🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3180. -- باب: من قال بتخيير المفقود إذا قدم بينها وبين الصداق ومن أنكره
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جو لاپتہ شخص کی واپسی پر اسے بیوی اور مہر (واپس لینے) کے درمیان اختیار دینے کے قائل ہیں، اور جنہوں نے اس امر کا انکار کیا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15572
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ قَالَ: أَدْرَكْتُ النَّاسَ وَهُمْ يُنْكِرُونَ الَّذِي قَالَ بَعْضُ النَّاسِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: يُخَيَّرُ زَوْجُهَا إِذَا جَاءَ وَقَدْ نُكِحَتْ فِي صَدَاقِهَا وَفِي الْمَرْأَةِ قَالَ مَالِكٌ: إِذَا تَزَوَّجَتْ بَعْدَ انْقِضَاءِ الْعِدَّةِ فَإِنْ دَخَلَ بِهَا أَوْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَلَا سَبِيلَ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ إِلَيْهَا. وَذَلِكَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا، قَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللهُ: إِنْ جَاءَ زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا.
مالک رحمہ اللہ نے ہمیں حدیث بیان کی، فرمایا: میں لوگوں کو پاتا ہوں کہ وہ اس کا انکار کرتے ہیں جو بعض لوگوں نے عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہا ہے کہ انہوں نے کہا: ”اس کے خاوند کو اختیار دیا جائے گا جب وہ آ جائے۔“ اگر وہ نکاح کر چکی تو اسے حق مہر میں اور عورت میں اختیار دیا جائے۔ مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب وہ اپنی عدت کے ختم ہونے کے بعد شادی کرے، اگرچہ اس نے اس کے ساتھ دخول کیا ہے یا نہیں کیا، اس کے پہلے خاوند کے لیے اس کی طرف کوئی راستہ نہیں ہے اور یہی مسئلہ ہمارے لیے بھی ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر اس کا خاوند اس کی عدت کے ختم ہونے سے پہلے آ جائے تو وہی اس کا حق دار ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15572]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15573
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنَا الرَّبِيعُ قَالَ: قُلْتُ لِلشَّافِعِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَإِنَّ صَاحِبَنَا قَالَ: أَدْرَكْتُ مَنْ يُنْكِرُ مَا قَالَ بَعْضُ النَّاسِ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَقَدْ رَأَيْنَا مَنْ يُنْكِرُ قَضِيَّةَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كُلَّهَا فِي الْمَفْقُودِ وَيَقُولُ: هَذَا لَا يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ مِنْ قَضَاءِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَهَلْ كَانَتِ الْحُجَّةُ عَلَيْهِ إِلَّا أَنَّ الثِّقَاتِ إِذَا حَمَلُوا ذَلِكَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمْ يُتَّهَمُوا فَكَذَلِكَ الْحُجَّةُ عَلَيْكَ وَكَيْفَ جَازَ أَنْ يَرْوِيَ الثِّقَاتُ عَنْ عُمَرَ حَدِيثًا وَاحِدًا فَنَأْخُذُ بِِبَعْضِهِ وَنَدَعُ بَعْضًا.
ہمیں ربیع رحمہ اللہ نے خبر دی، میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے کہا: ہمارے ساتھی نے کہا ہے: میں ان لوگوں کو پاتا ہوں جو انکار کرتے ہیں اس کا جو بعض لوگوں نے عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم نے دیکھا ہے جو عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلے کا انکار کرتا ہے ان تمام کا جو گم شدہ خاوند کی عورت کے بارے میں ہیں اور وہ کہتا ہے: یہ اس کے مشابہ نہیں ہے کہ وہ عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلے میں سے ہو۔ ثقہ راویوں نے جب اس کو عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہو، پھر ان پر تہمت نہیں لگائی جائے گی۔ اسی طرح حجت آپ پر ہوگی اور یہ کیسے جائز ہے کہ ثقہ راوی عمر رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث روایت کریں اور ہم اس کے بعض کو لیں اور بعض کو چھوڑ دیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15573]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15574
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، ثنا الشَّافِعِيُّ، أنا الثَّقَفِيُّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، أَوْ قَالَ: أَظُنُّهُ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ:" لَوْلَا أَنَّ عُمَرَ ⦗٧٣٤⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَيَّرَ الْمَفْقُودَ بَيْنَ امْرَأَتِهِ وَالصَّدَاقِ لَرَأَيْتُ أَنَّهُ أَحَقُّ بِهَا إِذَا جَاءَ" قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي امْرَأَةِ الْمَفْقُودِ امْرَأَةٌ ابْتُلِيَتْ فَلْتَصْبِرْ لَا تَنْكِحُ حَتَّى يَأْتِيَهَا يَقِينُ مَوْتِهِ قَالَ: وَبِهَذَا نَقُولُ قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَى قَتَادَةُ عَنْ خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو وعَنْ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: إِذَا جَاءَ الْأَوَّلُ خُيِّرَ بَيْنَ الصَّدَاقِ الْأَخِيرِ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ، وَرِوَايَةُ خِلَاسٍ عَنْ عَلِيٍّ ضَعِيفَةٌ وَأَبُو الْمَلِيحِ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
شعبی، مسروق سے روایت کرتے ہیں یا فرمایا: میں گمان کرتا ہوں کہ مسروق سے روایت ہے کہ اگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے گم شدہ خاوند کو اس کی بیوی اور حق مہر کے درمیان اختیار نہ دیا ہوتا، تو میں سمجھتا کہ وہ اس کا زیادہ حق دار ہوتا جب وہ آجاتا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ گم شدہ خاوند کی بیوی ایسی عورت ہے جس کی آزمائش کی گئی ہے، وہ صبر کرے اور نکاح نہ کرے یہاں تک کہ اس کی موت کی یقینی خبر آجائے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہی ہم کہتے ہیں۔
امام بیہقی رحمہ اللہ نے فرمایا: اور اسے قتادہ نے خلاس بن عمرو سے، ابوملیح سے اور انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ جب اس کا پہلا خاوند آجائے تو اسے دوسرے حق مہر اور اس کی بیوی کے درمیان اختیار دیا جائے گا۔
اور خلاس کی روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ضعیف ہے اور ابوملیح نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15574]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15575
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ الصَّيْدَلَانِيُّ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: قَالَ أَبُو نَصْرٍ، يَعْنِي عَبْدَ الْوَهَّابِ بْنَ عَطَاءٍ: سَأَلْتُ سَعِيدًا عَنِ الْمَفْقُودِ، فَأَخْبَرَنَا عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ أَنَّهُ قَالَ: بَعَثَنِي الْحَكَمُ بْنُ أَيُّوبَ إِلَى سُهَيْمَةَ بِنْتِ عُمَيْرٍ الشَّيْبَانِيَّةِ أَسْأَلُهَا، فَحَدَّثَتْنِي أَنَّ زَوْجَهَا صَيْفِيَّ بْنَ قَتِيلٍ نُعِيَ لها مِنْ قَنْدَايِلَ فَتَزَوَّجَتْ بَعْدَهُ الْعَبَّاسَ بْنَ طَرِيفٍ الْقَيْسِيَّ ثُمَّ إِنَّ زَوْجَهَا الْأَوَّلَ قَدِمَ فَأَتَيْنَا عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ مَحْصُورٌ فَأَشْرَفَ عَلَيْنَا فَقَالَ: كَيْفَ أَقْضِي بَيْنَكُمْ وَأَنَا عَلَى هَذِهِ الْحَالِ؟ فَقُلْنَا: قَدْ رَضِينَا بِقَوْلِكَ فَقَضَى" أَنْ يُخَيَّرَ الزَّوْجُ الْأَوَّلُ بَيْنَ الصَّدَاقِ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ" ثُمَّ قُتِلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَتَيْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَضَى بِمَا قَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" خُيِّرَ الزَّوْجُ الْأَوَّلُ بَيْنَ امْرَأَتِهِ وَبَيْنَ الصَّدَاقِ فَاخْتَارَ الصَّدَاقَ فَأَخَذَ مِنِّي أَلْفَيْنِ وَمِنْ زَوْجِي أَلْفَيْنِ وَهُوَ صَدَاقُهُ الَّذِي كَانَ جَعَلَ لِلْمَرْأَةِ" قَالَ: وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ قَدْ تَزَوَّجَتْ مِنْ بَعْدِهِ وَوَلَدَتْ لِزَوْجِهَا أَوْلَادًا فَرَدَّهَا عَلَيْهِ وَوَلَدَهَا وَجَعَلَ لِأَبِيهِمْ أَنْ يَفْتَكَّهُمْ قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ: قَالَ سَعِيدٌ: وَنا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ أَيُّوبَ قَالَ: قَالَ جَعَلَ أَوْلَادَهَا لِأَبِيهِمْ قَالَ: وَكَانَ قَتَادَةُ يَقُولُ: يَأْخُذُ الصَّدَاقَ الْآخَرَ وَعَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ قَالَ: يَأْخُذُ الصَّدَاقَ الْأَوَّلَ هَذِهِ الْمَرْأَةُ لَمْ تَعْرِفْ بِمَا تُثْبِتُ بِهِ رِوَايَتَهَا هَذِهِ وَإِنْ ثَبَتَتْ تُضَعِّفْ رِوَايَةَ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُرْسَلَةً فِي الْمَفْقُودِ فَإِنَّ هَذِهِ الرِّوَايَةَ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ فِي امْرَأَةٍ نُعِيَ لَهَا زَوْجُهَا، وَالْمَشْهُورُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَا قَدَّمْنَا ذِكْرُهُ وَاللهُ أَعْلَمُ.
یحییٰ بن ابو طالب نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ ابو نصر عبدالوہاب بن عطاء نے کہا: میں نے سعید سے گم شدہ خاوند کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے ہمیں قتادہ سے خبر دی کہ ابو الملیح ہذلی نے کہا: مجھے حکم بن ایوب نے سہیمہ بنت عمیر شیبانیہ کی طرف بھیجا کہ میں اس سے سوال کروں، اس نے مجھے حدیث بیان کی کہ اس کے خاوند صیفی بن قتیل کے فوت ہونے کی خبر قندابیل سے اسے دی گئی۔ اس کے بعد اس نے عباس بن طریف قیسی سے شادی کر لی، پھر اس کا پہلا خاوند بھی آ گیا۔ ہم عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور وہ محصور تھے۔ انہوں نے ہم پر جھانکا اور فرمایا: میں تمہارے درمیان کیسے فیصلہ کروں جبکہ میں اس حال میں ہوں؟ ہم نے کہا: ہم آپ کے فرمان پر راضی ہیں۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ پہلے خاوند کو حقِ مہر اور اس کی بیوی کے درمیان اختیار دیا جائے گا۔ پھر عثمان رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے تو ہم علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہوں نے بھی وہی فیصلہ کیا جو عثمان رضی اللہ عنہ نے کیا تھا۔ اس نے کہا: پہلے خاوند کو اس کی بیوی اور حقِ مہر کے درمیان اختیار دیا گیا تو اس نے حقِ مہر کو اختیار کیا۔ اس نے مجھ سے دو ہزار لیے اور میرے خاوند سے بھی دو ہزار لیے اور یہ اس کا وہی حقِ مہر تھا جو اس نے عورت کے لیے مقرر کیا تھا۔ فرماتے ہیں: اس (پہلے خاوند) کی ایک امِ ولد بھی تھی جس نے اس کے بعد شادی کر لی تھی اور اپنے خاوند کے لیے اولاد کو جنم دیا تھا، تو انہوں نے اسے اور اس کی اولاد کو اس کی طرف لوٹا دیا اور ان کے باپ کو یہ حق دیا کہ وہ انہیں فدیہ دے کر چھڑا لے۔ عبدالوہاب نے فرمایا: سعید نے کہا: ہمیں ایوب نے ابو الملیح سے اسی حدیث کی طرح حدیث بیان کی، البتہ ایوب نے کہا: انہوں نے اس کی اولاد کو ان کے باپ کے لیے قرار دیا۔ فرمایا: قتادہ فرماتے تھے: وہ دوسرے کا حقِ مہر لے، اور قتادہ کی حسن سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: وہ پہلے کا حقِ مہر لے۔
اس عورت کی کوئی ایسی پہچان نہیں جس سے اس کی یہ روایت ثابت ہو، اور اگر یہ ثابت ہو جائے تو یہ گم شدہ خاوند کے بارے میں ابو الملیح کی علی رضی اللہ عنہ سے مرسل روایت کو کمزور کر دیتی ہے، کیونکہ اس روایت میں ہے کہ یہ معاملہ ایسی عورت کا تھا جسے اس کے خاوند کی موت کی خبر دی گئی تھی، اور علی رضی اللہ عنہ سے مشہور وہی ہے جو ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں، اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15575]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3181. -- باب: استبراء أم الولد
-- باب: ام ولد (وہ لونڈی جس سے مالک کا بچہ پیدا ہوا ہو) کے استبراءِ رحم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15576
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ⦗٧٣٥⦘ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ فِي أُمِّ الْوَلَدِ يُتَوَفَّى عَنْهَا سَيِّدُهَا" تَعْتَدُّ بِحَيْضَةٍ".
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ام ولد کے بارے میں فرمایا: اس کا مالک فوت ہو گیا ہے، وہ ایک حیض عدت گزارے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15576]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15577
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، نا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ بِحَيْضَةٍ".
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ام ولد (وہ لونڈی جو بچے کی ماں ہو) کی عدت ایک حیض ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15577]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15578
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يَقُولُ:" إِنَّ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ فَرَّقَ بَيْنَ رِجَالٍ وَنِسَائِهِمْ كُنَّ أُمَّهَاتِ أَوْلَادِ رِجَالٍ هَلَكُوا فَتَزَوَّجُوهُنَّ بَعْدَ حَيْضَةٍ وَحَيْضَتَيْنِ فَفَرَّقَ بَيْنَهُمْ حَتَّى يَعْتَدِدْنَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا"، قَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ:" سُبْحَانَ اللهِ يَقُولُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي كِتَابِهِ: {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا} [البقرة: ٢٣٤] مَا هُنَّ لَهُمْ بِأَزْوَاجٍ".
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ میں نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے سنا کہ یزید بن عبدالملک نے مردوں اور ان کی بیویوں کے درمیان فرق کیا ہے۔ آدمیوں کی اولاد کی مائیں تھیں وہ ہلاک ہوگئے تو انہوں نے ایک حیض یا دو حیض کے بعد شادی کرلی۔ ان کے درمیان تفریق کردی یہاں تک کہ وہ چار ماہ اور دس دن عدت گزاریں۔
قاسم بن محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ، اللہ پاک ہے“، اللہ اپنی کتاب میں فرماتا ہے: ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا﴾ [سورة البقرة: 234] ”اور وہ لوگ جو تم میں سے فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں۔“ ان کے لیے شوہر نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15578]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15579
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْبَغْدَادِيُّ الرَّفَّاءُ، نا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، نا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، نا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، نا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ كَانُوا يَقُولُونَ" عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ يُعْتِقُهَا سَيِّدُهَا أَوْ يُتَوَفَّى عَنْهَا حَيْضَةٌ".
اہلِ مدینہ کے فقہا فرماتے ہیں: امِ ولد کی عدت ایک حیض ہے، اس کا مالک فوت ہو جائے یا وہ اسے آزاد کر دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15579]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15580
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، نا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، نا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، ح قَالَ: وَنا يُوسُفُ قَالَ: وَنا أَبُو الْخَطَّابِ، نا أَبُو بَحْرٍ الْبَكْرَاوِيُّ، نا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، ح قَالَ: وَنا مَطَرٌ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" لَا تُلْبِسُوا عَلَيْنَا سُنَّةَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عِدَّتُهَا عِدَّةُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا" وَفِي رِوَايَةِ يَزِيدَ عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، ⦗٧٣٦⦘ وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَ: قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ: قَبِيصَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَمْرٍو وَالصَّوَابُ لَا تُلْبِسُوا عَلَيْنَا دِينَنَا مَوْقُوفٌ.
عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تم ہمارے اوپر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو خلط ملط نہ کرو۔ ام ولد کی عدت اس عورت کی عدت کی طرح چار ماہ اور دس دن ہے جس کا خاوند فوت ہو جائے اور یزید کی روایت میں ہے: ام ولد کی عدت چار ماہ اور دس دن ہے۔
ابوبکر بن حارث فقیہ فرماتے ہیں کہ ابو الحسن دارقطنی حافظ نے کہا: قبیصہ نے عمرو سے نہیں سنا اور درست یہ ہے کہ تم ہمارے اوپر ہمارے دین کو خلط ملط نہ کرو۔ (یہ موقوف ہے) [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15580]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15581
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ قَالَا: نا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، نا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ:" عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ عِدَّةُ الْحُرَّةِ" قَالَ أَبِي: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ.
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام ولد کی عدت آزاد عورت کی عدت کی طرح ہے، میرے والد نے کہا: یہ حدیث منکر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15581]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں