السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3567. -- باب: ما على الوالي من أمر الجيش
-- باب: لشکر کے معاملات میں حاکم پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔
حدیث نمبر: 17901
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ زِيَادٍ عَادَ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ رَضِيَ ⦗٧١⦘ اللهُ عَنْهُ فِي مَرَضِهِ، فَقَالَ لَهُ مَعْقِلٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنِّي مُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ لَوْلَا أَنِّي فِي الْمَوْتِ لَمْ أُحَدِّثْكَ بِهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا مِنْ أَمِيرٍ يَلِي أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ ثُمَّ لَا يَجْهَدُ لَهُمْ وَلَا يَنْصَحُ إِلَّا لَمْ يَدْخُلْ مَعَهُمُ الْجَنَّةَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي غَسَّانَ وَغَيْرِهِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ.
حضرت ابو ملیح رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبید اللہ بن زیاد حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی تیمار داری کے لیے گئے تو حضرت معقل رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میں تجھ کو ایسی حدیث سنا رہا ہوں، اگر میری موت قریب نہ ہوتی تو میں نہ بتاتا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مسلمانوں کا والی ہو اور وہ ان کے لیے جدوجہد نہ کرے اور ان کی خیر خواہی نہ کرے، وہ اپنی قوم کے ساتھ جنت میں نہیں جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17901]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17902
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْإِمَامُ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا أَبُو الْأَشْهَبِ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: عَادَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زِيَادٍ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ الْمُزَنِيَّ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَقَالَ مَعْقِلٌ: إِنِّي مُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَوْ عَلِمْتُ أَنَّ بِي حَيَاةً مَا حَدَّثْتُكَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِيهِ رَعِيَّةً يَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لِرَعِيَّتِهِ إِلَّا حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ أَبِي الْأَشْهَبِ وَرُوِّينَا فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا عَلَى سَرِيَّةٍ أَوْ جَيْشٍ أَوْصَاهُ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ بِتَقْوَى اللهِ وَبِمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا".
عبیداللہ بن زیاد حضرت معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گئے۔ اسی مرض میں ہی آپ فوت ہو گئے تھے۔ حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ایک حدیث بیان کروں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور انہوں نے کہا: اگر مجھے علم ہوتا کہ میری زندگی ابھی باقی ہے تو میں یہ حدیث نہ بیان کرتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس بندے کو اللہ کسی قوم کا نگران بنا دے اور وہ اپنی قوم کو دھوکا دے تو وہ جب بھی مرے گا تو اللہ نے اس پر جنت حرام کردی ہے۔“
سلیمان بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی لشکر کو روانہ کرتے اور ان کا امیر مقرر کرتے تو اس کو خاص تقویٰ کی نصیحت کرتے اور جو مسلمان اس کے ساتھ ہوتے ان کے ساتھ بھلائی کی نصیحت کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17902]
سلیمان بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی لشکر کو روانہ کرتے اور ان کا امیر مقرر کرتے تو اس کو خاص تقویٰ کی نصیحت کرتے اور جو مسلمان اس کے ساتھ ہوتے ان کے ساتھ بھلائی کی نصیحت کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17902]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17903
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ فِي غَزْوَةٍ فَأَصَابَتْنَا مَخْمَصَةٌ، فَكَتَبَ جَرِيرٌ إِلَى مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ لَا يَرْحَمِ النَّاسَ لَا يَرْحَمْهُ اللهُ". قَالَ: وَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ أَنْ يَقْفِلُوا. قَالَ: وَمَتَّعَهُمْ، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: فَأَنَا أَدْرَكْتُ قَطِيفَةً مِمَّا مَتَّعَهُمْ.
ابو اسحاق کے والد کہتے ہیں کہ ہم سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ ہمیں بھوک لاحق ہوئی تو سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان لکھا کہ ”جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ اس پر رحم نہیں کرتا۔“ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ وہ لوٹ آئیں اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کو مال دیا۔ ابو اسحاق کہتے ہیں: میں نے اس میں سے ایک چادر پائی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17903]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بدون القصه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17904
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ: قَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَرْحَمُ اللهُ مَنْ لَا يَرْحَمُ النَّاسَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ اس پر رحم نہیں کرتا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17904]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17905
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ مِهْرَانَ الْعَبْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي قَابُوسَ، مَوْلًى لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ ⦗٧٢⦘ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمَنُ، ارْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ".
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رحم کرنے والوں پر رحمن رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر مہربانی کرو تو آسمان والا تم پر مہربان ہو گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17905]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 17906
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، قَالَ: اسْتَعْمَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَجُلًا مِنْ بَنِي أَسَدٍ عَلَى عَمَلٍ فَجَاءَ يَأْخُذُ عَهْدَهُ، قَالَ: فَأَتَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِبَعْضِ وَلَدِهِ فَقَبَّلَهُ، قَالَ: أَتُقَبِّلُ هَذَا؟ مَا قَبَّلْتُ وَلَدًا قَطُّ. فَقَالَ عُمَرُ:" فَأَنْتَ بِالنَّاسِ أَقَلُّ رَحْمَةً، هَاتِ عَهْدَنَا، لَا تَعْمَلْ لِي عَمَلًا أَبَدًا".
سیدنا ابو عثمان نہدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بنو اسد کے ایک آدمی کے ذمہ ایک کام لگایا، وہ اپنا تقرر نامہ لینے آیا تو اس وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کا کوئی بچہ لایا گیا تو انہوں نے اس کو بوسہ دیا، اس نے کہا: ”کیا آپ اس کو بوسہ دیتے ہیں! میں نے کبھی کسی بچے کو بوسہ نہیں دیا۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم لوگوں کے معاملے میں مہربانی کم ہے، ہمارا تقرر نامہ واپس کر دے اور آئندہ کبھی ہمارے لیے کام نہ کرنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17906]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 17907
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءٍ، ثنا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، ثنا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي فِرَاسٍ، قَالَ: شَهِدْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ قَدْ أَتَى عَلَيَّ زَمَانٌ وَأَنَا أَرَى أَنَّ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ يُرِيدُ بِهِ اللهَ وَمَا عِنْدَهُ، فَيُخَيَّلُ إِلِيَّ بِأَخَرَةٍ أَنَّ قَوْمًا قَرءُوهُ يُرِيدُونَ بِهِ النَّاسَ وَيُرِيدُونَ بِهِ الدُّنْيَا، أَلَا فَأَرِيدُوا اللهَ بِأَعْمَالِكُمْ، ألَا فَأَرِيدُوا اللهَ بِأَعْمَالِكُمْ، أَلَا إِنَّمَا كُنَّا نَعْرِفُكُمْ إِذْ يَتَنَزَّلُ الْوَحْيُ، وَإِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا، وَإِذْ نَبَّأَنَا اللهُ مِنْ أَخْبَارِكُمْ، فَقَدِ انْقَطَعَ الْوَحْيُ وَذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّمَا نَعْرِفُكُمْ بِمَا أَقُولُ لَكُمْ، أَلَا مَنْ رَأَيْنَا مِنْهُ خَيْرًا ظَنَنَّا بِهِ خَيْرًا وَأَحْبَبْنَاهُ عَلَيْهِ، وَمَنْ رَأَيْنَا مِنْهُ شَرًّا ظَنَنَّا بِهِ شَرًّا وَأَبْغَضْنَاهُ عَلَيْهِ، سَرَائِرُكُمْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رَبِّكُمْ، أَلَا إِنَّمَا أَبْعَثُ عُمَّالِي لِيُعَلِّمُوكُمْ دِينَكُمْ وَلِيُعَلِّمُوكُمْ سُنَّتَكُمْ، وَلَا أَبْعَثُهُمْ لِيَضْرِبُوا ظُهُورَكُمْ، وَلَا لِيَأْخُذُوا أَمْوَالَكُمْ، أَلَا فَمَنْ رَابَهُ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ فَلْيَرْفَعْهُ إِلِيَّ، فَوَالَّذِي نَفْسُ عُمَرَ بِيَدِهِ لَأُقِصَّنَّ مِنْهُ". فَقَامَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنْ بَعَثْتَ عَامِلًا مِنْ عُمَّالِكَ فَأَدَّبَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ رَعِيَّتِهِ فَضَرَبَهُ إِنَّكَ لَمُقِصُّهُ مِنْهُ؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَالَّذِي نَفْسُ عُمَرَ بِيَدِهِ لَأُقِصَّنَّ مِنْهُ، وَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقِصُّ مِنْ نَفْسِهِ، أَلَا لَا تَضْرِبُوا الْمُسْلِمِينَ فَتُذِلُّوهُمْ، وَلَا تَمْنَعُوهُمْ حُقُوقَهُمْ فَتُكْفِرُوهُمْ، وَلَا تُجَمِّرُوهُمْ فَتَفْتِنُوهُمْ، وَلَا تُنْزِلُوهُمُ الْغِيَاضَ فَتُضَيِّعُوهُمْ.
سیدنا ابو فراس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، وہ لوگوں کو وعظ کر رہے تھے کہ ”اے لوگو! مجھ پر ایسا زمانہ گزرا ہے کہ میں نے لوگوں کو دیکھا وہ قرآن پڑھتے تھے، بدلہ اللہ کی رضا اور اجر چاہتے تھے۔ پھر آخر میں مجھے یوں محسوس ہونے لگا ہے کہ کچھ لوگوں نے قرآن پڑھا ہے مگر لوگوں کو خوش کرنے کے لیے اور بدلے میں دنیا کا مال حاصل کرنے کے لیے۔ خبردار! تلاوتِ قرآن سے اللہ کی رضا طلب کرو۔ خبردار! اپنے اعمال سے اللہ کو راضی کرو۔ خبردار! ہم تمہیں جانتے ہیں، جب وحی نازل ہو رہی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے، اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمہارے بارے میں خبریں دے دی تھیں۔ اب وحی ختم ہو گئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے اب ہم تمہیں صرف اسی سے پہچانتے ہیں جو میں تم سے کہہ رہا ہوں۔ خبردار! جس میں ہم بھلائی دیکھتے ہیں اور بھلا خیال کرتے ہیں اور اس کو پسند کرتے ہیں، اور جس میں برائی دیکھتے ہیں اس کو برا سمجھتے ہیں اور اس پر ناراض ہوتے ہیں، اور تمہارے راز اللہ اور تمہارے درمیان ہیں۔ خبردار! ہم عمال کو اس لیے بھیجتے ہیں تاکہ وہ تمہیں دین اور سنت سکھائیں، اس لیے نہیں بھیجتے کہ وہ تمہاری پیٹھ پر ماریں اور نہ اس لیے کہ وہ تمہارا مال لے لیں۔ خبردار! اگر کسی کو ان باتوں میں شک ہو تو وہ ہم تک پہنچائے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں عمر کی جان ہے! میں اس سے بدلہ لوں گا۔“ تو سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر کہنے لگے: ”اے امیر المؤمنین! اگر آپ کسی عامل کو بھیجیں اور وہ ادب سکھانے کے لیے کسی کو مارے تو کیا اس سے بھی بدلہ لیں گے؟“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں! اللہ کی قسم میں اس سے بھی بدلہ لوں گا۔ میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود کو قصاص کے لیے پیش کرتے تھے۔ خبردار! مسلمانوں کو مار کر ذلیل نہ کرو، ان کے حقوق روک کر انہیں ناشکری (کفر) پر مجبور نہ کرو، ان کو گھر جانے سے روک کر فتنے میں مبتلا نہ کرو اور دشوار گزار جگہ اتار کر مسلمانوں کو ہلاک نہ کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17907]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17908
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أَخْبَرَنِي الثَّقَفِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَأَلَهُ:" إِذَا حَاصَرْتُمُ الْمَدِينَةَ كَيْفَ تَصْنَعُونَ؟". قَالَ: نَبْعَثُ الرَّجُلَ إِلَى الْمَدِينَةِ ونَصْنَعُ لَهُ هَنَةً مِنْ جُلُودٍ. قَالَ:" أَرَأَيْتَ إِنْ ⦗٧٣⦘ رُمِيَ بِحَجَرٍ؟". قَالَ: إِذًا يُقْتَلَ. قَالَ:" فَلَا تَفْعَلُوا، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا يَسُرُّنِي أَنْ تَفْتَتِحُوا مَدِينَةً فِيهَا أَرْبَعَةُ آلَافِ مُقَاتِلٍ بِتَضْيِيعِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: جب تم کسی شہر کا محاصرہ کرتے ہو تو کیا طریقہ اختیار کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم شہر کی طرف ایک آدمی کو بھیجتے ہیں اور اسے چمڑے کی ڈھال دیتے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اگر اسے پتھر پھینک کر مارا جائے تو؟ عرض کیا: پھر وہ مر جائے گا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے اللہ کی قسم! ایک مسلمان کا ضیاع چار ہزار لڑائی کے قابل آدمیوں کے شہر کی فتح کے بدلہ میں بھی پسند نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17908]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17909
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، قَالَا: ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَصَابَ النَّاسَ سَنَةٌ غَلَا فِيهَا السَّمْنُ، فَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْكُلُ الزَّيْتَ فَيُقَرْقِرُ بَطْنُهُ". وَفِي رِوَايَةِ يَحْيَى قَالَ:" كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْكُلُهُ، فَلَمَّا قَلَّ قَالَ:" لَا آكُلُهُ حَتَّى يَأْكُلَهُ النَّاسُ". قَالَ: فَكَانَ يَأْكُلُ الزَّيْتَ فَيُقَرْقِرُ بَطْنُهُ". قَالَ ابْنُ مُكْرَمٍ فِي رِوَايَتِهِ:" فَقَالَ:" قَرْقِرْ مَا شِئْتَ فَوَاللهِ لَا آكُلُ السَّمْنَ حَتَّى يَأْكُلَهُ النَّاسُ". ثُمَّ قَالَ لِي:" اكْسِرْ حَرَّهُ عَنِّي بِالنَّارِ". فَكُنْتُ أَطْبُخُهُ لَهُ فَيَأْكُلُهُ.
حضرت زید بن اسلم رحمہ اللہ کے والد فرماتے ہیں: مسلمانوں پر ایک ایسا سال آیا جس میں گھی کی قیمت بڑھ گئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ زیتون کا تیل کھاتے تھے جس سے ان کا پیٹ بولتا (گڑگڑاتا) تھا، اور یحییٰ کی روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ گھی کھاتے تھے۔ جب وہ کم ہو گیا تو انہوں نے کہا: اس وقت تک نہیں کھاؤں گا جب تک لوگ نہ کھائیں۔ چنانچہ آپ تیل کھایا کرتے تھے جس سے آپ کا پیٹ بولتا تھا۔ ابن مکرم کی روایت میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پیٹ کو مخاطب کر کے کہا: جتنا چاہے بول، اللہ کی قسم! میں اس وقت تک گھی نہیں کھاؤں گا جب تک لوگ نہ کھائیں۔ پھر انہوں نے مجھے کہا: اس کی گرمی کو آگ سے ختم کرو، میں آپ کے لیے اس کو پکاتا تھا اور آپ کھاتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17909]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17910
حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ طَاوُسٍ، وَعِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّ حَفْصَةَ، وَابْنَ مُطِيعٍ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ كَلَّمُوا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالُوا: لَوْ أَكَلْتَ طَعَامًا طَيِّبًا كَانَ أَقْوَى لَكَ عَلَى الْحَقِّ. قَالَ:" أَكُلُّكُمْ عَلَى هَذَا الرَّأْيِ؟". قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ:" قَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ لَيْسَ مِنْكُمْ إِلَّا نَاصِحٌ، وَلَكِنْ تَرَكْتُ صَاحِبِيَّ عَلَى جَادَّةٍ فَإِنْ تَرَكْتُ جَادَّتَهُمَا لَمْ أُدْرِكْهُمَا فِي الْمَنْزِلِ". قَالَ:" وَأَصَابَ النَّاسَ سَنَةٌ فَمَا أَكَلَ عَامَئِذٍ سَمْنًا وَلَا سَمِينًا حَتَّى أَحْيَا النَّاسُ.
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا، ابن مطیع اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور آپ سے کہا کہ اگر آپ اچھا کھانا کھائیں تو یہ آپ کو حق کا کام کرنے کے لیے مضبوط کرے گا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم سب کی یہی رائے ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، تو آپ نے فرمایا: میں جانتا ہوں تم میرے خیر خواہ ہو لیکن میں اپنے دونوں ساتھیوں کے راستے کو چھوڑ دوں اور اگر میں نے ان کا طریقہ چھوڑ دیا تو میں قیامت کے دن ان کو نہیں پا سکوں گا۔ لوگوں پر تنگی کا سال آیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پورا سال گھی نہیں کھایا اور نہ بھنا ہوا موٹا گوشت، حتیٰ کہ لوگ جان میں آگئے اور ترو تازہ ہوگئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17910]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح