السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3173. -- باب: الاختلاف في مهرها وتحريم نكاحها على الثاني
-- باب: عورت کے مہر میں اختلاف اور دوسرے شوہر پر اس کے نکاح کے حرام ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15542
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، نا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: ⦗٧٢٥⦘ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي امْرَأَةٍ تَزَوَّجَتْ فِي عِدَّتِهَا قَالَ:" النِّكَاحُ حَرَامٌ وَالصَّدَاقُ حَرَامٌ وَجَعَلَ الصَّدَاقَ فِي بَيْتِ الْمَالِ وَقَالَ لَا يَجْتَمِعَانِ مَا عَاشَا".
مسروق سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس عورت کے بارے میں فرمایا جو اپنی عدت میں شادی کرلے، فرمایا: اس کا نکاح حرام ہے، اس کا حق مہر حرام ہے۔ انہوں نے اس کے حق مہر کو بیت المال میں ڈالنے کا حکم دیا اور فرمایا: جب تک یہ زندہ رہیں اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15542]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15543
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ لَفْظًا قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ، أَوْ قَالَ: نُضَيْلَةَ شَكَّ دَاوُدُ قَالَ: رُفِعَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ امْرَأَةٌ تَزَوَّجَتْ فِي عِدَّتِهَا فَقَالَ لَهَا:" هَلْ عَلِمْتِ أَنَّكِ تَزَوَّجْتِ فِي الْعِدَّةِ؟" قَالَتْ: لَا فَقَالَ لِزَوْجِهَا:" هَلْ عَلِمْتَ؟" قَالَ: لَا قَالَ:" لَوْ عَلِمْتُمَا لَرَجَمْتُكُمَا فَجَلَدَهُمَا أَسْيَاطًا وَأَخَذَ الْمَهْرَ فَجَعَلَهُ صَدَقَةً فِي سَبِيلِ اللهِ قَالَ: لَا أُجِيزُ مَهْرًا لَا أُجِيزُ نِكَاحَهُ، وَقَالَ لَا تَحِلُّ لَكَ أَبَدًا".
عبید بن نضلہ (یا نضیلہ، داؤد نے اس بارے میں شک کیا ہے) سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت کو لایا گیا، آپ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: کیا تجھے علم تھا کہ تو عدت کے دوران شادی کر رہی ہے؟ اس نے کہا: نہیں (مجھے معلوم نہ تھا)۔ اس کے خاوند سے فرمایا: کیا تو جانتا تھا؟ اس نے کہا: نہیں، مجھے بھی علم نہ تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تمہیں معلوم ہوتا تو میں تم دونوں کو رجم کر دیتا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ان کو کوڑے کے ساتھ مارا اور اس کا حق مہر لے لیا اور اسے اللہ کے راستے میں صدقہ کر دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کا مہر بھی جائز نہیں ہے اور اس کا نکاح بھی جائز نہیں ہے اور فرمایا: وہ عورت تیرے لیے ہمیشہ کے لیے حلال نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15543]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 15544
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْزَةَ الْهَرَوِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا هُشَيْمٌ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" فَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَجَعَلَ لَهَا الصَّدَاقَ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا وَقَالَ: إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا فَإِنْ شَاءَتْ تَزَوَّجَهُ فَعَلَتْ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ غَيْرُهُ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَبِقَوْلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَقُولُ قَالَ الشَّيْخُ: وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَجَعَ عَنْ قَوْلِهِ الْأَوَّلِ وَجَعَلَ لَهَا مَهْرَهَا وَجَعَلَهُمَا يَجْتَمِعَانِ.
شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کے درمیان جدائی کروا دی اور اس کے لیے حق مہر مقرر کر دیا؛ کیونکہ اس کی شرمگاہ کو حلال کیا گیا اور فرمایا: جب اس کی عدت ختم ہو جائے تو اگر وہ اس سے شادی کرنا چاہتی ہے تو وہ کر لے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم علی رضی اللہ عنہ کے قول کی طرح ہی کہتے ہیں۔
اور امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے پہلے قول سے رجوع کر لیا اور اس کے لیے حق مہر کو جائز قرار دے دیا اور ان دونوں کو اکٹھا بھی کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15544]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم علی رضی اللہ عنہ کے قول کی طرح ہی کہتے ہیں۔
اور امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے پہلے قول سے رجوع کر لیا اور اس کے لیے حق مہر کو جائز قرار دے دیا اور ان دونوں کو اکٹھا بھی کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15544]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15545
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا أَشْعَثُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِامْرَأَةٍ تَزَوَّجَتْ فِي عِدَّتِهَا فَأَخَذَ مَهْرَهَا فَجَعَلَهُ فِي بَيْتِ الْمَالِ وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَقَالَ:" لَا يَجْتَمِعَانِ وَعَاقَبَهُمَا" قَالَ: فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" لَيْسَ هَكَذَا وَلَكِنْ هَذِهِ الْجَهَالَةَ مِنَ النَّاسِ وَلَكِنْ يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ثُمَّ تَسْتَكْمِلُ بَقِيَّةَ الْعِدَّةِ مِنَ الْأَوَّلِ ثُمَّ تَسْتَقْبِلُ عِدَّةً أُخْرَى وَجَعَلَ لَهَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْمَهْرَ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا قَالَ: فَحَمِدَ اللهَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ رُدُّوا الْجَهَالِاتِ إِلَى السُّنَّةِ".
شعبی سے روایت ہے کہ ایک عورت کو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا، جس نے دورانِ عدت نکاح کر لیا تھا۔ آپ نے اس کے حق مہر کو لیا اور بیت المال میں ڈال دیا اور ان دونوں کے درمیان جدائی کروا دی اور فرمایا: یہ دونوں اکٹھے نہیں ہو سکتے اور یہ ان کی سزا ہے۔ شعبی کہتے ہیں: علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ اس طرح نہیں، یہ لوگوں کی جہالت ہے اور ان دونوں کے درمیان جدائی کروا دی جائے گی۔ پھر وہ اپنے پہلے خاوند کی بقیہ عدت مکمل کرے گی، پھر وہ دوسری عدت کی طرف متوجہ ہو گی اور علی رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے حق مہر مقرر کیا اس کی شرمگاہ کو حلال کیے جانے کی وجہ سے۔ شعبی فرماتے ہیں: عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کی تعریف کی، اس کی حد بیان کی، پھر فرمایا: اے لوگو! جہالتوں کو سنت کی طرف لوٹاؤ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15545]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15546
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ حَمْزَةَ الْهَرَوِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا هُشَيْمٌ، نا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، أَنَّ ⦗٧٢٦⦘ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" رَجَعَ عَنْ قَوْلِهِ فِي الصَّدَاقِ وَجَعَلَهُ لَهَا بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا".
مسروق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حق مہر کے بارے میں اپنے قول سے رجوع کیا اور اس کے لیے اس کی شرمگاہ کو حلال کیے جانے کی وجہ سے حق مہر مقرر کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15546]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15547
وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَشْعَثَ، بِإِسْنَادِهِ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" رَجَعَ عَنْ ذَلِكَ وَجَعَلَ لَهَا مَهْرَهَا وَجَعَلَهُمَا يَجْتَمِعَانِ" أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، نا سُفْيَانُ الْجَوْهَرِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نا سُفْيَانُ فَذَكَرَهُ.
سفیان ثوری رحمہ اللہ نے اشعث سے ان کی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس (قول) سے رجوع کر لیا، اور اس عورت کو اس کا مہر دے دیا اور ان دونوں کو اکٹھا رہنے دیا۔ سفیان رحمہ اللہ نے اسے (ایک اور سند سے بھی) ذکر کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15547]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3174. -- باب: ما جاء في أقل الحمل
-- باب: مدتِ حمل کی کم از کم مقدار کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 15548
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا هُشَيْمٌ، أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" إِذَا وَلَدَتِ الْمَرْأَةُ لَتِسْعَةِ أَشْهُرٍ كَفَاهَا مِنَ الرَّضَاعِ أَحَدٌ وَعِشْرِينَ شَهْرًا، وَإِذَا وَضَعَتْ لَسَبْعَةِ أَشْهُرٍ كَفَاهَا مِنَ الرَّضَاعِ ثَلَاثَةٌ وَعِشْرُونَ شَهْرًا وَإِذَا وَضَعَتْ لِسِتَّةِ أَشْهُرٍ كَفَاهَا مِنَ الرَّضَاعِ أَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ شَهْرًا كَمَا قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ" يَعْنِي قَوْلَهُ: وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب عورت نو مہینوں کا بچہ جنے اس کو اکیس مہینے رضاعت کافی ہے اور جب سات ماہ کا بچہ جنم دے تو اس کو تئیس مہینے رضاعت (یعنی بچے کو دودھ پلانا) کافی ہے اور جب چھ ماہ کے بچے کو جنم دے تو اس کو چوبیس ماہ دودھ پلانا کافی ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا﴾ [سورة الأحقاف: 15] ”اور اس کے حمل اور دودھ چھڑوانے کی مدت تیس ماہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15548]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15549
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، نا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي الْقَصَّافِ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أُتِيَ بِامْرَأَةٍ قَدْ وَلَدَتْ لِسِتَّةِ أَشْهُرٍ فَهَمَّ بِرَجْمِهَا" فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ:" لَيْسَ عَلَيْهَا رَجْمٌ" فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ:" {وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ} [البقرة: ٢٣٣] وَقَالَ: {وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ} [الأحقاف: ١٥] ثَلَاثُونَ شَهْرًا فَسِتَّةُ أَشْهُرٍ حَمْلُهُ حَوْلَيْنِ تَمَامٌ لَا حَدَّ عَلَيْهَا أَوْ قَالَ: لَا رَجْمَ عَلَيْهَا" قَالَ:" فَخَلَّى عَنْهَا ثُمَّ وَلَدَتْ".
ابوحرب بن ابوالاسود دیلی سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت کو لایا گیا جس نے چھ ماہ کے بعد بچے کو جنم دیا تھا، عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے رجم کرنے کا ارادہ فرمایا، یہ بات علی رضی اللہ عنہ کو پہنچی، انھوں نے فرمایا: اس پر رجم نہیں ہے، یہ بات عمر رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو آپ نے ان کی طرف قاصد کو بھیجا کہ وہ اس سے سوال کرے اور فرمایا: ﴿وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ﴾ [سورة البقرة: 233] ”اور مائیں اپنی اولاد کو دودھ پلائیں مکمل دو سال جو ارادہ کریں رضاعت کو مکمل کرنے کا۔“ اور فرمایا: ﴿وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا﴾ [سورة الأحقاف: 15] ”اور حمل اور دودھ چھڑوانے کی مدت تیس ماہ ہے۔“ چھ ماہ اس کے حمل کی مدت اور دو سال اس کے دودھ چھڑوانے کی مدت ہے، اس پر حد نہیں ہے یا فرمایا: اس پر رجم نہیں ہے، چنانچہ اس کو عمر رضی اللہ عنہ نے چھوڑ دیا، پھر اس نے بچے کو جنم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15549]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15550
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، نا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي الْقَصَّافِ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" رُفِعَتْ إِلَيْهِ امْرَأَةٌ فَذَكَرَهُ كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ عُمَرُ وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنِ الْحَسَنِ مُرْسَلًا.
ایضاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15550]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15551
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، نا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٧٢٧⦘ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أُتِيَ بِامْرَأَةٍ قَدْ وَلَدَتْ فِي سِتَّةِ أَشْهُرٍ فَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُرْجَمَ" فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" لَيْسَ ذَلِكَ عَلَيْهَا قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا} [الأحقاف: ١٥] وَقَالَ: {وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ} [لقمان: ١٤] وَقَالَ: {وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ} [البقرة: ٢٣٣] فَالرَّضَاعَةُ أَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ شَهْرًا وَالْحَمْلُ سِتَّةُ أَشْهُرٍ" فَأَمَرَ بِهَا عُثْمَانُ" أَنْ تُرَدَّ فَوُجِدَتْ قَدْ رُجِمَتْ" وَاللهُ أَعْلَمُ.
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کو حدیث پہنچی کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت کو لایا گیا، اس نے چھ ماہ میں بچے کو جنم دیا تھا، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا تو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس پر رجم نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا﴾ [سورة الأحقاف: 15] ”اور حمل اور اس کے دودھ چھڑوانے کی مدت تیس ماہ ہے۔“ اور فرمایا: ﴿وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ﴾ [سورة لقمان: 14] ”اور اس کے دودھ چھڑوانے کی مدت دو سال ہے“ اور فرمایا: ﴿وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ﴾ [سورة البقرة: 233] ”مدتِ رضاعت چوبیس ماہ ہے اور مدتِ حمل چھ ماہ ہے۔“ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں حکم دیا، اسے لوٹایا گیا تو پایا گیا کہ اسے رجم کر دیا گیا تھا، اور اللہ ہی بہتر جاننے والا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15551]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف