السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3542. -- باب: ما جاء في عذر المستضعفين
-- باب: کمزوروں (مستضعفین) کے عذر کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17758
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: أَسْلَمَ عَيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ، وَهَاجَرَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَهُ أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ، وَهُوَ أَخُوهُ لِأُمِّهِ وَرَجُلٌ آخَرُ مَعَهُ، فَقَالَ لَهُ:" إِنَّ أُمَّكَ تُنَاشِدُكَ رَحِمَهَا وَحَقَّهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهَا"، فَأَقْبَلَ مَعَهُمَا فَرَبَطَاهُ حَتَّى قَدِمَا بِهِ مَكَّةَ فَكَانَا يُعَذِّبَانِهِ.
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی تو ان کے پاس ان کے اخیافی بھائی ابو جہل بن ہشام اور ان کے ساتھ ایک اور آدمی آیا اور انہوں نے ان سے کہا کہ تیری ماں تجھے اپنی قربت اور اپنے حق کی قسم دیتی ہے کہ تو اس کی طرف لوٹ آ، تو حضرت عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ لوٹ آئے تو انہوں نے ان کو باندھ دیا اور مکہ میں لا کر طرح طرح کی سزائیں دیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17758]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 17759
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: كَانَ نَاسٌ بِمَكَّةَ قَدْ أَقَرُّوا بِالْإِسْلَامِ، فَلَمَّا خَرَجَ النَّاسُ إِلَى بَدْرٍ لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ إِلَّا أَخْرَجُوهُ فَقُتِلَ، أُولَئِكَ الَّذِينَ أَقَرُّوا بِالْإِسْلَامِ، فَنَزَلَتْ فِيهِمْ: {إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ} [النساء: ٩٧] ، إِلَى قَوْلِهِ: {وَسَاءَتْ مَصِيرًا، إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا} [النساء: ٩٨] ، حِيلَةً: نُهُوضًا إِلَيْهَا، وَسَبِيلًا: طَرِيقًا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَكَتَبَ الْمُسْلِمُونَ الَّذِينَ كَانُوا بِالْمَدِينَةِ إِلَى مَنْ كَانَ بِمَكَّةَ، فَلَمَّا كُتِبَ إِلَيْهِمْ خَرَجَ نَاسٌ مِمَّنْ أَقَرُّوا ⦗٢٥⦘ بِالْإِسْلَامِ، فَاتَّبَعَهُمُ الْمُشْرِكُونَ فَأَكْرَهُوهُمْ حَتَّى أَعْطَوْهُمُ الْفِتْنَةَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمْ: {إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ} [النحل: ١٠٦] .
سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بعض لوگوں نے مکہ میں اسلام کا اقرار کر لیا، جب لوگوں نے بدر کی طرف کوچ کیا تو انہوں نے ان کو بھی نکلوا لیا اور ساتھ لے لیا تو یہ لوگ جنہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا قتل کر دیے گئے تو ان کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں: ﴿إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ﴾ اس قول تک ﴿وَسَاءَتْ مَصِيرًا﴾ [سورة النساء: 97] ”جب ظالم لوگوں کی فرشتے روحیں قبض کرتے ہیں تو وہ پوچھتے ہیں: تم کن میں تھے؟“ اور ﴿إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا﴾ [سورة النساء: 98] ”مگر وہ کمزور مرد، عورتیں اور بچے جو نہ کوئی تدبیر کر سکتے ہیں اور نہ کوئی راستہ پاتے ہیں۔“ «حِيلَةً» کا معنی ہے ”اس کی طرف اٹھنا، جانا“ اور «سَبِيلًا» کا معنی ہے ”مدینہ کی طرف راستہ“، پس مدینہ کے مسلمانوں نے مکہ کے مسلمانوں کی طرف خط لکھے، جب ان کی طرف خط لکھے گئے تو مکہ کے ان نو مسلمانوں میں سے کچھ نکلے تو مشرکین نے ان کو پکڑ لیا اور ان کو طرح طرح کی مصیبتوں سے دوچار کیا یہاں تک کہ وہ ان کی بات ماننے پر مجبور ہو گئے تو ان لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ﴾ [سورة النحل: 106] ”جس پر جبر کیا گیا اور اس کا دل ایمان سے لبریز ہو تو اس پر کلمہ کفر کہنے پر کوئی گناہ نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17759]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17760
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: أنبأ أَبُو بَكْرٍ سَهْلُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَالَ:" سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"، قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ، قَالَ:" اللهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، اللهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، اللهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللهُمَّ اجْعَلْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحُ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ شَيْبَانَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہتے تو سجدہ کرنے سے پہلے آپ ان لوگوں کے لیے دعا کرتے: ”اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے، اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے، اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے، اے اللہ! مؤمنین میں سے جو کمزور لوگ ہیں ان کو نجات دے، اے اللہ! اپنی پکڑ کو مُضَر قبیلے پر سخت کر دے، اے اللہ! ان پر ایسی قحط سالی ڈال جس طرح تو نے یوسف کے لوگوں پر قحط سالی ڈالی تھی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17760]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
3543. -- باب: من خرج من بيته مهاجرا فأدركه الموت في طريقه
-- باب: جو شخص ہجرت کی غرض سے اپنے گھر سے نکلا اور راستے میں ہی اسے موت آ گئی، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 17761
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ،، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ خُزَاعَةَ كَانَ بِمَكَّةَ فَمَرِضَ، وَهُوَ ضَمْرَةُ بْنُ الْعِيصِ بْنِ ضَمْرَةَ بْنِ زِنْبَاعٍ، فَأَمَرَ أَهْلَهُ، فَفَرَشُوا لَهُ عَلَى سَرِيرٍ فَحَمَلُوهُ وَانْطَلَقُوا بِهِ مُتَوَجِّهًا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَلَمَّا كَانَ بِالتَّنْعِيمِ مَاتَ، فَنَزَلَتْ: {وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللهِ} [النساء: ١٠٠] ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ الْحَسَنُ وَغَيْرُهُ مِنَ الْمُفَسِّرِينَ.
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خزاعہ قبیلہ سے ایک (مسلمان) آدمی مکہ میں تھا اور وہ بیمار ہو گیا، اس کا نام ضمرہ بن عیص بن ضمرہ بن زنباع تھا۔ اس نے اپنے گھر والوں کو حکم دیا کہ وہ اسے مدینہ پہنچائیں۔ انہوں نے اسے چارپائی پر اٹھا لیا اور مدینہ کی جانب سفر کر دیا۔ جب وہ تنعیم کے مقام پر پہنچے تو یہ آدمی سفر میں ہی فوت ہو گیا، تو اس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: ﴿وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ﴾ [سورة النساء: 100] ”جو شخص اپنے گھر سے اللہ کے لیے ہجرت کر لے اور پھر اسے راستے میں موت آ جائے تو اس کا اجر اللہ پر واقع ہو گیا۔“ یہی تفسیر حسن بصری رحمہ اللہ اور دوسرے مفسرین نے کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17761]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3544. -- باب: الرخصة في الإقامة بدار الشرك لمن لا يخاف الفتنة
-- باب: اس شخص کے لیے دارالشرک میں قیام کی اجازت کے بیان میں جسے اپنے دین کے حوالے سے فتنے کا کوئی خوف نہ ہو۔
حدیث نمبر: Q17762
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لِأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِقَوْمٍ بِمَكَّةَ أَنْ يُقِيمُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ مِنْهُمُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَغَيْرُهُ إِذْ لَمْ يَخَافُوا الْفِتْنَةَ..
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں کچھ لوگوں کو ان کے اسلام لانے کے بعد وہیں مقیم رہنے کی اجازت دی تھی، جن میں سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ وغیرہ شامل تھے، کیونکہ انہیں (اپنے دین کے بارے میں) فتنے کا اندیشہ نہیں تھا۔“... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: Q17762]
حدیث نمبر: 17762
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عِلَاقَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ:" كَانَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدْ أَسْلَمَ وَأَقَامَ عَلَى سِقَايَتِهِ وَلَمْ يُهَاجِرْ".
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا، آپ مکہ میں حاجیوں کو پانی پلانے والے عہدہ پر کام کرتے رہے اور ہجرت نہ کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17762]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17763
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ:" ثُمَّ إِنَّ أَبَا الْعَاصِ ⦗٢٦⦘ رَجَعَ إِلَى مَكَّةَ بَعْدَمَا أَسْلَمَ وَلَمْ يَشْهَدْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشْهَدًا، ثُمَّ قَدِمَ الْمَدِينَةَ بَعْدَ ذَلِكَ فَتُوُفِّيَ فِي ذِي الْحِجَّةِ مِنْ سَنَةِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَوْصَى إِلَى الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وكَانَ يَأْمُرُ جُيُوشَهُ أَنْ يَقُولُوا لِمَنْ أَسْلَمَ: إِنْ هَاجَرْتُمْ فَلَكُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ، وَإِنْ أَقَمْتُمْ فَأَنْتُمْ كَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ وَلَيْسَ يُخَيِّرُهُمْ إِلَّا فِيمَا يَحِلُّ لَهُمْ.
محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو العاص رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرنے کے بعد پھر مکہ میں لوٹ آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوے میں شرکت نہ کی۔ اس کے بعد پھر مدینہ میں آئے اور ذی الحجہ سن 12ھ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں وفات پائی اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو وصیت کی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ اپنے لشکروں کو حکم دیتے تھے کہ وہ اسلام قبول کرنے والوں سے کہیں کہ ”اگر تم نے ہجرت کی تو تم کو بھی وہی ملے گا جو مہاجرین کو ملتا ہے اور اگر تم نے ہجرت نہ کی تو تم دیہاتی مسلمانوں کی طرح ہو گے۔“ اور وہ ان کو اختیار صرف اسی چیز میں دیتے تھے جو ان کے لیے جائز ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17763]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17764
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا عَلَى سَرِيَّةٍ أَوْ جَيْشٍ أَوْصَاهُ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ بِتَقْوَى اللهِ وَبِمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا، وَقَالَ:" إِذَا لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَادْعُهُمْ إِلَى إِحْدَى ثَلَاثِ خِصَالٍ أَوْ خِلَالٍ فَأَيَّتُهُنَّ أَجَابُوكَ إِلَيْهَا فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ، ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَإِنْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ، وَاعْلَمُوا أَنَّهُمْ إِنْ فَعَلُوا ذَلِكَ أَنَّ لَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ، وَأَنَّ عَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ، فَإِنْ أَبَوْا وَاخْتَارُوا دَارَهُمْ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّهُمْ يَكُونُونَ مِثْلَ أَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ يَجْرِي عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللهِ الَّذِي كَانَ يَجْرِي عَلَى الْمُؤْمِنِينَ، وَلَا يَكُونُ لَهُمْ فِي الْفَيْءِ وَالْغَنِيمَةِ نَصِيبٌ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ".. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ وَكِيعٍ، قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ وَرَدَتْ أَخْبَارٌ فِي مِثْلِ هَذَا الْمَعْنَى.
سیدنا سلیمان بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو لشکر پر امیر مقرر کر کے بھیجتے تو اسے خاص طور پر تقویٰ اختیار کرنے کا اور اپنے ساتھ والے مسلمانوں سے بھلائی کرنے کا حکم دیتے اور اسے یہ بھی حکم دیتے: ”جب تیری ملاقات اپنے مشرک دشمنوں سے ہو تو پہلے ان کو تین چیزوں کی دعوت دینا۔ اگر وہ تین میں سے کسی ایک کو بھی قبول کر لیں تو تم ان کی اس بات کو مان لینا اور ان سے قتال نہ کرنا۔ سب سے پہلے ان کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دینا۔ اگر وہ قبول کر لیں تو تم بھی ان سے ان کے اسلام کو قبول کرنا اور ان سے قتال نہ کرنا۔ پھر ان کو اس جگہ کو بدلنے کا حکم دینا اور ان کو دار الاسلام کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دینا اور ساتھ یہ بھی بتا دینا کہ اگر وہ یہ کام کرتے ہیں تو ان کے حقوق و فرائض ویسے ہی ہوں گے جیسے باقی مہاجرین کے ہیں، اور اگر وہ ہجرت سے انکار کریں اور اپنے وطن اور شہر کو پسند کریں تو ان سے کہنا کہ اس صورت میں تمہارے حقوق و فرائض دیہات کے مسلمان جیسے ہوں گے اور ان کا مالِ فئے اور مالِ غنیمت میں کوئی حصہ نہ ہو گا سوائے اس صورت کے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کریں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17764]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17765
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ السُّوسِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبَيْرُوتِيُّ، أنبأ أَبِي، أَخْبَرَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، ثنا الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ الْهِجْرَةِ، فَقَالَ:" إِنَّ الْهِجْرَةَ شَأْنُهَا شَدِيدٌ، فَهَلْ لَكَ إِبِلٌ؟". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:" فَهَلْ تَمْنَحُ مِنْهَا؟". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:" فَهَلْ تَحْلُبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا؟". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:" فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ فَإِنَّ اللهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دیہاتی آیا، اس نے ہجرت کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہجرت کا معاملہ بڑا مشکل ہے، کیا تیرے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: جی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سے کسی اونٹ کو عاریتاً دیتے ہو؟“ اس نے کہا: ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس کے ورود کے دن اس کا دودھ دوہتے ہو اور تقسیم کرتے ہو؟“ اس نے کہا: جی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر سمندروں کے پار سے بھی (یعنی جہاں کہیں رہو) اچھے اعمال کرتے رہو، اللہ تعالیٰ تیرے اعمال میں کچھ بھی کمی نہیں کرے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17765]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17766
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ أَبُو الْحُسَيْنِ، ثنا فُلَيْحٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَامَ رَمَضَانَ كَانَ عَلَى اللهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، هَاجَرَ فِي سَبِيلِ اللهِ أَوْ حُبِسَ فِي أَرْضِهِ الَّتِي وُلِدَ فِيهَا". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ أَفَلَا تُنْبِئُ النَّاسَ بِذَلِكَ؟ قَالَ:" إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ أَعَدَّهَا لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِهِ مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللهَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ فَإِنَّهُ أَوْسَطُ الْجَنَّةِ وَأَعْلَى الْجَنَّةِ وَفَوْقَهُ عَرْشُ اللهِ، وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ صَالِحٍ، عَنْ وَلَدِهِ فُلَيْحٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا، نماز قائم کی اور رمضان کے روزے رکھے تو اللہ اسے ضرور جنت میں داخل کرے گا، چاہے وہ ہجرت کرے یا اپنی ہی پیدائش والی جگہ پر بیٹھا رہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم اس چیز کی لوگوں کو خبر نہ دے دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان مجاہدین کے لیے تیار کیے ہیں جو اس کے راستے میں جہاد کرتے ہیں اور ہر دو درجوں کا درمیانی فاصلہ اتنا ہے جتنا آسمان اور زمین کا ہے اور جب تم اللہ سے سوال کرو تو جنتِ فردوس کا سوال کرو کیونکہ یہ درمیانی اور سب سے اعلیٰ جنت ہے اور اس کے اوپر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے اور اسی سے ہی جنت کی نہریں جاری ہوتی ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17766]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح