السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3170. -- باب: كيف الإحداد
-- باب: سوگ کیسے منایا جائے اس کے طریقے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15532
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ، نا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، نا حَمَّادٌ، نا أَيُّوبُ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" كُنَّا نُنْهَى أَنْ نُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَلَا نَكْتَحِلُ وَلَا نَتَطَيَّبُ وَلَا نَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصَبٍ وَقَدْ رَخَّصَ فِي طُهْرِهَا إِذَا اغْتَسَلَتْ إِحْدَانَا مِنْ مَحِيضِهَا فِي نُبْذَةٍ مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ الْحَجَبِيِّ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ.
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”ہمیں منع کیا جاتا کہ ہم کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کریں مگر خاوند پر چار ماہ اور دس دن سوگ کریں، اور ہم نہ سرمہ لگائیں اور نہ خوشبو لگائیں اور نہ ہی رنگ دار کپڑے پہنیں سوائے عصب کے کپڑے کے مگر اس کے طہر میں رخصت ہے جب اپنے حیض سے غسل کرے تو تھوڑی سی قسط یا اظفار (خوشبودار بخور) استعمال کرے“۔
اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15532]
اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15532]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15533
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ح وَنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، حَدَّثَنِي بُدَيْلُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" الْمُتَوَفَّى عَنْهَا لَا تَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ مِنَ الثِّيَابِ وَلَا الْمُمَشَّقَةَ وَلَا الْحُلِيَّ وَلَا تَخْتَضِبُ وَلَا تَكْتَحِلُ" لَفْظُ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ وَزَادَ الصَّغَانِيُّ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ: وَحَدَّثَنِي بُدَيْلُ بْنُ مَيْسَرَةَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ مُسْلِمٍ قَالَ:" لَمْ أَرَهُمْ يَرَوْنَ بِالصَّبْرِ بَأْسًا".
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ عورت جس کا خاوند فوت ہو جائے، وہ زرد رنگ کے کپڑے نہ پہنے اور نہ ہی گیرو سے رنگے ہوئے کپڑے پہنے، نہ زیور پہنے اور نہ ہی خضاب لگائے اور نہ سرمہ لگائے۔“
یہ ابراہیم بن حارث کی حدیث کے الفاظ ہیں اور صنعانی نے اپنی روایت میں کچھ الفاظ زیادہ کیے ہیں کہ مجھے بدیل بن میسرۃ نے حدیث بیان کی کہ حسن بن مسلم فرماتے ہیں: میں نہیں سمجھتا کہ وہ «صَبِر» بوٹی کے لگانے میں کوئی حرج محسوس کرتے ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15533]
یہ ابراہیم بن حارث کی حدیث کے الفاظ ہیں اور صنعانی نے اپنی روایت میں کچھ الفاظ زیادہ کیے ہیں کہ مجھے بدیل بن میسرۃ نے حدیث بیان کی کہ حسن بن مسلم فرماتے ہیں: میں نہیں سمجھتا کہ وہ «صَبِر» بوٹی کے لگانے میں کوئی حرج محسوس کرتے ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15533]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15534
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، أنا إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ بُدَيْلٍ الْعُقَيْلِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، ⦗٧٢٤⦘ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" لَا تَلْبَسُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا مِنَ الثِّيَابِ الْمُصَبَّغَةِ شَيْئًا وَلَا تَكْتَحِلُ وَلَا تَزَيَّنُ وَلَا تَلْبَسُ حُلِيًّا وَلَا تَخْتَضِبُ وَلَا تُطَيِّبُ" وَهَذَا مَوْقُوفٌ.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”جس عورت کا خاوند فوت ہو جائے، وہ رنگ دار کپڑوں میں سے کوئی بھی نہ پہنے اور نہ ہی وہ سرمہ لگائے اور نہ ہی خوبصورتی اختیار کرے اور نہ وہ زیور پہنے اور نہ وہ خضاب لگائے اور نہ ہی خوشبو لگائے۔“
یہ روایت موقوف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15534]
یہ روایت موقوف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15534]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15535
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، نا نُمَيْرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:" الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا لَا تَكْتَحِلُ وَلَا تُطَيِّبُ وَلَا تَخْتَضِبُ وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا السُّودَ الْمُعَصَّبَ وَلَا تَبِيتُ غَيْرَ بَيْتِهَا وَلَكِنْ تَزُورُ بِالنَّهَارِ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ: ”جس عورت کا خاوند فوت ہو جائے وہ نہ سرمہ لگائے، نہ خوشبو لگائے، نہ خضاب لگائے، نہ رنگے ہوئے کپڑے پہنے مگر سیاہ کپڑے پہنے اور کسی دوسرے کے گھر میں رات نہ گزارے، لیکن زیارت دن میں کر سکتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15535]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
3171. -- باب: المعتدة تضطر إلى الكحل
-- باب: عدت گزارنے والی عورت کا مجبوری کے تحت سرمہ استعمال کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15536
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لِامْرَأَةٍ حَادٍّ عَلَى زَوْجِهَا اشْتَكَتْ عَيْنَيْهَا فَبَلَغَ ذَلِكَ مِنْهَا:" اكْتَحِلِي بِكُحْلِ الْجَلَاءِ بِاللَّيْلِ وَامْسَحِيهِ بِالنَّهَارِ".
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہیں یہ بات پہنچی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند پر سوگ گزارنے والی ایک عورت سے، جس کی آنکھیں خراب ہو گئی تھیں اور تکلیف بہت بڑھ گئی تھی، فرمایا: ”تم «كُحْلَ الْجِلَاءِ» ”جلاء سرمہ“ کے ساتھ رات کو سرمہ لگاؤ اور دن کے وقت اسے صاف کر دیا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15536]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15537
وَبِالْإِسْنَادِ نا مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَهِيَ حَادٌّ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ وَقَدْ جَعَلَتْ عَلَى عَيْنَيْهَا صَبْرًا فَقَالَ:" مَا هَذَا يَا أُمَّ سَلَمَةَ؟" فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا هُوَ صَبْرٌ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْعَلِيهِ بِاللَّيْلِ وَامْسَحِيهِ بِالنَّهَارِ" وَهَذَانِ مُنْقَطِعَانِ وَقَدْ رُوِيَا بِإِسْنَادٍ مَوْصُولٍ.
مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس داخل ہوئے اور وہ ابو سلمہ رضی اللہ عنہ پر سوگ کرنے والی تھیں۔ انہوں نے اپنی آنکھوں پر (صبر بوٹی) لگائی ہوئی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام سلمہ! یہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! صبر بوٹی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس کو رات کے وقت لگا اور دن کے وقت اس کو صاف کر دے۔“
یہ دونوں روایتیں منقطع ہیں، اور یہ موصول سند سے بھی روایت کی گئی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15537]
یہ دونوں روایتیں منقطع ہیں، اور یہ موصول سند سے بھی روایت کی گئی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15537]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15538
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، نا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ الضَّحَّاكِ يَقُولُ: أَخْبَرَتْنِي أُمُّ حَكِيمٍ بِنْتُ أَسِيدٍ، عَنْ أُمِّهَا أَنَّ زَوْجَهَا تُوُفِّيَ وَكَانَتْ تَشْتَكِي عَيْنَهَا فَتَكْتَحِلُ بِكُحْلِ الْجَلَاءِ قَالَ أَحْمَدُ:" الصَّوَابُ بِكُحْلِ الْجَلَاءِ" فَأَرْسَلَتْ مَوْلَاةً لَهَا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَتْهَا عَنْ كُحْلِ الْجَلَاءِ فَقَالَتْ:" لَا تَكْتَحِلُ بِهِ إِلَّا مِنْ أَمْرٍ لَا بُدَّ مِنْهُ يَشْتَدُّ عَلَيْكِ فَتَكْتَحِلِينَ بِاللَّيْلِ وَتَمْسَحِينَهُ بِالنَّهَارِ"، ثُمَّ قَالَتْ عِنْدَ ذَلِكَ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ ⦗٧٢٥⦘ تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ وَقَدْ جَعَلْتُ عَلَى عَيْنِي صَبْرًا فَقَالَ:" مَا هَذَا يَا أُمَّ سَلَمَةَ؟" فَقُلْتُ: إِنَّمَا هُوَ الصَّبْرُ يَا رَسُولَ اللهِ لَيْسَ فِيهِ طِيبٌ، قَالَ:" إِنَّهُ يَشُبُّ الْوَجْهَ فَلَا تَجْعَلِيهِ إِلَّا بِاللَّيْلِ وَتَنْزَعِينَهُ بِالنَّهَارِ وَلَا تَمْتَشِطِي بِالطِّيبِ وَلَا بِالْحِنَّاءِ فَإِنَّهُ خِضَابٌ" قَالَتْ: قُلْتُ: بِأِيِّ شَيْءٍ أَمْتَشِطُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" بِالسِّدْرِ تُغَلِّفِينَ بِهِ رَأْسَكِ".
مغیرہ بن ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے ام حکیم بنت اسید نے اپنی والدہ سے خبر دی کہ اس کا خاوند فوت ہو گیا اور اس کی آنکھیں خراب ہو گئیں۔ اس نے «كُحْلِ جَلَاءٍ» ”کحل جلاء“ کے ساتھ سرمہ لگایا۔ احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: درست کہ «كُحْلِ جَلَاءٍ» ”کحل جلاء“ ہے۔ اس نے اپنی لونڈی کو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا۔ اس نے «كُحْلِ جَلَاءٍ» کے بارے میں اس سے سوال کیا تو وہ فرمانے لگیں: وہ یہ سرمہ نہ لگائے مگر کسی ایسے معاملے میں جس میں نہایت ضروری ہو، تو رات کو سرمہ لگائے اور دن کو اس کو صاف کر دے۔ پھر فرمایا: میرے پاس اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے جس وقت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے اور میں نے اپنی آنکھوں پر «صَبِرٌ» ”صبر (بوٹی)“ لگائی ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام سلمہ! یہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ تو «صَبِرٌ» ”صبر (بوٹی)“ ہے، اس میں خوشبو نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ چہرے کو چمکاتی ہے، تو اس کو رات کو لگا اور دن کو اتار دے اور تو کنگھی خوشبو کے ساتھ نہ کر اور نہ ہی مہندی لگا، یہ خضاب ہے۔“ فرماتی ہیں: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کس چیز کے ساتھ کنگھی کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیری کے ساتھ کنگھی کر اور اس کے ساتھ اپنے سر کو ڈھانپ لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15538]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3172. -- باب: اجتماع العدتين
-- باب: دو عدتوں کے ایک ساتھ جمع ہو جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15539
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأنا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ طُلَيْحَةَ كَانَتْ تَحْتَ رُشَيْدٍ الثَّقَفِيِّ فَطَلَّقَهَا الْبَتَّةَ فَنَكَحَتْ فِي عِدَّتِهَا فَضَرَبَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَضَرَبَ زَوْجَهَا بِالْمِخْفَقَةِ ضَرَبَاتٍ وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ فِي عِدَّتِهَا فَإِنْ كَانَ زَوْجُهَا الَّذِي تَزَوَّجَ بِهَا لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فُرِّقَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ اعْتَدَّتْ بَقِيَّةَ عِدَّتِهَا مِنْ زَوْجِهَا الْأَوَّلِ وَكَانَ خَاطِبًا مِنَ الْخُطَّابِ فَإِنْ كَانَ دَخَلَ بِهَا فُرِّقَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ اعْتَدَّتْ بَقِيَّةَ عِدَّتِهَا مِنْ زَوْجِهَا الْأَوَّلِ ثُمَّ اعْتَدَّتْ مِنَ الآخَرِ ثُمَّ لَمْ يَنْكِحْهَا أَبَدًا" قَالَ سَعِيدٌ:" وَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْهَا".
سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار رحمہما اللہ سے روایت ہے کہ طلیحہ، رشید ثقفی کے نکاح میں تھی، اس نے اس کو «طَلَاقًا بَتَّةً» دی، اس نے اپنی عدت ہی میں نکاح کر لیا، تو اس کو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مارا اور اس کے خاوند کو کوڑے کے ساتھ کئی ضربیں ماریں اور اس کے اور اس کے خاوند کے درمیان جدائی ڈال دی، پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو بھی عورت اپنی عدت میں نکاح کرے تو اگر اس کا خاوند جس نے اس کے ساتھ شادی کی ہے اس نے اس کے ساتھ دخول نہیں کیا تو ان دونوں کے درمیان جدائی ڈال دی جائے گی، پھر وہ اپنے پہلے خاوند کی بقیہ عدت گزارے گی اور وہ (دوسرا شخص) دیگر پیغام نکاح دینے والوں میں سے ایک پیغام دینے والا ہو گا، اگر اس کے ساتھ اس نے دخول کیا تو ان کے درمیان تفریق کر دی جائے گی، پھر وہ اپنے پہلے خاوند کی بقیہ عدت گزارے گی، پھر دوسرے خاوند کی عدت گزارے گی، پھر وہ اس سے کبھی بھی نکاح نہیں کر سکے گی۔“
سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس کے لیے اس کا مہر ہو گا کیونکہ اس نے اس کی شرمگاہ کو حلال کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15539]
سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس کے لیے اس کا مہر ہو گا کیونکہ اس نے اس کی شرمگاہ کو حلال کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15539]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 15540
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَضَى" فِي الَّتِي تَزَوَّجُ فِي عِدَّتِهَا أَنَّهُ يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا وَلَهَا الصَّدَاقُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا وَتُكْمِلُ مَا أَفْسَدَتْ مِنْ عِدَّةِ الْأَوَّلِ وَتَعْتَدُّ مِنَ الآخَرِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس عورت کے بارے میں جس نے اپنی عدت کے دوران شادی کر لی، فیصلہ فرمایا کہ ان دونوں کے درمیان تفریق کر دی جائے گی اور اس کے لیے حق مہر ہو گا؛ کیونکہ اس کی شرمگاہ کو حلال سمجھا گیا اور وہ اپنی عدت مکمل کرے گی، پھر دوسری عدت بھی گزارے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15540]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 15541
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، نا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الدَّارَابَجِرْدِيُّ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الَّتِي تَزَوَّجُ فِي عِدَّتِهَا قَالَ:" تُكْمِلُ بَقِيَّةَ عِدَّتِهَا مِنَ الْأَوَّلِ ثُمَّ تَعْتَدُّ مِنَ الْآخَرِ عِدَّةً جَدِيدَةً" وَاللهُ أَعْلَمُ.
علی رضی اللہ عنہ نے اس عورت کے بارے میں جس نے اپنی عدت میں شادی کر لی، فرمایا: وہ پہلی بقیہ عدت کو مکمل کرے، پھر نئی عدت دوسرے خاوند سے جو ہے اس کو گزارے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15541]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره