السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3352. -- باب: تكفير الساحر وقتله إن كان ما يسحر به كلام كفر صريح
-- باب: جادوگر کی تکفیر اور اس کا قتل، اگر وہ ایسے کلمات سے جادو کرتا ہو جو صریح کفر ہوں۔
حدیث نمبر: 16497
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جُنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جُنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، أَنْبَأَ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، وَثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكِنَانِيُّ، قَالُوا: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: مَنْ أَتَى سَاحِرًا أَوْ كَاهِنًا أَوْ عَرَّافًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ”جو کسی کاہن، جادوگر، یا غیب کی خبر دینے والے کے پاس آیا اور اس نے اس کی تصدیق کی تو اس نے شریعتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کفر کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16497]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16498
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، أَنْبَأَ سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ الْمُخَرِّمِيُّ، ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح ⦗٢٣٤⦘ وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ، أَنْبَأَ سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ بَجَالَةَ، يَقُولُ: كَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنِ اقْتُلُوا كُلَّ سَاحِرٍ وَسَاحِرَةٍ، قَالَ: فَقَتَلْنَا ثَلَاثَ سَوَاحِرَ.
بجالہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عمال کو خط لکھا کہ ”جادو گر مرد ہو یا عورت اسے قتل کر دو۔“ کہتے ہیں: ہم نے تین جادو گروں کو قتل کیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16498]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16499
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ، رَضِيَ الله عَنْهُمَا، سَحَرَتْهَا جَارِيَةٌ لَهَا فَأَقَرَّتْ بِالسِّحْرِ وَأَخْرَجَتْهُ فَقَتَلَتْهَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَغَضِبَ، فَأَتَاهُ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: جَارِيَتُهَا سَحَرَتْهَا، أَقَرَّتْ بِالسِّحْرِ وَأَخْرَجَتْهُ، قَالَ: فَكَفَّ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: وَكَأَنَّهُ إِنَّمَا كَانَ غَضَبُهُ لِقَتْلِهَا إِيَّاهَا بِغَيْرِ أَمْرِهِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَمَرَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ تُقْتَلَ السُّحَّارُ، وَاللهُ أَعْلَمُ إِنْ كَانَ السِّحْرُ شِرْكًا، وَكَذَلِكَ أَمْرُ حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی ایک لونڈی نے جادو کر دیا، اس نے اقرار بھی کر لیا اور جادو نکال بھی دیا تو اسے قتل کر دیا گیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو جب یہ پتہ چلا تو وہ بہت غصہ ہوئے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما آئے اور کہنے لگے: عثمان! لونڈی نے جادو کر دیا تھا، پھر اس نے اقرار بھی کر لیا اور اپنا جادو نکال بھی دیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ رک گئے۔ گویا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اس وجہ سے غصہ تھے کہ ان کے حکم کے بغیر اسے قتل کر دیا گیا تھا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جادوگروں کے قتل کا حکم دیا تھا، واللہ اعلم، اگر وہ جادو شرک ہو، اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ بھی اسی طرح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16499]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16500
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْخَلِيلِ الْمَالِينِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَدُّ السَّاحِرِ ضَرْبَةٌ بِالسَّيْفِ" إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ ضَعِيفٌ.
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساحر کی حد تلوار ہے۔“
اسماعیل بن مسلم ضعیف راوی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16500]
اسماعیل بن مسلم ضعیف راوی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16500]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ و الموقوف صحيح»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16501
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثَنَا الْقَاضِي الْمَحَامِلِيُّ، ثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ثَنَا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَ خَالِدٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ جُنْدُبٍ الْبَجَلِيِّ، أَنَّهُ قَتَلَ سَاحِرًا كَانَ عِنْدَ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ، ثُمَّ قَالَ: أَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنْتُمْ تُبْصِرُونَ؟.
حضرت جندب رضی اللہ عنہ نے ولید بن عقبہ کے پاس ایک جادوگر کو قتل کیا، پھر یہ آیت پڑھی: ﴿أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنْتُمْ تُبْصِرُونَ﴾ [سورة الأنبياء: 3] ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16501]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16502
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍِ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ، كَانَ بِالْعِرَاقِ يَلْعَبُ بَيْنَ يَدَيْهِ سَاحِرٌ، وَكَانَ يَضْرِبُ رَأْسَ الرَّجُلِ ثُمَّ يَصِيحُ بِهِ فَيَقُومُ خَارِجًا فَيَرْتَدُّ إِلَيْهِ رَأْسُهُ، فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللهِ يُحْيِي الْمَوْتَى. وَرَآهُ رَجُلٌ مِنْ صَالِحِ الْمُهَاجِرِينَ فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ اشْتَمَلَ عَلَى سَيْفِهِ، فَذَهَبَ يَلْعَبُ لَعِبَهُ ذَلِكَ، فَاخْتَرَطَ الرَّجُلُ سَيْفَهُ فَضَرَبَ عُنُقَهُ فَقَالَ: إِنْ كَانَ صَادِقًا فَلْيُحْيِ نَفْسَهُ، وَأَمَرَ بِهِ الْوَلِيدُ دِينَارًا صَاحِبَ السِّجْنِ، وَكَانَ رَجُلًا ⦗٢٣٥⦘ صَالِحًا فَسَجَنَهُ، فَأَعْجَبَهُ نَحْوُ الرَّجُلِ، فَقَالَ: أَفَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَهْرُبَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاخْرُجْ لَا يَسْأَلُنِي اللهُ عَنْكَ أَبَدًا.
سیدنا ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ ایک دفعہ عراق گئے، دیکھا کہ جادوگر آپس میں کھیل رہے ہیں کہ وہ ایک آدمی کا سر کاٹتے، پھر اسے صحیح کر دیتے۔ لوگ کہنے لگے: ” «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ! یہ مردے کو زندہ کر رہے ہیں۔“ وہاں ایک صالح مہاجر آدمی بھی تھا، وہ چلا گیا اور دوسرے دن جب جادوگر اپنا کرتب دکھانے لگا تو یہ تلوار لے آیا اور اس جادوگر کی گردن کاٹ دی اور کہا: ”اگر یہ اتنا سچا تھا تو اب اپنے آپ کو زندہ کر کے دکھائے۔“ سیدنا ولید رضی اللہ عنہ نے اسے قید خانے کے نگران دینار کے حوالے کرنے کا حکم دیا، وہ ایک نیک آدمی تھا، اس نے اسے قید کر دیا، لیکن اسے اس آدمی کا طرزِ عمل پسند آیا تو اس نے کہا: ”کیا تم بھاگ سکتے ہو؟“ اس نے کہا: ”ہاں“، تو اس نے کہا: ”نکل جاؤ، اللہ تعالیٰ مجھ سے تمہارے بارے میں کبھی سوال نہیں کرے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16502]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3353. -- باب: قبول توبة الساحر، وحقن دمه بتوبته
-- باب: جادوگر کی توبہ قبول ہونے اور اس کی توبہ کے سبب اس کی جان بچ جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 16503
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ وَغَيْرِهِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ شُعَيْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں، یہاں تک کہ وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کہیں۔ جب انہوں نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کہہ دیا تو انہوں نے مجھ سے اپنے مال اور جان کو بچا لیا مگر اس کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16503]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16504
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَرَّةَ، سَمِعَ أَبَا عُبَيْدَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللهَ يَبْسُطُ يَدَهُ بِاللَّيْلِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ النَّهَارِ، وَبِالنَّهَارِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ اللَّيْلِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ بُنْدَارٍ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ، وَكَفَاكَ بِسَحَرَةِ فِرْعَوْنَ وَقِصَّتِهِمْ فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي قَبُولِ تَوْبَةِ السَّاحِرِ.
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اپنے ہاتھوں کو رات کے وقت کھولتے ہیں کہ دن کا بھولا توبہ کر لے اور دن کو ہاتھ کھولتے ہیں کہ رات کا بھولا توبہ کر لے، یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو گا۔“
اور فرعون کے جادوگروں کی توبہ جو قرآن میں تفصیلاً ذکر ہے، جادوگر کی توبہ کے قبول کے لیے کافی دلیل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16504]
اور فرعون کے جادوگروں کی توبہ جو قرآن میں تفصیلاً ذکر ہے، جادوگر کی توبہ کے قبول کے لیے کافی دلیل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16504]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16505
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ، مِنْ أَصْلِهِ، قَالُوا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلَيَّ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ دُومَةِ الْجَنْدَلِ، جَاءَتْ تَبْتَغِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَوْتِهِ حَدَاثَةَ ذَلِكَ تَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ دَخَلَتْ فِيهِ مِنْ أَمْرِ السِّحْرِ وَلَمْ تَعْمَلْ بِهِ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا لِعُرْوَةَ: يَا ابْنَ أُخْتِي فَرَأَيْتُهَا تَبْكِي حِينَ لَمْ تَجِدْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَتْ تَبْكِي حَتَّى أَنِّي لَأَرْحَمُهَا، تَقُولُ: إِنِّي لَأَخَافُ أَنْ أَكُونَ قَدْ هَلَكْتُ، كَانَ لِي زَوْجٌ فَغَابَ عَنِّي، فَدَخَلْتُ عَلَى عَجُوزٍ فَشَكَوْتُ إِلَيْهَا ذَلِكَ، فَقَالَتْ: إِنْ فَعَلْتِ مَا آمُرُكِ بِهِ فَأَجْعَلْهُ يَأْتِيكِ، فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ جَاءَتْنِي بِكَلْبَيْنِ أَسْوَدَيْنِ فَرَكِبَتْ أَحَدَهُمَا وَرَكِبْتُ الْآخَرَ، فَلَمْ يَكُنْ كَثِيرٌ حَتَّى وَقَفْنَا بِبَابِلَ، فَإِذَا بِرَجُلَيْنِ مُعَلَّقَيْنِ بِأَرْجُلِهِمَا، فَقَالَا: مَا جَاءَ بِكِ؟ فَقُلْتُ: أَتَعَلَّمُ السِّحْرَ، فَقَالَا: إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ، فَلَا تَكْفُرِي، وَارْجِعِي، ⦗٢٣٦⦘ فَأَبَيْتُ وَقُلْتُ: لَا، قَالَا: فَاذْهَبِي إِلَى ذَلِكَ التَّنُّورِ فَبُولِي فِيهِ، فَذَهَبْتُ فَفَزِعْتُ وَلَمْ تَفْعَلْ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِمَا، فَقَالَا: فَعَلْتِ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَا: هَلْ رَأَيْتِ شَيْئًا؟ قُلْتُ: لَمْ أَرَ شَيْئًا، فَقَالَا: لَمْ تَفْعَلِي، ارْجِعِي إِلَى بِلَادِكِ، وَلَا تَكْفُرِي. فَأَرِبْتُ وَأَبَيْتُ، فَقَالَا: اذْهَبِي إِلَى ذَلِكَ التَّنُّورِ فَبُولِي فِيهِ، ثُمَّ ائْتِي، فَذَهَبْتُ فَاقْشَعَرَّ جِلْدِي وَخِفْتُ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَيْهِمَا فَقُلْتُ: قَدْ فَعَلْتُ، فَقَالَا: فَمَا رَأَيْتِ؟ فَقُلْتُ: لَمْ أَرَ شَيْئًا، فَقَالَا: كَذَبْتِ، لَمْ تَفْعَلِي، فَارْجِعِي إِلَى بِلَادِكِ وَلَا تَكْفُرِي، فَإِنَّكِ عَلَى رَأْسِ أَمْرِكِ. فَأَرِبْتُ وَأَبَيْتُ، فَقَالَا: اذْهَبِي إِلَى ذَلِكَ التَّنُّورِ فَبُولِي فِيهِ، فَذَهَبْتُ إِلَيْهِ فَبُلْتُ فِيهِ فَرَأَيْتُ فَارِسًا مُقَنَّعًا بِحَدِيدٍ قَدْ خَرَجَ مِنِّي، حَتَّى ذَهَبَ فِي السَّمَاءِ، وَغَابَ عَنِّي حَتَّى مَا أُرَاهُ، فَجِئْتُهُمَا فَقُلْتُ: قَدْ فَعَلْتُ، فَقَالَا: فَمَا رَأَيْتِ؟ فَقُلْتُ: رَأَيْتُ فَارِسًا مُقَنَّعًا خَرَجَ مِنِّي فَذَهَبَ فِي السَّمَاءِ حَتَّى مَا أُرَاهُ، فَقَالَا: صَدَقْتِ، ذَلِكَ إِيمَانُكِ خَرَجَ مِنْكِ، اذْهَبِي فَقُلْتُ لِلْمَرْأَةِ: وَاللهِ مَا أَعْلَمُ شَيْئًا، وَمَا قَالَ لِي شَيْئًا، قَالَتْ: بَلَى، إِنْ تُرِيدِي شَيْئًا إِلَّا كَانَ، خُذِي هَذَا الْقَمْحَ فَابْذُرِي، فَبَذَرْتُ، فَقُلْتُ: اطْلُعِي، فَطَلَعَتْ، فَقُلْتُ: أَحْقِلِي، فَأَحْقَلَتْ، ثُمَّ قُلْتُ: أَفْرِكِي، فَأَفْرَكَتْ، ثُمَّ قُلْتُ: أَيْبِسِي، فَأَيْبَسَتْ، ثُمَّ قُلْتُ: اطْحَنِي، فَأَطْحَنَتْ، ثُمَّ قُلْتُ: اخْبِزِي، فَأَخْبَزْتُ. فَلَمَّا رَأَيْتُ أَنِّي لَا أُرِيدُ شَيْئًا إِلَّا كَانَ سُقِطَ فِي يَدَي، وَنَدِمْتُُ وَاللهِ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، مَا فَعَلْتُ شَيْئًا قَطُّ وَلَا أَفْعَلُهُ أَبَدًا. فَسَأَلَتْ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يَوْمَئِذٍ مُتَوَافِرُونَ فَمَا دَرَوْا مَا يَقُولُونَ لَهَا، وَكُلُّهُمْ هَابَ وَخَافَ أَنْ يُفْتِيَهَا بِمَا لَا يَعْلَمُ، إِلَّا أَنَّهُ قَدْ قَالَ لَهَا ابْنُ عَبَّاسٍ، أَوْ بَعْضُ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ: لَوْ كَانَ أَبَوَاكَ حَيَّيْنِ أَوْ أَحَدُهُمَا. قَالَ هِشَامٌ: فَلَوْ جَاءَتْنَا الْيَوْمَ أَفْتَيْنَاهَا بِالضَّمَانِ. قَالَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ: وَكَانَ هِشَامٌ يَقُولُ: إِنَّهُمْ كَانُوا أَهْلَ وَرَعٍ وَخَشْيَةٍ مِنَ اللهِ، وَبُعَدَاءَ مِنَ التَّكَلُّفِ وَالْجُرْأَةِ عَلَى اللهِ، ثُمَّ يَقُول هِشَامٌ: وَلَكِنَّهَا لَوْ جَاءَتِ الْيَوْمَ مِثْلُهَا لَوَجَدَتْ تُوكِي أَهْلَ حُمْقٍ وَتَكَلُّفٍ بِغَيْرِ عَلِمٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دُومۃ الجندل کی ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے کچھ ہی عرصہ بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھونڈتی ہوئی آئی تاکہ آپ سے جادو کے ایک معاملے کے بارے میں سوال کرے جس میں وہ پڑ گئی تھی لیکن اس پر عمل نہیں کیا تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عروہ رحمہ اللہ سے کہا: اے بھانجے! میں نے دیکھا کہ جب اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ ملے تو وہ رو پڑی، وہ اتنا روئی کہ مجھے اس پر بڑا ترس آیا، وہ کہہ رہی تھی: مجھے ڈر ہے کہ کہیں میں ہلاک نہ ہو گئی ہوں، میرا خاوند مجھ سے غائب ہو گیا تھا، میں ایک بڑھیا کے پاس گئی اور اس سے اس کی شکایت کی تو وہ کہنے لگی: اگر تو وہ کرے جو میں تجھے کہوں تو میں اسے تیرے پاس لے آؤں گی۔ جب رات ہوئی تو وہ میرے پاس دو سیاہ کتے لے آئی، ایک پر وہ سوار ہو گئی اور ایک پر میں۔ تھوڑی ہی دیر میں ہم بابل جا پہنچے تو میں نے دیکھا کہ دو شخص اپنے پاؤں کے بل الٹے لٹکے ہوئے ہیں۔ وہ کہنے لگے: کیوں آئی ہو؟ میں نے کہا: جادو سیکھنے، تو انھوں نے کہا: ﴿إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ﴾ [سورة البقرة: 102] ”ہم تو محض ایک آزمائش ہیں، پس تم کفر نہ کرو“ اور کہنے لگے: لوٹ جا۔ میں نے انکار کر دیا تو انھوں نے کہا: ”اس تنور کے پاس جاؤ اور اس میں پیشاب کرو“، میں گئی لیکن گھبراہٹ کی وجہ سے نہ کر سکی اور ویسے ہی آ گئی۔ پوچھا: ”کیا پیشاب کر آئی ہو؟“ کہا: ہاں! پوچھا: ”کیا کچھ دیکھا ہے؟“ کہا: نہیں، تو وہ کہنے لگے: ”پھر تم نے کچھ کیا ہی نہیں، اپنے وطن واپس چلی جا اور کفر نہ کر“۔ لیکن میں اڑی رہی اور انکار کر دیا، پھر بولے: ”جاؤ اس تنور میں پیشاب کر کے آؤ“، میں گئی تو میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور میں ڈر گئی، پھر واپس آ کر کہا: میں نے کر لیا ہے، انھوں نے پوچھا: ”کیا دیکھا؟“ میں نے کہا: کچھ نہیں دیکھا، تو کہنے لگے: ”تو نے جھوٹ بولا، تو نے کیا ہی نہیں، اپنے وطن واپس چلی جا اور کفر نہ کر، ابھی تو تیرا معاملہ شروع میں ہے“، میں اڑی رہی اور انکار کر دیا تو بولے: ”جاؤ اس تنور میں پیشاب کرو“، میں گئی اور کر دیا تو میں نے دیکھا کہ میرے اندر سے لوہے کا نقاب پہنے ایک گھڑ سوار نکلا اور آسمان میں چلا گیا یہاں تک کہ میری نظروں سے اوجھل ہو گیا، میں واپس آئی اور سارا واقعہ ان دونوں کو سنایا تو وہ کہنے لگے: ”تو نے سچ کہا، یہ تیرا ایمان تھا جو تجھ سے نکل گیا، جا“۔ میں نے اس (بڑھیا) عورت سے کہا کہ واللہ! مجھے تو کچھ معلوم نہیں ہوا اور نہ انھوں نے مجھے کچھ بتایا، تو وہ کہنے لگی: کیوں نہیں، تو جس چیز کا بھی ارادہ کرے گی وہ ہو جائے گی، یہ گندم لے اور اسے بو دے۔ میں نے بو دی اور کہا: اُگ جا، تو وہ اُگ آئی، میں نے کہا: بالیاں نکال، تو بالیاں نکل آئیں، پھر کہا: پک جا، تو پک گئی، پھر کہا: سوکھ جا، تو سوکھ گئی، پھر کہا: پس جا، تو پس گئی، پھر کہا: روٹی بن جا، تو روٹی بن گئی۔ جب میں نے دیکھا کہ میں جس چیز کا بھی ارادہ کرتی ہوں وہ ہو جاتی ہے تو میں سخت پشیمان ہوئی۔ واللہ! اے ام المؤمنین! میں نادم ہوں، میں نے اس سے ابھی تک کچھ بھی نہیں کیا اور نہ آئندہ کروں گی۔ پھر اس نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے، جو اس وقت بڑی تعداد میں موجود تھے، اس بارے میں سوال کیا لیکن وہ نہ سمجھ سکے کہ اسے کیا کہیں، اور ہر ایک بغیر علم کے فتویٰ دینے سے ڈرا۔ صرف ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یا ان کے پاس موجود کسی شخص نے یہ بات کہی کہ اگر تیرے والدین یا ان میں سے کوئی ایک زندہ ہوتا۔ ہشام رحمہ اللہ کہتے ہیں: اگر وہ آج ہمارے پاس آتی تو ہم اسے ضمان کا فتویٰ دیتے، لیکن چونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بہت زیادہ محتاط اور اللہ سے ڈرنے والے تھے اس لیے خاموش رہے۔ پھر ہشام رحمہ اللہ کہتے ہیں: اگر آج ایسا کوئی واقعہ ہو جائے تو کئی احمق اور بیوقوف کھڑے ہو جائیں جو بغیر علم کے فتویٰ دیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16505]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3354. -- باب: من لا يكون سحره كفرا ولم يقتل به أحدا لم يقتل
-- باب: جس کا جادو کفر کی حد تک نہ پہنچا ہو اور اس نے اس کے ذریعے کسی کو قتل نہ کیا ہو تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 16506
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، قَالَا: أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي ابْنُ عَمْرَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَارِثَةَ وَهُوَ أَبُو الرِّجَالِ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَصَابَهَا مَرَضٌ وَأَنَّ بَعْضَ بَنِي أَخِيهَا ذَكَرُوا شَكْوَاهَا لِرَجُلٍ مِنَ الزُّطِّ يَتَطَيَّبُ، وَأَنَّهُ قَالَ لَهُمْ: إِنَّكُمْ لَتَذْكُرُونَ امْرَأَةً مَسْحُورَةً سَحَرَتْهَا جَارِيَةٌ لَهَا فِي حِجْرِ الْجَارِيَةِ الْآنَ صَبِيُّ قَدْ بَالَ فِي ⦗٢٣٧⦘ حِجْرِهَا، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ الله عَنْهَا فَقَالَتْ: ادْعُوا لِي فُلَانَةً، لَجَارِيَةٍ لَهَا، قَالُوا: فِي حِجْرِهَا فُلَانٌ، لِصَبِيٍّ لَهُمْ، قَدْ بَالَ فِي حِجْرِهَا، فَقَالَتْ: إِيْتُونِي بِهَا، فَأُتِيَتْ بِهَا فَقَالَتْ: سَحَرْتِنِي؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَتْ: لِمَهْ؟ قَالَتْ: أَرَدْتُ أَنْ أُعْتَقَ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَعْتَقَتْهَا عَنْ دُبُرٍ مِنْهَا، فَقَالَتْ: إِنَّ لِلَّهِ عَلِيَّ أَنْ لَا تُعْتَقِي أَبَدًا، انْظُرُوا أَسْوَأَ الْعَرَبِ مَلَكَةً فَبِيعُوهَا مِنْهُمْ، وَاشْتَرَتْ بِثَمَنِهَا جَارِيَةً فَأَعْتَقَتْهَا.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ ایک دفعہ وہ بیمار ہوگئیں تو ان کے بعض بھتیجوں نے ان کی بیماری کا ذکر زط قوم کے ایک آدمی سے کیا جو علاج معالجہ کرتا تھا، تو اس نے ان سے کہا: تم ایک ایسی عورت کا ذکر کر رہے ہو جس پر جادو کیا گیا ہے، اس پر اس کی لونڈی نے جادو کیا ہے، اس لونڈی کی گود میں اب ایک بچہ بھی ہے جس نے اس کی گود میں پیشاب کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ بات آ کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتائی تو آپ نے فرمایا: فلاں لونڈی کو بلاؤ، انہوں نے کہا: اس کی گود میں ہمارا فلاں بچہ ہے جس نے اس کی گود میں پیشاب کر دیا ہے، آپ نے فرمایا: اسے میرے پاس لاؤ، اسے لایا گیا تو آپ نے پوچھا: کیا تو نے مجھ پر جادو کیا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، پوچھا: کیوں؟ کہنے لگی: میں چاہتی تھی کہ آزاد ہو جاؤں، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے اپنی وفات کے بعد آزاد ہونے والی (مدبرہ) قرار دیا تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں اللہ کے لیے نذر مانتی ہوں کہ تو کبھی آزاد نہ ہوگی، دیکھو عربوں میں سے جو غلاموں کے ساتھ سب سے برا سلوک کرنے والے ہوں انہیں یہ بیچ دو، اور پھر اس کی قیمت سے ایک دوسری لونڈی خریدی اور اسے آزاد کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16506]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح