السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3164. -- باب: مقام المطلقة في بيتها
-- باب: طلاق یافتہ عورت کے اپنے ہی گھر میں قیام پذیر رہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15482
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ أنا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْعِرَاقِيُّ ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ فَقَالَ: إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي ثَلَاثًا وَهِيَ تُرِيدُ أَنْ تَخْرُجَ قَالَ:" احْبِسْهَا" قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ قَالَ:" فَقَيِّدْهَا" فَقَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ إِنَّ لَهَا إِخْوَةً غَلِيظَةٌ رِقَابُهُمْ، قَالَ:" اسْتَعْدِ عَلَيْهِمُ الْأَمِيرَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا، اس نے کہا: میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں اور وہ چاہتی ہے کہ نکل جائے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کو روک۔ اس نے کہا: میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کو قید کر دو۔ اس نے کہا: میں اس کی طاقت بھی نہیں رکھتا، اس کے بھائی ہیں، ان کی موٹی موٹی گردنیں ہیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: تو امیر سے ان کے خلاف اس کو لوٹانے کی درخواست کر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15482]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15483
وَبِإِسْنَادِهِ ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَشْعَثُ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا تَرَى فِي امْرَأَةٍ طُلِّقَتْ ثُمَّ أَصْبَحَتْ غَادِيَةً إِلَى أَهْلِهَا؟ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ:" وَاللهِ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي دِينَهَا بِتَمْرَةٍ".
حارث بن سوید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! آپ کا اس عورت کے بارے میں کیا خیال ہے جسے طلاق دی گئی، پھر اس نے اپنے اہل کی طرف صبح کی؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں یہ پسند نہیں کرتا کہ ایک کھجور کے عوض اس کا دین میرا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15483]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3165. -- باب: ما جاء في قول الله عز وجل: إلا أن يأتين بفاحشة مبينة وأن لها الخروج في الموضع الذي استثنى الله تعالى من أن تأتي بفاحشة مبينة وفي العذر
-- باب: اللہ عزوجل کے فرمان ”سوائے اس کے کہ وہ کھلی بے حیائی کا ارتکاب کریں“ کے متعلق وارد شدہ روایات، اور اس امر کا بیان کہ جس صورت کو اللہ تعالیٰ نے مستثنیٰ کیا ہے یعنی کھلی بے حیائی کے ارتکاب اور شرعی عذر کی بنا پر عورت کے لیے گھر سے نکلنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 15484
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، ح وَأنبأ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ} [النساء: ١٩] قَالَ:" إِنْ تَبْذُو عَلَى أَهْلِهَا فَإِذَا بَذَتْ عَلَيْهِمْ فَقَدْ حَلَّ لَهُمْ إِخْرَاجُهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ﴾ [سورة النساء: 19] کے بارے میں روایت ہے کہ اگر وہ اپنے اہل پر فحش گوئی کرے، جب وہ ان پر فحش گوئی کرے تو ان کے لیے اس کا نکالنا حلال ہو گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15484]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15485
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ ⦗٧٠٩⦘ عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ، {لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ} [الطلاق: ١] فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:" الْفَاحِشَةُ الْمُبَيِّنَةُ أَنْ تَفْحَشَ الْمَرْأَةُ عَلَى أَهْلِ الرَّجُلِ وَتُؤْذِيَهُمْ" قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: سُنَّةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ تَدُلُّ عَلَى أَنَّ مَا تَأَوَّلَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ} [النساء: ١٩] هُوَ الْبَذَاءُ عَلَى أَهْلِ زَوْجِهَا كَمَا تَأَوَّلَ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت ﴿وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ﴾ [سورة الطلاق: 1] کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ﴿بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ﴾ سے مراد یہ ہے کہ عورت آدمی کے اہل کے بارے میں فحش گوئی کرے اور ان کو تکلیف دے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ حدیث فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا میں ہے، وہ اس پر دلالت کرتا ہے جو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ﴾ [سورة النساء: 19] کے بارے میں تاویل کی ہے کہ وہ فحش گوئی ہے خاوند کے گھر والوں پر، جس طرح تاویل کی ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15485]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ حدیث فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا میں ہے، وہ اس پر دلالت کرتا ہے جو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ﴾ [سورة النساء: 19] کے بارے میں تاویل کی ہے کہ وہ فحش گوئی ہے خاوند کے گھر والوں پر، جس طرح تاویل کی ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15485]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 15486
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ، طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ بِالشَّامِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيلَهُ بِشَعِيرٍ فَسَخِطَتْهُ فَقَالَ: وَاللهِ مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ:" لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ"، وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ ثُمَّ قَالَ:" تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي، فَاعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ" ⦗٧١٠⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ.
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابو عمرو بن حفص (رضی اللہ عنہ) نے اسے طلاق بتہ دے دی اور وہ شام میں غائب تھا۔ اس نے اس کی طرف اپنا وکیل جو دے کر بھیجا وہ اس پر سخت ناراض ہوئی۔ وکیل نے کہا: ”اللہ کی قسم! نہیں ہے تیرے لیے ہمارے ذمے کچھ بھی۔“ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس نے یہ تمام ماجرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے اس کے ذمہ خرچہ نہیں ہے۔“ اور اس کو حکم دیا کہ وہ ام شریک (رضی اللہ عنہا) کے گھر عدت گزارے۔ پھر فرمایا: ”یہ ایسی عورت ہے جس کے پاس میرے صحابہ آتے جاتے رہتے ہیں، تو ابن ام مکتوم (رضی اللہ عنہ) کے گھر عدت گزار، وہ نابینا آدمی ہے اور تو اپنے کپڑے بھی اتارے گی۔“
اس حدیث کو امام مسلم رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15486]
اس حدیث کو امام مسلم رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15486]
تخریج الحدیث: «صحيح1480»
الحكم على الحديث: صحيح1480
حدیث نمبر: 15487
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثَ تَطْلِيقَاتٍ فَزَعَمَتْ أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خُرُوجِهَا مِنْ بَيْتِهَا" فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى" فَأَبَى مَرْوَانُ أَنْ يُصْدِقَ فَاطِمَةَ فِي خُرُوجِ الْمُطَلَّقَةِ مِنْ بَيْتِهَا، وَقَالَ عُرْوَةُ: إِنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنْكَرَتْ ذَلِكَ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْحُلْوَانِيِّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ يَعْقُوبَ.
ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ نے ان کو خبر دی کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے ان کو خبر دی کہ وہ ابو عمرو بن حفص بن مغیرہ کے پاس تھیں، انہوں نے انہیں تین طلاقوں میں سے آخری طلاق دے دی، انہوں نے گمان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور انہوں نے گھر سے نکلنے کے بارے میں پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا: ”ابنِ امِ مکتوم نابینا کی طرف منتقل ہو جاؤ۔“ مروان نے طلاق شدہ عورت کے گھر سے نکلنے کے بارے میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا اور عروہ نے کہا: عائشہ رضی اللہ عنہا نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا پر اس کا انکار کیا ہے۔
اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15487]
اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15487]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15488
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، نا يَحْيَى هُوَ ابْنُ بُكَيْرٍ نا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ فَزَعَمَتْ أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَفْتَتْهُ فِي خُرُوجِهَا مِنْ بَيْتِهَا" فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى" وَأَبَى مَرْوَانُ أَنْ يُصَدِّقَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ فِي خُرُوجِ الْمُطَلَّقَةِ وَقَالَ عُرْوَةُ: وَأَنْكَرَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ.
ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے، فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے ان کو خبر دی کہ وہ ابو عمرو بن حفص بن مغیرہ کے نکاح میں تھیں، اس نے انہیں تین طلاقوں میں سے آخری طلاق دے دی، انہوں نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے اپنے گھر سے نکلنے کے بارے میں فتویٰ طلب کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ: ”وہ ابن ام مکتوم (رضی اللہ عنہ) کے ہاں منتقل ہو جائیں۔“ اور مروان نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا جو طلاق شدہ کے نکلنے کے بارے میں ہے اور عروہ کہتے ہیں: عائشہ رضی اللہ عنہا نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث پر انکار کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15488]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15489
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ كَيْسَانَ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ح قَالَ: وَأنبأ سُلَيْمَانُ، نا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَيُوسُفُ الْقَاضِي قَالَا: نا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ قَالَا: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ قَالَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَلَا تَرَيْنَ إِلَّا فُلَانَةَ بِنْتَ الْحَكَمِ طُلِّقَتِ الْبَتَّةَ ثُمَّ خَرَجَتْ قَالَتْ:" بِئْسَ مَا صَنَعَتْ قُلْتُ": أَلَا تَرَيْنَ إِلَى قَوْلِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ؟ قَالَتْ:" أَمَا إِنَّهُ لَا خَيْرَ لَهَا فِي ذِكْرِ ذَلِكَ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ.
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ کا فلاں بنتِ حکم کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اسے طلاقِ بتہ دی گئی، پھر وہ نکل گئی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اس نے جو کیا برا کیا، میں نے کہا: کیا آپ فاطمہ بنتِ قیس رضی اللہ عنہا کے قول کی طرف نہیں دیکھتیں؟ انہوں نے فرمایا: اس کے لیے اس کے ذکر میں کوئی خیر نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15489]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15490
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شِيرَوَيْهِ قَالَا: نا أَبُو كُرَيْبٍ، نا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: تَزَوَّجَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ابْنَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَكَمِ وَطَلَّقَهَا فَأَخْرَجَهَا مِنْ عِنْدِهِ فَعَابَ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ عُرْوَةُ فَقَالُوا: إِنَّ فَاطِمَةَ قَدْ خَرَجَتْ قَالَ عُرْوَةُ: فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَأَخْبَرْتُهَا بِذَلِكَ فَقَالَتْ:" مَا لِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ خَيْرٌ فِي أَنْ تَذْكُرَ هَذَا الْحَدِيثَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ.
ہشام رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے والد نے حدیث بیان کی کہ یحییٰ بن سعید بن عاص نے عبدالرحمن بن الحکم کی بیٹی سے شادی کی، پھر اسے طلاق دے دی اور اس کو اپنے پاس سے نکال دیا، اس پر اس معاملے میں عروہ رحمہ اللہ نے عیب لگایا، انہوں نے کہا: فاطمہ تحقیق نکل گئی تھی، عروہ رحمہ اللہ نے کہا: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، میں نے ان کو اس کی خبر دی تو انہوں نے کہا: فاطمہ بنت قیس کے لیے کوئی خیر نہیں کہ وہ اس حدیث کا ذکر کرے۔
اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15490]
اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15490]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15491
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ أنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُمَا يَذْكُرَانِ أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ طَلَّقَ ابْنَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَكَمِ الْبَتَّةَ فَانْتَقَلَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَكَمِ فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ فَقَالَتْ:" اتَّقِ اللهَ يَا مَرْوَانُ فَارْدُدِ الْمَرْأَةَ إِلَى بَيْتِهَا" فَقَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ: إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ غَلَبَنِي وَقَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ الْقَاسِمِ: أَوْ مَا بَلَغَكِ شَأْنُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا:" لَا عَلَيْكَ أَنْ لَا تَذْكُرَ فِي شَأْنِ فَاطِمَةَ"، فَقَالَ: إِنْ كَانَ إِنَّمَا بِكِ الشَّرُّ فَحَسْبُكِ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ مِنَ الشَّرِّ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ عَنْ مَالِكٍ.
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے، وہ قاسم اور سلیمان بن یسار سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ان دونوں کو یہ ذکر کرتے ہوئے سنا کہ یحییٰ بن سعید بن عاص نے عبدالرحمن بن حکم کی بیٹی کو «طَلَاقَ الْبَتَّةِ» ”قطعی طلاق“ دے دی ہے اور عبدالرحمن بن حکم نے اسے (اپنے گھر) منتقل کر لیا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مروان بن حکم کے پاس پہنچیں اور وہ مدینہ کا امیر تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے مروان! اللہ سے ڈر اور اس عورت کو واپس لوٹا دے۔ مروان نے سلیمان کی حدیث کے حوالے سے کہا کہ عبدالرحمن نے مجھ پر غلبہ پا لیا ہے اور قاسم کی حدیث کے حوالے سے کہا: کیا آپ کو فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے معاملے کی خبر نہیں ہوئی؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تیرے لیے کوئی حرج نہیں کہ تو فاطمہ بنت قیس کا معاملہ ذکر نہ کرے۔ مروان نے کہا: اگر اس میں تیرے لیے کوئی شر ہو تو تجھے ان کے درمیان وہی شر کافی ہے۔
اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15491]
اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15491]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح