السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3344. جماع أبواب كفارة القتل -- باب: ما جاء في وجوب الكفارة في أنواع قتل الخطأ
قتل کے کفارے کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: مختلف اقسام کے قتلِ خطا میں کفارہ واجب ہونے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16469
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: {مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ} [النساء: ٩٢] يَعْنِي فِي قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ﴿مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ﴾ [سورة النساء: 92] کا مطلب کہ تمہاری دشمن قوم میں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16469]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ للشافعي»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16470
أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: لَجَأَ قَوْمٌ إِلَى خَثْعَمَ، فَلَمَّا غَشِيَهُمُ الْمُسْلِمُونَ اسْتَعْصَمُوا بِالسُّجُودِ فَقَتَلُوا بَعْضَهُمْ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَعْطُوهُمْ نِصْفَ الْعَقْلِ لِصَلَاتِهِمْ" ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ:" أَلَا إِنِّي بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ مَعَ مُشْرِكٍ" قَالُوا: لِمَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" لَا تَرَايَا نَارَاهُمَا" قَالَ الشَّافِعِيُّ: إِنْ كَانَ هَذَا ثَبَتَ فَأَحْسَبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللهُ أَعْلَمُ، أَعْطَى مَنْ أَعْطَى مِنْهُمْ مُتَطَوِّعًا، وَأَعْلَمَهُمْ أَنَّهُ بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ مَعَ مُشْرِكٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ، فِي دَارِ شِرْكٍ لِيُعْلِمَهُمْ أَنْ لَا دِيَاتِ لَهُمْ وَلَا قَوَدَ قَالَ الشَّيْخُ الْفَقِيهُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا مَوْصُولًا.
قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک قوم نے خثعم قبیلہ سے پناہ مانگی، جب مسلمانوں نے انھیں گھیر لیا تو وہ سجدوں میں پڑ کر اپنے آپ کو بچانے لگے لیکن پھر بھی ان میں سے بعض کو قتل کر دیا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتا چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی نمازوں کی وجہ سے نصف دیت ان کو دے دو۔“ اور اس وقت فرمایا تھا: ”میں ہر مسلم سے مشرک کے ساتھ بری ہوں“ تو انھوں نے کہا: کیوں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں کی آگ ایک دوسرے کو نظر نہ آئے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر یہ ثابت ہو تو میں یہ خیال کرتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ویسے ہی تطوعاً انھیں دیا تھا اور ویسے ہی انھیں علم دینے کے لیے کہا تھا کہ ”میں مسلمان سے مشرک کے ساتھ بری ہوں“ کہ وہ دارِ شرک میں تھے تاکہ انھیں پتا چل جائے کہ نہ تو ان کے لیے دیت ہے اور نہ ہی قصاص۔ واللہ اعلم۔
شیخ (بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت موصول سند سے بھی بیان کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16470]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر یہ ثابت ہو تو میں یہ خیال کرتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ویسے ہی تطوعاً انھیں دیا تھا اور ویسے ہی انھیں علم دینے کے لیے کہا تھا کہ ”میں مسلمان سے مشرک کے ساتھ بری ہوں“ کہ وہ دارِ شرک میں تھے تاکہ انھیں پتا چل جائے کہ نہ تو ان کے لیے دیت ہے اور نہ ہی قصاص۔ واللہ اعلم۔
شیخ (بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت موصول سند سے بھی بیان کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16470]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16471
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً إِلَى خَثْعَمَ، فَاعْتَصَمَ نَاسٌ بِالسُّجُودِ فَأَسْرَعَ فِيهُمُ الْقَتْلَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُمْ بِنِصْفِ الْعَقْلِ، وَقَالَ:" أَنَا بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ مُقِيمٍ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُشْرِكِينَ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ وَلِمَ؟ قَالَ:" لَا تَرَايَا نَارَاهُمَا".
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر خثعم کی طرف بھیجا تو لوگوں نے اپنے آپ کو سجدوں میں گر کر بچایا لیکن پھر بھی جلد بازی میں کچھ قتل کر دیے گئے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا پتا چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نصف دیت کا حکم دیا اور فرمایا: ”میں ہر مسلمان سے بری ہوں جو ان مشرکین کے درمیان میں ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: کیوں یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں کی آگ ایک دوسرے کو نظر نہ آئے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16471]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ منكر»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16472
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ إِلَى أُنَاسٍ مِنْ خَثْعَمَ، فَاعْتَصَمُوا بِالسُّجُودِ فَقَتَلَهُمْ، فَوَدَاهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنِصْفِ الدِّيَةِ، ثُمَّ قَالَ:" أَنَا بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ مَعَ مُشْرِكٍ" قَوْلُهُ: فَوَدَاهُمْ، أَظْهَرُ فِي أَنَّهُ أَعْطَاهُ مُتَطَوِّعًا.
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خثعم کے کچھ لوگوں کی طرف بھیجا، انہوں نے سجدوں کے ذریعے اپنے آپ کو بچانا چاہا لیکن انہوں نے انہیں قتل کر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نصف دیت ادا فرمائی، پھر فرمایا: ”میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرک کے ساتھ رہتا ہے۔“
راوی کا قول «فَوَدَاهُمْ» (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دیت ادا کی) اس بات میں زیادہ واضح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تطوعاً دی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16472]
راوی کا قول «فَوَدَاهُمْ» (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دیت ادا کی) اس بات میں زیادہ واضح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تطوعاً دی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16472]
حدیث نمبر: 16473
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَيَّاشٍ، قَالَ: قَالَ لِيَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَأً} فِي جَدِّكَ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، وَفِي الْحَارِثِ بْنِ زَيْدٍ أَخِي بَنِي مَعِيصٍ، كَانَ يُؤْذِيهِمْ بِمَكَّةَ وَهُوَ عَلَى شِرْكِهِ، فَلَمَّا هَاجَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ أَسْلَمَ الْحَارِثُ وَلَمْ يَعْلَمُوا بِإِسْلَامِهِ، فَأَقْبَلَ مُهَاجِرًا حَتَّى إِذَا كَانَ بِظَاهِرَةِ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لَقِيَهُ عَيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ، وَلَا يَظُنُّ إِلَّا أَنَّهُ عَلَى شِرْكِهِ، فَعَلَاهُ بِالسَّيْفِ حَتَّى قَتَلَهُ، فَأَنْزَلَ اللهُ فِيهِ {وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَأً} إِلَى قَوْلِهِ: {فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ} [النساء: ٩٢] يَقُولُ: تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَلَا يَرُدُّ الدِّيَةِ إِلَى أَهْلِ الشِّرْكِ عَلَى قُرَيْشٍ، {وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ} [النساء: ٩٢] يَقُولُ: مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ {فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ} [النساء: ٩٢] .
عبدالرحمن بن حارث بن عبداللہ بن عیاش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے قاسم بن محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ نے بتایا کہ آیت ﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ﴾ [سورة النساء: 92] تمہارے دادا عیاش بن ابی ربیعہ اور حارث بن زید بنو معیص کے بھائی رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی کہ وہ مکہ میں شرک کی حالت میں ایذا دیا کرتا تھا۔ جب صحابہ رضی اللہ عنہم نے ہجرت کی تو حارث رضی اللہ عنہ بھی مسلمان ہو گیا، لیکن مسلمانوں کو اس کے اسلام کا علم نہیں تھا۔ یہ ہجرت کر کے مدینہ پہنچا، ابھی بنو عمرو بن عوف کے پاس پہنچا تھا کہ عیاش رضی اللہ عنہ راستے میں مل گیا، وہ اسے مشرک ہی سمجھتا تھا، تلوار لی اور قتل کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی کہ مومنہ گردن آزاد کر دو اور اگر اس کے ورثا دشمن قوم سے ہوں اور یہ خود مومن ہو تو اس کی دیت انہیں نہ دو۔ اور ﴿وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ﴾ [سورة النساء: 92] سے مراد اہل ذمہ ہیں، تو ایک مومن گردن آزاد کرنا اور اس کے ورثا کو دیت ادا کرنا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16473]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16474
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو الْجَوَّابِ، ثنا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ} [النساء: ٩٢] ، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ يَأْتِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُسَلِّمُ ثُمَّ يَرْجِعُ، إِلَى قَوْمِهِ فَيَكُونُ فِيهِمْ وَهُمْ مُشْرِكُونَ فَيُصِيبُهُ الْمُسْلِمُونَ خَطَأً فِي سَرِيَّةٍ، أَوْ غَزَاةٍ فَيُعْتِقُ الرَّجُلُ رَقَبَةً، {وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ} [النساء: ٩٢] ، قَالَ: يَكُونُ الرَّجُلُ مُعَاهِدًا، وَقَوْمُهُ أَهْلَ عَهْدٍ، فَيُسَلَّمُ إِلَيْهِمْ دِيَتُهُ، وَأَعْتَقَ الَّذِي أَصَابَهُ رَقَبَةً وَفِي تَفْسِيرِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِنَحْوٍ مِنْ هَذَا الْمَعْنَى، قَالَ: وَإِنْ كَانَ فِي أَهْلِ الْحَرْبِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَقَتَلَهُ خَطَأً، فَعَلَى قَاتِلِهِ أَنْ يُكَفِّرَ وَلَا دِيَةَ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ﴿فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ﴾ [سورة النساء: 92] ، فرماتے ہیں کہ کوئی آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا مسلمان ہو کر اپنی قوم میں واپس چلا جاتا۔ پھر مسلمان اگر اس کی مشرک قوم پر حملہ کرتے تو وہ بھی اگر مارا جاتا تو اس کے بدلے کفارے کے طور پر ایک غلام آزاد کر دیتے اور یہ فرمان ﴿فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ﴾ [سورة النساء: 92] الی ﴿رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ﴾ [سورة النساء: 92] کہ جب کسی ایسی قوم کا آدمی ہوتا جن سے معاہدہ ہوتا تو انھیں دیت بھی دی جاتی اور گردن بھی آزاد کی جاتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16474]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16475
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: {فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ} [النساء: ٩٢] قَالَ: يَكُونُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا، وَيَكُونُ قَوْمُهُ كُفَّارًا، فَلَا دِيَةَ لَهُ، وَلَكِنْ عِتْقُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ، {وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ} [النساء: ٩٢] قَالَ: عَهْدٌ، {فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ} [النساء: ٩٢] .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ﴿فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ﴾ [سورة النساء: 92] (اگر وہ مقتول) مومن ہو اور اس کی قوم مشرک ہو تو دیت نہیں بلکہ ایک غلام آزاد کرنا ہے اور ﴿فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ﴾ [سورة النساء: 92] اس سے مراد عہد ہے، ﴿فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ﴾ [سورة النساء: 92] ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16475]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3345. -- باب: المسلمين يقتلون مسلما خطأ في قتال المشركين في غير دار الحرب، أو مريدين له بعينه يحسبونه من العدو
-- باب: مسلمانوں کا دارالحرب کے علاوہ مشرکین سے جنگ کے دوران کسی مسلمان کو غلطی سے قتل کر دینا، یا اسے خاص طور پر دشمن سمجھ کر ارادتاً قتل کر دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 16476
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ يَوْمَ أُحُدٍ هَزِيمَةً تُعْرَفُ فِيهِمْ، فَصَرَخَ إِبْلِيسُ: أَيْ عِبَادَ اللهِ أُخْرَاكُمْ، فَرَجَعَتْ أُولَاهُمْ فَاجْتَلَدَتْ هِيَ وَأُخْرَاهُمْ، فَنَظَرَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ فَإِذَا هُوَ بِأَبِيهِ، فَقَالَ: أَبِي أَبِي فَواللهِ مَا انْحَجَزُوا عَنْهُ حَتَّى قَتَلُوهُ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: غَفَرَ اللهُ لَكُمْ قَالَ عُرْوَةُ: فَوَاللهِ مَا زَالَتْ فِي حُذَيْفَةَ بَقِيَّةُ خَيْرٍ حَتَّى لَقِيَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ فَرْوَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ،.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ احد کے دن مشرکین شکست کھا گئے تو ابلیس چیخا: ”اے اللہ کے بندو! پیچھے دیکھو۔“ مسلمان سمجھ نہ سکے اور آپس میں پیچھے مڑ کر مارنا شروع کر دیا۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما نے اپنے والد کو دیکھا اور چیخنے لگے: ”میرا باپ! میرا باپ!“ لیکن اللہ کی قسم! وہ نہیں رکے اور انہیں قتل کر دیا، تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ تمہیں معاف فرمائے۔“ عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمیشہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ میں خیر باقی رہی یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16476]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16477
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَتَّابٍ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ: الْيَمَانُ أَبُو حُذَيْفَةَ، وَاسْمُهُ حُسَيْلُ بْنُ جُبَيْرٍ حَلِيفٌ لَهُمْ مِنْ بَنِي عَبْسٍ، أَصَابَهُ الْمُسْلِمُونَ زَعَمُوا فِي الْمَعْرَكَةِ لَا يَدْرُونَ مَنْ أَصَابَهُ، فَتَصَدَّقَ حُذَيْفَةُ بِدَمِهِ عَلَى مَنْ أَصَابَهُ قَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ: أَخْطَأَ بِهِ الْمُسْلِمُونَ يَوْمَئِذٍ فَتَوَشَّقُوهُ بِأَسْيَافِهِمْ يَحْسَبُونَهُ مِنَ الْعَدُوِّ، وَإِنَّ حُذَيْفَةَ لَيَقُولُ: أَبِي أَبِي، فَلَمْ يَفْقَهُوا قَوْلَهُ حَتَّى فَرَغُوا مِنْهُ، قَالَ حُذَيْفَةُ: يَغْفِرُ اللهُ لَكُمْ، وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ، قَالَ: فَوَدَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَزَادَتْ حُذَيْفَةَ عِنْدَهُ خَيْرًا.
موسیٰ بن عقبہ کہتے ہیں کہ یمان سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے والد تھے اور ان کا نام حسیل بن جبیر تھا، یہ بنو عبس کے حلیف تھے۔ وہ جنگ میں مسلمانوں کے ہاتھوں شہید ہو گئے، پتا نہیں چلا کہ انہیں کس نے شہید کیا تھا تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان کا خون معاف کر دیا۔
موسیٰ بن عقبہ نے کہا کہ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمان اس دن خطا کھا گئے اور ان کی تلواریں دشمن سمجھ کر آپس میں ٹکرانے لگیں۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ چیخے: میرے والد! میرے والد! لیکن کسی نے نہ سنا اور انہیں شہید کر دیا، تو انہوں نے فرمایا: ﴿يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾ [سورة يوسف: 92] ”اللہ تمہیں معاف کرے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دیت ادا فرمائی، اور اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کا مقام اور بڑھ گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16477]
موسیٰ بن عقبہ نے کہا کہ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمان اس دن خطا کھا گئے اور ان کی تلواریں دشمن سمجھ کر آپس میں ٹکرانے لگیں۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ چیخے: میرے والد! میرے والد! لیکن کسی نے نہ سنا اور انہیں شہید کر دیا، تو انہوں نے فرمایا: ﴿يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾ [سورة يوسف: 92] ”اللہ تمہیں معاف کرے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دیت ادا فرمائی، اور اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کا مقام اور بڑھ گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16477]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16478
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُطَرِّفٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: كَانَ أَبُو حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ شَيْخًا كَبِيرًا، فَرُفِعَ فِي الْآطَامِ مَعَ النِّسَاءِ يَوْمَ أُحُدٍ، فَخَرَجَ يَتَعَرَّضُ الشَّهَادَةَ، فَجَاءَ مِنْ نَاحِيَةِ الْمُشْرِكِينَ فَابْتَدَرَهُ الْمُسْلِمُونَ ⦗٢٢٨⦘ فَتَوَشَّقُوهُ بِأَسْيَافِهِمْ، وَحُذَيْفَةُ يَقُولُ: أَبِي أَبِي، فَلَا يَسْمَعُونَهُ مِنْ شُغْلِ الْحَرْبِ حَتَّى قَتَلُوهُ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: يَغْفِرُ اللهُ لَكُمْ، وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ، فَقَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ بِدِيَةٍ.
عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے والد بہت بوڑھے تھے، احد کے دن انہیں عورتوں کے ساتھ قلعوں میں اوپر پہنچا دیا گیا تھا، وہ شہادت کی تلاش میں نکلے اور مشرکین کی جانب سے آئے تو مسلمان ان کی طرف لپکے اور اپنی تلواروں سے انہیں مارنے لگے، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہہ رہے تھے: ”میرے والد! میرے والد!“ لیکن لڑائی میں مشغول ہونے کی وجہ سے وہ ان کی بات نہ سن سکے یہاں تک کہ انہیں قتل کر دیا، تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ﴿يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾ ”اللہ تمہیں معاف کرے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں دیت کا فیصلہ فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16478]