السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3554. -- باب: المسلم يتوقى في الحرب قتل أبيه، ولو قتله لم يكن به بأس
-- باب: مسلمان دورانِ جنگ اپنے مشرک باپ کو قتل کرنے سے بچے گا البتہ اگر اس نے اسے قتل کر دیا تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 17834
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ وَحْوَحٍ، أَنَّ طَلْحَةَ بْنَ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمَّا لَقِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، مُرْنِي بِمَا أَحْبَبْتَ وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا. قَالَ: فَعَجِبَ لِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ غُلَامٌ، فَقَالَ لَهُ عِنْدَ ذَلِكَ:" فَاقْتُلْ أَبَاكَ". قَالَ: فَخَرَجَ مُوَلِّيًا لِيَفْعَلَ، فَدَعَاهُ، قَالَ:" إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ لِقَطِيعَةِ رَحِمٍ".
سیدنا طلحہ بن براء رضی اللہ عنہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ”جو آپ پسند کریں مجھے حکم دیں، میں کسی معاملے میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر تعجب کیا اور وہ ابھی چھوٹے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فرمایا: ”اپنے باپ کو قتل کر!“ جب وہ واپس ہوا تاکہ اس پر عمل کرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلایا اور فرمایا: ”مجھے رشتے توڑنے کے لیے نہیں بھیجا گیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17834]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17835
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَوْذَبٍ، قَالَ:" جَعَلَ أَبُو أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ يَنْصِبُ الْآلِهَةَ لِأَبِي عُبَيْدَةَ يَحِيدُ عَنْهُ، فَلَمَّا أَكْثَرَ الْجَرَّاحُ قَصَدَهُ أَبُو عُبَيْدَةَ فَقَتَلَهُ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ هَذِهِ الْآيَةَ حِينَ قَتَلَ أَبَاهُ: {لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ} [المجادلة: ٢٢] إِلَى آخِرِهَا. هَذَا مُنْقَطِعٌ.
حضرت عبداللہ بن شوذب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کا والد ان کے لیے معبود کھڑے کرتا تھا اور سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ان سے کنارہ کشی کرتے تھے۔ جب جراح نے اس عمل میں زیادتی کی تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے ان کا قصد کیا اور انھیں قتل کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق یہ آیت اتاری جب سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ کو قتل کردیا: ﴿لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ﴾ [سورة المجادلة: 22] ”تو ان لوگوں کو جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں آپ نہیں پائیں گے کہ وہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہوں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی خواہ وہ ان کے باپ ہوں یا بیٹے۔“
یہ روایت منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17835]
یہ روایت منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17835]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17836
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ الْحَنَفِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي لَقِيتُ الْعَدُوَّ وَلَقِيتُ أَبِي فِيهِمْ فَسَمِعْتُ لَكَ مِنْهُ مَقَالَةً قَبِيحَةً، فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى ⦗٤٧⦘ طَعَنْتُهُ بِالرُّمْحِ أَوْ حَتَّى قَتَلْتُهُ. فَسَكَتَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ، فَقَالَ:" إِنِّي لَقِيتُ أَبِي فَتَرَكْتُهُ وَأَحْبَبْتُ أَنْ يَلِيَهُ غَيْرِي، فَسَكَتَ عَنْهُ". وَهَذَا مُرْسَلٌ جَيِّدٌ.
حضرت مالک بن عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں (اور انہوں نے جاہلیت کا دور پایا ہے) کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں دشمن سے ملا، ان میں میرا باپ بھی تھا، میں نے اس کے منہ سے آپ کے بارے میں ناپسندیدہ بات سنی، میں صبر نہیں کر سکا، میں نے نیزے سے اس پر وار کیا، نتیجتاً وہ قتل ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خاموش رہے۔ پھر دوسرا شخص آیا اور اس نے کہا: میں اپنے باپ سے ملا اور اس کو چھوڑ دیا اور میں نے چاہا کہ اس کو میرے علاوہ کوئی اور پہنچ جائے گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پھر بھی خاموش رہے۔
یہ عمدہ مرسل روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17836]
یہ عمدہ مرسل روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17836]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3555. -- باب: ما جاء في كراهية أخذ الجعائل، وما جاء في الرخصة فيه من السلطان
-- باب: جہاد میں اجرت اور عوضانہ لینے کی کراہت اور حکمران کی طرف سے اس کی اجازت کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 17837
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْمَعْنَى، وَأَنَا لِحَدِيثِهِ أَتْقَنُ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ سُلَيْمَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ، عَنِ ابْنِ أَخِي أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" سَيُفْتَحُ عَلَيْكُمُ الْأَمْصَارُ، وَسَتَكُونُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ يُقْطَعُ عَلَيْكُمْ فِيهَا بُعُوثٌ، يَتَكَرَّهُ الرَّجُلُ مِنْكُمُ الْبَعْثَ فِيهَا، فَيَتَخَلَّصُ مِنْ قَوْمِهِ، ثُمَّ يَتَصَفَّحُ الْقَبَائِلَ يَعْرِضُ نَفْسَهُ عَلَيْهِمْ، يَقُولُ: مَنْ أَكْفِيهِ بَعَثَ كَذَا؟ مَنْ أَكْفِيهِ بَعَثَ كَذَا؟ أَلَا وَذَلِكَ الْأَجِيرُ إِلَى آخِرِ قَطْرَةٍ مِنْ دَمِهِ".
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”عنقریب تم پر شہر فتح کیے جائیں گے اور اکٹھے کیے ہوئے لشکر ہوں گے جن میں تم پر (باری باری) مہمات مقرر کی جائیں گی، اس زمانے میں ایک انسان ان میں جانا ناپسند کرے گا اور اپنی قوم سے بچے گا، پھر وہ قبائل کو دیکھے گا اور خود کو ان پر پیش کرتے ہوئے کہے گا: کون ہے جس کی طرف سے میں فلاں لشکر کے سلسلے میں کفایت کروں؟ کون ہے جس کی طرف سے میں فلاں لشکر کے بارے میں کافی ہو جاؤں؟ خبردار! یہ اپنے خون کے آخری قطرے تک مزدور (اجرت پر لڑنے والا) ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17837]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17838
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ عَدِيٍّ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ الْعَيْزَارِ الْأَسَدِيِّ، قَالَ:" سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْجَعَائِلِ، فَقَالَ: لَمْ أَكُنْ لِأَرْتَشِيَ إِلَّا مَا رَشَانِي اللهُ. وَسَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ فَقَالَ: تَرْكُهَا أَفْضَلُ، فَإِنْ أَخَذْتَهَا فَأَنْفِقْهَا فِي سَبِيلِ اللهِ".
حضرت شقیق بن عیزار فرماتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اجرت کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا: میں اجرت نہیں لیتا مگر جو اجرت مجھے میرا رب دے۔ حضرت شقیق فرماتے ہیں: میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اسے چھوڑنا افضل ہے، اگر تو لیتا ہے تو فی سبیل اللہ خرچ کر دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17838]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17839
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْأَعْجَمِ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ الْجُعَلِ، قَالَ:" إِذَا جَعَلْتَهُ فِي سِلَاحٍ أَوْ كُرَاعٍ فَلَا بَأْسَ بِهِ، وَإِذَا جَعَلْتَهُ فِي الرَّقِيقِ فَلَا". وَرُوِّينَا عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُ قَالَ:" كَانُوا أَنْ يُعْطُوا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَنْ يَأْخُذُوا. يَعْنِي فِي الْجَعَائِلِ.
عبید بن اعجم فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اجرت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: جب ہتھیار اور گھوڑوں کے سلسلہ میں ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور جب غلاموں پر اجرت ہو تو نہ لے۔
ابراہیم نخعی فرماتے ہیں: ان کو (اجرت) دینا لینے سے زیادہ پسند تھا، یعنی اجرت کے معاملے میں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17839]
ابراہیم نخعی فرماتے ہیں: ان کو (اجرت) دینا لینے سے زیادہ پسند تھا، یعنی اجرت کے معاملے میں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17839]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17840
وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ ⦗٤٨⦘ عَيَّاشٍ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ حُدَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نَفِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَثَلُ الَّذِينَ يَغْزُونَ مِنْ أُمَّتِي وَيَأْخُذُونَ الْجُعْلَ يَتَقَوَّوْنَ عَلَى عَدُوِّهِمْ مَثَلُ أُمِّ مُوسَى تُرْضِعُ وَلَدَهَا وَتَأْخُذُ أَجْرَهَا". أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، فَذَكَرَهُ.
حضرت جبیر بن نفیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے جو لوگ لڑائی پر اجرت لیتے ہیں اور اس سے دشمن کے خلاف قوت حاصل کرتے ہیں، ان کی مثال موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی طرح ہے، وہ اپنے بیٹے کو دودھ پلاتی تھیں اور اجرت لیتی تھیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17840]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3556. -- باب: ما جاء في تجهيز الغازي وأجر الجاعل
-- باب: غازی کو سامانِ جنگ مہیا کرنے اور اجرت مقرر کرنے والے کے اجر و ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 17841
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا الْحُسَيْنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللهِ فَقَدْ غَزَا، وَمَنْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ فَقَدْ غَزَا". لَفْظُ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ، وَحَدِيثُ رَوْحٍ مِثْلُهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ عَنْ عَنْ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنِ الرَّبِيعِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، عَنْ حُسَيْنٍ.
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے غازی کو تیار کیا، اس نے جہاد کیا اور جس نے اس کے اہل خانہ کی بہتر کفالت کی، اس نے بھی جہاد کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17841]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17842
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَفَّانُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي أُرِيدُ الْجِهَادَ وَلَيْسَ مَعِي مَا أَتَجَهَّزُ بِهِ. فَقَالَ:" إِنَّ فُلَانًا قَدْ تَجَهَّزَ ثُمَّ مَرِضَ فَاذْهَبْ إِلَيْهِ، فَقُلْ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ، وَيَأْمُرُكَ أَنْ تُعْطِيَنِي مَا أَتَجَهَّزُ بِهِ". فَأَتَاهُ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: انْظُرِي أَنْ تُعْطِيَهُ مَا جَهَّزْتِنِي بِهِ وَلَا تَحْبِسِي مِنْهُ شَيْئًا فَيُبَارِكَ اللهُ لَكِ فِيهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ عَفَّانَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنو اسلم سے ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: میں جہاد پر جانے کا ارادہ رکھتا ہوں مگر میرے پاس زادِ راہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فلاں آدمی نے جہاد کی تیاری کی، پھر وہ بیمار ہو گیا، تو اس کے پاس جا اور اس کو کہہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تجھے سلام کہتے ہیں اور تجھے حکم دیتے ہیں کہ زادِ راہ مجھے دے دے جس سے میں جہاد کی تیاری کر سکوں۔“ وہ آدمی اس کے پاس گیا اور اس کو (یہ پیغام) کہا، تو اس نے اپنی بیوی سے کہا: جو کچھ میرے لیے تیار کیا تھا وہ اسے دے دو اور کوئی چیز روک کر نہ رکھنا، اللہ تجھے برکت دے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17842]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17843
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ⦗٤٩⦘ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ أُبْدِعَ بِي فَاحْمِلْنِي. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" لَيْسَ عِنْدِي". فَقَالَ رَجُلٌ: أَلَا أَدُلُّكَ يَا رَسُولَ اللهِ عَلَى مَنْ يَحْمِلُهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ أَجْرٌ مِثْلُ فَاعِلِهِ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةُ: أُبْدِعَ بِي: يَقُولُ: قُطِعَ بِي. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ.
(الف) سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آ کر کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں تھک گیا ہوں، مجھے سواری دیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس نہیں ہے۔“ ایک آدمی نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں ایسا آدمی بتاؤں جو اس کو سواری دے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلائی کی طرف رہنمائی کرنے والا اور اس پر عمل کرنے والا اجر میں برابر ہیں۔“
(ب) ایک اور روایت میں ابو معاویہ کہتے ہیں: ”میں تھک گیا ہوں“ کی بجائے ”میرا راستہ روک دیا گیا“ (کہا)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17843]
(ب) ایک اور روایت میں ابو معاویہ کہتے ہیں: ”میں تھک گیا ہوں“ کی بجائے ”میرا راستہ روک دیا گیا“ (کہا)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17843]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح