السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3169. -- باب: الإحداد
-- باب: سوگ منانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15522
وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ" وَرُوِّينَا فِي ذَلِكَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَلِكَ يَرِدُ إِنْ شَاءَ اللهُ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے جائز نہیں جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے، سوائے اپنے خاوند کے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15522]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15523
فَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ النَّيْسَابُورِيُّ نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، نا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ: لَمَّا أُصِيبَ جَعْفَرٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تَسَلْبَنِي ثَلَاثًا ثُمَّ اصْنَعِي مَا شِئْتِ" ⦗٧٢١⦘ فَلَمْ يَثْبُتْ سَمَاعُ عَبْدِ اللهِ مِنْ أَسْمَاءَ وَقَدْ قِيلَ فِيهِ عَنْ أَسْمَاءَ فَهُوَ مُرْسَلٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَالْأَحَادِيثُ قَبْلَهُ أَثْبَتُ فَالْمَصِيرُ إِلَيْهَا أَوْلَى وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب جعفر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ: ”تین دن سوگ گزار پھر جو چاہے کر۔“
عبداللہ (بن شداد) کا اسماء سے سماع ثابت نہیں ہے، اور اس میں «عن اسماء» بھی کہا گیا ہے، لہٰذا یہ مرسل ہے، اور محمد بن طلحہ قوی نہیں ہے، اور اس سے پہلے والی احادیث زیادہ ثابت ہیں، لہٰذا انہی کو اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15523]
عبداللہ (بن شداد) کا اسماء سے سماع ثابت نہیں ہے، اور اس میں «عن اسماء» بھی کہا گیا ہے، لہٰذا یہ مرسل ہے، اور محمد بن طلحہ قوی نہیں ہے، اور اس سے پہلے والی احادیث زیادہ ثابت ہیں، لہٰذا انہی کو اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15523]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3170. -- باب: كيف الإحداد
-- باب: سوگ کیسے منایا جائے اس کے طریقے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15524
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِهِ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ قَالَا: نا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ قَالَ حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنِي قَالَ: سَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ عَنْ أُمِّهَا، أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا فَاشْتَكَتْ عَيْنَهَا وَخَشَوْا عَلَى عَيْنِهَا فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَمْكُثُ فِي شَرِّ أَحْلَاسِهَا فِي بَيْتِهَا إِلَى الْحَوْلِ فَمَرَّ كَلْبٌ رَمَتْ بِبَعْرَةٍ ثُمَّ خَرَجَتْ لَا، أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا" لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَكْتَحِلُ؟ فَقَالَ:" لَا" وَقَالَ فِي آخِرِهِ:" لَا حَتَّى تَمْضِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ.
شعبہ بن حجاج رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حمید بن نافع رحمہ اللہ نے مجھے خبر دی کہ میں نے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ اپنی والدہ (ام سلمہ رضی اللہ عنہا) سے روایت کرتی ہیں کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہو گیا، اس نے اپنی آنکھوں کی شکایت کی اور انہوں نے اس کی آنکھوں پر (بیماری کا) خوف محسوس کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری عورتیں بدترین لباس اور بدترین گھر میں ایک سال تک رہتی تھیں۔ جب کتا گزرتا تو لید پھینکتی تھیں۔ پھر وہ نکلتی تھیں۔ اب صرف چار ماہ اور دس دن ہیں۔“ ابو داؤد کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: ”کیا وہ سرمہ لگا سکتی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ اور اس کے آخر میں فرمایا: ”نہیں، یہاں تک کہ وہ چار ماہ اور دس دن گزارے۔“
اس کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15524]
اس کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15524]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15525
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، نا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، نا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ الْمُلَائِيُّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ فَإِنَّهَا لَا تَكْتَحِلُ وَلَا تَمْتَشِطُ وَلَا تَتَطَيَّبُ إِلَّا عِنْدَ أَدْنَى طُهْرَتِهَا وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصَبٍ" ⦗٧٢٢⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ دُكَيْنٍ مُخْتَصَرًا، ثُمَّ قَالَ: وَقَالَ الْأَنْصَارُ نا هِشَامٌ.
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے حلال نہیں ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے مگر اپنے خاوند پر، وہ نہ سرمہ لگائے، نہ کنگھی کرے اور نہ خوشبو لگائے مگر اپنی طہارت کے وقت، اور نہ رنگ دار کپڑے پہنے سوائے باندھنے والے کپڑے کے۔“
اس کو بخاری نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15525]
اس کو بخاری نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15525]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15526
فَذَكَرَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، نا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، نا الْأَنْصَارِيُّ، نا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَتْنَا حَفْصَةُ بِنْتُ سِيرِينَ قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ تُحِدَّ الْمَرْأَةُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصَبٍ وَلَا تَكْتَحِلُ وَلَا تَمَسُّ طِيبًا إِلَّا إِلَى أَدْنَى طُهْرَتِهَا إِذَا طَهُرَتْ بِنُبْذَةٍ مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ".
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ: ”عورت کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے، مگر اپنے خاوند پر، وہ اس پر چار ماہ دس دن تک سوگ کرے، اور نہ رنگ دار کپڑے پہنے سوائے عصب کے کپڑے کے، نہ ہی سرمہ لگائے اور نہ ہی خوشبو لگائے مگر اپنے طہر کے قریب، جب وہ پاک ہو جائے تو تھوڑی سی قسط یا اظفار (خوشبودار بخور) استعمال کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15526]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15527
حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ الشِّيرَازِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا إِبْرَاهِيمُ، أنا يَزِيدُ، أنا هِشَامٌ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصَبٍ وَلَا تَكْتَحِلُ وَلَا تَمَسُّ طِيبًا إِلَّا عِنْدَ أَدْنَى طُهْرِهَا إِذَا اغْتَسَلَتْ مِنْ حَيْضِهَا مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ، وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ بِمَعْنَاهُ وَزَادَ فِيهِ وَلَا تَخْتَضِبُ.
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے حلال نہیں ہے جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے مگر اپنے خاوند پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرے، وہ نہ رنگ دار کپڑے پہنے سوائے عصب کے کپڑے کے اور نہ ہی وہ سرمہ لگائے اور نہ ہی خوشبو لگائے مگر اپنے طہر کے قریب جب وہ غسل کرے اپنے حیض سے تو تھوڑی سی قسط یا اظفار (خوشبودار بخور) سے۔“ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15527]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15528
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، فَذَكَرَهُ.
ہشام بن حسان رحمہ اللہ نے اس کو اسی طرح ذکر کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15528]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15529
وَرَوَاهُ يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي بُكَيْرٍ، فَقَالَ" مَكَانَ عَصَبٍ إِلَّا ثَوْبًا مَغْسُولًا" أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ فَذَكَرَهُ وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ.
یحییٰ بن بکیر نے بھی اس حدیث کو اسی طرح ذکر کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15529]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15530
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً، أنا أَبُو الْمُثَنَّى، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، نا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، نا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى هَالِكٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ فَإِنَّهَا تُحِدُّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَلَا ⦗٧٢٣⦘ تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا وَلَا ثَوْبَ عَصَبٍ وَلَا تَكْتَحِلُ بِالْإِثْمِدِ وَلَا تَخْتَضِبُ وَلَا تَمَسُّ طِيبًا إِلَّا عِنْدَ أَدْنَى طُهْرِهَا إِذَا تَطَهَّرَتْ مِنْ حَيْضِهَا بِنُبْذَةٍ مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ" كَذَا قَالَ:" وَلَا ثَوْبَ عَصَبٍ" وَبَلَغَنِي عنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ أَنَّهُ رَوَاهُ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ كَذَلِكَ وَرِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ بِخِلَافِ ذَلِكَ.
ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے حلال نہیں جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی ہلاک ہونے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے مگر اپنے خاوند پر وہ چار مہینے اور دس دن سوگ کرے اور نہ وہ رنگ دار لباس پہنے اور نہ عصب کا کپڑا اور نہ ہی اثمد کا سرمہ لگائے اور نہ ہی خوشبو لگائے اور نہ ہی خضاب لگائے، مگر اپنے طہر کے وقت جب وہ اپنے حیض سے غسل کرے تو تھوڑی سی قسط یا اظفار (خوشبودار بخور) استعمال کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15530]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15531
وَقَدْ رَوَاهُ عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ نَحْوَ رِوَايَةِ الْجَمَاعَةِ أَخْبَرَنَاه أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أَنَا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، نا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، نا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، فَذَكَرَهُ نَحْوَ رِوَايَةِ الْجَمَاعَةِ وَقَالَ:" إِلَّا ثَوْبَ عَصَبٍ وَلَمْ يَذْكُرِ الْخِضَابَ".
ہشام بن حسان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے باندھنے والے کپڑے کے علاوہ خضاب کا ذکر نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15531]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح