السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3168. -- باب: كيفية سكنى المطلقة والمتوفى عنها
-- باب: طلاق یافتہ اور بیوہ عورت کی رہائش کی کیفیت و نوعیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 15512
وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتِهِ عَنْهُ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ الْأَصَمِّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: اسْتُشْهِدَ رِجَالٌ يَوْمَ أُحُدٍ فَآمَ نِسَاؤُهُمْ وَكُنَّ مُتَجَاوِرَاتٍ فِي دَارٍ فَجِئْنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا نَسْتَوْحِشُ بِاللَّيْلِ فَنَبِيتُ عِنْدَ إِحْدَانَا فَإِذَا أَصْبَحْنَا تَبَدَّرْنَا إِلَى بُيُوتِنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَحَدَّثْنَ عِنْدَ إِحْدَاكُنَّ مَا بَدَا لَكُنَّ فَإِذَا أَرَدْتُنَّ النَّوْمَ فَلْتَؤُبْ كُلُّ امْرَأَةٍ مِنْكُنَّ إِلَى بَيْتِهَا".
مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ احد کے دن بہت سے آدمی شہید ہو گئے اور ان کی بیویاں بیوہ ہو گئیں اور وہ ایک گھر میں پڑوسنیں تھیں۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم رات کو وحشت محسوس کرتی ہیں، ہم رات اپنے میں سے کسی ایک کے پاس گزارتی ہیں۔ جب ہم صبح کرتی ہیں تو اپنے گھروں کی طرف چلی جاتی ہیں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے میں سے کسی ایک کے پاس جب تک چاہو آپس میں باتیں کرو، پھر جب تم سونے کا ارادہ کرو تو تم میں سے ہر ایک اپنے گھر کی طرف لوٹ جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15512]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15513
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" لَا يَصْلُحُ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَبِيتَ لَيْلَةً وَاحِدَةً إِذَا كَانَتْ فِي عِدَّةِ وَفَاةٍ أَوْ طَلَاقٍ إِلَّا فِي بَيْتِهَا".
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کسی عورت کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ ایک رات اپنے گھر سے باہر گزارے جب وہ اپنے خاوند کی وفات کی عدت میں ہو یا عدتِ طلاق میں ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15513]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15514
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، نا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:" الْمُطَلَّقَةُ وَالْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا تَخْرُجَانِ بِالنَّهَارِ وَلَا تَبِيتَانِ لَيْلَةً تَامَّةً غَيْرَ بُيُوتِهِمَا".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ طلاق شدہ عورت اور وہ عورت جس کا خاوند فوت ہو چکا ہو وہ دن میں نکلیں اور مکمل رات اپنے گھر کے علاوہ کسی دوسرے کے گھر میں نہ گزاریں۔
سفیان سے روایت ہے کہ مجھے موسیٰ بن عقبہ نے حدیث بیان کی، وہ نافع سے روایت کرتے ہیں، وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ طلاقِ بتہ والی عورت دن کو زیارت کرے اور اپنے گھر کے علاوہ رات نہ گزارے۔
علقمہ سے روایت ہے کہ ہمدان قبیلے کی عورتوں کے لیے ان کے خاوندوں کی (وفات) کا اعلان کیا گیا، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ہم وحشت محسوس کرتی ہیں، انہوں نے ان کو حکم دیا کہ وہ دن کو اکٹھی ہو جایا کریں اور جب رات ہو تو ہر ایک عورت اپنے گھر کی طرف پلٹ جائے۔
اسلم قبیلے کے ایک شخص سے روایت ہے کہ ایک عورت نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ اس کا خاوند فوت ہو گیا ہے، کیا وہ اپنے والد کی بیمار پرسی کر سکتی ہے؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تو رات کے دو حصوں میں سے ایک حصہ اپنے گھر میں گزار۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15514]
سفیان سے روایت ہے کہ مجھے موسیٰ بن عقبہ نے حدیث بیان کی، وہ نافع سے روایت کرتے ہیں، وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ طلاقِ بتہ والی عورت دن کو زیارت کرے اور اپنے گھر کے علاوہ رات نہ گزارے۔
علقمہ سے روایت ہے کہ ہمدان قبیلے کی عورتوں کے لیے ان کے خاوندوں کی (وفات) کا اعلان کیا گیا، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ہم وحشت محسوس کرتی ہیں، انہوں نے ان کو حکم دیا کہ وہ دن کو اکٹھی ہو جایا کریں اور جب رات ہو تو ہر ایک عورت اپنے گھر کی طرف پلٹ جائے۔
اسلم قبیلے کے ایک شخص سے روایت ہے کہ ایک عورت نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ اس کا خاوند فوت ہو گیا ہے، کیا وہ اپنے والد کی بیمار پرسی کر سکتی ہے؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تو رات کے دو حصوں میں سے ایک حصہ اپنے گھر میں گزار۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15514]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 15515
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ السَّائِبَ بْنَ خَبَّابٍ تَوَفَّى وَأَنَّ ⦗٧١٨⦘ امْرَأَتَهُ جَاءَتْ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَتْ وَفَاةَ زَوْجِهَا وَذَكَرَتْ لَهُ حَرْثًا لَهُمْ تَفْنَاهُ وَسَأَلَتْهُ هَلْ يَصْلُحُ لَهَا أَنْ تَبِيتَ فِيهِ" فَنَهَاهَا عَنْ ذَلِكَ"،" فَكَانَتْ تَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ بِسَحَرٍ فَتُصْبِحُ فِي حَرْثِهِمْ فَتَظَلُّ فِيهِ يَوْمَهَا ثُمَّ تَدْخُلُ الْمَدِينَةَ إِذَا أَمْسَتْ تَبِيتُ فِي بَيْتِهَا" وَاللهُ أَعْلَمُ.
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ مجھے یہ بات پہنچی کہ سیدنا سائب بن خباب رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے اور ان کی بیوی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئیں، انہوں نے اپنے خاوند کی وفات کا تذکرہ کیا اور ان کے لیے اپنی کھیتی کا ذکر بھی کیا جو قناۃ نامی جگہ میں ہے اور ان سے سوال کیا کہ کیا ان کے لیے درست ہے کہ وہ اس میں رات گزاریں؟ انہوں نے ان کو اس سے منع کیا۔ وہ مدینہ سے سحری کے وقت نکلتیں، وہ دن اپنی کھیتی میں گزارتیں اور صبح اپنی کھیتی میں کرتیں، پھر جب شام ہو جاتی تو وہ مدینہ میں داخل ہوتیں اور رات اپنے گھر میں گزارتیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15515]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3169. -- باب: الإحداد
-- باب: سوگ منانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15516
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ حُمَيْدٍ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ قَالَ: قَالَتْ زَيْنَبُ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُو سُفْيَانَ فَدَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بِطِيبٍ فِيهِ صُفْرَةُ خَلُوقٍ أَوْ غَيْرُهُ فَدَهَنَتْ مِنْهُ جَارِيَةً ثُمَّ مَسَّتْ بِعَارِضَيْهَا ثُمَّ قَالَتْ: وَاللهِ مَالِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَالَ ابْنُ بُكَيْرٍ عَلَى الْمِنْبَرِ ثُمَّ اتَّفَقَا:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا".
زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے ان تین احادیث کی خبر دی، زینب رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی، جب (ان کے والد) ابوسفیان رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے خوشبو منگوائی، اس میں زرد رنگ کی خوشبو تھی یا اس کے علاوہ کوئی اور خوشبو تھی، انہوں نے اس میں سے ایک لڑکی کو لگائی، پھر اپنے رخساروں پر ملی، پھر انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو کی کوئی حاجت نہ تھی، سوائے اس کے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر فرما رہے تھے: ”کسی ایسی عورت کے لیے جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو، یہ حلال نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے، سوائے اپنے خاوند کے، اور وہ اپنے خاوند پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرے۔“
زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس گئی، جب ان کے بھائی عبداللہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے، انہوں نے خوشبو منگوائی اور اس خوشبو میں سے کچھ خوشبو لگائی، پھر انہوں نے کہا: مجھے خوشبو کی کوئی ضرورت نہیں تھی، سوائے اس کے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر فرما رہے تھے: ”کسی ایسی عورت کے لیے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو، یہ جائز نہیں کہ وہ کسی میت پر تین راتوں سے زیادہ سوگ کرے، سوائے اپنے خاوند کے، وہ اس پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرے۔“
زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں اور میں نے اپنی والدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس نے کہا: میری بیٹی کا خاوند فوت ہو گیا ہے اور اس کی آنکھیں خراب ہو گئی ہیں، کیا وہ سرمہ لگا سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں (لگا سکتی)۔“ دو مرتبہ فرمایا یا تین مرتبہ، جتنی بار بھی اس نے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں (لگا سکتی)۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو محض چار ماہ اور دس دن ہیں، جبکہ تم میں سے کوئی (عورت) زمانہ جاہلیت میں سال کے اختتام پر لید پھینکتی تھی۔“
حمید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے زینب رضی اللہ عنہا سے کہا: کیا وہ لید (پھینکنا) تھا سال کے اختتام پر؟ زینب رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جب کسی عورت کا خاوند فوت ہو جاتا تو وہ ایک خیمے میں داخل ہو جاتی، وہ بدترین لباس پہنتی، خوشبو نہ لگاتی یہاں تک کہ اس پر ایک سال گزر جاتا، پھر اس کے پاس کوئی گدھا یا بکری یا کوئی پرندہ لایا جاتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15516]
زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس گئی، جب ان کے بھائی عبداللہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے، انہوں نے خوشبو منگوائی اور اس خوشبو میں سے کچھ خوشبو لگائی، پھر انہوں نے کہا: مجھے خوشبو کی کوئی ضرورت نہیں تھی، سوائے اس کے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر فرما رہے تھے: ”کسی ایسی عورت کے لیے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو، یہ جائز نہیں کہ وہ کسی میت پر تین راتوں سے زیادہ سوگ کرے، سوائے اپنے خاوند کے، وہ اس پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرے۔“
زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں اور میں نے اپنی والدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس نے کہا: میری بیٹی کا خاوند فوت ہو گیا ہے اور اس کی آنکھیں خراب ہو گئی ہیں، کیا وہ سرمہ لگا سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں (لگا سکتی)۔“ دو مرتبہ فرمایا یا تین مرتبہ، جتنی بار بھی اس نے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں (لگا سکتی)۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو محض چار ماہ اور دس دن ہیں، جبکہ تم میں سے کوئی (عورت) زمانہ جاہلیت میں سال کے اختتام پر لید پھینکتی تھی۔“
حمید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے زینب رضی اللہ عنہا سے کہا: کیا وہ لید (پھینکنا) تھا سال کے اختتام پر؟ زینب رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جب کسی عورت کا خاوند فوت ہو جاتا تو وہ ایک خیمے میں داخل ہو جاتی، وہ بدترین لباس پہنتی، خوشبو نہ لگاتی یہاں تک کہ اس پر ایک سال گزر جاتا، پھر اس کے پاس کوئی گدھا یا بکری یا کوئی پرندہ لایا جاتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15516]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15517
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ قَالَا: نا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، فَذَكَرَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
ایضاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15517]
حدیث نمبر: 15518
وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، أنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ غَالِبٍ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ قَالَتْ: لَمَّا جَاءَ نَعْيُ أَبِي سُفْيَانَ دَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بِصُفْرَةٍ فَمَسَحَتْ عَارِضَيْهَا وَذِرَاعَيْهَا الْيَوْمَ الثَّالِثَ وَقَالَتْ: إِنْ كُنْتُ لَغَنِيَّةً عَنْ هَذَا لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ، فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْحُمَيْدِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ.
زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی وفات کا اعلان کرنے والا آیا تو ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے زردی منگوائی اور تیسرے دن اس کو اپنے رخساروں اور بازوؤں پر لگایا اور فرمایا: میں اس سے بے پروا ہوں اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا کہ ”کسی عورت کے لیے جائز نہیں ہے جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے، مگر اپنے خاوند پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرے۔“
اس حدیث کو بخاری نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15518]
اس حدیث کو بخاری نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15518]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15519
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الشِّيرَازِيُّ الْفَقِيهُ نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا شَبَابَةُ، نا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ قَالَ: سَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ، تُحَدِّثُ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهُ مَاتَ لَهَا حَمِيمٌ فَأَخَذَتْ صُفْرَةً فَمَسَحَتْ بِهَا ذِرَاعَيْهَا وَقَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا الْمَرْأَةَ عَلَى زَوْجِهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا" قَالَ شُعْبَةُ: وَحَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّهَا وَعَنِ امْرَأَةٍ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ ⦗٧٢٠⦘.
سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب ان کا کوئی قریبی رشتہ دار فوت ہو گیا تو انہوں نے زردی کو پکڑا اور اپنی کلائیوں پر لگا لیا اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلم عورت کے لیے جائز نہیں جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے مگر اپنے خاوند پر وہ چار ماہ اور دس دن سوگ کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15519]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15520
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، نا اللَّيْثُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، نا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ حَدَّثَتْهُ، عَنْ حَفْصَةَ، أَوْ عَنْ عَائِشَةَ، أَوْ عَنْهُمَا كِلْتَيْهِمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَوْ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَرَسُولِهِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِلَّا عَلَى زَوْجِهَا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ وَغَيْرِهِ، وَكَذَلِكَ قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ دِينَارٍ عَنْ نَافِعٍ.
حفصہ رضی اللہ عنہا یا عائشہ رضی اللہ عنہا یا دونوں رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے جائز نہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو یا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے سوائے اپنے خاوند کے۔“
اس کو مسلم نے نکالا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15520]
اس کو مسلم نے نکالا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15520]
تخریج الحدیث: «صحيح۔1490»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15521
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، نا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ الرَّازِيُّ، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ النَّسَوِيُّ، نا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا يُحَدِّثُ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، أَنَّهَا سَمِعَتْ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، تُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ، فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى.
صفیہ بنت ابی عبید رضی اللہ عنہا نے حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے حلال نہیں جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے مگر اپنے خاوند پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرے۔“ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15521]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح