نے اس بارے میں عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کچھ سنا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! ہم عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، ہم نے ان کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: تمہارا کیا خیال ہے اگر وہ چار ماہ اور دس دن سے پہلے وضع حمل کر دے تو؟ ہم نے کہا: یہاں تک کہ (چار ماہ دس دن) گزر جائیں۔ انہوں نے کہا: تمہارا کیا خیال ہے اگر وضع حمل سے پہلے چار ماہ اور دس دن گزر جائیں تو؟ ہم نے کہا: یہاں تک کہ وہ وضع حمل کر دے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اس پر سختی کر رہے ہو اور ان کے لیے رخصت نہیں دے رہے، سورہ نساء چھوٹی، طویل کے بعد نازل ہوئی: ﴿وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾ [سورة الطلاق: 4] ”اور حمل والیوں کی عدت وضع حمل ہے۔“
اس کو بخاری رحمہ اللہ نے نکالا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15473]
اس کو بخاری رحمہ اللہ نے نکالا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15473]
تخریج الحدیث: «صحيح 4910»
الحكم على الحديث: صحيح 4910
حدیث نمبر: 15474
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ الْجَبَّارُ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ" وَاللهِ مَنْ شَاءَ لَاعَنْتُهُ لَأُنْزِلَتْ سُورَةُ النِّسَاءِ الْقُصْرَى بَعْدَ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا" وَعَنْ مُسْلِمٍ أَبِي الضُّحَى قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: آخِرَ الْأَجَلَيْنِ.
مسروق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! جو شخص چاہے میں اس سے مباہلہ (باہم لعنت) کرنے کو تیار ہوں کہ چھوٹی سورۃ نساء ﴿أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا﴾ [سورة البقرة: 234] کے بعد نازل ہوئی ہے، اور مسلم ابی الضحیٰ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ دو عدتوں میں سے آخر والی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15474]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15475
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ نا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، نا سَعِيدُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شُبْرُمَةَ الْكُوفِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" مَنْ شَاءَ لَاعَنْتُهُ قَالَ: مَا نَزَلَتْ {وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ} [الطلاق: ٤] إِلَّا بَعْدَ آيَةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا إِذَا وَضَعَتِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا فَقَدْ حَلَّتْ" يُرِيدُ بِآيَةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا} [البقرة: ٢٣٤] .
علقمہ بن قیس سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو چاہے میں اس سے مباہلہ (باہم لعنت) کرنے کو تیار ہوں کہ یہ آیت ﴿وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾ [سورة الطلاق: 4] نازل نہیں ہوئی مگر اس آیت کے بعد جس میں خاوند کی وفات کا ذکر ہے، لہٰذا جب وہ عورت وضع حمل کر دے جس کا خاوند فوت ہو چکا ہو تو اس کی عدت ختم ہو گئی۔“ آیت «مُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا» سے آپ یہ آیت مراد لیتے تھے: ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا﴾ [سورة البقرة: 234] ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15475]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 15476
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ يُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا وَهِيَ حَامِلٌ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِذَا وَضَعَتْ حَمْلَهَا فَقَدْ حَلَّتْ" فَأَخْبَرَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَوْ وَلَدَتْ وَزَوْجُهَا عَلَى السَّرِيرِ لَمْ يُدْفَنْ لَحَلَّتْ وَاللهُ أَعْلَمُ.
نافع، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا گیا جو حاملہ ہو اور اس کا خاوند فوت ہو جائے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب وہ اپنے حمل کو وضع کر دے تو وہ حلال ہو گئی، ان کو ایک انصاری شخص نے خبر دی کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر وہ بچے کو جنم دے دے اور اس کا خاوند ابھی چارپائی پر پڑا ہو، اس کو دفن نہ کیا گیا ہو تو وہ حلال ہو گئی، یعنی اس کی عدت ختم ہو گئی اور اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15476]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3163. -- باب: من قال: لا نفقة للمتوفى عنها حاملا كانت أو غير حامل
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک بیوہ کے لیے کوئی نفقہ نہیں ہے خواہ وہ حاملہ ہو یا غیر حاملہ۔
حدیث نمبر: 15477
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ:" لَيْسَ لِلْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا نَفَقَةٌ حَبَسَهَا الْمِيرَاثُ" هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ مَوْقُوفٌ وَقَدْ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الرَّقَاشِيُّ قَالَ: نا حَرْبُ بْنُ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْحَامِلِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا لَا نَفَقَةَ لَهَا.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس کا خاوند فوت ہو جائے اس کے لیے خرچہ نہیں ہے بلکہ اس کو میراث ہی کافی ہے۔
یہی محفوظ ہے کہ یہ موقوف ہے۔
اس کو محمد بن عبداللہ رقاشی نے روایت کیا ہے، وہ فرماتے ہیں: ہمیں حرب بن ابی عالیہ نے ابوزبیر سے حدیث بیان کی، وہ جابر سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حمل والی جس کا خاوند فوت ہو جائے اس کے لیے خرچہ نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15477]
یہی محفوظ ہے کہ یہ موقوف ہے۔
اس کو محمد بن عبداللہ رقاشی نے روایت کیا ہے، وہ فرماتے ہیں: ہمیں حرب بن ابی عالیہ نے ابوزبیر سے حدیث بیان کی، وہ جابر سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حمل والی جس کا خاوند فوت ہو جائے اس کے لیے خرچہ نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15477]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15478
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ الْقُشَيْرِيُّ لَفْظًا قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا يَحْيَى بْنُ صَبِيحٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ كَانَ يُعْطِي لَهَا النَّفَقَةَ حَتَّى بَلَغَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ:" لَا نَفَقَةَ لَهَا" فَرَجَعَ عَنْ قَوْلِ ذَلِكَ، يَعْنِي فِي نَفَقَةِ الْحَامِلِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا وَرَوَاهُ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَا نَفَقَةَ لَهَا وَجَبَتِ الْمَوَارِيثُ.
عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما اس (حاملہ بیوہ) کو خرچہ دیتے تھے حتی کہ ان کو یہ بات پہنچی کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اس کے لیے خرچہ نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے اس قول سے رجوع کر لیا، یعنی جس حاملہ کا خاوند فوت ہو جائے اس کے لیے خرچہ ہے۔ اس کو عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، فرماتے ہیں کہ اس کے لیے خرچہ نہیں ہے، وراثت واجب ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15478]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3164. -- باب: مقام المطلقة في بيتها
-- باب: طلاق یافتہ عورت کے اپنے ہی گھر میں قیام پذیر رہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: Q15479
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي الْمُطَلَّقَاتِ {لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ} [الطلاق: 1] .
اللہ تبارک و تعالیٰ نے طلاق یافتہ عورتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ﴾ ”انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، سوائے اس کے کہ وہ کسی کھلی بے حیائی کا ارتکاب کریں۔“ [سورة الطلاق: 1] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: Q15479]
حدیث نمبر: 15479
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، نا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، نا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ: طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا فَأَرَدْتُ النُّقْلَةَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" انْتَقِلِي إِلَى بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ" قَالَ إِسْحَاقُ: فَلَمَّا حَدَّثَ بِهِ الشَّعْبِيُّ حَصَبَهُ الْأَسْوَدُ وَقَالَ وَيْحَكَ تُحَدِّثُ أَوْ تُفْتِي بِمِثْلِ هَذَا قَدْ أَتَتْ عُمَرَ فَقَالَ:" إِنْ جِئْتِ بِشَاهِدَيْنِ يَشْهَدَانِ أَنَّهُمَا سَمِعَاهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِلَّا لَمْ نَتْرُكْ كِتَابَ اللهِ بِقَوْلِ امْرَأَةٍ وَهُوَ قَوْلُ اللهِ {لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ} [الطلاق: ١] ".
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مجھے میرے خاوند نے تین طلاقیں دے دیں، میں نے منتقل ہونے کا ارادہ کیا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ابن ام مکتوم کے گھر منتقل ہو جا۔“ اسحاق کہتے ہیں: جب اس کو شعبی نے بیان کیا تو اسود نے اس کو کنکری ماری اور کہا: تیرے لیے ہلاکت ہو، تو بیان کرتا ہے یا فتویٰ دیتا ہے؟ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تو دو گواہ لائے اور وہ گواہی دیں کہ ان دونوں نے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، وگرنہ ہم اللہ کی کتاب کو ایک عورت کے قول کی وجہ سے نہیں چھوڑ سکتے اور اللہ کا قول یہ ہے: ﴿لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ﴾ [سورة الطلاق: 1] ”تم ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں مگر یہ کہ وہ کسی واضح بے حیائی کا ارتکاب کریں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15479]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15480
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَ: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، ⦗٧٠٨⦘ أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَةَ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ فَطَلَّقَهَا الْبَتَّةَ فَخَرَجَتْ" فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا ابْنُ عُمَرَ".
نافع سے روایت ہے کہ سعید بن زید رضی اللہ عنہ کی بیٹی عبداللہ بن عمرو بن عثمان کے نکاح میں تھی، اس نے اس کو «الطَّلَاقُ الْبَتَّةُ» ”طلاقِ بتہ“ دے دی، وہ گھر سے نکل گئی، اس کے اس فعل کو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے برا سمجھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15480]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15481
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ، نا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، نا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، نا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، {إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ} [النساء: ١٩] قَالَ:" خُرُوجُهَا مِنْ بَيْتِهَا فَاحِشَةٌ مُبَيِّنَةٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ﴿إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ﴾ [سورة الطلاق: 1] کے بارے میں فرمایا: اس کا اپنے گھر سے نکلنا واضح بےحیائی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15481]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح