السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3544. -- باب: الرخصة في الإقامة بدار الشرك لمن لا يخاف الفتنة
-- باب: اس شخص کے لیے دارالشرک میں قیام کی اجازت کے بیان میں جسے اپنے دین کے حوالے سے فتنے کا کوئی خوف نہ ہو۔
حدیث نمبر: 17767
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا جَرِيرٌ، ح وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَاءُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، بِهَا أنبأ أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَتْحِ مَكَّةَ:" لَا هِجْرَةَ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ وَعُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى. وَقَوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا هِجْرَةَ" يَعْنِي وَاللهُ أَعْلَمَ: لَا هِجْرَةَ وُجُوبًا عَلَى مَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ بَعْدَ فَتْحِهَا، فَإِنَّهَا قَدْ صَارَتْ دَارَ إِسْلَامٍ وَأَمْنٍ، فَلَا يَخَافُ أَحَدٌ فِيهَا أَنْ يُفْتَنَ عَنْ دِينِهِ، وَكَذَلِكَ غَيْرُ مَكَّةَ إِذَا صَارَ فِي مَعْنَاهَا بَعْدَ الْفَتْحِ فِي الْأَمْنِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فتح مکہ کے دن (آج کے بعد) کوئی ہجرت نہیں، لیکن جہاد اور نیت باقی ہے اور جب تمہیں (جہاد) کی طرف بلایا جائے تو پھر تم نکلو۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان «لَا هِجْرَةَ» ”کوئی ہجرت نہیں“ کا مطلب یہ ہے (اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے) کہ اہل مکہ میں سے جس نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا ہے اس پر کوئی ہجرت واجب نہیں کیونکہ یہ دارُ الاسلام اور دارُ الامن بن گیا ہے اور کسی کو اس کے دین کے متعلق اس شہر میں فتنے کا ڈر نہیں اور اسی طرح مکہ کے علاوہ دوسری جگہیں جب کہ وہ فتح ہونے کے بعد امن و امان کا گہوارہ بن جائیں (وہاں سے بھی ہجرت کرنا واجب نہیں)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17767]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان «لَا هِجْرَةَ» ”کوئی ہجرت نہیں“ کا مطلب یہ ہے (اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے) کہ اہل مکہ میں سے جس نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا ہے اس پر کوئی ہجرت واجب نہیں کیونکہ یہ دارُ الاسلام اور دارُ الامن بن گیا ہے اور کسی کو اس کے دین کے متعلق اس شہر میں فتنے کا ڈر نہیں اور اسی طرح مکہ کے علاوہ دوسری جگہیں جب کہ وہ فتح ہونے کے بعد امن و امان کا گہوارہ بن جائیں (وہاں سے بھی ہجرت کرنا واجب نہیں)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17767]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17768
وَفِي مِثْلِ ذَلِكَ وَرَدَ مَا أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَسْفَاطِيُّ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا سُوَيْدٌ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْجَارُودِيُّ، أنبأ بِشْرُ بْنُ آدَمَ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَاصِمٍ،، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُجَاشِعُ بْنُ مَسْعُودٍ السُّلَمِيُّ، قَالَ: جِئْتُ بِأَخِي أَبِي مَعْبَدٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْفَتْحِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ بَايِعْهُ عَلَى الْهِجْرَةِ، قَالَ:" قَدْ مَضَتِ الْهِجْرَةُ لِأَهْلِهَا". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَعَلَى أِيِّ شَيْءٍ تُبَايِعُهُ؟ قَالَ:" عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْجِهَادِ وَالْخَيْرِ"، فَبَايَعَهُ. قَالَ أَبُو عُثْمَانَ: فَلَقِيتُ أَبَا مَعْبَدٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِ مُجَاشِعٍ، فَقَالَ: صَدَقَ. ⦗٢٨⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ سَعِيدٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ.
سیدنا مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے بھائی سیدنا ابو معبد رضی اللہ عنہ کو فتح مکہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا اور میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ان سے ہجرت پر بیعت لیں“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہجرت جنہوں نے کرنی تھی انہوں نے کر لی اور (اب ہجرت نہیں)“ تو میں نے کہا: ”یا رسول اللہ! تو پھر آپ ان سے کس چیز پر بیعت لیں گے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام، جہاد اور خیر پر“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بیعت لی۔ ابو عثمان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میری ملاقات سیدنا ابو معبد رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے ان کو سیدنا مجاشع رضی اللہ عنہ کے قول کی خبر دی تو انہوں نے کہا کہ مجاشع نے سچ کہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17768]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17769
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُنْيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: جِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَانِيَ يَوْمِ الْفَتْحِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ بَايِعْ أَبِي عَلَى الْهِجْرَةِ، قَالَ:" بَلْ أُبَايِعُهُ عَلَى الْجِهَادِ، وَقَدِ انْقَطَعَتِ الْهِجْرَةُ يَوْمَ الْفَتْحِ". كَذَا وَجَدْتُهُ، وَإِنَّمَا هُوَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ.
سیدنا یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں فتح مکہ کے دوسرے دن اپنے والد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! میرے والد سے ہجرت پر بیعت لیجیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ میں ان سے جہاد پر بیعت لیتا ہوں کیونکہ ہجرت فتح مکہ کے دن سے منقطع ہوگئی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17769]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17770
أَخْبَرَنَاه أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي عَقِيلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ يَعْلَى، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ يَعْلَى قَالَ: كَلَّمْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي أُمَيَّةُ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، بَايِعْ أَبِي عَلَى الْهِجْرَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلْ أُبَايِعُهُ عَلَى الْجِهَادِ؛ فَقَدِ انْقَطَعَتِ الْهِجْرَةُ". وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُمَيَّةَ: ابْنُ أَخِي يَعْلَى.
سیدنا یعلیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے امیہ کے بارے میں بات کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے باپ سے ہجرت پر بیعت لیجیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہجرت کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے، لیکن میں ان سے جہاد پر بیعت لیتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17770]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17771
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخُسْرَوْجِرْدِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ كَاسِبٍ، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قِيلَ لِصَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ وَهُوَ بِأَعْلَى مَكَّةَ: إِنَّهُ لَا دِينَ لِمَنْ لَمْ يُهَاجِرْ، فَقَالَ: لَا أَصِلُ إِلَى بَيْتِي حَتَّى أَقْدُمَ الْمَدِينَةَ. فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ، فَنَزَلَ عَلَى الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا جَاءَ بِكَ يَا أَبَا وَهْبٍ؟". قَالَ: قِيلَ إِنَّهُ لَا دِينَ لِمَنْ لَمْ يُهَاجِرْ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْجِعْ أَبَا وَهْبٍ إِلَى أَبَاطِحِ مَكَّةَ فَقَرُّوا عَلَى مِلَّتِكُمْ، فَقَدِ انْقَطَعَتِ الْهِجْرَةُ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِنِ اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا اور وہ مکہ کے بالائی حصہ میں تھے کہ جس نے ہجرت نہ کی اس کا کوئی دین نہیں، تو انہوں نے کہا کہ جب تک میں مدینہ میں نہیں جاتا اس سے پہلے میں گھر میں داخل نہیں ہوں گا۔ کہتے ہیں کہ وہ مدینہ میں آئے اور سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے ہاں اترے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو وہب! تجھے کیا چیز لے آئی؟“ تو انہوں نے کہا کہ میں نے یہ سنا ہے کہ جس نے ہجرت نہیں کی اس کا کوئی دین نہیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو وہب! بطحاء مکہ کی طرف لوٹ جاؤ اور اپنے گھروں میں سکون کرو کیونکہ ہجرت کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے لیکن جہاد اور نیت باقی ہے اور جب تم کو (جہاد وغیرہ) کے لیے بلایا جائے تو پھر دیر نہ کرنا۔“ (قصہ کے علاوہ) [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17771]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17772
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ يَحْيَى الْآدَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٢٩⦘ مَاهَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ النُّعْمَانَ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ رَجُلٍ، سَمِعَ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ: لَيْسَ لَنَا أُجُورٌ بِمَكَّةَ. قَالَ:" لَيَأْتِيَنَّكُمْ أُجُورُكُمْ وَلَوْ كُنْتُمْ فِي جُحْرِ ثَعْلَبٍ".
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے لیے مکہ میں رہتے ہوئے کوئی اجر نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں تمہارا ضرور اجر ملے گا اگرچہ تم لومڑی کے بل میں بھی ہوئے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17772]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17773
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا فُدَيْكُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ بَشِيرِ بْنِ فُدَيْكٍ، قَالَ: جَاءَ فُدَيْكٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ مَنْ لَمْ يُهَاجِرْ هَلَكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا فُدَيْكُ أَقِمِ الصَّلَاةَ، وَآتِ الزَّكَاةَ، وَاهْجُرِ السُّوءَ، وَاسْكُنْ مِنْ أَرْضِ قَوْمِكَ حَيْثُ شِئْتَ". قَالَ: وَأَظُنُّ أَنَّهُ قَالَ:" تَكُنْ مُهَاجِرًا"..
سیدنا فدیک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ جس نے ہجرت نہ کی وہ ہلاک ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فدیک! نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو اور برائی کو چھوڑ دو، پھر تمہارا جہاں دل چاہے تو اپنی قوم کی زمین میں رہو۔“ راوی کہتے ہیں کہ میرا یہ خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم یہ کام کرنے والے بن جاؤ گے تو تم مہاجر ہو جاؤ گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17773]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17774
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ بَشِيرِ بْنِ فُدَيْكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، لَيْسَ فِي حَدِيثِ الزُّبَيْدِيِّ:" تَكُنْ مُهَاجِرًا".
یہ حدیث بھی پہلی حدیث کی طرح ہے، لیکن زبیدی کی روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ ”تم مہاجر بن جاؤ گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17774]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17775
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُمَيْرٍ، ثنا الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْبَدْوِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، قَامَ عَلَيْنَا أُنَاسٌ مِنْ قَرَابَاتِنَا، فَزَعَمُوا أَنَّهُ لَا يَنْفَعُ عَمَلٌ دُونَ الْهِجْرَةِ وَالْجِهَادِ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَأَحْسِنُوا عِبَادَةَ اللهِ وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دیہات میں سے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے پاس ہمارے کچھ قریبی لوگ آئے اور انہوں نے آکر یہ دعویٰ کیا ہے کہ ہجرت اور جہاد کے بغیر کوئی عمل فائدہ مند نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاں کہیں بھی رہو، تم اللہ کی عبادت اچھے طریقے سے کرو اور اس پر جنت کی بشارت بھی حاصل کرلو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17775]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17776
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا رَوْحٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّهُ جَاءَ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مَعَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، وَكَانَتْ مُجَاوِرَةً، قَالَ: فَقَالَ عُبَيْدٌ: أَيْ هَنْتَاهُ أَسْأَلُكِ عَنِ الْهِجْرَةِ، قَالَتْ: لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ، إِنَّمَا كَانَتِ الْهِجْرَةُ قَبْلَ الْفَتْحِ حَيْثُ يُهَاجِرُ الرَّجُلُ بِدِينِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَّا حِينَ كَانَ الْفَتْحُ حَيْثُ شَاءَ الرَّجُلُ عَبَدَ اللهَ لَا يُمْنَعُ.
عطاء کہتے ہیں کہ میں عبید بن عمیر کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور وہ اعتکاف بیٹھی تھیں یا «مُجَاوَرَةِ» کا دوسرا ترجمہ ہے کہ وہ ان کے پڑوس میں رہتی تھیں، تو ان سے عبید نے کہا: اے «هَنْتَاهُ» ! (یعنی اے خاتون!) میں آپ سے ہجرت کے متعلق سوال کرتا ہوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں“، ہجرت تو فتح مکہ سے پہلے تھی جب آدمی اپنے دین کی خاطر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کرتا تھا، تو جب فتح ہو گئی ہے تو اب آدمی جہاں چاہے اللہ کی عبادت کر سکتا ہے، اسے عبادت سے منع نہیں کیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17776]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح