السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3560. -- باب: من ليس للإمام أن يغزو به بحال
-- باب: اس شخص کا بیان جسے امام کے لیے کسی صورت اپنے ساتھ جہاد پر لے جانا جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 17863
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَوْذَبٍ الْوَاسِطِيُّ بِهَا، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُحُدٍ رَجَعَ قَوْمٌ مِنَ الطَّرِيقِ، فَكَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ فِرْقَتَيْنِ: فِرْقَةٌ تَقُولُ: نَقْتُلُهُمْ، وَفِرْقَةٌ تَقُولُ: لَا نَقْتُلُهُمْ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللهُ أَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوا} [النساء: ٨٨] . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ:" ثُمَّ شَهِدُوا مَعَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَتَكَلَّمُوا بِمَا حَكَى الله عَزَّ وَجَلَّ مِنْ قَوْلِهِمْ: {مَا وَعَدَنَا اللهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا} [الأحزاب: ١٢] . قَالَ الشَّيْخُ:" هُوَ بَيِّنٌ فِي الْمَغَازِي عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، وَغَيْرِهِمَا. قَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ - الْإِسْنَادُ الَّذِي تَقَدَّمَ فِي قِصَّةِ الْخَنْدَقِ -: فَلَمَّا اشْتَدَّ الْبَلَاءُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ نَافَقَ نَاسٌ كَثِيرٌ وَتَكَلَّمُوا بِكَلَامٍ قَبِيحٍ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِيهِ ⦗٥٥⦘ النَّاسُ مِنَ الْبَلَاءِ وَالْكَرْبِ جَعَلَ يُبَشِّرُهُمْ وَيَقُولُ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُفَرَّجَنَّ عَنْكُمْ مَا تَرَوْنَ مِنَ الشِّدَّةِ وَالْبَلَاءِ، فَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ آمِنًا، وَأَنْ يَدْفَعَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مَفَاتِحَ الْكَعْبَةِ، وَلَيُهْلِكَنَّ اللهُ كِسْرَى وَقَيْصَرَ، وَلَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللهِ". فَقَالَ رَجُلٌ مِمَّنْ مَعَهُ لِأَصْحَابِهِ: أَلَا تَعْجَبُونَ مِنْ مُحَمَّدٍ يَعِدُنَا أَنْ نَطُوفَ بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ وَأَنْ نَغْنَمَ كُنُوزَ فَارِسَ وَالرُّومِ، وَنَحْنُ هَا هُنَا لَا يَأْمَنُ أَحَدُنَا أَنْ يَذْهَبَ إِلَى الْغَائِطِ، وَاللهِ لَمَا يَعِدُنَا إِلَّا غُرُورًا. وَقَالَ آخَرُونَ مِمَّنْ مَعَهُ: ائْذَنْ لَنَا فَإِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَةٌ. وَقَالَ آخَرُونَ: يَا أَهْلَ يَثْرِبَ لَا مَقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوا. وَسَمَّى ابْنُ إِسْحَاقَ الْقَائِلَ الْأَوَّلَ مُعَتِّبَ بْنَ قُشَيْرٍ، وَالْقَائِلَ الثَّانِيَ أَوْسَ بْنَ قَيْظِيٍّ.
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد کی طرف گئے تو کچھ لوگ راستے سے ہی واپس آگئے، جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ان میں دو گروہ تھے؛ ایک کہتا تھا: ”ہم ان سے قتال کریں گے۔“ ایک کہتا تھا: ”ہم ان سے قتال نہیں کریں گے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللَّهُ أَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوا﴾ [سورة النساء: 88] ”پھر تمہیں کیا ہوا کہ منافقین کے بارے میں دو گروہ ہو گئے۔ حالانکہ اللہ نے انہیں اس وجہ سے الٹا کر دیا جو انہوں نے کیا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: پھر یہ لوگ خندق میں شریک ہوئے تو انہوں نے کلام کیا۔ اس میں جو اس نے بیان کیا تھا: ﴿مَّا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا﴾ [سورة الأحزاب: 12] ”اللہ اور اس کے رسول نے ہمارے ساتھ دھوکے کا وعدہ کیا ہے۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ مغازی میں بالتفصیل موسیٰ بن عقبہ سے اور محمد بن اسحاق اور دیگر سے بیان ہوا ہے اور خندق کے قصے میں گزر گیا ہے کہ جب آزمائش سخت ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں پر اکثر لوگ منافق ہو گئے اور کلامِ قبیح (ناپسندیدہ) کرنے لگے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آزمائش اور تکلیف کی وجہ سے لوگوں کی یہ حالت دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوشخبری دینے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، جو سخت آزمائش تم دیکھ رہے ہو وہ ضرور دور ہو جائے گی۔ مجھے امید ہے ہم بیت اللہ کا طواف پُرامن ہو کر کریں گے اور اللہ تعالیٰ مجھے کعبہ کی چابیاں دے گا اور وہ ضرور کسریٰ و قیصر کو ہلاک کرے گا اور تم ان کا خزانہ اس کی راہ میں خرچ کرو گے۔“ منافقوں میں سے ایک آدمی نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ”کیا تم کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر حیرانی نہیں ہوئی؟ وہ ہمیں بیت اللہ کے طواف اور فارس و روم کے خزانوں کی تقسیم کے وعدے دیتا ہے، جبکہ ہم اپنی حاجت کے لیے جائیں تو بھی محفوظ نہیں ہیں۔ اللہ کی قسم! یہ ہمارے ساتھ دھوکا کرتا ہے۔“ دوسروں نے کہا: ”ہمیں اجازت دیں (ہمارے گھر جانے کی)۔“ اور کچھ نے کہا: ﴿يَا أَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوا﴾ [سورة الأحزاب: 13] ”اے یثرب والو! یہاں تمہارے لیے کوئی ٹھکانا نہیں ہے، لوٹ جاؤ۔“ ابن اسحاق نے پہلے قائل کا نام معتب بن قشیر اور دوسرے کا نام اوس بن قیظی نقل کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17863]
امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: پھر یہ لوگ خندق میں شریک ہوئے تو انہوں نے کلام کیا۔ اس میں جو اس نے بیان کیا تھا: ﴿مَّا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا﴾ [سورة الأحزاب: 12] ”اللہ اور اس کے رسول نے ہمارے ساتھ دھوکے کا وعدہ کیا ہے۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ مغازی میں بالتفصیل موسیٰ بن عقبہ سے اور محمد بن اسحاق اور دیگر سے بیان ہوا ہے اور خندق کے قصے میں گزر گیا ہے کہ جب آزمائش سخت ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں پر اکثر لوگ منافق ہو گئے اور کلامِ قبیح (ناپسندیدہ) کرنے لگے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آزمائش اور تکلیف کی وجہ سے لوگوں کی یہ حالت دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوشخبری دینے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، جو سخت آزمائش تم دیکھ رہے ہو وہ ضرور دور ہو جائے گی۔ مجھے امید ہے ہم بیت اللہ کا طواف پُرامن ہو کر کریں گے اور اللہ تعالیٰ مجھے کعبہ کی چابیاں دے گا اور وہ ضرور کسریٰ و قیصر کو ہلاک کرے گا اور تم ان کا خزانہ اس کی راہ میں خرچ کرو گے۔“ منافقوں میں سے ایک آدمی نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ”کیا تم کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر حیرانی نہیں ہوئی؟ وہ ہمیں بیت اللہ کے طواف اور فارس و روم کے خزانوں کی تقسیم کے وعدے دیتا ہے، جبکہ ہم اپنی حاجت کے لیے جائیں تو بھی محفوظ نہیں ہیں۔ اللہ کی قسم! یہ ہمارے ساتھ دھوکا کرتا ہے۔“ دوسروں نے کہا: ”ہمیں اجازت دیں (ہمارے گھر جانے کی)۔“ اور کچھ نے کہا: ﴿يَا أَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوا﴾ [سورة الأحزاب: 13] ”اے یثرب والو! یہاں تمہارے لیے کوئی ٹھکانا نہیں ہے، لوٹ جاؤ۔“ ابن اسحاق نے پہلے قائل کا نام معتب بن قشیر اور دوسرے کا نام اوس بن قیظی نقل کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17863]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17864
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ: ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ:" فَلَمَّا اشْتَدَّ الْبَلَاءُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ فَذَكَرَ هَذِهِ الْقِصَّةَ، مِثْلَ قَوْلِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي آخِرِهَا: وَقَالَ رِجَالٌ مِنْهُمْ يُخَذِّلُونَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوا". قَالَ الشَّافِعِيُّ:" ثُمَّ غَزَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَشَهِدَهَا مَعَهُ مِنْهُمْ عَدَدٌ، فَتَكَلَّمُوا بِمَا حَكَى اللهُ مِنْ قَوْلِهِمْ: {لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ} [المنافقون: ٨] ، وَغَيْرِ ذَلِكَ مِمَّا حَكَى اللهُ مِنْ نِفَاقِهِمْ".
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ساتھیوں پر آزمائش سخت ہوئی (پھر موسیٰ بن عقبہ کی پوری حدیث مذکورہ نمبر 17861 بیان ہوئی ہے) مگر آخر میں یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے کہا (جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد کا ہاتھ کھینچ چکے تھے) کہ اے یثرب والو! یہاں سے لوٹ چلو، تمہارے لیے یہاں کوئی قیام گاہ نہیں ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: منافقین میں سے کچھ لوگ غزوہ بنی مصطلق میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، انہوں نے بھی نازیبا باتیں کیں جن کو اللہ نے حکایتاً بیان فرمایا ہے: ﴿یَقُولُونَ لَئِن رَّجَعْنَا إِلَی الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ﴾ [سورة المنافقون: 8] ”اگر ہم مدینہ واپس گئے تو زیادہ عزت والا اس میں سے ذلیل تر کو ضرور ہی نکال باہر کرے گا۔“ اس کے علاوہ دوسری آیات ہیں جن میں اللہ نے ان کے نفاق کو بیان فرمایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17864]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17865
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، لَمَّا قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ: لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا، وَقَالَ أَيْضًا: لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ، أُخْبِرْتُ بِذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ:" إِنَّ اللهَ صَدَّقَكَ وَعَذَرَكَ، وَنَزَّلَ: {هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا} [المنافقون: ٧] الْآيَةَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ.
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب عبداللہ بن ابی نے کہا کہ اللہ کے رسول کے ساتھیوں پر خرچ نہ کرو حتیٰ کہ وہ لوٹ جائیں اور اسی طرح کہا: اگر ہم مدینہ واپس گئے تو زیادہ عزت والا ذلیل کو ضرور نکال دے گا۔ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے تیری تصدیق کی ہے اور عذر بیان کیا ہے۔“ قرآن نازل ہوا ﴿هُمُ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى يَنْفَضُّوْا﴾ [سورة المنافقون: 7] ”یہ وہی ہیں جو کہتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں پر خرچ نہ کرو تاکہ وہ منتشر ہوجائیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17865]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17866
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: قَالَ عَمْرُو، وَسَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ ⦗٥٦⦘ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: كُنَّا فِي غَزَاةٍ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى: كُنَّا فِي جَيْشٍ فَكَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: يَا لَلْأَنْصَارِ، وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ: يَا لَلْمُهَاجِرِينَ، فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا بَالُ دَعْوَى جَاهِلِيَّةٍ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ. فَقَالَ:" دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ". فَسَمِعَ بِذَلِكَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: قَدْ فَعَلُوهَا، أَمَا وَاللهِ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ. فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ عُمَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعْهُ؛ لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ". قَالَ: وَكَانَتِ الْأَنْصَارُ أَكْثَرَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ، ثُمَّ إِنَّ الْمُهَاجِرِينَ كَثُرُوا بَعْدُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَجَمَاعَةٍ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ بِالْإِسْنَادِ الَّذِي تَقَدَّمَ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، وَكَذَلِكَ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ:" ثُمَّ غَزَا غَزْوَةَ تَبُوكَ، فَشَهِدَهَا مَعَهُ مِنْهُمْ قَوْمٌ نَفَرُوا بِهِ لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ لِيَقْتُلُوهُ، فَوَقَاهُ اللهُ شَرَّهُمْ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: هُوَ بَيِّنٌ فِي الْمَغَازِي.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم کسی غزوہ میں تھے کہ مہاجرین میں سے ایک آدمی نے انصار کے ایک آدمی کی سرین پر مارا، تو انصاری نے کہا: اے انصار! (مدد کو آؤ) اور مہاجر نے کہا: اے مہاجرین! (مدد کو آؤ)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو فرمایا: ”یہ جاہلیت کی پکار کیسی ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مہاجرین میں سے ایک آدمی نے انصار کے ایک آدمی کی سرین پر مارا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، یہ بدبودار بات ہے۔“ عبداللہ بن ابی نے یہ سنا تو کہا: کیا انہوں نے ایسا کیا ہے؟ اللہ کی قسم! ﴿لَئِنْ رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِيْنَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ﴾ [سورة المنافقون: 8] ”اگر ہم مدینہ واپس گئے تو معزز، ذلیل کو ضرور نکال دے گا۔“ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو تاکہ لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔“ جب مہاجرین مدینہ آئے تو انصار زیادہ تھے، پھر مہاجرین زیادہ ہو گئے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: غزوہ تبوک میں بھی منافقین میں سے کچھ لوگ شریک تھے۔ عقبہ کی رات کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے لیے نکلے تھے مگر اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے شر سے محفوظ رکھا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کی تفصیل مغازی میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17866]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: غزوہ تبوک میں بھی منافقین میں سے کچھ لوگ شریک تھے۔ عقبہ کی رات کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے لیے نکلے تھے مگر اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے شر سے محفوظ رکھا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کی تفصیل مغازی میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17866]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17867
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، فِي قِصَّةِ تَبُوكَ، قَالَ: فَلَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّنِيَّةَ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ خُذُوا بَطْنَ الْوَادِي؛ فَهُوَ أَوْسَعُ عَلَيْكُمْ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَخَذَ الثَّنِيَّةَ، وَكَانَ مَعَهُ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُزَاحِمَهُ فِي الثَّنِيَّةِ أَحَدٌ، فَسَمِعَهُ نَاسٌ مِنَ الْمُنَافِقِينَ فَتَخَلَّفُوا، ثُمَّ اتَّبَعَهُ رَهْطٌ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِسَّ الْقَوْمِ خَلْفَهُ، فَقَالَ لِأَحَدِ صَاحِبَيْهِ:" اضْرِبْ وُجُوهَهُمْ". فَلَمَّا سَمِعُوا ذَلِكَ وَرَأَوَا الرَّجُلَ مُقْبِلًا نَحْوَهُمْ وَهُوَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ انْحَدَرُوا جَمِيعًا وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَضْرِبُ رَوَاحِلَهُمْ، وَقَالُوا: إِنَّمَا نَحْنُ أَصْحَابُ أَحْمَدَ، وَهُمْ مُتَلَثِّمُونَ لَا يُرَى شَيْءٌ إِلَّا أَعْيُنُهُمْ، فَجَاءَ صَاحِبُهُ بَعْدَ مَا انْحَدَرَ الْقَوْمُ، فَقَالَ:" هَلْ عَرَفْتَ الرَّهْطَ؟" فَقَالَ: لَا وَاللهِ يَا نَبِيَّ ⦗٥٧⦘ اللهِ، وَلَكِنْ قَدْ عَرَفْتُ رَوَاحِلَهُمْ. فَانْحَدَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الثَّنِيَّةِ، وَقَالَ لِصَاحِبَيْهِ:" هَلْ تَدْرُونَ مَا أَرَادَ الْقَوْمُ؟ أَرَادُوا أَنْ يَزْحَمُونِي مِنَ الثَّنِيَّةِ فَيَطْرَحُونِي مِنْهَا". فَقَالَا: أَفَلَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللهِ فَنَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ إِذَا اجْتَمَعَ إِلَيْكَ النَّاسُ؟ فَقَالَ:" أَكْرَهُ أَنْ يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا قَدْ وَضَعَ يَدَهُ فِي أَصْحَابِهِ يَقْتُلُهُمْ". وَذَكَرَ الْقِصَّةَ.
ابن اسحاق رحمہ اللہ غزوہ تبوک کے بارے میں فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ثنیہ (گھاٹی) پر پہنچے تو آپ کے ایلچی نے اعلان کیا کہ وادی کے درمیانی حصہ پر قبضہ کر لیں، وہ تمہارے لیے وسیع جگہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ثنیہ پر چلے گئے، آپ کے ساتھ حذیفہ بن یمان اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند کرتے تھے کہ کوئی ثنیہ کے بارے میں ان سے مقابلہ کرے۔ جب منافقین کے گروہ نے یہ نداء سنی تو یہ پیچھے ہٹ گئے پھر منافقین کا ایک گروہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے لوگوں کی آہٹ سنی تو اپنے ایک ساتھی سے کہا: ”ان کے منہ پر مارو۔“ جب منافقین نے یہ سنا اور دیکھا کہ ایک آدمی ان کی طرف آ رہا ہے جو حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ تھے تو سب نیچے اتر آئے۔ ایک سواریوں کو مارنے لگا اور انہوں نے کہا: ہم احمد کے ساتھی ہیں، وہ نقاب پوش تھے ان کی صرف آنکھیں نظر آتی تھیں۔ جب آپ کا ساتھی آیا قوم کے اترنے کے بعد تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو نے گروہ کو پہچانا تھا؟“ تو اس نے کہا: میں نے ان کو نہیں پہچانا مگر ان کی سواریوں کو پہچانا ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ثنیہ سے اترے اور ساتھیوں سے کہا: ”کیا تم جانتے ہو یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟ یہ چاہتے تھے کہ گھاٹی پر مجھ پر ہجوم کر کے مجھے اس سے نیچے گرا دیں۔“ تو ساتھیوں نے کہا: کیا آپ ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم ان کی گردن مار دیں جب وہ آپ کے پاس آئیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں پسند نہیں کرتا کہ لوگ باتیں کریں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17867]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابن اسحاق عن النبي (صلي الله عليه وآله وسلم) مرسل»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17868
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ:" وَرَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَافِلًا مِنْ تَبُوكَ إِلَى الْمَدِينَةِ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ مَكَرَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَتَآمَرُوا أَنْ يَطْرَحُوهُ مِنْ عَقَبَةٍ فِي الطَّرِيقِ". ثُمَّ ذَكَرَ الْقِصَّةَ بِمَعْنَى ابْنِ إِسْحَاقَ.
حضرت عروہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس آ رہے تھے تو راستے میں کچھ لوگوں نے آپ کے خلاف چال چلی اور مشورہ کیا کہ آپ کو راستے میں عقبہ سے نیچے گرا دیں گے۔ پھر ابن اسحاق کے ہم معنی قصہ نقل کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17868]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17869
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَأَبُو نُعَيْمٍ، قَالَا: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ جُمَيْعٍ، ثنا أَبُو الطُّفَيْلِ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْعَقَبَةِ وَبَيْنَ حُذَيْفَةَ بَعْضُ مَا يَكُونُ بَيْنَ النَّاسِ، فَقَالَ: أَنْشُدُكَ بِاللهِ كَمْ كَانَ أَصْحَابُ الْعَقَبَةِ؟ قَالَ: فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ: أَخْبِرْهُ إِذْ سَأَلَكَ. قَالَ: كُنَّا نُخْبَرُ أَنَّهُمْ أَرْبَعَةَ عَشَرَ، فَإِنْ كُنْتَ فِيهِمْ فَقَدْ كَانَ الْقَوْمُ خَمْسَةَ عَشَرَ، وَأَشْهَدُ بِاللهِ أَنَّ اثْنَيْ عَشَرَ مِنْهُمْ حَرْبٌ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ وَعُذِرَ ثَلَاثَةٌ. قَالُوا: مَا سَمِعْنَا مُنَادِيَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا عَلِمْنَا مَا أَرَادَ الْقَوْمُ، وَقَدْ كَانَ فِي حَرَّةٍ فَمَشَى، فَقَالَ:" إِنَّ الْمَاءَ قَلِيلٌ فَلَا يَسْبِقْنِي إِلَيْهِ أَحَدٌ. فَوَجَدَ قَوْمًا قَدْ سَبَقُوهُ، فَلَعَنَهُمْ يَوْمَئِذٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي أَحْمَدَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الزُّبَيْرِيِّ. قَالَ الشَّافِعِيُّ:" وَتَخَلَّفَ آخَرُونَ مِنْهُمْ فِيمَنْ بِحَضْرَتِهِ، ثُمَّ أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ غَزَاةَ تَبُوكَ، أَوْ مُنْصَرَفَهُ مِنْهَا مِنْ أَخْبَارِهِمْ، فَقَالَ: {وَلَوْ أَرَادُوا الْخُرُوجَ لَأَعَدُّوا لَهُ عُدَّةً وَلَكِنْ كَرِهَ اللهُ انْبِعَاثَهُمْ} [التوبة: ٤٦] ، قَرَأَ إِلَى قَوْلِهِ: {وَيَتَوَلَّوْا وَهُمْ فَرِحُونَ} [التوبة: ٥٠] ". قَالَ الشَّيْخُ:" هُوَ بَيِّنٌ فِي مَغَازِي مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، وَابْنِ إِسْحَاقَ".
سیدنا ابو طفیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عقبہ والوں میں سے ایک آدمی اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ چپقلش تھی جیسا کہ لوگوں میں ہو جاتی ہے۔ اس آدمی نے کہا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، عقبہ والے کتنے لوگ تھے؟ تو لوگوں نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: جب اس نے سوال کیا ہے تو اسے بتا دیں۔ انہوں نے فرمایا: ہمیں بتایا جاتا تھا کہ وہ چودہ تھے، اگر تم بھی ان میں تھے تو وہ پندرہ ہوئے، اور میں اللہ کی قسم کھا کر گواہی دیتا ہوں کہ ان میں سے بارہ دنیا کی زندگی میں بھی اور جس دن گواہ کھڑے ہوں گے اس دن بھی اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرنے والے ہیں، اور تین کا عذر قبول کیا گیا۔ انہوں نے کہا تھا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی کا اعلان نہیں سنا تھا اور نہ ہمیں معلوم تھا کہ لوگوں کا کیا ارادہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک پتھریلی زمین (حرہ) میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے تو فرمایا: ”پانی تھوڑا ہے، اس لیے کوئی مجھ سے پہلے وہاں نہ پہنچے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے پہنچ چکے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن ان پر لعنت فرمائی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حاضرین میں سے کچھ لوگ پیچھے رہ گئے، پھر اللہ تعالیٰ نے غزوہ تبوک کے دوران یا واپسی پر ان کی خبریں نازل کر دیں اور یہ آیات تلاوت کیں: ﴿وَلَوْ أَرَادُوا الْخُرُوجَ لَأَعَدُّوا لَهُ عُدَّةً وَلَكِنْ كَرِهَ اللَّهُ انْبِعَاثَهُمْ﴾ [سورة التوبة: 46] یہاں تک پڑھا ﴿وَيَتَوَلَّوْا وَهُمْ فَرِحُونَ﴾ [سورة التوبة: 50] ”اور اگر وہ نکلنے کا ارادہ رکھتے تو اس کے لیے کچھ سامان ضرور تیار کرتے لیکن اللہ نے ان کا اٹھنا ناپسند کیا“ سے ”اور اس حال میں پھر جاتے ہیں کہ وہ خوش ہوتے ہیں“ تک۔
شیخ فرماتے ہیں کہ مغازی میں وضاحت موجود ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17869]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حاضرین میں سے کچھ لوگ پیچھے رہ گئے، پھر اللہ تعالیٰ نے غزوہ تبوک کے دوران یا واپسی پر ان کی خبریں نازل کر دیں اور یہ آیات تلاوت کیں: ﴿وَلَوْ أَرَادُوا الْخُرُوجَ لَأَعَدُّوا لَهُ عُدَّةً وَلَكِنْ كَرِهَ اللَّهُ انْبِعَاثَهُمْ﴾ [سورة التوبة: 46] یہاں تک پڑھا ﴿وَيَتَوَلَّوْا وَهُمْ فَرِحُونَ﴾ [سورة التوبة: 50] ”اور اگر وہ نکلنے کا ارادہ رکھتے تو اس کے لیے کچھ سامان ضرور تیار کرتے لیکن اللہ نے ان کا اٹھنا ناپسند کیا“ سے ”اور اس حال میں پھر جاتے ہیں کہ وہ خوش ہوتے ہیں“ تک۔
شیخ فرماتے ہیں کہ مغازی میں وضاحت موجود ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17869]
حدیث نمبر: 17870
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَجَهَّزَ غَازِيًا يُرِيدُ الشَّامَ، فَأَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالْخُرُوجِ وَأَمَرَهُمْ بِهِ فِي قَيْظٍ شَدِيدٍ فِي لَيَالِي الْخَرِيفِ، فَأَبْطَأَ عَنْهُ نَاسٌ كَثِيرٌ وَهَابُوا الرُّومَ، فَخَرَجَ أَهْلُ الْحِسْبَةِ وَتَخَلَّفَ الْمُنَافِقُونَ، وَحَدَّثُوا أَنْفُسَهُمْ أَنَّهُ لَا ⦗٥٨⦘ يَرْجِعُ أَبَدًا وَثَبَّطُوا عَنْهُ مَنْ أَطَاعَهُمْ، وَتَخَلَّفَ عَنْهُ رِجَالٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لِأَمْرٍ كَانَ لَهُمْ فِيهِ عُذْرٌ، فَذَكَرَ الْقِصَّةَ، قَالَ: وَأَتَاهُ جَدُّ بْنُ قَيْسٍ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ مَعَهُ نَفَرٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ائْذَنْ لِي فِي الْقُعُودِ فَإِنِّي ذُو ضَيْعَةٍ وَعْلَةٍ بِهَا عُذْرٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَجَهَّزْ فَإِنَّكَ مُوسِرٌ لَعَلَّكَ تُحْقِبُ بَعْضَ بَنَاتِ الْأَصْفَرِ". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ائْذَنْ لِي وَلَا تَفْتِنِّي بِبَنَاتِ الْأَصْفَرِ. فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ وَفِي أَصْحَابِهِ: {وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ ائْذَنْ لِي وَلَا تَفْتِنِّي أَلَا فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُوا وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرِينَ} [التوبة: ٤٩] ، عَشْرَ آيَاتٍ يَتْبَعُ بَعْضُهَا بَعْضًا، وَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُؤْمِنُونَ مَعَهُ، وَكَانَ فِيمَنْ تَخَلَّفَ ابْنُ عَنَمَةَ أَوْ عَنْمَةَ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَقِيلَ لَهُ: مَا خَلَّفَكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: الْخَوْضُ وَاللَّعِبُ. فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ وَفِيمَنْ تَخَلَّفَ مِنَ الْمُنَافِقِينَ: {وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ}، ثَلَاثَ آيَاتٍ مُتَتَابِعَاتٍ".
حضرت عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کے لیے ایک لشکر تیار کیا۔ جب لوگوں کو نکلنے کا حکم دیا تو موسم بہت گرم تھا اور موسم خزاں کی راتیں بھی۔ لوگوں نے سستی کا مظاہرہ کیا اور رومیوں سے ڈر گئے، جن کو ثواب کی امید تھی وہ نکل گئے۔ منافقین پیچھے رہے اور اپنے جی میں باتیں کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی واپس نہیں آئیں گے، اور جو ان کی بات مانتے تھے انہیں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جانے سے روکا، اور کچھ مسلمان بھی عذر کی وجہ سے پیچھے رہ گئے۔ حضرت عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: جد بن قیس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھے تھے۔ اس نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے بیٹھنے کی اجازت دیں، میں زمیندار ہوں اور بھی کچھ وجوہات ہیں جو میرے لیے عذر ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیاری کر، تو مال دار آدمی ہے، شاید تو رومیوں کی لڑکیوں کو اپنے پیچھے سوار کرے۔“ تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے اجازت دیں اور رومیوں کی لڑکیوں کے ذریعے مجھے فتنے میں نہ ڈالیں، تو اللہ نے ان کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ ائْذَنْ لِي وَلَا تَفْتِنِّي أَلَا فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُوا وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرِينَ﴾ [سورة التوبة: 49] ”ان میں وہ ہے جو کہتا ہے مجھے اجازت دے دیں اور مجھے فتنہ میں نہ ڈالیں، سن لو وہ فتنے ہی میں تو پڑے ہوئے ہیں اور بیشک جہنم کافروں کو ضرور گھیرنے والی ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین نکلے اور پیچھے رہنے والوں میں ابن عنمہ یا عنمہ جو بنی عمرو بن عوف سے ہے وہ بھی تھا۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ پیچھے کیوں رہا تو اس نے کہا: شغل اور دل لگی کے لیے، تو اللہ نے اس کے اور منافقین کے بارے میں آیت نازل فرما دی: ﴿وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ﴾ [سورة التوبة: 65] ”اور بلاشبہ اگر تو ان سے پوچھے تو ضرور کہیں گے ہم تو صرف شغل کی بات کر رہے تھے، دل لگی کر رہے تھے۔ کہہ دے: کیا تم اللہ اور اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ مذاق کر رہے ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17870]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17871
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ كَعْبٍ قَائِدَ كَعْبٍ حِينَ عَمِيَ مِنْ بَيْتِهِ قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، قَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ: لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا قَطُّ إِلَّا فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، غَيْرَ أَنِّي تَخَلَّفْتُ عَنْ غَزْوَةِ بَدْرٍ، وَلَمْ يُعَاتِبِ اللهُ أَحَدًا حِينَ تَخَلَّفَ عَنْهَا، إِنَّمَا خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ عِيرَ قُرَيْشٍ حَتَّى جَمَعَ اللهُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ عَدُوِّهِمْ عَلَى غَيْرِ مِيعَادٍ، وَلَقَدْ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ وَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهَا مَشْهَدَ بَدْرٍ، وَإِنْ كَانَتْ أَذْكَرَ فِي النَّاسِ مِنْهَا، كَانَ مِنْ خَبَرِي حِينَ تَخَلَّفْتُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ أَنِّي لَمْ أَكُنْ قَطُّ أَقْوَى وَلَا أَيْسَرَ مِنِّي حِينَ تَخَلَّفْتُ عَنْهُ فِي تِلْكَ الْغَزْوَةِ، وَاللهِ مَا اجْتَمَعَتْ عِنْدِي قَبْلَهَا رَاحِلَتَانِ قَطُّ حَتَّى جَمَعْتُهُمَا تِلْكَ الْغَزْوَةَ، وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ غَزْوَةً يَغْزُوهَا إِلَّا وَرَّى بِغَيْرِهَا حَتَّى كَانَتْ تِلْكَ الْغَزْوَةُ، غَزَاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ، وَاسْتَقْبَلَ سَفَرًا بَعِيدًا وَمَفَازًا وَعَدُوًّا كَثِيرًا، فَجَلَا لِلْمُسْلِمِينَ أَمْرَهُمْ لِيَتَأَهَّبُوا أُهْبَةَ عَدُوِّهِمْ، وَأَخْبَرَهُمْ بِوَجْهِهِ الَّذِي يُرِيدُهُ، وَالْمُسْلِمُونَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثِيرٌ لَا يَجْمَعُهُمْ كِتَابٌ حَافِظٌ - يُرِيدُ الدِّيوَانَ. قَالَ كَعْبٌ: فَمَا رَجُلٌ يُرِيدُ أَنْ يَتَغَيَّبَ إِلَّا ظَنَّ أَنْ سَيُخْفَى لَهُ مَا لَمْ يَنْزِلْ فِيهِ وَحْيٌ مِنَ اللهِ، وَغَزَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ الْغَزْوَةَ حِينَ طَابَتِ الثِّمَارُ وَالظِّلَالُ، فَتَجَهَّزَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُونَ مَعَهُ وَطَفِقْتُ أَغْدُو لِكَيْ أَتَجَهَّزَ مَعَهُمْ وَلَمْ أَقْضِ شَيْئًا، وَأَقُولُ فِي نَفْسِي إِنِّي قَادِرٌ عَلَى ذَلِكَ إِذَا أَرَدْتُهُ، فَلَمْ يَزَلْ يَتَمَادَى بِي حَتَّى اسْتَجَدَّ بِالنَّاسِ الْجِدُّ، فَأَصْبَحَ ⦗٥٩⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُونَ مَعَهُ وَلَمْ أَقْضِ مِنْ جَهَازِي شَيْئًا، فَقُلْتُ: أَتَجَهَّزُ بَعْدَهُ يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ ثُمَّ أَلْحَقُهُمْ، فَغَدَوْتُ بَعْدَ أَنْ فَصَلُوا لِأَتَجَهَّزَ فَرَجَعْتُ، وَلَمْ أَقْضِ شَيْئًا، ثُمَّ غَدَوْتُ، ثُمَّ رَجَعْتُ وَلَمْ أَقْضِ شَيْئًا، فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ يَتَمَادَى بِي حَتَّى أَسْرَعُوا وَتَفَارَطَ الْغَزْوُ، وَهَمَمْتُ أَنْ أَرْتَحِلَ فَأُدْرِكَهُمْ وَلَيْتَنِي فَعَلْتُ، فَلَمْ يُقَدَّرْ لِي ذَلِكَ، فَكُنْتُ إِذَا خَرَجْتُ فِي النَّاسِ بَعْدَ خُرُوجِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطُفْتُ فِيهِمْ أَحْزَنَنِي أَنِّي لَا أَرَى إِلَّا رَجُلًا مَغْمُوصًا فِي النِّفَاقِ، أَوْ رَجُلًا مِمَّنْ عَذَرَ اللهُ مِنَ الضُّعَفَاءِ، فَلَمْ يَذْكُرْنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَلَغَ تَبُوكَ، قَالَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْقَوْمِ بِتَبُوكَ:" مَا فَعَلَ كَعْبٌ؟". فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ، حَبَسَهُ بُرْدَاهُ يَنْظُرُ فِي عِطْفَيْهِ. فَقَالَ لَهُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ: بِئْسَ مَا قُلْتَ، وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ مَا عَلِمْنَا إِلَّا خَيْرًا. فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ كَعْبٌ: فَلَمَّا بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَوَجَّهَ قَافِلًا مِنْ تَبُوكَ حَضَرَنِي هَمِّي وَطَفِقْتُ أَتَذَكَّرُ الْكَذِبَ، وَأَقُولُ بِمَاذَا أَخْرُجُ مِنْ سَخَطِهِ غَدًا وَأَسْتَعِينُ عَلَى ذَلِكَ بِكُلِّ ذِي رَأْيٍ مِنْ أَهْلِي، فَلَمَّا قِيلَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَظَلَّ قَادِمًا زَاحَ عَنِّي الْبَاطِلُ وَعَرَفْتُ أَنِّي لَا أَخْرُجُ مِنْهُ أَبَدًا بِشَيْءٍ فِيهِ كَذِبٌ، فَأَجْمَعْتُ صِدْقَهُ، وَأَصْبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَادِمًا، وَكَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ جَلَسَ لِلنَّاسِ، فَلَمَّا فَعَلَ ذَلِكَ جَاءَ الْمُخَلَّفُونَ فَطَفِقُوا يَعْتَذِرُونَ إِلَيْهِ وَيَحْلِفُونَ لَهُ، وَكَانُوا بَضْعَةً وَثَمَانِينَ رَجُلًا، فَقَبِلَ مِنْهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَانِيَتَهُمْ، وَبَايَعَهُمْ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمْ، وَيَكِلُ سَرَائِرَهُمْ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَجِئْتُهُ فَلَمَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ تَبَسَّمَ تَبَسُّمَ الْمُغْضَبِ، ثُمَّ قَالَ:" تَعَالَ". فَجِئْتُ أَمْشِي حَتَّى جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ:" مَا خَلَّفَكَ؟ أَلَمْ تَكُنِ ابْتَعْتَ ظَهْرَكَ؟". فَقُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي وَاللهِ لَوْ جَلَسْتُ عِنْدَ غَيْرِكَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا لَرَأَيْتُ أَنْ سَأَخْرُجُ مِنْ سَخَطِهِ بِعُذْرٍ، فَإِنِّي أُعْطِيتُ جَدَلًا، وَلَكِنْ وَاللهِ لَقَدْ عَلِمْتُ لَئِنْ حَدَّثْتُكَ الْيَوْمَ حَدِيثًا كَاذِبًا تَرْضَى بِهِ عَنِّي لَيُوشِكَنَّ اللهُ أَنْ يَسْخَطَكَ عَلَيَّ، وَلَئِنْ حَدَّثْتُكَ حَدِيثَ صِدْقٍ تَجِدُ عَلَيَّ فِيهِ إِنِّي لَأَرْجُو عَفْوَ اللهِ، لَا وَاللهِ مَا كَانَ بِي عُذْرٌ، وَاللهِ مَا كُنْتُ قَطُّ أَقْوَى وَلَا أَيْسَرَ مِنِّي حِينَ تَخَلَّفْتُ عَنْكَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا هَذَا فَقَدْ صَدَقَ، قُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللهُ فِيكَ". فَقُمْتُ وَسَارَ رِجَالٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ فَقَالُوا: يَا كَعْبُ، وَاللهِ مَا عَلِمْنَاكَ كُنْتَ أَذْنَبْتَ ذَنْبًا قَبْلَ هَذَا، عَجَزْتَ أَنْ لَا تَكُونَ اعْتَذَرْتَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا اعْتَذَرَ إِلَيْهِ الْمُخَلَّفُونَ، قَدْ كَانَ كَافِيَكَ ذَنْبَكَ اسْتِغْفَارُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكَ. فَوَاللهِ مَا زَالُوا يُؤَنِّبُونِي حَتَّى أَرَدْتُ أَنْ أَرْجِعَ فَأُكَذِّبَ نَفْسِي، ثُمَّ قُلْتُ: هَلْ لَقِيَ هَذَا مَعِي أَحَدٌ؟ قَالُوا: نَعَمْ، رَجُلَانِ قَالَا مِثْلَ مَا قُلْتَ وَقِيلَ لَهُمَا مِثْلُ مَا قِيلَ لَكَ، فَقُلْتُ: مَنْ هُمَا؟ قَالُوا: مُرَارَةُ بْنُ الرَّبِيعِ الْعُمَرِيُّ، وَهِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ الْوَاقِفِيُّ، فَذَكَرُوا لِي رَجُلَيْنِ صَالِحَيْنِ قَدْ شَهِدَا بَدْرًا فِيهِمَا أُسْوَةٌ، فَمَضَيْتُ حِينَ ذَكَرُوهُمَا، وَنَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَلَامِنَا الثَّلَاثَةَ مِنْ بَيْنِ مَنْ تَخَلَّفَ عَنْهُ، فَاجْتَنَبَنَا النَّاسُ وَتَغَيَّرُوا لَنَا حَتَّى تَنَكَّرَتْ فِي نَفْسِي⦗٦٠⦘ الْأَرْضُ، فَمَا هِيَ الَّتِي أَعْرِفُ، فَلَبِثْنَا عَلَى ذَلِكَ خَمْسِينَ لَيْلَةً، فَأَمَّا صَاحِبَايَ فَاسْتَكَانَا وَقَعَدَا فِي بُيُوتِهِمَا، وَأَمَّا أَنَا فَكُنْتُ أَشَبَّ الْقَوْمِ وَأَجْلَدَهُمْ، وَكُنْتُ أَخْرُجُ فَأَشْهَدُ الصَّلَاةَ مَعَ الْمُسْلِمِينَ وَأَطُوفُ فِي الْأَسْوَاقِ لَا يُكَلِّمُنِي أَحَدٌ، وَآتِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُسَلِّمُ عَلَيْهِ، فَأَقُولُ فِي نَفْسِي هَلْ حَرَّكَ شَفَتَيْهِ بِرَدِّ السَّلَامِ عَلَيَّ أَمْ لَا؟ ثُمَّ أُصَلِّي فَأُسَارِقُهُ النَّظَرَ، فَإِذَا أَقْبَلْتُ عَلَى صَلَاتِي نَظَرَ إِلِيَّ، فَإِذَا الْتَفَتُّ نَحْوَهُ أَعْرَضَ عَنِّي حَتَّى إِذَا طَالَ عَلَيَّ ذَلِكَ مِنْ جَفْوَةِ الْمُسْلِمِينَ تَسَوَّرْتُ جِدَارَ حَائِطِ أَبِي قَتَادَةَ وَهُوَ ابْنُ عَمِّي وَأَحَبُّ النَّاسِ إِلِيَّ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَوَاللهِ مَا رَدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا قَتَادَةَ أَنْشُدُكَ اللهَ هَلْ تَعْلَمُنِي أُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ؟ قَالَ: فَسَكَتَ، فَعُدْتُ لَهُ فَنَشَدْتُهُ، فَسَكَتَ. قَالَ: فَعُدْتُ لَهُ فَنَاشَدْتُهُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. فَفَاضَتْ عَيْنَايَ وَتَوَلَّيْتُ حَتَّى تَسَوَّرْتُ الْجِدَارَ. قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي بِسُوقِ الْمَدِينَةِ إِذَا نَبَطِيٌّ مِنْ أَنْبَاطِ الشَّامِ مِمَّنْ قَدِمَ بِالطَّعَامِ يَبِيعُهُ بِالْمَدِينَةِ يَقُولُ: مَنْ يَدُلُّ عَلَى كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ؟ فَطَفِقَ النَّاسُ يُشِيرُونَ لَهُ، حَتَّى إِذَا جَاءَنِي دَفَعَ إِلِيَّ كِتَابًا مِنْ مَلِكِ غَسَّانَ، وَكُنْتُ كَاتِبًا، فَإِذَا فِيهِ: أَمَّا بَعْدُ، فَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّ صَاحِبَكَ قَدْ جَفَاكَ، وَلَمْ يَجْعَلْكَ اللهُ بِدَارِ هَوَانٍ وَلَا مَضْيَعَةٍ، فَالْحَقْ بِنَا نُوَاسِكَ. فَقُلْتُ حِينَ قَرَأْتُهَا: وَهَذَا أَيْضًا مِنَ الْبَلَاءِ، فَيَمَّمْتُ بِهِ التَّنُّورَ، فَسَجَرْتُهُ بِهَا، حَتَّى إِذَا مَضَتْ لَنَا أَرْبَعُونَ لَيْلَةً مِنَ الْخَمْسِينَ إِذَا رَسُولُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَعْتَزِلَ امْرَأَتَكَ. فَقُلْتُ: أُطَلِّقُهَا أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ بِهَا؟ فَقَالَ: لَا، بَلِ اعْتَزِلْهَا فَلَا تَقْرَبَنَّهَا. وَأَرْسَلَ إِلَى صَاحِبِيَّ بِمِثْلِ ذَلِكَ، فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي: الْحَقِي بِأَهْلِكِ فَكُونِي عِنْدَهُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللهُ هَذَا الْأَمْرَ. قَالَ كَعْبٌ: فَجَاءَتِ امْرَأَةُ هِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ شَيْخٌ ضَائِعٌ لَيْسَتْ لَهُ خَادِمٌ، فَهَلْ تَكْرَهُ أَنْ أَخْدُمَهُ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ لَا يَقْرَبَنَّكِ. قَالَتْ: إِنَّهُ وَاللهِ مَا بِهِ حَرَكَةٌ إِلَى شَيْءٍ، وَإِنَّهُ مَا زَالَ يَبْكِي مُذْ كَانَ مِنْ أَمْرِهِ مَا كَانَ إِلَى يَوْمِي هَذَا. فَقَالَ لِي بَعْضُ أَهْلِي: لَوِ اسْتَأْذَنْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَتِكَ كَمَا أَذِنَ لِهِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ تَخْدُمُهُ، فَقُلْتُ: وَاللهِ لَا أَسْتَأَذِنُ فِيهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا يُدْرِينِي مَا يَقُولُ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِ اسْتَأْذَنْتُهُ فِيهَا، وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ؟ فَلَبِثْتُ بَعْدَ ذَلِكَ عَشْرَ لَيَالٍ حَتَّى كَمَلَتْ لَنَا خَمْسُونَ لَيْلَةً مِنْ حِينِ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ كَلَامِنَا، فَلَمَّا صَلَّيْتُ الْفَجْرَ صُبْحَ خَمْسِينَ لَيْلَةً وَأَنَا عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِنَا، فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عَلَى الْحَالِ الَّتِي ذَكَرَ اللهُ مِنَّا، قَدْ ضَاقَتْ عَلَيَّ نَفْسِي، وَضَاقَتْ عَلَيَّ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ، سَمِعْتُ صَوْتَ صَارِخٍ أَوْفَى عَلَى جَبَلِ سَلْعٍ: يَا كَعْبُ بْنَ مَالِكٍ أَبْشِرْ. فَخَرَرْتُ سَاجِدًا، وَعَرَفْتُ أَنَّهُ قَدْ جَاءَ الْفَرَجُ، وَأَذِنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَوْبَةِ اللهِ عَلَيْنَا حِينَ صَلَّى صَلَاةَ الْفَجْرِ، فَذَهَبَ النَّاسُ يُبَشِّرُونَنِي، وَذَهَبَ⦗٦١⦘ قِبَلَ صَاحِبِيَّ مُبَشِّرُونَ، وَرَكَضَ رَجُلٌ إِلِيَّ فَرَسًا، وَسَعَى سَاعٍ مِنْ أَسْلَمَ فَأَوْفَى عَلَى الْجَبَلِ، وَكَانَ الصَّوْتُ أَسْرَعَ إِلِيَّ مِنَ الْفَرَسِ، فَلَمَّا جَاءَنِي الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ يُبَشِّرُنِي نَزَعْتُ ثَوْبِيَّ فَكَسَوْتُهُمَا إِيَّاهُ بِبُشْرَاهُ، وَوَاللهِ مَا أَمْلِكُ غَيْرَهُمَا يَوْمَئِذٍ، وَاسْتَعَرْتُ ثَوْبَيْنِ فَلَبِسْتُهُمَا وَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَلَقَّانِي النَّاسُ فَوْجًا فَوْجًا يُهَنِّئُونَنِي بِالتَّوْبَةِ، يَقُولُونَ: لِيَهْنِكَ تَوْبَةُ اللهِ عَلَيْكَ حَتَّى دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَقَامَ إِلِيَّ طَلْحَةُ بَنُ عُبَيْدِ اللهِ يُهَرْوِلُ حَتَّى صَافَحَنِي وَهَنَّأَنِي، مَا قَامَ إِلِيَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ غَيْرُهُ، وَلَا أَنْسَاهَا لِطَلْحَةَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبْرُقُ وَجْهُهُ مِنَ السُّرُورِ:" أَبْشِرْ بِخَيْرِ يَوْمٍ مَرَّ عَلَيْكَ مُذْ وَلَدَتْكَ أُمُّكَ". قُلْتُ: أَمِنْ عِنْدِكَ يَا رَسُولَ اللهِ، أَمْ مِنْ عِنْدِ اللهِ؟ قَالَ:" لَا، بَلْ مِنْ عِنْدِ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى". وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَشَّرَ بِبِشَارَةٍ يَبْرُقُ وَجْهُهُ حَتَّى كَأَنَّهُ قِطْعَةُ قَمَرٍ، وَكُنَّا نَعْرِفُ ذَلِكَ مِنْهُ، فَلَمَّا جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِلَى الرَّسُولِ. قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ". فَقُلْتُ: فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّمَا نَجَّانِي الصِّدْقُ، وَإِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ لَا أُحَدِّثَ إِلَّا صِدْقًا مَا بَقِيتُ، فَوَاللهِ مَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ابْتَلَاهُ اللهُ فِي صِدْقِ الْحَدِيثِ مُذْ حَدَّثْتُ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ مِمَّا ابْتَلَانِي، مَا تَعَمَّدْتُ مُذْ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى يَوْمِي هَذَا كَذِبًا، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَحْفَظَنِي اللهُ فِيمَا بَقِيَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ: {لَقَدْ تَابَ اللهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ إِنَّهُ بِهِمْ رَءُوفٌ رَحِيمٌ وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا حَتَّى إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنْفُسُهُمْ وَظَنُّوا أَنْ لَا مَلْجَأَ مِنَ اللهِ إِلَّا إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُوا إِنَّ اللهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ}، فَوَاللهِ مَا أَنْعَمَ اللهُ عَلَيَّ مِنْ نِعْمَةٍ بَعْدَ أَنْ هَدَانِي لِلْإِسْلَامِ أَعْظَمَ فِي نَفْسِي مِنْ صِدْقِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ أَنْ لَا أَكُونَ كَذَبْتُهُ؛ فَأَهْلِكَ كَمَا هَلَكَ الَّذِينَ كَذَبُوهُ، فَإِنَّ اللهَ قَالَ لِلَّذِينَ كَذَبُوهُ حِينَ نَزَلَ الْوَحْيُ شَرَّ مَا قَالَ لِأَحَدٍ، قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {سَيَحْلِفُونَ بِاللهِ لَكُمْ إِذَا انْقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُوا عَنْهُمْ فَأَعْرِضُوا عَنْهُمْ إِنَّهُمْ رِجْسٌ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ، يَحْلِفُونَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنَّ اللهَ لَا يَرْضَى عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ} [التوبة: ٩٦] . قَالَ كَعْبٌ: وَكُنَّا تَخَلَّفْنَا أَيُّهَا الثَّلَاثَةُ عَنْ أَمْرِ أُولَئِكَ الَّذِينَ قَبِلَ مِنْهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حَلَفُوا لَهُ، فَبَايَعَهُمْ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمْ، وَأَرْجَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَنَا حَتَّى قَضَى اللهُ فِيهِ، فَبِذَلِكَ قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا} [التوبة: ١١٨] ، وَلَيْسَ الَّذِي ذَكَرَ اللهُ تَخَلُّفُنَا عَنِ الْغَزْوِ، إِنَّمَا هُوَ تَخْلِيفُهُ إِيَّانَا وَإِرْجَاؤُهُ أَمْرَنَا مِمَّنْ حَلَفَ وَاعْتَذَرَ، فَقَبِلَ مِنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے قائد (جو آپ کی رہنمائی کرتے تھے نابینا ہونے کی بنا پر) فرماتے ہیں کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو سنا، وہ غزوہ تبوک سے اپنے پیچھے رہنے کا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”میں کسی غزوہ میں پیچھے نہیں رہا تھا کبھی بھی مگر غزوہ تبوک میں، اور غزوہ بدر میں (بھی پیچھے رہا تھا) مگر اس میں اللہ نے پیچھے رہنے والے پر سزا نہیں رکھی تھی، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے قافلے کے ارادہ سے نکلے تھے نہ کہ لڑائی کے لیے، یہاں تک کہ مقرر کیے بغیر ہی اللہ نے دشمن سے سامنا کرا دیا تھا۔ میں بیعت عقبہ کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا جب ہم نے اسلام پر عہد و پیمان کیا تھا۔ اس میں میرا موجود ہونا مجھے بدر میں موجود ہونے سے زیادہ پسند ہے، اگرچہ بدر لوگوں میں بیعت عقبہ سے زیادہ مشہور ہے۔ میرا واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ جب میں غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گیا، تو میں اس وقت جتنا قوی اور خوش حال تھا کبھی نہ تھا۔ اللہ کی قسم! اس سے پہلے میرے پاس کبھی دو سواریاں جمع نہیں ہوئی تھیں، جبکہ اس غزوے کے موقع پر میرے پاس دو سواریاں موجود تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پہلے غزوات کے لیے (پوشیدہ رکھنے کی خاطر) واضح بات نہیں کرتے تھے بلکہ کنایہ کرتے تھے، جبکہ اس دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح بتا دیا تھا کیونکہ سخت موسم تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم طویل سفر کی طرف نکلے تھے اور دشمن کی تعداد بہت زیادہ تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاملے کو مسلمانوں کے لیے واضح کیا تاکہ وہ دشمن کی تیاری کے مطابق تیار ہو سکیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سمت کی خبر دی جہاں جانا تھا۔ مسلمان بھی کثرت میں تھے جبکہ حاضری کا کوئی (لکھا ہوا) رجسٹر نہیں تھا۔“
کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”کوئی شخص جو غائب ہونے کا ارادہ کرتا تو وہ گمان ہی کر سکتا تھا کہ اس کا پیچھے رہنا مخفی رہے گا جب تک کہ اس کے بارے میں وحی نازل نہ ہو۔“
یہ غزوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت برپا کیا جب پھل پک گئے تھے اور سائے اچھے لگنے لگے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان تیار ہوئے۔ میں بھی صبح کے وقت تیاری کرنے لگتا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا سکوں لیکن کوئی حتمی فیصلہ نہ کر پاتا۔ میں اپنے دل میں کہتا: جب چاہوں گا تیاری کر لوں گا، میں ٹال مٹول کرتا رہا یہاں تک کہ لوگوں نے سنجیدگی سے کوچ کی تیاری کر لی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں نے صبح سویرے کوچ کر دیا اور میں اب تک کوئی فیصلہ نہ کر سکا، تو میں نے دل میں کہا: ایک دو دن میں چلا جاؤں گا اور ان سے جا ملوں گا۔ پھر میں نے صبح کی تاکہ تیاری کروں لیکن پھر لوٹ آیا اور کوئی فیصلہ نہ کر پایا۔ صبح و شام ہوتی رہی اور میں مسلسل لیٹ ہوتا رہا حتیٰ کہ لشکر تیزی سے نکل گیا اور لڑائی کا وقت قریب آ گیا۔ میں نے ارادہ کیا کہ کوچ کروں اور ان کو جا لوں، کاش کہ میں ایسا کر لیتا! لیکن یہ میرے مقدر میں نہیں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانے کے بعد جب میں لوگوں میں نکلتا تو یہ بات مجھے غم زدہ کر دیتی کہ میں صرف ان لوگوں کو دیکھتا جن پر نفاق کا شبہ تھا یا ان کمزور لوگوں کو جنہیں اللہ نے معذور قرار دیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا خیال نہ آیا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک پہنچ گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک میں لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے پوچھا: ”کعب کا کیا ہوا؟“ تو بنو سلمہ کے ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اسے اس کی دو چادروں نے روک لیا ہے اور وہ اپنے پہلوؤں کو دیکھ کر اتراتا رہا۔
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو نے بہت بری بات کہی۔ اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم ان کے بارے میں بھلائی کے سوا کچھ نہیں جانتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔
کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب مجھے خبر ملی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لا رہے ہیں تو میرا ذہن جھوٹے بہانے تلاش کرنے لگا۔ میں نے دل میں کہا کہ کس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غصے سے نجات حاصل کروں گا؟ اور میں نے اس سلسلے میں اپنے گھر کے سمجھدار لوگوں سے بھی مشورہ لیا۔ جب کہا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح تشریف لا رہے ہیں تو جھوٹ کا خیال مجھ سے زائل ہو گیا اور میں جان گیا کہ میں جھوٹی بات سے کبھی نجات نہیں پاؤں گا، چنانچہ میں نے سچ کا دامن پکڑنے کا پختہ ارادہ کر لیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب سفر سے آتے تو پہلے مسجد میں دو رکعت نماز ادا کرتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کر چکے تو پیچھے رہنے والے آئے اور انہوں نے اپنے عذر پیش کیے اور قسمیں کھانے لگے۔ یہ اسی سے کچھ اوپر لوگ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ظاہری عذر کو قبول کیا، ان سے بیعت لی اور ان کے لیے استغفار کیا اور ان کے باطن کو اللہ کے سپرد کر دیا۔ میں حاضر ہوا اور سلام کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے بھری مسکراہٹ کے ساتھ ہنسے اور فرمایا: ”آؤ۔“ میں چل کر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تجھے کس چیز نے پیچھے رکھا؟ کیا تو نے سواری نہیں خریدی تھی؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! اگر میں آپ کے علاوہ کسی اور دنیا دار شخص کے پاس بیٹھا ہوتا تو میں یقیناً کوئی عذر گھڑ کر اس کے غصے سے بچ نکلتا کیونکہ مجھے چرب زبانی کا فن عطا کیا گیا ہے، لیکن اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ اگر آج میں نے جھوٹی بات سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو راضی کر بھی لیا تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ پر ناراض کر دے، اور اگر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچی بات بتاؤں تو اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر مجھ سے ناراض ہوں گے لیکن میں اللہ سے اس کے اچھے انجام کی امید رکھتا ہوں۔ اللہ کی قسم! میرے پاس کوئی عذر نہیں تھا، میں کبھی اتنا قوی اور خوش حال نہیں تھا جتنا اس وقت تھا جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ بولا ہے، پس اٹھ جاؤ یہاں تک کہ اللہ تمہارے بارے میں کوئی فیصلہ فرما دے۔“
میں اٹھ کھڑا ہوا، تو بنی سلمہ کے کچھ لوگ میرے پیچھے آئے اور کہنے لگے: اللہ کی قسم! ہمیں معلوم نہیں کہ تم نے اس سے پہلے کوئی گناہ کیا ہو۔ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اسی طرح کا کوئی عذر پیش کرنے سے عاجز کیوں رہے جیسا کہ دوسرے پیچھے رہنے والوں نے پیش کیا؟ تمہارے گناہ کی معافی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استغفار ہی کافی تھا۔ وہ مجھے مسلسل ملامت کرتے رہے حتیٰ کہ میں نے ارادہ کر لیا کہ واپس جاؤں اور خود کو جھٹلا دوں۔ پھر میں نے ان سے پوچھا: کیا میرے ساتھ کسی اور کا بھی یہی حال ہوا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، دو اور آدمیوں نے بھی وہی بات کہی جو تم نے کہی اور انہیں بھی وہی جواب ملا جو تمہیں ملا۔ میں نے پوچھا: وہ دونوں کون ہیں؟ انہوں نے کہا: مرارہ بن ربیع رضی اللہ عنہ اور ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ۔ انہوں نے دو ایسے نیک آدمیوں کے نام لیے جو بدر میں شریک ہو چکے تھے اور ان میں میرے لیے قابل تقلید نمونہ تھا۔ چنانچہ جب ان کا ذکر ہوا تو میں اپنے موقف پر پکا ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے رہنے والوں میں سے صرف ہم تینوں سے بات چیت کرنے سے روک دیا، تو لوگ ہم سے اجتناب کرنے لگے اور ان کا رویہ ہمارے لیے بدل گیا، یہاں تک کہ مجھے زمین بھی اجنبی محسوس ہونے لگی جیسے وہ وہ زمین نہ ہو جسے میں جانتا تھا۔ اسی حالت میں ہم نے پچاس راتیں گزاریں۔ میرے دونوں ساتھی تو ہمت ہار کر اپنے گھروں میں بیٹھے روتے رہے، جبکہ میں سب سے زیادہ جوان اور توانا تھا۔ میں نماز کے لیے نکلتا، مسلمانوں کے ساتھ بازاروں میں گھومتا لیکن کوئی مجھ سے بات نہ کرتا تھا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد اپنی مجلس میں تشریف فرما ہوتے، میں سلام عرض کرتا اور اپنے جی میں کہتا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب کے لیے اپنے ہونٹ ہلائے ہیں یا نہیں؟ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہی نماز پڑھتا اور کنکھیوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا، جب میں اپنی نماز کی طرف متوجہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف دیکھتے اور جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے رخ انور پھیر لیتے۔ جب مسلمانوں کی اس بے رخی کو طویل عرصہ گزر گیا تو میں ابو قتادہ رضی اللہ عنہ (جو میرے چچا زاد اور میرے سب سے پیارے دوست تھے) کے باغ کی دیوار پھلانگ کر اندر گیا۔ میں نے انہیں سلام کیا تو اللہ کی قسم! انہوں نے میرے سلام کا جواب تک نہ دیا۔ میں نے کہا: اے ابو قتادہ! میں تجھے اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا تو نہیں جانتا کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں؟ وہ خاموش رہے۔ میں نے دوبارہ قسم دے کر پوچھا، وہ پھر خاموش رہے۔ میں نے تیسری بار پوچھا تو انہوں نے صرف اتنا کہا: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں۔ یہ سن کر میری آنکھیں بہہ پڑیں۔ میں واپس مڑا اور دیوار پھلانگ کر باہر آگیا۔ کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں مدینہ کے بازار میں چل رہا تھا کہ اچانک شام کے کسانوں میں سے ایک کسان ملا جو اپنا غلہ بیچنے مدینہ آیا تھا، وہ پوچھ رہا تھا: کعب بن مالک کہاں ہے؟ لوگ میری طرف اشارہ کرنے لگے، وہ میرے پاس آیا اور مجھے غسان کے بادشاہ کا ایک خط دیا کیونکہ میں لکھنا پڑھنا جانتا تھا، میں نے اسے پڑھا تو اس میں لکھا تھا: ”اما بعد! ہمیں معلوم ہوا ہے کہ تمہارے صاحب ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے تم پر جفا کی ہے، اللہ نے تمہیں ذلت کے گھر میں نہیں پیدا کیا اور نہ ہی ضائع ہونے کے لیے، لہٰذا تم ہمارے پاس آ جاؤ، ہم تمہاری قدر کریں گے۔“ میں نے اسے پڑھ کر کہا: یہ بھی ایک آزمائش ہے۔ پھر میں نے ایک تنور کا رخ کیا اور اس خط کو اس میں جھونک دیا۔
جب پچاس میں سے چالیس دن گزر گئے تو اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد میرے پاس آیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ تم اپنی بیوی سے الگ رہو۔ میں نے پوچھا: کیا میں اسے طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ اس سے الگ رہو اور اس کے قریب نہ جاؤ۔ اسی طرح میرے باقی دو ساتھیوں کو بھی یہی حکم بھیجا گیا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا: تم اپنے میکے چلی جاؤ اور وہیں رہو جب تک کہ اللہ اس معاملے کا فیصلہ نہ فرما دے۔ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہلال بن امیہ ایک بہت بوڑھے اور ضعیف آدمی ہیں، ان کے پاس کوئی خادم بھی نہیں، تو کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند فرماتے ہیں کہ میں ان کی خدمت کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں (خدمت کر سکتی ہو)، لیکن وہ تمہارے قریب نہ آئے۔“ اس نے عرض کیا: اللہ کی قسم! ان میں تو کسی چیز کی کوئی حرکت ہی نہیں ہے، اللہ کی قسم! جب سے یہ معاملہ ہوا ہے وہ آج تک مسلسل رو رہے ہیں۔ میرے گھر والوں نے مجھ سے کہا کہ کاش تم بھی اپنی بیوی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لیتے جیسا کہ ہلال بن امیہ کی بیوی کو اجازت مل گئی ہے۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہرگز اجازت نہیں مانگوں گا، میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرمائیں گے جبکہ میں ایک جوان آدمی ہوں۔
ہم اسی حالت میں رہے یہاں تک کہ پچاس راتیں مکمل ہو گئیں۔ پچاسویں رات میں نے اپنے گھر کی چھت پر فجر کی نماز پڑھی، میں اسی حالت میں بیٹھا ہوا تھا جس کا اللہ نے ذکر کیا ہے کہ میری جان مجھ پر تنگ ہو گئی تھی اور زمین اپنی وسعت کے باوجود مجھ پر تنگ ہو چکی تھی کہ اچانک میں نے سلع پہاڑ کی چوٹی سے ایک پکارنے والے کی آواز سنی جو بلند آواز سے کہہ رہا تھا: اے کعب بن مالک! تجھے خوشخبری ہو! یہ سنتے ہی میں سجدے میں گر گیا اور میں جان گیا کہ اللہ کی طرف سے کشادگی آگئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز کے بعد لوگوں کو ہماری توبہ کی قبولیت کی خبر دے دی تھی، چنانچہ لوگ ہمیں خوشخبری دینے کے لیے دوڑ پڑے۔ میرے دونوں ساتھیوں کی طرف بھی خوشخبری دینے والے گئے اور ایک شخص نے میری طرف گھوڑا دوڑایا، جبکہ قبیلہ اسلم کے ایک شخص نے پہاڑ پر چڑھ کر آواز دی، اور اس کی آواز گھوڑے سے زیادہ تیز مجھ تک پہنچ گئی۔ جب وہ شخص میرے پاس آیا جس کی خوشخبری کی آواز میں نے سنی تھی، تو میں نے اپنے دونوں کپڑے اتارے اور اسے خوشخبری دینے کے صلے میں پہنا دیے، حالانکہ اللہ کی قسم! اس دن میرے پاس ان کے علاوہ اور کوئی کپڑے نہ تھے۔ میں نے دو کپڑے ادھار لیے اور انہیں پہن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روانہ ہوا۔ لوگ جوق در جوق مجھ سے ملتے اور توبہ کی قبولیت کی مبارکباد دیتے ہوئے کہتے: تمہیں اللہ کی طرف سے توبہ کی قبولیت مبارک ہو۔ جب میں مسجد میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد لوگ بیٹھے ہیں۔ طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور میری طرف لپکے، مجھ سے مصافحہ کیا اور مبارکباد دی۔ اللہ کی قسم! مہاجرین میں سے ان کے سوا کوئی نہیں اٹھا، اور کعب رضی اللہ عنہ طلحہ رضی اللہ عنہ کے اس احسان کو کبھی نہیں بھولتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک خوشی سے چمک رہا تھا: ”اے کعب! تجھے اس بہترین دن کی مبارکباد ہو جو تیری ماں کے تجھے جننے کے بعد سے تجھ پر گزرا ہے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ آپ کی طرف سے ہے یا اللہ کی طرف سے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خوش ہوتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور چمکنے لگتا تھا گویا چاند کا ایک ٹکڑا ہو اور یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر دیکھی گئی۔ کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا تو میں نے عرض کیا کہ میں اپنی توبہ کی قبولیت کے شکرانے کے طور پر اپنا سارا مال اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صدقہ کرتا ہوں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا کچھ مال اپنے پاس روک لو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔“ میں نے عرض کیا کہ میں خیبر کا اپنا حصہ اپنے پاس رکھتا ہوں۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ نے مجھے سچائی کی وجہ سے نجات دی ہے اور میری توبہ کا تقاضا یہ ہے کہ میں جب تک زندہ رہوں گا کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا۔ اللہ کی قسم! جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عہد کیا ہے، میں کسی مسلمان کو نہیں جانتا جسے اللہ نے سچ بولنے پر اس سے بہتر انعام سے نوازا ہو جتنا مجھے نوازا ہے۔ اس دن کے بعد میں نے کبھی جان بوجھ کر جھوٹ بولنے کا ارادہ نہیں کیا، اور میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری بقیہ زندگی میں بھی مجھے اس سے محفوظ رکھے گا۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿لَقَدْ تَابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِیقٍ مِنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ إِنَّهُ بِهِمْ رَءُوفٌ رَحِيمٌ۔ وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا حَتَّى إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنْفُسُهُمْ وَظَنُّوا أَنْ لَا مَلْجَأَ مِنَ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ﴾ [سورة التوبة: 117-119] ”بلاشبہ یقیناً اللہ تعالیٰ نے نبی پر مہربانی کے ساتھ توبہ قبول فرمائی اور مہاجرین و انصار پر بھی جو تنگ دستی کی گھڑی میں اس کے ساتھ رہے۔ اس کے بعد کہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل ٹیڑھے ہو جائیں پھر وہ ان پر دوبارہ مہربان ہو گیا۔ یقیناً وہ ان پر بہت شفقت کرنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے اور ان تینوں پر بھی جو موقوف رکھے گئے تھے یہاں تک کہ جب زمین ان پر تنگ ہو گئی باوجود اس کے کہ فراخ تھی اور ان پر ان کی جانیں تنگ ہو گئیں اور انہوں نے یقین کر لیا کہ بیشک اللہ سے پناہ کی کوئی جگہ اس کی جناب سے خالی نہیں۔ پھر اس نے ان پر مہربانی سے توجہ فرمائی تاکہ وہ توبہ کریں یقیناً اللہ ہی ہے جو بہت توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم والا ہے۔ اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ ہو جاؤ۔“ اللہ کی قسم! اسلام کی ہدایت پانے کے بعد اس سچائی سے بڑھ کر کوئی نعمت مجھے عزیز نہیں ہے جو سچ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بولا، کہ کہیں میں جھوٹ بول کر اسی طرح ہلاک نہ ہو جاتا جیسے جھوٹ بولنے والے ہلاک ہوئے، اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے جھوٹ بولنے والوں کے بارے میں اتنی سخت بات کہی ہے جو کسی کے لیے نہیں کہی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿سَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ إِذَا انْقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُوا عَنْهُمْ فَأَعْرِضُوا عَنْهُمْ إِنَّهُمْ رِجْسٌ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ۔ يَحْلِفُونَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَرْضَى عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ﴾ [سورة التوبة: 95-96] ”عنقریب وہ تمہارے لیے اللہ کی قسمیں کھائیں گے جب تم ان کی طرف واپس آؤ گے تاکہ تم ان سے اعراض کرو (توجہ ہٹا لو)، سو ان سے اعراض ہی کرو۔ بیشک وہ گندگی ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اس کے بدلے میں جو وہ کماتے تھے۔ وہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے راضی ہو جاؤ، پس اگر تم ان سے راضی ہو بھی جاؤ تو بیشک اللہ نافرمان لوگوں سے راضی نہیں ہوتا۔“ کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم تینوں کے معاملے کو ان لوگوں کے معاملے سے مؤخر کر دیا گیا تھا جن کی قسموں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول کر لیا تھا، ان سے بیعت لے لی تھی اور ان کے لیے استغفار کیا تھا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا معاملہ اس وقت تک کے لیے چھوڑ دیا تھا جب تک اللہ تعالیٰ نے خود اس کا فیصلہ نہیں فرما دیا، اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا﴾ [سورة التوبة: 118] ”اور ان تینوں پر بھی جن کے معاملے کو مؤخر کر دیا گیا تھا۔“ یہاں ”خلفوا“ سے مراد غزوے سے پیچھے رہنا نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمارے معاملے کو پیچھے ڈال دینا ہے، ان لوگوں کے مقابلے میں جنہوں نے قسمیں کھائیں اور عذر پیش کیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قبول کر لیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17871]
کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”کوئی شخص جو غائب ہونے کا ارادہ کرتا تو وہ گمان ہی کر سکتا تھا کہ اس کا پیچھے رہنا مخفی رہے گا جب تک کہ اس کے بارے میں وحی نازل نہ ہو۔“
یہ غزوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت برپا کیا جب پھل پک گئے تھے اور سائے اچھے لگنے لگے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان تیار ہوئے۔ میں بھی صبح کے وقت تیاری کرنے لگتا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا سکوں لیکن کوئی حتمی فیصلہ نہ کر پاتا۔ میں اپنے دل میں کہتا: جب چاہوں گا تیاری کر لوں گا، میں ٹال مٹول کرتا رہا یہاں تک کہ لوگوں نے سنجیدگی سے کوچ کی تیاری کر لی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں نے صبح سویرے کوچ کر دیا اور میں اب تک کوئی فیصلہ نہ کر سکا، تو میں نے دل میں کہا: ایک دو دن میں چلا جاؤں گا اور ان سے جا ملوں گا۔ پھر میں نے صبح کی تاکہ تیاری کروں لیکن پھر لوٹ آیا اور کوئی فیصلہ نہ کر پایا۔ صبح و شام ہوتی رہی اور میں مسلسل لیٹ ہوتا رہا حتیٰ کہ لشکر تیزی سے نکل گیا اور لڑائی کا وقت قریب آ گیا۔ میں نے ارادہ کیا کہ کوچ کروں اور ان کو جا لوں، کاش کہ میں ایسا کر لیتا! لیکن یہ میرے مقدر میں نہیں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانے کے بعد جب میں لوگوں میں نکلتا تو یہ بات مجھے غم زدہ کر دیتی کہ میں صرف ان لوگوں کو دیکھتا جن پر نفاق کا شبہ تھا یا ان کمزور لوگوں کو جنہیں اللہ نے معذور قرار دیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا خیال نہ آیا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک پہنچ گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک میں لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے پوچھا: ”کعب کا کیا ہوا؟“ تو بنو سلمہ کے ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اسے اس کی دو چادروں نے روک لیا ہے اور وہ اپنے پہلوؤں کو دیکھ کر اتراتا رہا۔
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو نے بہت بری بات کہی۔ اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم ان کے بارے میں بھلائی کے سوا کچھ نہیں جانتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔
کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب مجھے خبر ملی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لا رہے ہیں تو میرا ذہن جھوٹے بہانے تلاش کرنے لگا۔ میں نے دل میں کہا کہ کس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غصے سے نجات حاصل کروں گا؟ اور میں نے اس سلسلے میں اپنے گھر کے سمجھدار لوگوں سے بھی مشورہ لیا۔ جب کہا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح تشریف لا رہے ہیں تو جھوٹ کا خیال مجھ سے زائل ہو گیا اور میں جان گیا کہ میں جھوٹی بات سے کبھی نجات نہیں پاؤں گا، چنانچہ میں نے سچ کا دامن پکڑنے کا پختہ ارادہ کر لیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب سفر سے آتے تو پہلے مسجد میں دو رکعت نماز ادا کرتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کر چکے تو پیچھے رہنے والے آئے اور انہوں نے اپنے عذر پیش کیے اور قسمیں کھانے لگے۔ یہ اسی سے کچھ اوپر لوگ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ظاہری عذر کو قبول کیا، ان سے بیعت لی اور ان کے لیے استغفار کیا اور ان کے باطن کو اللہ کے سپرد کر دیا۔ میں حاضر ہوا اور سلام کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے بھری مسکراہٹ کے ساتھ ہنسے اور فرمایا: ”آؤ۔“ میں چل کر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تجھے کس چیز نے پیچھے رکھا؟ کیا تو نے سواری نہیں خریدی تھی؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! اگر میں آپ کے علاوہ کسی اور دنیا دار شخص کے پاس بیٹھا ہوتا تو میں یقیناً کوئی عذر گھڑ کر اس کے غصے سے بچ نکلتا کیونکہ مجھے چرب زبانی کا فن عطا کیا گیا ہے، لیکن اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ اگر آج میں نے جھوٹی بات سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو راضی کر بھی لیا تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ پر ناراض کر دے، اور اگر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچی بات بتاؤں تو اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر مجھ سے ناراض ہوں گے لیکن میں اللہ سے اس کے اچھے انجام کی امید رکھتا ہوں۔ اللہ کی قسم! میرے پاس کوئی عذر نہیں تھا، میں کبھی اتنا قوی اور خوش حال نہیں تھا جتنا اس وقت تھا جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ بولا ہے، پس اٹھ جاؤ یہاں تک کہ اللہ تمہارے بارے میں کوئی فیصلہ فرما دے۔“
میں اٹھ کھڑا ہوا، تو بنی سلمہ کے کچھ لوگ میرے پیچھے آئے اور کہنے لگے: اللہ کی قسم! ہمیں معلوم نہیں کہ تم نے اس سے پہلے کوئی گناہ کیا ہو۔ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اسی طرح کا کوئی عذر پیش کرنے سے عاجز کیوں رہے جیسا کہ دوسرے پیچھے رہنے والوں نے پیش کیا؟ تمہارے گناہ کی معافی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استغفار ہی کافی تھا۔ وہ مجھے مسلسل ملامت کرتے رہے حتیٰ کہ میں نے ارادہ کر لیا کہ واپس جاؤں اور خود کو جھٹلا دوں۔ پھر میں نے ان سے پوچھا: کیا میرے ساتھ کسی اور کا بھی یہی حال ہوا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، دو اور آدمیوں نے بھی وہی بات کہی جو تم نے کہی اور انہیں بھی وہی جواب ملا جو تمہیں ملا۔ میں نے پوچھا: وہ دونوں کون ہیں؟ انہوں نے کہا: مرارہ بن ربیع رضی اللہ عنہ اور ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ۔ انہوں نے دو ایسے نیک آدمیوں کے نام لیے جو بدر میں شریک ہو چکے تھے اور ان میں میرے لیے قابل تقلید نمونہ تھا۔ چنانچہ جب ان کا ذکر ہوا تو میں اپنے موقف پر پکا ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے رہنے والوں میں سے صرف ہم تینوں سے بات چیت کرنے سے روک دیا، تو لوگ ہم سے اجتناب کرنے لگے اور ان کا رویہ ہمارے لیے بدل گیا، یہاں تک کہ مجھے زمین بھی اجنبی محسوس ہونے لگی جیسے وہ وہ زمین نہ ہو جسے میں جانتا تھا۔ اسی حالت میں ہم نے پچاس راتیں گزاریں۔ میرے دونوں ساتھی تو ہمت ہار کر اپنے گھروں میں بیٹھے روتے رہے، جبکہ میں سب سے زیادہ جوان اور توانا تھا۔ میں نماز کے لیے نکلتا، مسلمانوں کے ساتھ بازاروں میں گھومتا لیکن کوئی مجھ سے بات نہ کرتا تھا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد اپنی مجلس میں تشریف فرما ہوتے، میں سلام عرض کرتا اور اپنے جی میں کہتا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب کے لیے اپنے ہونٹ ہلائے ہیں یا نہیں؟ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہی نماز پڑھتا اور کنکھیوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا، جب میں اپنی نماز کی طرف متوجہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف دیکھتے اور جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے رخ انور پھیر لیتے۔ جب مسلمانوں کی اس بے رخی کو طویل عرصہ گزر گیا تو میں ابو قتادہ رضی اللہ عنہ (جو میرے چچا زاد اور میرے سب سے پیارے دوست تھے) کے باغ کی دیوار پھلانگ کر اندر گیا۔ میں نے انہیں سلام کیا تو اللہ کی قسم! انہوں نے میرے سلام کا جواب تک نہ دیا۔ میں نے کہا: اے ابو قتادہ! میں تجھے اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا تو نہیں جانتا کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں؟ وہ خاموش رہے۔ میں نے دوبارہ قسم دے کر پوچھا، وہ پھر خاموش رہے۔ میں نے تیسری بار پوچھا تو انہوں نے صرف اتنا کہا: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں۔ یہ سن کر میری آنکھیں بہہ پڑیں۔ میں واپس مڑا اور دیوار پھلانگ کر باہر آگیا۔ کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں مدینہ کے بازار میں چل رہا تھا کہ اچانک شام کے کسانوں میں سے ایک کسان ملا جو اپنا غلہ بیچنے مدینہ آیا تھا، وہ پوچھ رہا تھا: کعب بن مالک کہاں ہے؟ لوگ میری طرف اشارہ کرنے لگے، وہ میرے پاس آیا اور مجھے غسان کے بادشاہ کا ایک خط دیا کیونکہ میں لکھنا پڑھنا جانتا تھا، میں نے اسے پڑھا تو اس میں لکھا تھا: ”اما بعد! ہمیں معلوم ہوا ہے کہ تمہارے صاحب ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے تم پر جفا کی ہے، اللہ نے تمہیں ذلت کے گھر میں نہیں پیدا کیا اور نہ ہی ضائع ہونے کے لیے، لہٰذا تم ہمارے پاس آ جاؤ، ہم تمہاری قدر کریں گے۔“ میں نے اسے پڑھ کر کہا: یہ بھی ایک آزمائش ہے۔ پھر میں نے ایک تنور کا رخ کیا اور اس خط کو اس میں جھونک دیا۔
جب پچاس میں سے چالیس دن گزر گئے تو اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد میرے پاس آیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ تم اپنی بیوی سے الگ رہو۔ میں نے پوچھا: کیا میں اسے طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ اس سے الگ رہو اور اس کے قریب نہ جاؤ۔ اسی طرح میرے باقی دو ساتھیوں کو بھی یہی حکم بھیجا گیا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا: تم اپنے میکے چلی جاؤ اور وہیں رہو جب تک کہ اللہ اس معاملے کا فیصلہ نہ فرما دے۔ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہلال بن امیہ ایک بہت بوڑھے اور ضعیف آدمی ہیں، ان کے پاس کوئی خادم بھی نہیں، تو کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند فرماتے ہیں کہ میں ان کی خدمت کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں (خدمت کر سکتی ہو)، لیکن وہ تمہارے قریب نہ آئے۔“ اس نے عرض کیا: اللہ کی قسم! ان میں تو کسی چیز کی کوئی حرکت ہی نہیں ہے، اللہ کی قسم! جب سے یہ معاملہ ہوا ہے وہ آج تک مسلسل رو رہے ہیں۔ میرے گھر والوں نے مجھ سے کہا کہ کاش تم بھی اپنی بیوی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لیتے جیسا کہ ہلال بن امیہ کی بیوی کو اجازت مل گئی ہے۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہرگز اجازت نہیں مانگوں گا، میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرمائیں گے جبکہ میں ایک جوان آدمی ہوں۔
ہم اسی حالت میں رہے یہاں تک کہ پچاس راتیں مکمل ہو گئیں۔ پچاسویں رات میں نے اپنے گھر کی چھت پر فجر کی نماز پڑھی، میں اسی حالت میں بیٹھا ہوا تھا جس کا اللہ نے ذکر کیا ہے کہ میری جان مجھ پر تنگ ہو گئی تھی اور زمین اپنی وسعت کے باوجود مجھ پر تنگ ہو چکی تھی کہ اچانک میں نے سلع پہاڑ کی چوٹی سے ایک پکارنے والے کی آواز سنی جو بلند آواز سے کہہ رہا تھا: اے کعب بن مالک! تجھے خوشخبری ہو! یہ سنتے ہی میں سجدے میں گر گیا اور میں جان گیا کہ اللہ کی طرف سے کشادگی آگئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز کے بعد لوگوں کو ہماری توبہ کی قبولیت کی خبر دے دی تھی، چنانچہ لوگ ہمیں خوشخبری دینے کے لیے دوڑ پڑے۔ میرے دونوں ساتھیوں کی طرف بھی خوشخبری دینے والے گئے اور ایک شخص نے میری طرف گھوڑا دوڑایا، جبکہ قبیلہ اسلم کے ایک شخص نے پہاڑ پر چڑھ کر آواز دی، اور اس کی آواز گھوڑے سے زیادہ تیز مجھ تک پہنچ گئی۔ جب وہ شخص میرے پاس آیا جس کی خوشخبری کی آواز میں نے سنی تھی، تو میں نے اپنے دونوں کپڑے اتارے اور اسے خوشخبری دینے کے صلے میں پہنا دیے، حالانکہ اللہ کی قسم! اس دن میرے پاس ان کے علاوہ اور کوئی کپڑے نہ تھے۔ میں نے دو کپڑے ادھار لیے اور انہیں پہن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روانہ ہوا۔ لوگ جوق در جوق مجھ سے ملتے اور توبہ کی قبولیت کی مبارکباد دیتے ہوئے کہتے: تمہیں اللہ کی طرف سے توبہ کی قبولیت مبارک ہو۔ جب میں مسجد میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد لوگ بیٹھے ہیں۔ طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور میری طرف لپکے، مجھ سے مصافحہ کیا اور مبارکباد دی۔ اللہ کی قسم! مہاجرین میں سے ان کے سوا کوئی نہیں اٹھا، اور کعب رضی اللہ عنہ طلحہ رضی اللہ عنہ کے اس احسان کو کبھی نہیں بھولتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک خوشی سے چمک رہا تھا: ”اے کعب! تجھے اس بہترین دن کی مبارکباد ہو جو تیری ماں کے تجھے جننے کے بعد سے تجھ پر گزرا ہے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ آپ کی طرف سے ہے یا اللہ کی طرف سے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خوش ہوتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور چمکنے لگتا تھا گویا چاند کا ایک ٹکڑا ہو اور یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر دیکھی گئی۔ کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا تو میں نے عرض کیا کہ میں اپنی توبہ کی قبولیت کے شکرانے کے طور پر اپنا سارا مال اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صدقہ کرتا ہوں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا کچھ مال اپنے پاس روک لو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔“ میں نے عرض کیا کہ میں خیبر کا اپنا حصہ اپنے پاس رکھتا ہوں۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ نے مجھے سچائی کی وجہ سے نجات دی ہے اور میری توبہ کا تقاضا یہ ہے کہ میں جب تک زندہ رہوں گا کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا۔ اللہ کی قسم! جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عہد کیا ہے، میں کسی مسلمان کو نہیں جانتا جسے اللہ نے سچ بولنے پر اس سے بہتر انعام سے نوازا ہو جتنا مجھے نوازا ہے۔ اس دن کے بعد میں نے کبھی جان بوجھ کر جھوٹ بولنے کا ارادہ نہیں کیا، اور میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری بقیہ زندگی میں بھی مجھے اس سے محفوظ رکھے گا۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿لَقَدْ تَابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِیقٍ مِنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ إِنَّهُ بِهِمْ رَءُوفٌ رَحِيمٌ۔ وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا حَتَّى إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنْفُسُهُمْ وَظَنُّوا أَنْ لَا مَلْجَأَ مِنَ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ﴾ [سورة التوبة: 117-119] ”بلاشبہ یقیناً اللہ تعالیٰ نے نبی پر مہربانی کے ساتھ توبہ قبول فرمائی اور مہاجرین و انصار پر بھی جو تنگ دستی کی گھڑی میں اس کے ساتھ رہے۔ اس کے بعد کہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل ٹیڑھے ہو جائیں پھر وہ ان پر دوبارہ مہربان ہو گیا۔ یقیناً وہ ان پر بہت شفقت کرنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے اور ان تینوں پر بھی جو موقوف رکھے گئے تھے یہاں تک کہ جب زمین ان پر تنگ ہو گئی باوجود اس کے کہ فراخ تھی اور ان پر ان کی جانیں تنگ ہو گئیں اور انہوں نے یقین کر لیا کہ بیشک اللہ سے پناہ کی کوئی جگہ اس کی جناب سے خالی نہیں۔ پھر اس نے ان پر مہربانی سے توجہ فرمائی تاکہ وہ توبہ کریں یقیناً اللہ ہی ہے جو بہت توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم والا ہے۔ اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ ہو جاؤ۔“ اللہ کی قسم! اسلام کی ہدایت پانے کے بعد اس سچائی سے بڑھ کر کوئی نعمت مجھے عزیز نہیں ہے جو سچ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بولا، کہ کہیں میں جھوٹ بول کر اسی طرح ہلاک نہ ہو جاتا جیسے جھوٹ بولنے والے ہلاک ہوئے، اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے جھوٹ بولنے والوں کے بارے میں اتنی سخت بات کہی ہے جو کسی کے لیے نہیں کہی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿سَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ إِذَا انْقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُوا عَنْهُمْ فَأَعْرِضُوا عَنْهُمْ إِنَّهُمْ رِجْسٌ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ۔ يَحْلِفُونَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَرْضَى عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ﴾ [سورة التوبة: 95-96] ”عنقریب وہ تمہارے لیے اللہ کی قسمیں کھائیں گے جب تم ان کی طرف واپس آؤ گے تاکہ تم ان سے اعراض کرو (توجہ ہٹا لو)، سو ان سے اعراض ہی کرو۔ بیشک وہ گندگی ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اس کے بدلے میں جو وہ کماتے تھے۔ وہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے راضی ہو جاؤ، پس اگر تم ان سے راضی ہو بھی جاؤ تو بیشک اللہ نافرمان لوگوں سے راضی نہیں ہوتا۔“ کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم تینوں کے معاملے کو ان لوگوں کے معاملے سے مؤخر کر دیا گیا تھا جن کی قسموں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول کر لیا تھا، ان سے بیعت لے لی تھی اور ان کے لیے استغفار کیا تھا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا معاملہ اس وقت تک کے لیے چھوڑ دیا تھا جب تک اللہ تعالیٰ نے خود اس کا فیصلہ نہیں فرما دیا، اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا﴾ [سورة التوبة: 118] ”اور ان تینوں پر بھی جن کے معاملے کو مؤخر کر دیا گیا تھا۔“ یہاں ”خلفوا“ سے مراد غزوے سے پیچھے رہنا نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمارے معاملے کو پیچھے ڈال دینا ہے، ان لوگوں کے مقابلے میں جنہوں نے قسمیں کھائیں اور عذر پیش کیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قبول کر لیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17871]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17872
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رِجَالًا مِنَ الْمُنَافِقِينَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْغَزْوِ تَخَلَّفُوا عَنْهُ وَفَرِحُوا بِمَقْعَدِهِمْ خِلَافَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَذَرُوا إِلَيْهِ وَحَلَفُوا وَأَحَبُّوا أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا، فَنَزَلَتْ فِيهِمْ: {لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِنَ الْعَذَابِ} [آل عمران: ١٨٨] . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنِ الْحُلْوَانِيِّ وَابْنِ عَسْكَرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" فَأَظْهَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْرَارَهُمْ، وَخَبَرَ السَّمَّاعِينَ لَهُمْ وَأَتْبَاعِهِمْ أَنْ يَفْتِنُوا مَنْ مَعَهُ بِالْكَذِبِ وَالْإِرْجَافِ وَالتَّخْذِيلِ لَهُمْ، فَأَخْبَرَ أَنَّهُ كَرِهَ انْبِعَاثَهُمْ إِذَا كَانُوا عَلَى هَذِهِ النِّيَّةِ، فَكَانَ فِيهَا مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ اللهَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ أَمَرَ أَنْ يُمْنَعَ مَنْ عُرِفَ بِمَا عُرِفُوا بِهِ مِنْ أَنْ يَغْزُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ؛ لِأَنَّهُ لَا ضَرَرَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ زَادَ فِي تَأْكِيدِ بَيَانِ ذَلِكَ بِقَوْلِهِ: {فَرِحَ الْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلَافَ رَسُولِ اللهِ} [التوبة: ٨١] قَرَأَ إِلَى قَوْلِهِ: {فَاقْعُدُوا مَعَ الْخَالِفِينَ} [التوبة: ٨٣] .
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کچھ منافقین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اس طرح کرتے کہ جب آپ غزوہ کے لیے نکلتے تو پیچھے رہ جاتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں بیٹھ کر خوش ہوتے تھے، اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آتے تو یہ لوگ عذر کرتے اور قسم اٹھاتے اور چاہتے کہ اللہ کے رسول ان کی تعریف کریں ایسے کام پر جو انھوں نے نہیں کیا۔ تو ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوا وَّيُحِبُّونَ أَن يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلَا تَحْسَبَنَّهُم بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ﴾ [سورة آل عمران: 188] ”ان لوگوں کو ہرگز خیال نہ کر جو ان (کاموں) پر خوش ہوتے ہیں جو انھوں نے کیے اور پسند کرتے ہیں کہ ان کی تعریف ان (کاموں) پر کی جائے جو انھوں نے نہیں کیے، تو انھیں عذاب سے بچ نکلنے میں کامیاب ہرگز خیال نہ کر اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ عزوجل نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کے راز کھول دیے اور ان کی باتیں سننے والوں اور ان کے پیروکاروں کی خبر بھی ظاہر کر دی اور ان کا یہ چاہنا کہ آپ کے ساتھیوں کو جھوٹ کا سہارا لے کر فتنہ میں ڈال دیں اور بری خبریں پھیلا کر اور آپ کے ساتھیوں کو آپ کی مدد سے ہاتھ کھینچنے کی ترغیب دلا کر، اور اللہ نے خبر دی کہ وہ ان کا اس نیت کے ساتھ جانا ناپسند کرتا ہے یہ اس کی دلیل ہے کہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ جس کے بارے میں پتہ چل جائے تو ان کو مسلمانوں کے غزوہ میں شریک نہ کیا جائے کیونکہ (انہیں روکنے میں) مسلمانوں کا کوئی نقصان نہیں۔ پھر اس کی مزید تاکید اس قول سے ہوتی ہے: ﴿فَرِحَ الْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلَافَ رَسُولِ اللَّهِ﴾ [سورة التوبة: 81] ”پیچھے رہنے والے اللہ کے رسول کی مخالفت میں بیٹھ کر خوش ہوتے ہیں۔“ انھوں نے یہاں تک پڑھا: ﴿فَاقْعُدُوا مَعَ الْخَالِفِينَ﴾ [سورة التوبة: 83] ”پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17872]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ عزوجل نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کے راز کھول دیے اور ان کی باتیں سننے والوں اور ان کے پیروکاروں کی خبر بھی ظاہر کر دی اور ان کا یہ چاہنا کہ آپ کے ساتھیوں کو جھوٹ کا سہارا لے کر فتنہ میں ڈال دیں اور بری خبریں پھیلا کر اور آپ کے ساتھیوں کو آپ کی مدد سے ہاتھ کھینچنے کی ترغیب دلا کر، اور اللہ نے خبر دی کہ وہ ان کا اس نیت کے ساتھ جانا ناپسند کرتا ہے یہ اس کی دلیل ہے کہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ جس کے بارے میں پتہ چل جائے تو ان کو مسلمانوں کے غزوہ میں شریک نہ کیا جائے کیونکہ (انہیں روکنے میں) مسلمانوں کا کوئی نقصان نہیں۔ پھر اس کی مزید تاکید اس قول سے ہوتی ہے: ﴿فَرِحَ الْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلَافَ رَسُولِ اللَّهِ﴾ [سورة التوبة: 81] ”پیچھے رہنے والے اللہ کے رسول کی مخالفت میں بیٹھ کر خوش ہوتے ہیں۔“ انھوں نے یہاں تک پڑھا: ﴿فَاقْعُدُوا مَعَ الْخَالِفِينَ﴾ [سورة التوبة: 83] ”پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17872]