السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3338. -- باب: أصل القسامة والبداية فيها مع اللوث بأيمان المدعي
-- باب: قسامہ کی اصل کا بیان، اور لوث (قتل کے ظاہری قرائن) کی موجودگی میں مدعی کی قسموں سے آغاز کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 16430
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، حَدَّثَنِي أَبُو لَيْلَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ رِجَالٌ، مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ، وَفِي رِوَايَةِ الشَّافِعِيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ هُوَ وَرِجَالٌ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَهْلٍ، وَمُحَيِّصَةَ، خَرَجَا خَيْبَرَ مِنْ جَهْدٍ أَصَابَهُمَا فَتَفَرَّقَا فِي حَوَائِجِهِمَا، فَأَتَى مُحَيِّصَةُ فَأُخْبِرَ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَهْلٍ قَدْ قُتِلَ وَطُرِحَ فِي فَقِيرٍ أَوْ عَيْنٍ، فَأَتَى يَهُودَ فَقَالَ: أَنْتُمْ وَاللهِ قَتَلْتُمُوهُ، فَقَالُوا: وَاللهِ مَا قَتَلْنَاهُ، فَأَقْبَلَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُمْ، فَأَقْبَلَ هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ، وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْهُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ أَخُو الْمَقْتُولِ، فَذَهَبَ مُحَيِّصَةُ يَتَكَلَّمُ، وَهُوَ الَّذِي كَانَ بِخَيْبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُحَيِّصَةَ:" كَبِّرْ كَبِّرْ" يُرِيدُ السِّنَّ، فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ، ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَكُمْ، وَإِمَّا أَنْ يُؤْذَنُوا بِحَرْبٍ" فَكَتَبَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ فَكَتَبُوا: إِنَّا وَاللهِ مَا قَتَلْنَاهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُوَيِّصَةَ وَمُحَيِّصَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ:" تَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ؟" قَالُوا: لَا، قَالَ:" فَتَحْلِفُ يَهُودُ؟" قَالُوا: لَا، لَيْسُوا بِمُسْلِمِينَ قَالَ: فَوَدَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ بِمِائَةِ نَاقَةٍ حَتَّى أُدْخِلَتْ عَلَيْهِمُ الدَّارَ، فَقَالَ سَهْلٌ: لَقَدْ رَكَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ حَمْرَاءُ لَفْظُ حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ ⦗٢٠٥⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، وَإِسْمَاعِيلَ، عَنْ مَالِكٍ، وَقَالَ فِي إِسْنَادِهِ كَمَا قَالَ الشَّافِعِيُّ: إِنَّهُ أَخْبَرَهُ هُوَ وَرِجَالٌ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ ابْنُ وَهْبٍ وَمَعْنٌ وَغَيْرُهُمَا، عَنْ مَالِكٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ بِشْرِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ مَالِكٍ، وَقَالَ فِي إِسْنَادِهِ كَمَا قَالَ ابْنُ بُكَيْرٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ.
عبداللہ بن سہل اور محیصہ رضی اللہ عنہما کسی تنگی کی وجہ سے خیبر کی طرف نکلے، کسی وجہ سے دونوں جدا جدا ہو گئے۔ محیصہ رضی اللہ عنہ آئے تو انہیں بتایا گیا کہ عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کو قتل کر کے کنویں یا چشمے میں پھینک دیا گیا ہے، تو وہ یہود کے پاس گئے اور کہا: ”تم نے اسے قتل کیا ہے، «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!““ تو انہوں نے کہا: ” «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!“ ہم نے اسے قتل نہیں کیا۔“ تو وہ اپنی قوم کے پاس آئے اور انہیں سارا واقعہ سنایا، تو وہ، ان کے بڑے بھائی حویصہ اور مقتول کے بھائی عبدالرحمن بن سہل رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، تو محیصہ رضی اللہ عنہ نے بات کرنا چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بڑا بات کرے۔“ تو حویصہ رضی اللہ عنہ نے بات کی۔ پھر محیصہ رضی اللہ عنہ نے بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا تو وہ تمہارے ساتھی کی دیت دیں یا جنگ کے لیے تیار ہو جائیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں انہیں لکھا تو انہوں نے لکھ بھیجا کہ «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!“ ہم نے قتل نہیں کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں کو فرمایا: ”کیا تم قسمیں اٹھاتے ہو اور اپنے ساتھی کے خون کے مستحق بنتے ہو؟“ کہنے لگے: ”نہیں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر یہودی قسمیں اٹھائیں؟“ کہنے لگے: ”وہ مسلمان ہی نہیں ہیں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی طرف سے دیت ادا کی۔ سو اونٹنیاں ان کے گھر میں داخل ہوئیں۔ سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک سرخ اونٹنی نے ان میں سے مجھے لات بھی ماری تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16430]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16431
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَهْلٍ، وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ، خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ فَتَفَرَّقَا لِحَاجَتِهِمَا، فَقُتِلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلٍ، فَانْطَلَقَ هُوَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ أَخُو الْمَقْتُولِ وَحُوَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا لَهُ قَتْلَ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَهْلٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ قَاتِلِكُمْ أَوْ صَاحِبِكُمْ؟" فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ لَمْ نَشْهَدْ وَلَمْ نَحْضُرْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا؟" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ فَزَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَلَهُ مِنْ عِنْدِهِ قَالَ بَشِيرُ بْنُ يَسَارٍ: قَالَ سَهْلٌ: لَقَدْ رَكَضَتْنِي فَرِيضَةٌ مِنْ تِلْكَ الْفَرَائِضِ فِي مِرْبَدٍ لَنَا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُثَنًّى، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ.
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود خیبر کی طرف نکلے اور اپنی ضرورتوں کے لیے جدا جدا ہو گئے تو عبداللہ بن سہل قتل کر دیے گئے۔ تو وہ (محیصہ)، مقتول کے بھائی عبدالرحمن اور حویصہ بن مسعود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عبداللہ بن سہل کے قتل کا ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم پچاس قسمیں اٹھاتے ہو اور اپنے قاتل یا اپنے ساتھی (کے خون) کے مستحق بنتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! نہ ہم نے دیکھا اور نہ ہم موجود تھے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو یہودی پچاس قسمیں اٹھا کر تمہارے دعوے سے بری ہو جائیں؟“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم کافر قوم کی قسمیں کیسے قبول کریں؟“ پھر انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے اس کی دیت ادا کی۔ بشیر بن یسار کہتے ہیں کہ سہل رضی اللہ عنہ نے کہا: ان اونٹنیوں میں سے ایک اونٹنی نے ہمارے باڑے میں مجھے لات ماری تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16431]
حدیث نمبر: 16432
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَا: ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ يَحْيَى: وَحَسِبْتُهُ قَالَ: وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّهُمَا قَالَا: خَرَجَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلِ بْنِ زَيْدٍ وَمُحَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ حَتَّى إِذَا كَانَا بِخَيْبَرَ تَفَرَّقَا فِي بَعْضِ مَا هُنَالِكَ، ثُمَّ إِذَا مُحَيِّصَةُ يَجِدُ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَهْلٍ قَتِيلًا، فَدَفَنَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ وَحُوَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، وَكَانَ أَصْغَرَ الْقَوْمِ، فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لِيَتَكَلَّمَ قَبْلَ صَاحِبَيْهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَبِّرْ" لِلْكُبْرِ فِي السِّنِّ، فَصَمَتَ وَتَكَلَّمَ صَاحِبَاهُ، ثُمَّ تَكَلَّمَ مَعَهُمَا، فَذَكَرُوا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَقْتَلَ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَهْلٍ، فَقَالَ لَهُمْ:" أَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا فَتَسْتَحِقُّونَ صَاحِبَكُمْ أَوْ قَاتِلَكُمْ؟" قَالُوا: وَكَيْفَ نَحْلِفُ وَلَمْ نَشْهَدْ؟ قَالَ:" فَتُبَرِّئُكُمْ الْيَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا؟" قَالُوا: وَكَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ كُفَّارٍ؟ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى عَقْلَهُ ⦗٢٠٦⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ، وَقَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ اللَّيْثُ.
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ اور (یحییٰ کے گمان کے مطابق) سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ دونوں کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل بن زید اور محیصہ بن مسعود بن زید نکلے، جب وہ خیبر میں تھے تو وہاں کسی جگہ جدا جدا ہو گئے، پھر محیصہ نے عبداللہ بن سہل کو مقتول پایا تو انہیں دفن کر دیا، پھر وہ، حویصہ بن مسعود اور عبدالرحمن بن سہل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور عبدالرحمن ان میں سب سے چھوٹے تھے۔ عبدالرحمن اپنے دونوں ساتھیوں سے پہلے بات کرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”بڑے کو (بات کرنے دو)“ یعنی عمر میں بڑے کو۔ تو وہ خاموش ہو گئے اور ان کے دونوں ساتھیوں نے بات کی، پھر انہوں نے بھی ان کے ساتھ بات کی۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عبداللہ بن سہل کے قتل کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا تم پچاس قسمیں اٹھاتے ہو تاکہ اپنے ساتھی یا اپنے قاتل (کے خون) کے مستحق بن جاؤ؟“ انہوں نے کہا: ”ہم کیسے قسم اٹھائیں جبکہ ہم موجود نہیں تھے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو یہودی پچاس قسمیں اٹھا کر تمہارے دعوے سے بری ہو جائیں؟“ انہوں نے کہا: ”ہم کافروں کی قسمیں کیسے قبول کریں؟“ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو اس کی دیت (خود) ادا کر دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16432]
حدیث نمبر: 16433
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ح، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَا: ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ: انْطَلَقَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلٍ، وَمُحَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ إِلَى خَيْبَرَ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ صُلْحٌ، فَتَفَرَّقَا فِي حَوَائِجِهِمَا، فَأَتَى مُحَيِّصَةُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ سَهْلٍ وَهُوَ يَتَشَحَّطُ فِي دَمِهِ قَتِيلًا، فَدَفَنَهُ، ثُمَّ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَانْطَلَقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةُ وَحُوَيِّصَةُ ابْنَا مَسْعُودٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَكَلَّمُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَبِّرِ الْكُبْرَ" وَهُوَ أَحْدَثُ الْقَوْمِ، فَسَكَتَ فَتَكَلَّمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا وَتَسْتَحِقُّونَ قَاتِلَكُمْ أَوْ صَاحِبَكُمْ؟" فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ نَحْلِفُ وَلَمْ نَشْهَدْ وَلَمْ نَرَ؟ قَالَ:" فَتُبَرِّئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ؟" فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ نَأْخُذُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ، قَالَ: فَعَقَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ لَفْظُ حَدِيثِ مُسَدَّدٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ الْقَوَارِيرِيِّ.
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود بن زید خیبر کی طرف گئے، اور ان دنوں وہاں صلح تھی، تو وہ اپنی ضرورتوں کے لیے جدا جدا ہو گئے۔ پھر محیصہ، عبداللہ بن سہل کے پاس پہنچے تو وہ قتل ہو کر اپنے خون میں لت پت تڑپ رہے تھے، تو انہوں نے انہیں دفن کر دیا، پھر مدینہ آئے تو عبدالرحمن بن سہل اور مسعود کے دونوں بیٹے محیصہ اور حویصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے۔ عبدالرحمن بات کرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”بڑے کو بڑائی دو“، کیونکہ وہ ان میں سب سے کم عمر تھے، تو وہ خاموش ہو گئے اور ان دونوں نے بات کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم پچاس قسمیں اٹھاتے ہو اور اپنے قاتل یا اپنے ساتھی (کے خون) کے مستحق بنتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم کیسے قسم اٹھائیں جبکہ نہ ہم موجود تھے اور نہ ہم نے دیکھا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو یہودی پچاس (قسموں) کے ذریعے تمہارے دعوے سے بری ہو جائیں؟“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم کافر قوم کی قسمیں کیسے لیں؟“ راوی کہتے ہیں: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے اس کی دیت ادا کر دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16433]
حدیث نمبر: 16434
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمَعْنَى، قَالُوا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ مُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ سَهْلٍ، انْطَلَقَا قَبْلَ خَيْبَرَ فَتَفَرَّقَا فِي النَّخْلِ، فَقُتِلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلٍ، فَاتَّهَمُوا الْيَهُودَ، فَجَاءَ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَابْنَا عَمِّهِ حُوَيِّصَةُ، وَمُحَيِّصَةُ فَأَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَكَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي أَمْرِ أَخِيهِ وَهُوَ أَصْغَرُهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْكُبْرَ الْكُبْرَ" أَوْ قَالَ:" لِيَبْدَأِ الْأَكْبَرُ" فَتَكَلَّمَا فِي أَمْرِ صَاحِبِهِمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُقْسِمُ خَمْسُونَ مِنْكُمْ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ فَيُدْفَعُ بِرُمَّتِهِ؟" قَالُوا: أَمْرٌ لَمْ نَشْهَدْهُ، كَيْفَ نَحْلِفُ؟ قَالَ:" فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْهُمْ؟" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ قَوْمٌ كُفَّارٌ قَالَ: فَوَدَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قِبَلِهِ قَالَ سَهْلٌ: ⦗٢٠٧⦘ دَخَلْتُ مِرْبَدًا لَهُمْ يَوْمًا فَرَكَضَتْنِي نَاقَةٌ مِنْ تِلْكَ الْإِبِلِ رَكْضَةً بِرِجْلِهَا هَذَا أَوْ نَحْوُهُ لَفْظُ حَدِيثِ الرُّوذْبَارِيِّ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ اللهِ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْتَحِقُّوا صَاحِبَكُمْ، أَوْ قَالَ: قَتِيلَكُمْ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْكُمْ قَالُوا: أَمْرٌ لَمْ نَشْهَدْهُ، قَالَ: فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْهُمْ وَذَكَرَ الْبَاقِيَ بِمَعْنَاهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنِ الْقَوَارِيرِيِّ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ هَكَذَا رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ: يُقْسِمُ خَمْسُونَ مِنْكُمْ عَلَى رَجُلٍ وَرِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ كَمَا مَضَى، وَالْعَدَدُ أَوْلَى بِالْحِفْظِ مِنَ الْوَاحِدِ وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، وَهُشَيْمِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ ذَكَرَهُ، وَلَمْ يَذْكُرَا سَهْلًا وَلَا رَافِعًا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَالِكٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ.
سیدنا سہل بن ابی حثمہ اور سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ محیصہ بن مسعود اور عبداللہ بن سہل خیبر کی طرف گئے اور کھجوروں کے باغ میں جدا جدا ہو گئے تو عبداللہ بن سہل قتل کر دیے گئے۔ انہوں نے یہود پر الزام لگایا، تو ان کے بھائی عبدالرحمن بن سہل اور ان کے دونوں چچا زاد حویصہ اور محیصہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، عبدالرحمن نے اپنے بھائی کے معاملے میں بات کی حالانکہ وہ ان میں سب سے چھوٹے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بڑا، بڑا“ یا فرمایا: ”بڑا پہلے بات کرے۔“ تو ان دونوں نے اپنے ساتھی کے معاملے میں بات کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے پچاس آدمی ان میں سے کسی ایک آدمی پر قسم اٹھائیں گے تو اسے رسی سمیت تمہارے حوالے کر دیا جائے؟“ انہوں نے کہا: ”یہ ایسا معاملہ ہے جس میں ہم موجود نہیں تھے، ہم کیسے قسم اٹھائیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو یہودی اپنے پچاس آدمیوں کی قسموں کے ذریعے تمہارے دعوے سے بری ہو جائیں؟“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! وہ کافر لوگ ہیں۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے اس کی دیت ادا کر دی۔ سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ایک دن ان کے باڑے میں داخل ہوا تو ان اونٹوں میں سے ایک اونٹنی نے مجھے اپنی ٹانگ سے لات ماری۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے پچاس آدمیوں کی قسموں کے ذریعے اپنے ساتھی“ یا فرمایا: ”اپنے مقتول (کے خون) کے مستحق بن جاؤ۔“ انہوں نے کہا: ”یہ ایسا معاملہ ہے جس میں ہم موجود نہیں تھے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو یہودی اپنے پچاس آدمیوں کی قسموں کے ذریعے تمہارے دعوے سے بری ہو جائیں“، اور باقی حدیث اسی معنی میں ذکر کی۔
حماد بن زید نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے: ”تم میں سے پچاس آدمی ایک آدمی پر قسم اٹھائیں“، جبکہ جماعت کی روایت وہی ہے جو گزر چکی، اور ایک راوی کے مقابلے میں جماعت کا یاد رکھنا زیادہ قابلِ ترجیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16434]
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے پچاس آدمیوں کی قسموں کے ذریعے اپنے ساتھی“ یا فرمایا: ”اپنے مقتول (کے خون) کے مستحق بن جاؤ۔“ انہوں نے کہا: ”یہ ایسا معاملہ ہے جس میں ہم موجود نہیں تھے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو یہودی اپنے پچاس آدمیوں کی قسموں کے ذریعے تمہارے دعوے سے بری ہو جائیں“، اور باقی حدیث اسی معنی میں ذکر کی۔
حماد بن زید نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے: ”تم میں سے پچاس آدمی ایک آدمی پر قسم اٹھائیں“، جبکہ جماعت کی روایت وہی ہے جو گزر چکی، اور ایک راوی کے مقابلے میں جماعت کا یاد رکھنا زیادہ قابلِ ترجیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16434]
حدیث نمبر: 16435
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ بَشِيرَ بْنَ يَسَارٍ، مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ الْأَنْصَارِيِّينَ، أَخْبَرَهُ وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا فَقِيهًا، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ مِنْ أَهْلِ دَارِهِ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجَالًا مِنْهُمْ: رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ، وَسُوَيْدُ بْنُ النُّعْمَانِ، حَدَّثُوهُ أَنَّ الْقَسَامَةَ كَانَتْ فِيهِمْ فِي بَنِي حَارِثَةَ بْنِ الْحَارِثِ فِي رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يُدْعَى عَبْدَ اللهِ بْنَ سَهْلٍ، قُتِلَ بِخَيْبَرَ، وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُمْ:" تَحْلِفُونَ خَمْسِينَ فَتَسْتَحِقُّونَ قَاتِلَكُمْ أَوْ قَالَ: صَاحِبَكُمْ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ مَا شَهِدْنَا وَلَا حَضَرْنَا، فَزَعَمَ بَشِيرٌ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُمْ:" فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ" فَذَكَرَهُ وَرَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَى، فَخَالَفَ الْجَمَاعَةَ فِي لَفْظِهِ.
بنو حارثہ انصار کے آزاد کردہ غلام بشیر بن یسار رحمہ اللہ — جو بہت بوڑھے اور فقیہ تھے اور انہوں نے اپنے محلے بنو حارثہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صحابہ کو پایا تھا، جن میں رافع بن خدیج، سہل بن ابی حثمہ اور سوید بن نعمان رضی اللہ عنہم شامل ہیں — بیان کرتے ہیں کہ ان صحابہ نے انہیں بتایا کہ قسامہ انہی میں، بنو حارثہ بن حارث میں، انصار کے ایک آدمی کے بارے میں ہوا تھا جس کا نام عبداللہ بن سہل تھا اور وہ خیبر میں قتل ہوا تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا: ”تم پچاس قسمیں اٹھاؤ تو اپنے قاتل“ یا فرمایا: ”اپنے ساتھی (کے خون) کے مستحق بن جاؤ گے۔“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! نہ ہم نے دیکھا اور نہ ہم موجود تھے۔“ بشیر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تو یہودی پچاس (قسموں) کے ذریعے تمہارے دعوے سے بری ہو جائیں“، پھر باقی حدیث ذکر کی۔
سفیان بن عیینہ نے اسے یحییٰ سے روایت کیا تو اس کے الفاظ میں جماعت کی مخالفت کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16435]
سفیان بن عیینہ نے اسے یحییٰ سے روایت کیا تو اس کے الفاظ میں جماعت کی مخالفت کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16435]
حدیث نمبر: 16436
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، سَمِعَ بَشِيرَ بْنَ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ: وُجِدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلٍ قَتِيلًا فِي قَلِيبٍ مِنْ قُلُبِ خَيْبَرَ، فَجَاءَ أَخُوهُ ⦗٢٠٨⦘ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَعَمَّاهُ حُوَيِّصَةُ، وَمُحَيِّصَةُ، فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَكَلَّمُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْكُبْرَ الْكُبْرَ" فَتَكَلَّمَ أَحَدُ عَمَّيْهِ الْكَبِيرُ مِنْهُمَا، إِمَّا حُوَيِّصَةُ، وَإِمَّا مُحَيِّصَةُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا وَجَدْنَا عَبْدَ اللهِ، قَتِيلًا فِي قَلِيبٍ مِنْ قُلُبِ خَيْبَرَ، فَذَكَرَ يَهُودَ وَعَدَاوَتِهُمْ وَشَرَّهُمْ، قَالَ:" أَفَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا يَحْلِفُونَ أَنَّهُمْ لَمْ يَقْتُلُوهُ؟" قَالُوا: وَكَيْفَ نَرْضَى بِأَيْمَانِهِمْ وَهُمْ مُشْرِكُونَ؟ قَالَ:" فَيُقْسِمُ مِنْكُمْ خَمْسُونَ أَنَّهُمْ قَتَلُوهُ؟" قَالُوا: وَكَيْفَ نُقْسِمُ عَلَى مَا لَمْ نَرَهُ؟ قَالَ: فَوَدَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدٍ النَّاقِدِ، عَنْ سُفْيَانَ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَسُقْ مَتْنَهُ، وَأَحَالَ بِهِ عَلَى رِوَايَةِ الْجَمَاعَةِ،.
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل خیبر کے کنووں میں سے ایک کنویں میں مقتول پائے گئے، تو ان کے بھائی عبدالرحمن بن سہل اور ان کے دونوں چچا حویصہ اور محیصہ آئے، عبدالرحمن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بات کرنے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بڑا، بڑا۔“ تو ان کے دونوں چچاؤں میں سے بڑے نے بات کی، یا تو حویصہ نے یا محیصہ نے، اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم نے عبداللہ کو خیبر کے کنووں میں سے ایک کنویں میں مقتول پایا ہے“، اور یہود کا، ان کی دشمنی اور ان کے شر کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہودی پچاس قسمیں اٹھا کر کہ انہوں نے اسے قتل نہیں کیا، تمہارے دعوے سے بری ہو جائیں؟“ انہوں نے کہا: ”ہم ان کی قسموں پر کیسے راضی ہوں جبکہ وہ مشرک ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کیا تم میں سے پچاس آدمی قسم اٹھائیں گے کہ انہوں نے اسے قتل کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”جو ہم نے دیکھا نہیں اس پر کیسے قسم اٹھائیں؟“ راوی کہتے ہیں: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے اس کی دیت ادا کر دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16436]
حدیث نمبر: 16437
وَيُذْكَرُ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ لَمْ يُتْقِنْهُ إِتْقَانَ هَؤُلَاءِ، رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَقِيبَ حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ، ثُمَّ قَالَ: إِلَّا أَنَّ ابْنَ عُيَيْنَةَ كَانَ لَا يُثْبِتُ أَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارِيِّينَ فِي الْأَيْمَانِ أَوْ يَهُودَ، فَيُقَالُ: فِي الْحَدِيثِ أَنَّهُ قَدَّمَ الْأَنْصَارِيِّينَ، فَيَقُولُ: فَهُوَ ذَاكَ أَوْ مَا أَشْبَهَ هَذَا: أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ، أَنْبَأَ سُفْيَانُ، فَذَكَرَهُ وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ وَبَشِيرِ بْنِ أَبِي كَيْسَانَ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، نَحْوَ رِوَايَةِ الْجَمَاعَةِ فِي الْبِدَايَةِ بِأَيْمَانِ الْمُدَّعِينَ.
سفیان بن عیینہ سے ایسی بات ذکر کی جاتی ہے جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو ان راویوں کی طرح پختگی سے یاد نہیں رکھا۔ امام شافعی رحمہ اللہ ابن عیینہ سے حدیثِ ثقفی نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ ابن عیینہ یقین سے نہیں بتاتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کے لیے انصار کو مقدم کیا تھا یا یہودیوں کو، ان سے کہا جاتا کہ حدیث میں یہ ہے کہ انصاریوں کو مقدم کیا تھا، تو وہ کہتے: تو پھر وہی ہے، یا اس جیسی کوئی بات کہتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16437]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ للشافعي»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16438
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سَعِيدٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ الْبِسْطَامِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ الطَّائِيِّ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، زَعَمَ أَنَّ رَجُلًا، مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ: سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ نَفَرًا مِنْ قَوْمِهِ انْطَلَقُوا إِلَى خَيْبَرَ فَتَفَرَّقُوا فِيهَا، فَوَجَدُوا أَحَدَهُمْ قَتِيلًا، فَقَالُوا لِلَّذِينَ وَجَدُوهُ عِنْدَهُمْ: قَتَلْتُمْ صَاحِبَنَا؟ قَالُوا: مَا قَتَلْنَا وَلَا عَلِمْنَا، قَالَ: فَانْطَلَقُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ انْطَلَقْنَا إِلَى خَيْبَرَ فَوَجَدْنَا أَحَدَنَا قَتِيلًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْكُبْرَ الْكُبْرَ" فَقَالَ لَهُمْ:" تَأْتُونَ بِالْبَيِّنَةِ عَلَى مَنْ قَتَلَ؟" قَالُوا: مَا لَنَا بَيِّنَةٌ، قَالَ:" فَيَحْلِفُونَ لَكُمْ؟" قَالُوا: لَا نَرْضَى بِأَيْمَانِ الْيَهُودِ وَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ يُبْطِلَ دَمَهُ فَوَدَاهُ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ ⦗٢٠٩⦘ لَفْظُ حَدِيثِ الْقَطَّانِ، وَفِي رِوَايَةِ غَيْرِهِ: فَوَدَاهُ بِمِائَةٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، مِنْ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، دُونَ سِيَاقَةِ مَتْنِهِ، وَإِنَّمَا لَمْ يَسُقْ مَتْنَهُ لِمُخَالَفَتِهِ رِوَايَةَ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي جُمْلَةِ مَا قَالَ فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ: وَغَيْرُ مُشْكِلٍ عَلَى مَنْ عَقَلَ التَّمْيِيزَ مِنَ الْحُفَّاظِ أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ أَحْفَظُ مِنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ وَأَرْفَعُ مِنْهُ شَأْنًا فِي طَرِيقِ الْعِلْمِ وَأَسْبَابِهِ، فَهُوَ أَوْلَى بِالْحِفْظِ مِنْهُ قَالَ الشَّيْخُ: وَإِنْ صَحَّتْ رِوَايَةُ سَعِيدٍ، فَهِيَ لَا تُخَالِفُ رِوَايَةَ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، لِأَنَّهُ قَدْ يُرِيدُ بِالْبَيِّنَةِ الْأَيْمَانَ مَعَ اللَّوْثِ كَمَا فَسَّرَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَقَدْ يُطَالِبُهُمْ بِالْبَيِّنَةِ كَمَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ، ثُمَّ يَعْرِضُ عَلَيْهِمُ الْأَيْمَانَ مَعَ وُجُودِ اللَّوْثِ كَمَا فِي رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ثُمَّ يَرُدُّهَا عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِمْ عِنْدَ نُكُولِ الْمُدَّعِينَ كَمَا فِي الرِّوَايَتَيْنِ.
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کی قوم کے چند لوگ خیبر گئے اور وہ جدا جدا ہو گئے، پھر انہوں نے ان میں سے ایک کو مقتول پایا تو انہوں نے وہاں کے لوگوں سے کہا کہ ہمارے ساتھی کو تم نے قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا: نہ ہم نے قتل کیا ہے اور نہ ہی ہم جانتے ہیں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے۔ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! ہم خیبر گئے تو ہمارا ایک ساتھی قتل ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بڑا بات کرے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا کوئی دلیل ہے کہ کس نے قتل کیا ہے؟“ کہنے لگے: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”پھر یہودی قسم اٹھا دیں؟“ کہنے لگے: ہم ان کی قسم پر راضی نہیں ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دینا ناپسند فرمایا اور اپنی طرف سے 100 اونٹ اس کی دیت ادا کر دی۔ ایک روایت میں ہے کہ صدقہ کے اونٹوں سے۔
امام مسلم بن حجاج رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حفاظِ حدیث میں سے جو شخص پرکھ کی سمجھ رکھتا ہو اس پر یہ بات مخفی نہیں کہ یحییٰ بن سعید، سعید بن عبید سے زیادہ حافظے والے اور علم کی راہ اور اس کے اسباب میں ان سے بلند مرتبہ ہیں، لہٰذا وہ یاد رکھنے میں ان سے زیادہ قابلِ ترجیح ہیں۔
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر سعید کی روایت صحیح ہو تو بھی وہ بشیر بن یسار سے یحییٰ بن سعید کی روایت کے خلاف نہیں، کیونکہ دلیل سے مراد کبھی شبہ (لوث) کے ساتھ قسمیں ہوتی ہیں جیسا کہ یحییٰ بن سعید نے اس کی وضاحت کی، اور کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پہلے دلیل کا مطالبہ کرتے ہیں جیسا کہ اس روایت میں ہے، پھر شبہ موجود ہونے کی وجہ سے ان پر قسمیں پیش کرتے ہیں جیسا کہ یحییٰ بن سعید کی روایت میں ہے، پھر مدعیوں کے انکار پر قسمیں مدعی علیہم پر لوٹا دیتے ہیں جیسا کہ دونوں روایتوں میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16438]
امام مسلم بن حجاج رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حفاظِ حدیث میں سے جو شخص پرکھ کی سمجھ رکھتا ہو اس پر یہ بات مخفی نہیں کہ یحییٰ بن سعید، سعید بن عبید سے زیادہ حافظے والے اور علم کی راہ اور اس کے اسباب میں ان سے بلند مرتبہ ہیں، لہٰذا وہ یاد رکھنے میں ان سے زیادہ قابلِ ترجیح ہیں۔
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر سعید کی روایت صحیح ہو تو بھی وہ بشیر بن یسار سے یحییٰ بن سعید کی روایت کے خلاف نہیں، کیونکہ دلیل سے مراد کبھی شبہ (لوث) کے ساتھ قسمیں ہوتی ہیں جیسا کہ یحییٰ بن سعید نے اس کی وضاحت کی، اور کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پہلے دلیل کا مطالبہ کرتے ہیں جیسا کہ اس روایت میں ہے، پھر شبہ موجود ہونے کی وجہ سے ان پر قسمیں پیش کرتے ہیں جیسا کہ یحییٰ بن سعید کی روایت میں ہے، پھر مدعیوں کے انکار پر قسمیں مدعی علیہم پر لوٹا دیتے ہیں جیسا کہ دونوں روایتوں میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16438]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16439
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ ⦗٢١٠⦘ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدِ بْنِ قَيْظِيٍّ، أَخِي بَنِي حَارِثَةَ، قَالَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ: وَايْمُ اللهِ، مَا كَانَ سَهْلٌ بِأَكْثَرَ عِلْمًا مِنْهُ، وَلَكِنَّهُ كَانَ أَسَنَّ مِنْهُ، إِنَّهُ قَالَ لَهُ: وَاللهِ مَا هَكَذَا كَانَ الشَّانُ، وَلَكِنْ سَهْلٌ أَوْهَمَ مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: احْلِفُوا عَلَى مَا لَا عِلْمَ لَكُمْ بِهِ، وَلَكِنَّهُ كَتَبَ إِلَى يَهُودَ خَيْبَرَ حِينَ كَلَّمَتْهُ الْأَنْصَارُ: أَنَّهُ وُجِدَ فِيكُمْ قَتِيلٌ بَيْنَ أَبْيَاتِكُمْ فَدُوهُ، فَكَتَبُوا إِلَيْهِ يَحْلِفُونَ بِاللهِ مَا قَتَلُوهُ وَلَا يَعْلَمُونَ لَهُ قَاتِلًا، فَوَدَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ.
عبدالرحمن بن بجید بن قیظی سے روایت ہے، جو بنو حارثہ سے تھے — ابنِ ابراہیم کہتے ہیں: «وَاللّٰهِ» ! سہل رضی اللہ عنہ علم میں ان سے بڑھ کر نہ تھے لیکن عمر میں ان سے بڑے تھے — کہ انہوں نے ان سے کہا: «وَاللّٰهِ» ! معاملہ اس طرح نہیں تھا، بلکہ سہل رضی اللہ عنہ کو وہم ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ ”جس کا تمہیں علم نہیں اس پر قسم اٹھاؤ“، بلکہ جب انصار رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہود کی طرف لکھا کہ تمہارے ہاں تمہارے گھروں کے درمیان ایک مقتول پایا گیا ہے، لہٰذا اس کی دیت ادا کرو۔ تو انہوں نے اللہ کی قسم اٹھا کر لکھ بھیجا کہ نہ انہوں نے اسے قتل کیا ہے اور نہ وہ اس کے قاتل کو جانتے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت اپنی طرف سے ادا کر دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16439]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف