🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3548. -- باب: أصل فرض الجهاد
-- باب: جہاد کی فرضیت کی بنیاد اور اصل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17796
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ إِمْلَاءً بِبَغْدَادَ، ثنا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى الْعَبْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْخَصَاصِيَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَايِعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ فَاشْتَرَطَ عَلَيَّ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَتُصَلِّيَ الْخَمْسَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ، وَتُؤَدِّيَ الزَّكَاةَ، وَتَحُجَّ الْبَيْتَ، وَتُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللهِ". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَمَّا اثْنَتَانِ فَلَا أُطِيقُهُمَا، أَمَّا الزَّكَاةُ فَمَا لِي إِلَّا عَشْرُ ذَوْدٍ هُنَّ رَسَلُ أَهْلِي وَحَمُولَتُهُمْ، وَأَمَّا الْجِهَادُ فَيَزْعُمُونَ أَنَّهُ مَنْ وَلَّى فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِنَ اللهِ فَأَخَافُ إِذَا حَضَرَنِي قِتَالٌ كَرِهْتُ الْمَوْتَ وَخَشَعَتْ نَفْسِي. قَالَ: فَقَبَضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ ثُمَّ حَرَّكَهَا، ثُمَّ قَالَ:" لَا صَدَقَةَ وَلَا جِهَادَ فَبِمَ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ؟". قَالَ: ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أُبَايِعُكَ، فَبَايَعَنِي عَلَيْهِنَّ كُلِّهِنَّ. لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ.
سیدنا ابن خصاصیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسلام پر بیعت کرنے کے لیے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر مندرجہ ذیل باتوں کی شرط لگائی: ”اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی حقیقی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، اور پانچ وقت کی نماز ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔“ ابن خصاصیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان میں سے دو چیزوں کے کرنے کی میں طاقت نہیں رکھتا، یعنی (زکوٰۃ اور جہاد کی)۔ رہی زکوٰۃ تو میرے پاس صرف دس اونٹ ہیں جو میرے گھر والوں کا سرکل چلاتے ہیں، یعنی ہم ان کا دودھ استعمال کرتے ہیں اور سواری کرتے ہیں، اور رہا جہاد کا معاملہ تو اس کے بارے میں لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ جو میدانِ جنگ سے بھاگے گا، وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے گا، تو میں ڈرتا ہوں کہ میں میدانِ قتال میں حاضر ہوں تو اس وقت میں موت کو ناپسند کروں اور اپنی جان کو پسند کر لوں اور اس پر حریص بن جاؤں۔ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو بند کر لیا اور پھر اسے ہلا کر فرمایا: ”نہ صدقہ اور نہ جہاد، تو تم جنت میں کیسے جا سکتے ہو؟“ ابن خصاصیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کی بیعت کرتا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ان تمام چیزوں پر بیعت لی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17796]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17797
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ الدَّقَاقُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْبَلَدِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شَيْبَانُ، ثنا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ مَيْمُونَ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا تُحَدِّثُنِي بِعَمَلٍ أَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ؟ قَالَ:" إِنْ شِئْتَ أَنْبَأْتُكَ بِرَأْسِ الْأَمْرِ وَعَمُودِهِ وَذِرْوَةِ سَنَامِهِ، أَمَّا رَأْسُ الْأَمْرِ فَالْإِسْلَامُ، مَنْ أَسْلَمَ سَلِمَ، وَأَمَّا عَمُودُهُ فَالصَّلَاةُ، وَأَمَّا ذِرْوَةُ سَنَامِهِ فَالْجِهَادُ". وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہیں بتا دیتا ہوں کہ ان میں سے سر کون ہے اور ستون کون ہے اور کوہان کی بلندی کون سی چیز ہے۔“ پھر فرمایا: ”ان چیزوں کا سر اسلام ہے، جس نے اسلام قبول کیا وہ سلامت رہا اور ان چیزوں کا ستون نماز ہے اور کوہان کی چوٹی جہاد ہے۔“ پھر حدیث بیان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17797]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17798
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" جَاهِدُوا - يَعْنِي الْمُشْرِكِينَ - بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَأَلْسِنَتِكُمْ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد کرو یعنی مشرکین سے اپنے مالوں، جانوں اور زبانوں کے ساتھ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17798]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17799
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنبأ مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مَحْكُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكُمْ بِالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللهِ فَإِنَّهُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، يُذْهِبُ اللهُ بِهِ الْغَمَّ وَالْهَمَّ". ⦗٣٦⦘ وَزَادَ فِيهِ غَيْرُهُ أَنَّهُ قَالَ:" وَجَاهِدُوا فِي اللهِ الْقَرِيبَ وَالْبَعِيدَ، وَأَقِيمُوا حُدُودَ اللهِ فِي الْقَرِيبِ وَالْبَعِيدِ، وَلَا يَأْخُذْكُمْ فِي اللهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ". قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْكِنْدِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے راستے میں جہاد کرنا اپنے اوپر لازم کرلو، اس لیے کہ یہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے، اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے رنج و غم دور کردیتا ہے۔“ اور ان کے علاوہ دوسروں نے یہ الفاظ زیادہ کیے ہیں: ”اور اللہ کے راستے میں قریب و بعید سے جہاد کرو، اور اللہ کی حدود کو قریب و بعید قائم کرو، اور اللہ کے دین میں تمہیں ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرنا چاہیے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17799]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17800
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أنبأ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَلَسْنَا إِلَى الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِدِمَشْقَ وَهُوَ عَلَى تَابُوتٍ مَا بِهِ عَنْهُ فَضْلٌ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: لَوْ قَعَدْتَ الْعَامَ عَنِ الْغَزْوِ. قَالَ: أَتَتْ عَلَيْنَا الْبَحُوثُ، يَعْنِي سُورَةَ التَّوْبَةِ، قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا} [التوبة: ٤١] ، فَلَا أَجِدُنِي إِلَّا خَفِيفًا.
عبدالرحمن بن جبیر بن نفیر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم دمشق میں حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے، میں اور وہ ایک صندوق پر تھے اور ان کے پاس اس سے زائد چیز یا فضل نہ تھا، تو ان سے ایک آدمی نے کہا: اگر آپ اس سال غزوے پر نہ جاتے تو یہ بہتر ہوتا، تو انہوں نے کہا کہ ہمیں اس ((بحوث)) یعنی سورۃ التوبہ نے روک لیا ہے، یعنی سورۃ التوبہ ہمیں نہیں بیٹھنے دیتی؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾ [سورة التوبة: 41] ”اللہ کے راستے میں ہلکے اور بوجھل جس حال میں بھی ہو نکلو۔“ تو میں اپنے آپ کو ہلکا پاتا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17800]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17801
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ، حَدَّثَنِي حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، وَثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: {انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا} [التوبة: ٤١] ، قَالَ: أَرَى رَبَّنَا يَسْتَنْفِرُنَا شُيُوخًا وَشَبَابًا جَهِّزُونِي، أَيْ بَنِيَّ جَهِّزُونِي. فَقَالَ بَنُوهُ: قَدْ شَهِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَنَحْنُ نَغْزُو. فَقَالَ: جَهِّزُونِي. فَرَكِبَ الْبَحْرَ، فَمَاتَ فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ جَزِيرَةً إِلَّا بَعْدَ سَبْعَةِ أَيَّامٍ فَقُبِرَ بِهَا وَلَمْ يَتَغَيَّرْ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت کی: ﴿انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾ [سورة التوبة: 41] تو انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے رب نے اس میں بوڑھوں اور جوانوں کو نکلنے کا کہا ہے، تو انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا: اے بیٹو! میرے لیے تیاری کرو، میرے لیے تیاری کرو، تو بیٹوں نے کہا کہ یقیناً آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مل کر غزوے کرتے رہے ہیں، (اب آپ بیٹھیں) اور ہم لڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا: میری تیاری کرو، حتیٰ کہ سمندر کا سفر کیا اور فوت ہو گئے۔ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) کہ انہیں سات دنوں کے بعد ایک جزیرہ ملا تو اس میں انہیں دفن کیا اور ان کی نعش بالکل صحیح رہی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17801]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3549. -- باب: من لا يجب عليه الجهاد
-- باب: اس شخص کے بیان میں جس پر جہاد فرض نہیں ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17802
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنبأ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: اسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجِهَادِ، فَقَالَ:" جِهَادُكُنَّ أَوْ حَسْبُكُنَّ الْحَجُّ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ.
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد کرنے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا جہاد تمہارا حج ہے یا حج کرنا ہی تمہیں کافی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17802]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ٢٨٧٥»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17803
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْعَلَوِيُّ، وَأَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ النَّجَّارُ الْمُقْرِئُ بِالْكُوفَةِ، قَالَا: أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، ⦗٣٧⦘ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: اسْتَأْذَنْتُهُ فِي الْجِهَادِ، فَقَالَ:" حَسْبُكُنَّ الْحَجُّ أَوْ جِهَادُكُنَّ الْحَجُّ"..
یہ روایت بھی پہلی روایت کی طرح ہے۔ یہاں پر «حَسْبُكُنَّ الْحَجُّ أَوْ جِهَادُكُنَّ الْحَجُّ» ”تمہارے لیے حج کافی ہے یا تمہارا جہاد حج ہے“ کے الفاظ ہیں۔ (سابقہ حوالہ) [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17803]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17804
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ الْعَلَوِيُّ، وَأَبُو الْقَاسِمِ بْنُ النَّجَّارِ الْمُقْرِئُ، قَالَا: أنبأ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بِنَحْوِ هَذَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قَبِيصَةَ، بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا.
یہ روایت بھی سابقہ روایات کی طرح ہے اور اس کی دونوں سندیں قبیصہ سے منقول ہیں۔ (سابقہ حوالہ) [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17804]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17805
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي مَحْمُودٌ الْوَاسِطِيُّ لَفْظَهُ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَا: ثنا وَهْبٌ، أنبأ خَالِدٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ نَرَى الْجِهَادَ أَفْضَلَ الْعَمَلِ؛ أَفَلَا نُجَاهِدُ مَعَكَ؟ قَالَ:" لَا وَلَكِنَّ أَفْضَلَ الْجِهَادِ حَجٌّ مَبْرُورٌ". وَكَانَتْ عَائِشَةُ خَالَتَهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! ہم جہاد کو افضل عمل سمجھتی ہیں، کیا ہم بھی آپ کے ساتھ جہاد نہ کریں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، لیکن (عورتوں کے لیے) افضل جہاد حج مبرور ہے۔“
اسے امام بخاری نے صحیح میں عبدالرحمن بن مبارک سے، انہوں نے خالد بن عبداللہ سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17805]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں