🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3340. -- باب: ما جاء في القتل بالقسامة
-- باب: قسامہ کی بنیاد پر قتل (قصاص) کرنے کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16460
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، أَنَّ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ آلِ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنْ آلِ صُهَيْبٍ مُنَازَعَةٌ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي قَتْلِهِ، قَالَ: فَرَكِبَ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ ⦗٢٢٠⦘ مَرْوَانَ فِي ذَلِكَ فَقَضَى بِالْقَسَامَةِ عَلَى سِتَّةِ نَفَرٍ مِنْ آلِ حَاطِبٍ، فَثَنَّى عَلَيْهِمُ الْأَيْمَانَ، فَطَلَبَ آلُ حَاطِبٍ أَنْ يَحْلِفُوا عَلَى اثْنَيْنِ وَيَقْتُلُوهُمَا، فَأَبَى عَبْدُ الْمَلِكِ إِلَّا أَنْ يَحْلِفُوا عَلَى وَاحِدٍ فَيَقْتُلُوهُ، فَحَلَفُوا عَلَى الصُّهَيْبِيِّ فَقَتَلُوهُ، قَالَ هِشَامٌ: فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عُرْوَةُ، وَرَأَى أَنْ قَدْ أُصِيبَ فِيهِ الْحَقُّ وَرُوِّينَا فِيهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَرَبِيعَةَ وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَابْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُمَا أَقَادَا بِالْقَسَامَةِ وَيُذْكَرُ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنَّهُ رَجَعَ عَنْ ذَلِكَ وَقَالَ: إِنْ وَجَدَ أَصْحَابُهُ بَيِّنَةً، وَإِلَّا فَلَا تُظْلَمُ النَّاسُ، فَإِنَّ هَذَا لَا يُقْضَى فِيهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ آلِ حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے ایک شخص اور آلِ صہیب رضی اللہ عنہ کے ایک شخص کے درمیان کوئی جھگڑا تھا، پھر اس کے قتل کی حدیث بیان کی، کہتے ہیں کہ یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب رحمہ اللہ اس بارے میں عبدالملک بن مروان کے پاس سوار ہو کر گئے تو اس نے قسامہ پر فیصلہ کر دیا کہ آلِ حاطب میں سے 6 آدمی قسم اٹھائیں، اور ان پر قسمیں دہرائیں۔ آلِ حاطب نے دو شخصوں پر قسم اٹھا کر انہیں قتل کرنا چاہا تو عبدالملک نے انکار کیا اور کہا کہ ایک پر قسم اٹھاؤ اور اسے قتل کرو، تو انہوں نے صہیبی پر قسم اٹھائی تو اسے قتل کر دیا گیا۔ ہشام کہتے ہیں: عروہ نے اس پر انکار نہیں کیا اور ان کی رائے تھی کہ اس میں حق تک پہنچا گیا ہے۔
اس بارے میں زہری اور ربیعہ سے بھی ہمیں روایت پہنچی ہے، اور ابن ابی ملیکہ سے ذکر کیا جاتا ہے کہ عمر بن عبدالعزیز اور ابن زبیر نے قسامہ کے ذریعے قصاص لیا، اور عمر بن عبدالعزیز سے ذکر کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اس سے رجوع کر لیا اور فرمایا: اگر مقتول کے وارثوں کو دلیل مل جائے (تو ٹھیک)، ورنہ لوگوں پر ظلم نہ کیا جائے، کیونکہ اس کا فیصلہ تو قیامت کے دن ہی ہوگا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16460]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3341. -- باب: ترك القود بالقسامة
-- باب: قسامہ کی بنیاد پر قصاص ترک کر دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16461
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، مَوْلَى أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: كَانَ أَبُو قِلَابَةَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَسَأَلَهُمْ عَنِ الْقَسَامَةِ، قَالُوا: أَقَادَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ وَالْخُلَفَاءُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالَ: مَا تَقُولُ يَا أَبَا قِلَابَةَ؟ قَالَ: عِنْدَكَ رُءُوسُ الْأَجْنَادِ وَأَشْرَافُ الْعَرَبِ، شَهِدَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ حِمْصٍ عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ دِمَشْقَ أَنَّهُ سَرَقَ وَلَمْ يَرَوْهُ أَكُنْتَ تَقْطَعُهُ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: شَهِدَ أَرْبَعَةٌ مِنْ أَهْلِ دِمَشْقَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ حِمْصٍ أَنَّهُ زَنَى وَلَمْ يَرَوْهُ أَكُنْتَ تَرْجُمُهُ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَهَذَا أَشْبَهُ، وَاللهِ مَا عَلِمْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتَلَ أَحَدًا، إِلَّا أَنْ يَقْتُلَ رَجُلًا فَيُقْتَلَ بِهِ، قَالَ عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ: فَأَيْنَ حَدِيثُ الْعُرَنِيِّينَ؟ فَقَالَ أَبُو قِلَابَةَ: إِيَّايَ حَدَّثَهُ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ قَوْمًا مِنْ عُكْلٍ أَوْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَاجْتَوَوَا الْمَدِينَةَ، فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلِقَاحٍ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، فَانْطَلَقُوا فَلَمَّا صَحُّوا قَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَاقُوا النَّعَمَ، فَبَلَغَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرُهُمْ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ، فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ فَمَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ حَتَّى أُتِيَ بِهِمْ فَأَمَرَ بِهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُطِعَتْ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ، وَسُمِرَتْ أَعْيُنُهُمْ، وَأُلْقُوا فِي الْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَلَا يُسْقَوْنَ حَتَّى مَاتُوا فَهَؤُلَاءِ قَوْمٌ قَتَلُوا وَسَرَقُوا وَكَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانَهِمْ فَقَالَ عَنْبَسَةُ: سُبْحَانَ اللهِ فَقَالَ أَبُو قِلَابَةَ: أَتَتَّهِمُنِي يَا عَنْبَسَةُ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنَّ هَذَا الْجُنْدَ لَا يَزَالُ بِخَيْرٍ مَا أَبْقَاكَ اللهُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ ⦗٢٢١⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ هَارُونَ الْحَمَّالِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ مُخْتَصَرًا.
ابو رجاء رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ ابو قلابہ رحمہ اللہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پاس تھے، انہوں نے قسامہ کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے جواب دیا کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین نے اس کے ساتھ قصاص لیا ہے۔“ انہوں نے کہا: ”اے ابو قلابہ! کیا کہتے ہو؟“ اور کہا: ”آپ کے پاس بڑے بڑے رئیس اور اشرافِ عرب موجود ہیں، بڑے بڑے لشکر موجود ہیں۔ اگر اہل حمص کا ایک شخص اہل دمشق کے ایک شخص پر بغیر دیکھے چوری کا الزام لگا دے تو کیا آپ اس کا ہاتھ کاٹیں گے؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں۔“ انہوں نے کہا: ”اگر ایسے ہی چار آدمی بغیر دیکھے زنا پر گواہی دے دیں تو کیا آپ اسے رجم کریں گے؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں۔“ تو ابو قلابہ رحمہ اللہ کہنے لگے: ”یہ (قسامہ) بھی اسی کے مشابہ ہے، اللہ کی قسم! ہمیں معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کو قتل کیا ہو، سوائے اس کے کہ کسی آدمی نے کسی کو قتل کیا ہو تو اسے اس کے بدلے قتل کیا گیا۔“ عنبسہ بن سعید رحمہ اللہ کہنے لگے: ”پھر وہ عرینیین والی حدیث کہاں گئی؟“ ابو قلابہ رحمہ اللہ کہنے لگے: ”یہی حدیث ہمیں سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے سنائی کہ عکل اور عرینہ قبیلے کے چند لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، مدینہ کی آب و ہوا انہیں راس نہ آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اونٹوں کے چرواہے کے ساتھ رہنے کا حکم دیا کہ وہ ان کا دودھ اور پیشاب پئیں۔ وہ چلے گئے، جب انہیں صحت ہو گئی تو انہوں نے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو لے کر بھاگ گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دن کے ابتدائی حصے میں اس کا پتا چلا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے لوگ بھیجے اور دن چڑھے تک ان کو پکڑ کر آپ کے پاس لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیر کر دھوپ میں پھینک دیا، وہ پانی مانگتے تھے لیکن انہیں پانی نہیں دیا گیا حتیٰ کہ وہ مر گئے۔ یہ لوگ تھے جنہوں نے ایمان لانے کے بعد قتل، چوری اور پھر کفر کیا۔“ عنبسہ رحمہ اللہ کہنے لگے: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ۔“ ابو قلابہ رحمہ اللہ کہنے لگے کہ ”عنبسہ! کیا تم مجھ پر جھوٹ کی تہمت لگاتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں۔ بلکہ جب تک اللہ آپ کو ان کے درمیان باقی رکھیں گے، اللہ ان لوگوں کو بھلائی پر ہی رکھیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16461]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16462
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الصَّوَّافُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ أَبِي خَالِدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ، مَوْلَى أَبِي قِلَابَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَبْرَزَ سَرِيرَهُ يَوْمًا لِلنَّاسِ فَأَذِنَ لَهُمْ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَا تَقُولُونَ فِي الْقَسَامَةِ؟ قَالَ: فَأَضَبَّ النَّاسُ، قَالُوا: نَقُولُ: الْقَوَدُ بِهَا حَقٌّ، قَدْ أَقَادَتْ بِهَا الْخُلَفَاءُ، قَالَ: مَا تَقُولُ يَا أَبَا قِلَابَةَ؟ وَنَصَبَنِي لِلنَّاسِ، قُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عِنْدَكَ رُءُوسُ الْأَجْنَادِ وَأَشْرَافُ الْعَرَبِ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ خَمْسِينَ مِنْهُمْ شَهِدُوا عَلَى رَجُلٍ بِدِمَشْقَ مُحْصَنٍ أَنَّهُ قَدْ زَنَى لَمْ يَرَوْهُ، أَكُنْتَ تَرْجُمُهُ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: أفَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ خَمْسِينَ مِنْهُمْ شَهِدُوا عَلَى رَجُلٍ بِحِمْصَ أَنَّهُ سَرَقَ لَمْ يَرَوْهُ، أَكُنْتَ تَقْطَعُهُ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَوَاللهِ مَا قَتَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا قَطُّ، إِلَّا فِي إِحْدَى ثَلَاثِ خِصَالٍ: رَجُلٌ قَتَلَ بِجَرِيرَةِ نَفْسِهِ يُقْتَلُ، أَوْ رَجُلٌ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانٍ، أَوْ رَجُلٌ حَارَبَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَارْتَدَّ عَنِ الْإِسْلَامِ، قَالَ: فَقَالَ الْقَوْمُ: أَوَلَيْسَ قَدْ حَدَّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ فِي السَّرَقِ وَسَمَرَ الْأَعْيُنَ وَنَبَذَهُمْ فِي الشَّمْسِ حَتَّى مَاتُوا؟ فَقُلْتُ: أَنَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، إِيَّايَ حَدَّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُكْلٍ ثَمَانِيَةً قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَبَايَعُوهُ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَاسْتَوْخَمُوا الْأَرْضَ وَسَقَمَتْ أَجْسَادُهُمْ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَلَا تَخْرُجُونَ مَعَ رَاعِينَا فِي إِبِلِهِ فَتُصِيبُونَ مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا؟ قَالُوا: بَلَى، فَخَرَجُوا فَشَرِبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا فَصَحُّوا وَقَتَلُوا الرَّاعِيَ وَاطَّرَدُوا النَّعَمَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ فَأُدْرِكُوا فَجِيءَ بِهِمْ، فَأَمَرَ بِهِمْ فَقُطِعَتْ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ، وَسُمِرَتْ أَعْيُنُهُمْ، وَنُبِذُوا فِي الشَّمْسِ حَتَّى مَاتُوا قُلْتُ: وَأِيُّ شَيْءٍ أَشَدُّ مِمَّا صَنَعَ هَؤُلَاءِ: ارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ، وَقَتَلُوا، وَسَرَقُوا فَقَالَ عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ: وَاللهِ، إِنْ سَمِعْتُ كَالْيَوْمِ قَطُّ، قُلْتُ: تَرُدُّ عَلَيَّ حَدِيثِي يَا عَنْبَسَةُ؟ فَقَالَ: لَا، وَلَكِنْ جِئْتَ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ، وَاللهِ لَا يَزَالُ هَذَا الْجُنْدُ بِخَيْرٍ مَا عَاشَ هَذَا الشَّيْخُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ قُلْتُ: وَقَدْ كَانَ فِي هَذَا سُنَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلَ عَلَيْهِ نَفَرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَتَحَدَّثُوا عِنْدَهُ، فَخَرَجَ رَجُلٌ مِنْهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ فَقُتِلَ، فَخَرَجُوا بَعْدَهُ فَإِذَا هُمْ بِصَاحِبِهِمْ يَتَشَحَّطُ فِي الدَّمِ، فَرَجَعُوا إِلَى ⦗٢٢٢⦘ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ صَاحِبُنَا كَانَ يَتَحَدَّثُ مَعَنَا فَخَرَجَ بَيْنَ أَيْدِينَا فَإِذَا نَحْنُ بِهِ يَتَشَحَّطُ فِي الدَّمِ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بِمَنْ تَظُنُّونَ أَوْ مَنْ تَرَوْنَ قَتَلَهُ؟ قَالُوا: نَرَى أَنَّ الْيَهُودَ قَتَلَتْهُ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْيَهُودِ فَدَعَاهُمْ، فَقَالَ: أَنْتُمْ قَتَلْتُمْ هَذَا؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: أَتَرْضَوْنَ نَفْلَ خَمْسِينَ مِنَ الْيَهُودِ مَا قَتَلُوهُ؟ فَقَالُوا: مَا يُبَالُونَ أَنْ يَقْتُلُونَا أَجْمَعِينَ ثُمَّ يَنْفُلُونَ، قَالَ: أَفَتَسْتَحِقُّونَ الدِّيَةِ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْكُمْ؟ قَالُوا: مَا كُنَّا لِنَحْلِفَ فَوَدَاهُ مِنْ عِنْدِهِ قُلْتُ: وَقَدْ كَانَتْ هُذَيْلٌ خَلَعُوا خَلِيعًا لَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَطَرَقَ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الْيَمَنِ، بِالْبَطْحَاءِ فَانْتَبَهَ لَهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَحَذَفَهُ بِالسَّيْفِ فَقَتَلَهُ، فَجَاءَتْ هُذَيْلٌ فَأَخَذُوا الْيَمَانِيَّ فَرَفَعُوهُ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْمَوْسِمِ، وَقَالُوا: قَتَلَ صَاحِبَنَا، فَقَالَ: إِنَّهُمْ قَدْ خَلَعُوهُ، فَقَالَ: يُقْسِمُ خَمْسُونَ مِنْ هُذَيْلٍ مَا خَلَعُوا، قَالَ: فَأَقْسَمَ مِنْهُمْ تِسْعَةٌ وَأَرْبَعُونَ رَجُلًا، وَقَدِمَ رَجُلٌ مِنْهُمْ مِنَ الشَّامِ فَسَأَلُوهُ أَنْ يُقْسِمَ فَافْتَدَى يَمِينَهُ مِنْهُمْ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ، فَأَدْخَلُوا مَكَانَهُ رَجُلًا آخَرَ فَدَفَعَهُ إِلَى أَخِي الْمَقْتُولِ فَقُرِنَتْ يَدُهُ بِيَدِهِ، قَالَ: فَانْطَلَقَا وَالْخَمْسُونَ الَّذِينَ أَقْسَمُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِنَخْلَةٍ أَخَذَتْهُمُ السَّمَاءُ فَدَخَلُوا فِي غَارٍ فِي الْجَبَلِ، فَانْهَجَمَ الْغَارُ عَلَى الْخَمْسِينَ الَّذِينَ أَقْسَمُوا فَمَاتُوا جَمِيعًا، وَأَفْلَتَ الْقَرِينَانِ، وَاتَّبَعَهُمَا حَجَرٌ فَكَسَرَ رِجْلَ أَخِي الْمَقْتُولِ، فَعَاشَ حَوْلًا ثُمَّ مَاتَ قُلْتُ: وَقَدْ كَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ أَقَادَ رَجُلًا بِالْقَسَامَةِ، ثُمَّ نَدِمَ بَعْدَمَا صَنَعَ، فَأَمَرَ بِالْخَمْسِينَ الَّذِينَ أَقْسَمُوا فَمُحُوا مِنَ الدِّيوَانِ وَسَيَّرَهُمْ إِلَى الشَّامِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ، وَحَدِيثُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَتِيلِ مُرْسَلٌ، وَكَذَلِكَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قِصَّةِ الْهُذَلِيِّ.
سابقہ روایت
میں کہتا ہوں: اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت موجود ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ انصاری آئے اور آپ کے پاس باتیں کرنے لگے، ان میں سے ایک آدمی ان سے پہلے باہر نکلا اور قتل کر دیا گیا۔ جب وہ اس کے بعد نکلے تو اپنے ساتھی کو خون میں لت پت تڑپتا ہوا پایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارا ساتھی ہمارے ساتھ باتیں کر رہا تھا، وہ ہم سے پہلے باہر نکلا، پھر ہم نے اسے خون میں لت پت تڑپتا ہوا پایا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور پوچھا: ”کس پر گمان کرتے ہو کہ اس نے قتل کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ہمارے خیال میں یہودیوں نے قتل کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو بلوا کر پوچھا کہ کیا تم نے اسے قتل کیا ہے؟ انہوں نے انکار کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ یہود کے پچاس آدمی قسم اٹھائیں کہ انہوں نے قتل نہیں کیا؟“ انہوں نے کہا: انہیں کوئی پروا نہیں کہ ہم سب کو قتل کر دیں، پھر (جھوٹی) قسمیں اٹھا لیں۔ پھر پوچھا: ”کیا تم اپنے پچاس آدمیوں کی قسموں سے دیت کے مستحق بنتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ہم قسم نہیں اٹھائیں گے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے اس کی دیت ادا کر دی۔
میں کہتا ہوں: ہذیل نے جاہلیت میں اپنے ایک آدمی سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا تھا، اس نے بطحاء میں یمن کے ایک گھرانے پر رات کو حملہ کیا تو ان میں سے ایک شخص جاگ گیا اور اسے تلوار مار کر قتل کر دیا۔ تو ہذیل کے لوگ آئے اور یمانی کو پکڑ کر موسمِ حج میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے آئے اور کہا: اس نے ہمارے ساتھی کو قتل کیا ہے۔ تو اس نے کہا: انہوں نے تو اس سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا تھا۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہذیل کے پچاس آدمی قسم اٹھائیں کہ انہوں نے اس سے لاتعلقی نہیں کی تھی۔ تو ان میں سے انچاس آدمیوں نے قسم اٹھا لی، پھر ان کا ایک آدمی شام سے آیا تو انہوں نے اس سے قسم اٹھانے کو کہا، تو اس نے ایک ہزار درہم دے کر اپنی قسم کا فدیہ دے دیا، تو انہوں نے اس کی جگہ ایک اور آدمی شامل کر لیا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یمانی کو مقتول کے بھائی کے حوالے کر دیا اور اس کا ہاتھ اس کے ہاتھ کے ساتھ باندھ دیا گیا۔ وہ دونوں اور وہ پچاس جنہوں نے قسم اٹھائی تھی چلے، جب نخلہ پہنچے تو بارش نے انہیں آ لیا، وہ پہاڑ کے ایک غار میں چلے گئے، تو وہ غار ان پچاس پر گر پڑا جنہوں نے قسم اٹھائی تھی اور وہ سب مر گئے، اور وہ دونوں بندھے ہوئے بچ نکلے، لیکن ایک پتھر ان کے پیچھے لڑھکا جس نے مقتول کے بھائی کی ٹانگ توڑ دی، تو وہ ایک سال زندہ رہا اور پھر مر گیا۔
میں کہتا ہوں کہ عبدالملک بن مروان نے ایک شخص سے قسامہ کے ساتھ قصاص لیا، پھر اپنے کیے پر نادم ہوئے اور ان پچاس قسم اٹھانے والوں کے بارے میں حکم دیا تو وہ رجسٹر سے مٹا دیے گئے اور انہیں شام کی طرف جلا وطن کر دیا۔
ان (ابو قلابہ) کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مقتول کے بارے میں یہ روایت مرسل ہے، اور اسی طرح ہذلی کے قصے میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ان کی روایت بھی مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16462]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16463
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: الْقَسَامَةُ تُوجِبُ الْعَقْلَ وَلَا تُشِيطُ الدَّمَ هَذَا مُنْقَطِعٌ.
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قسامہ دیت کو تو واجب کرتا ہے لیکن خون کو ثابت نہیں کرتا، یہ منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16463]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16464
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سَلَّامٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: الْقَتْلُ بِالْقَسَامَةِ جَاهِلِيَّةٌ،.
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قسامہ کے ذریعے قتل کرنا جاہلیت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16464]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ للحسن»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16465
وَفِيمَا رَوَى أَبُو دَاوُدَ، فِي الْمَرَاسِيلِ، عَنْ هَارُونَ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْضِ فِي الْقَسَامَةِ بِقَوَدٍ: أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنْبَأَ الْفَسَوِيُّ، ثنا اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، فَذَكَرَهُ ⦗٢٢٣⦘ وَكَذَلِكَ قَالَهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، فَقِيلَ لِمَالِكٍ: فَلِمَ تَقْتُلُونَ أَنْتُمْ بِهَا؟ قَالَ: إِنَّا لَا نَضَعُ قَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْخَتْلِ.
مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”قسامہ سے قصاص کا فیصلہ نہیں فرمایا۔“ عبیداللہ بن عمر اور مالک بن انس رحمہما اللہ نے بھی یہی کہا ہے۔ مالک بن انس رحمہ اللہ کو کہا گیا کہ پھر آپ لوگ قسامہ کے ساتھ قتل کیوں کرتے ہیں؟ تو فرمایا: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کو فریب پر نہیں رکھتے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16465]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3342. -- باب: ما جاء في قسامة الجاهلية
-- باب: دورِ جاہلیت کے قسامہ کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16466
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأَسَدِيُّ الْحَافِظُ، بِهَمَذَانَ سَنَةَ اثْنَتَيْنِ وَأَرْبَعِينَ وَثَلَاثِ مِائَةٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ الْمِنْقَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا قَطَنٌ أَبُو الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو يَزِيدَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِنَّ أَوَّلَ قَسَامَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَفِينَا بَنِي هَاشِمٍ، كَانَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ اسْتَأْجَرَ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ فَخِذٍ أُخْرَى، فَانْطَلَقَ مَعَهُ فِي إِبِلِهِ فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ قَدِ انْقَطَعَتْ عُرْوَةُ جُوَالِقِهِ، فَقَالَ: أَعِنِّي بِعِقَالٍ أَشُدُّ بِهِ عُرْوَةَ جُوَالِقِي، لَا تَنْفِرِ الْإِبِلُ، قَالَ: فَأَعْطَاهُ عِقَالًا فَشَدَّ بِهِ عُرْوَةَ جُوَالِقِهِ، لَمَّا نَزَلُوا عُقِلَتِ الْإِبِلُ إِلَّا بَعِيرًا وَاحِدًا، فَقَالَ الَّذِي اسْتَأْجَرَهُ: مَا شَأْنُ هَذَا الْبَعِيرِ لَمْ يُعْقَلْ مِنْ بَيْنِ الْإِبِلِ؟ قَالَ: لَيْسَ لَهُ عِقَالٌ، قَالَ: فَأَيْنَ عِقَالُهُ؟ قَالَ: مَرَّ بِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ قَدِ انْقَطَعَتْ عُرْوَةُ جُوَالِقِهِ فَاسْتَعَانَنِي، فَقَالَ: أَغِثْنِي بِعِقَالٍ أَشُدُّ بِهِ عُرْوَةَ جُوَالِقِي، لَا تَنْفِرِ الْإِبِلُ، فَأَعْطَيْتُهُ عِقَالَهُ، قَالَ: فَحَذَفَهُ بِعَصًا كَانَ فِيهَا أَجَلُهُ، فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، قَالَ: أَتَشْهَدُ الْمَوْسِمَ؟ قَالَ: لَا أَشْهَدُ، وَرُبَّمَا شَهِدْتُ، قَالَ: هَلْ أَنْتَ مُبَلِّغٌ عَنِّي رِسَالَةً مَرَّةً مِنَ الدُّهُورِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَكَتَبَ إِذَا أَنْتَ شَهِدْتَ الْمَوْسِمَ فَنَادِ: يَا آلَ قُرَيْشٍ فَإِذَا أَجَابُوكَ فَنَادِ: يَا آلَ بَنِي هَاشِمٍ فَإِذَا أَجَابُوكَ فَسَلْ عَنْ أَبِي طَالِبٍ فَأَخْبِرْهُ أَنَّ فُلَانًا قَتَلَنِي فِي عِقَالٍ، قَالَ: وَمَاتَ الْمُسْتَأْجَرُ، فَلَمَّا قَدِمَ الَّذِي اسْتَأْجَرَهُ أَتَاهُ أَبُو طَالِبٍ، فَقَالَ: مَا فَعَلَ صَاحِبُنَا؟ قَالَ: مَرِضَ فَأَحْسَنْتُ الْقِيَامَ عَلَيْهِ ثُمَّ مَاتَ فَوَلِيتُ دَفْنَهُ، فَقَالَ: كَانَ أَهْلَ ذَاكَ مِنْكَ، فَمَكَثَ حِينًا ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ الْيَمَانِيَّ الَّذِي كَانَ أَوْصَى إِلَيْهِ أَنْ يُبَلِّغَ عَنْهُ وَافَى الْمَوْسِمَ، فَقَالَ: يَا آلَ قُرَيْشٍ، قَالُوا: هَذِهِ قُرَيْشٌ، قَالَ: يَا آلَ بَنِي هَاشِمٍ، قَالُوا: هَذِهِ بَنُو هَاشِمٍ، قَالَ: أَيْنَ أَبُو طَالِبٍ؟ قَالُوا: هَذَا أَبُو طَالِبٍ، قَالَ: أَمَرَنِي فُلَانٌ أَنْ أُبَلِّغَكَ رِسَالَةً، أَنَّ فُلَانًا قَتَلَهُ فِي عِقَالٍ، فَأَتَاهُ أَبُو طَالِبٍ فَقَالَ: اخْتَرْ مِنَّا إِحْدَى ثَلَاثٍ: إِنْ شِئْتَ أَنْ تُؤَدِّيَ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ فَإِنَّكَ قَتَلْتَ صَاحِبَنَا بِخَطَأٍ، وَإِنْ شِئْتَ حَلَفَ خَمْسُونَ مِنْ قَوْمِكَ أَنَّكَ لَمْ تَقْتُلْهُ، فَإِنْ أَبَيْتَ قَتَلْنَاكَ بِهِ، قَالَ: فَأَتَى قَوْمَهُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُمْ ⦗٢٢٤⦘ فَقَالُوا: نَحْلِفُ، فَأَتَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ كَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْهُمْ قَدْ وَلَدَتْ لَهُ فَقَالَتْ: يَا أَبَا طَالِبٍ أُحِبُّ أَنْ تُجِيزَ ابْنِي هَذَا بِرَجُلٍ مِنَ الْخَمْسِينَ، وَلَا تُصْبِرَ يَمِينَهُ حَيْثُ تُصْبَرُ الْأَيْمَانُ، فَفَعَلَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَقَالَ: يَا أَبَا طَالِبٍ أَرَدْتَ خَمْسِينَ رَجُلًا أَنْ يَحْلِفُوا مَكَانَ مِائَةٍ مِنَ الْإِبِلِ، نَصِيبُ كُلِّ رَجُلٍ بَعِيرَانِ، فَهَذَانِ بَعِيرَانِ فَاقْبَلْهُمَا عَنِّي وَلَا تَصْبِرْ يَمِينِي حَيْثُ تُصْبَرُ الْأَيْمَانُ، قَالَ: فَقَبِلَهُمَا، وَجَاءَ ثَمَانِيَةٌ وَأَرْبَعُونَ رَجُلًا فَحَلَفُوا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَوالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا حَالَ الْحَوْلُ وَمِنَ الثَّمَانِيَةِ وَالْأَرْبَعِينَ عَيْنٌ تَطْرِفُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جاہلیت میں پہلا قسامہ ہمارے درمیان تھا کہ بنو ہاشم کے ایک شخص نے قریش کی دوسری شاخ کے ایک آدمی کو اجرت پر رکھا۔ وہ اس کے اونٹ لے کر گیا تو بنو ہاشم کا ایک اور شخص اسے ملا، اس کے اونٹ کے لگام کا کڑا ٹوٹ گیا تھا۔ تو اس نے ایک رسی مانگی جس سے وہ کڑا باندھ لے تاکہ اونٹ بھاگے نہ، تو اس نے اسے ایک رسی دے دی جس سے اس نے اپنا کڑا باندھ لیا۔ جب وہ رکے تو سب اونٹ باندھ دیے، ایک نہ باندھا تو اس کے مالک نے پوچھا: ”اس کو کیوں نہیں باندھا؟“ اس نے کہا: ”اس کی رسی نہیں ہے۔“ اس نے پوچھا: ”وہ کہاں گئی؟“ تو اس نے بتایا کہ بنو ہاشم کا ایک آدمی گزرا تھا اور اسے مکمل بات بتائی، تو اس نے اسے لاٹھی ماری جس سے وہ مر گیا۔ وہاں سے یمن کے ایک آدمی کا گزر ہوا تو اس قریب الموت آدمی نے اس سے کہا: ”کیا تم حج کے موسم میں مکہ جاؤ گے؟“ اس نے کہا: ”نہیں، لیکن عنقریب میں جاؤں گا۔“ اس نے کہا: ”کیا تم میری طرف سے ایک پیغام وہاں پہنچا دو گے؟“ اس نے کہا: ”ہاں۔“ تو اس نے اسے وہ پیغام لکھ کر دیا کہ: ”پہلے قریش کو پکارنا، پھر بنو ہاشم کو اور پھر ان میں سے ابو طالب کے بارے میں پوچھنا اور انہیں کہنا کہ فلاں نے مجھے ایک رسی کے بدلے قتل کیا ہے۔“ وہ شخص جو اونٹوں کا مالک تھا مکہ آیا تو ابو طالب نے اس سے پوچھا: ”ہمارا ساتھی کہاں ہے؟“ اس نے کہا: ”وہ بیمار ہوا، میں نے اچھی طرح اس کا خیال رکھا، لیکن وہ فوت ہو گیا تو میں نے اسے دفنا دیا۔“ اس شخص کے اہل خانہ کچھ عرصہ ٹھہرے یہاں تک کہ وہ یمانی شخص آگیا اور اس نے موسمِ حج میں آلِ قریش کو پکارا، انہوں نے جواب دیا: ”یہ آلِ قریش ہے۔“ پھر اس نے بنو ہاشم کو پکارا، کہا گیا: ”یہ بنو ہاشم ہیں۔“ اس نے پوچھا: ”ابو طالب کہاں ہیں؟“ کہا گیا: ”یہ ابو طالب ہیں۔“ تو وہ شخص کہنے لگا: ”مجھے فلاں شخص نے قبل الموت یہ پیغام دیا تھا کہ فلاں نے اسے ایک رسی کے بدلے قتل کیا ہے۔“ تو ابو طالب نے قاتل کو بلایا اور کہا: ”اب ان میں سے جو چاہو پسند کر لو، یا تو دیت کے 100 اونٹ ادا کرو یا پھر 50 آدمی تمہاری برات پر قسم اٹھائیں، اگر انکار کرو گے تو ہم تمہیں بدلے میں قتل کریں گے۔“ وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور سارا واقعہ سنایا، انہوں نے کہا: ”ہم قسم اٹھاتے ہیں۔“ تو بنو ہاشم کی ایک عورت جو قاتل کی قوم کے ایک شخص کی بیوی تھی اور اس سے اس کا بچہ بھی تھا، ابو طالب کے پاس آئی اور کہنے لگی: ”اے ابو طالب! اس شخص کو اس بچے کی خاطر ان 50 آدمیوں سے الگ کر دیں جو قسم اٹھانے والے ہیں“، تو ابو طالب نے اسے الگ کر دیا۔ پھر ایک شخص آیا اور کہنے لگا: ”اے ابو طالب! آپ نے سو اونٹوں کی جگہ پچاس آدمیوں سے قسم لینی چاہی ہے، تو ہر آدمی کے حصے میں دو اونٹ آتے ہیں، مجھ سے دو اونٹ لے لیں اور مجھ سے قسم نہ لیں۔“ ابو طالب نے اس سے وہ دو اونٹ قبول کر لیے، باقی 48 آدمی آئے اور انہوں نے قسم اٹھا لی۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!“ ایک سال بھی نہیں گزرا تھا کہ ان 48 میں سے ایک بھی زندہ نہیں بچا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16466]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16467
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، مَوْلَى مَيْمُونَةَ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَرَّ الْقَسَامَةَ عَلَى مَا كَانَتْ عَلَيْهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَرْمَلَةَ وَهَذَا كَلَامٌ خَرَجَ مَخْرَجَ الْجُمْلَةِ، وَإِنَّمَا أَرَادَ بِهِ فِي عَدَدِ الْأَيْمَانِ، فَقَدْ رُوِّينَا فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ قَالَ: وَقَضَى بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ نَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي قَتِيلٍ ادَّعَوْهُ عَلَى الْيَهُودِ، وَقَدْ رُوِّينَاهُ مِنْ أَوْجُهٍ صَحِيحَةٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ وَغَيْرِهِ مِنَ الْأَنْصَارِ كَيْفَ كَانَ قَضَاؤُهُ بَيْنَهُمْ فَوَجَبَ الْمَصِيرُ إِلَيْهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سلیمان بن یسار، صحابہ میں سے ایک رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جاہلیت والے قسامہ کو ہی برقرار رکھا۔
ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے یہودیوں پر دعویٰ قتل میں اس سے فیصلہ فرمایا تھا۔
یہ بات اجمالی طور پر کہی گئی ہے اور اس سے مراد قسموں کی تعداد ہے، کیونکہ ہمیں سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ اور دیگر انصار سے صحیح سندوں کے ساتھ یہ روایت پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان کیسے فیصلہ فرمایا تھا، لہٰذا اسی کو اختیار کرنا ضروری ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16467]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3343. -- باب:
-- باب:
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16468
رَوَى أَبُو دَاوُدَ، فِي الْمَرَاسِيلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْهَمَذَانِيِّ، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، ثنا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: اقْتَتَلَ قَوْمٌ بِالْحِجَارَةِ، فَقُتِلَ بَيْنَهُمْ قَتِيلٌ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَبْسِهِمْ: أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنْبَأَ أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، فَذَكَرَهُ.
حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک قوم پتھروں سے لڑی اور ان کے درمیان قتل بھی کیے گئے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قید کرنے کا حکم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16468]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3344. جماع أبواب كفارة القتل -- باب: ما جاء في وجوب الكفارة في أنواع قتل الخطأ
قتل کے کفارے کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: مختلف اقسام کے قتلِ خطا میں کفارہ واجب ہونے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q16469
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَأً وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ إِلَّا أَنْ يَصَّدَّقُوا فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ}.
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَأً وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ إِلَّا أَنْ يَصَّدَّقُوا فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ﴾ ”اور کسی مومن کے لیے یہ روا نہیں کہ وہ کسی مومن کو قتل کرے مگر غلطی سے، اور جو شخص کسی مومن کو غلطی سے قتل کر دے تو (اس پر) ایک مومن گردن (غلام) آزاد کرنا اور مقتول کے ورثاء کو دیت ادا کرنا ہے، سوائے اس کے کہ وہ (ورثاء دیت) معاف کر دیں، پھر اگر وہ (مقتول) ایسی قوم سے ہو جو تمہاری دشمن ہے اور وہ خود مومن ہو تو ایک مومن گردن آزاد کرنا ہے، اور اگر وہ ایسی قوم سے ہو کہ تمہارے اور ان کے درمیان کوئی معاہدہ ہو تو اس کے ورثاء کو دیت ادا کرنا اور ایک مومن گردن آزاد کرنا ہے۔“ [سورة النساء: 92] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: Q16469]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں