السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3541. -- باب: فرض الهجرة
-- باب: ہجرت کے فرض ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 17749
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا حَيْوَةُ، وَرَجُلٌ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَسَدِيُّ، قَالَ: قُطِعَ عَلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ بَعْثٌ لِيَنْهَبَ فِيهِ، فَلَقِيتُ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَنَهَانِي أَشَدَّ النَّهْيِ، ثُمَّ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ" نَاسًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَانُوا مَعَ الْمُشْرِكِينَ يُكَثِّرُونَ سَوَادَ الْمُشْرِكِينَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَأْتِي السَّهْمُ يُرْمَى بِهِ فَيُصِيبُ أَحَدَهُمْ فَيَقْتُلُهُ، أَوْ يُضْرَبُ فَيُقْتَلُ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى ذِكْرَهُ فِيهِمْ: {إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنْتُمْ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ قَالُوا أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوا فِيهَا فَأُولَئِكَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَسَاءَتْ مَصِيرًا} [النساء: ٩٧] . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئِ.
محمد بن عبدالرحمن بن نوفل اسدی نے کہا کہ مدینہ والوں کو ایک فوج نکالنے کا حکم دیا گیا اور اس میں میرا بھی نام لکھا گیا، (اسی دوران) میری ملاقات عکرمہ مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہوئی تو انہوں نے مجھے بڑی سختی سے منع کیا اور کہا کہ مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ تھے جو مشرکین کی فوج کے ساتھ مل گئے اور ان کی تعداد میں اضافہ کا سبب بنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہ ملے، تو جب کبھی مسلمانوں کی طرف سے تیر آتا تو ان کو لگ جاتا اور یہ مر جاتے یا ویسے قتل ہو جاتے، تو ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنْتُمْ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ قَالُوا أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوا فِيهَا فَأُولَئِكَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَسَاءَتْ مَصِيرًا﴾ [سورة النساء: 97] ”جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں جب فرشتے ان کی روح قبض کرتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں: تم کس حال میں تھے (ہجرت کیوں نہ کی)؟ یہ جواب دیتے ہیں کہ ہم اپنی جگہ کمزور اور مغلوب تھے۔ فرشتے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم ہجرت کر جاتے؟ یہی وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ پہنچنے کی بری جگہ ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17749]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17750
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَبُو مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَاهُ حَجَّاجٌ، ثنا حَمَّادٌ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَجَلِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَقَامَ مَعَ الْمُشْرِكِينَ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ".
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی نے مشرکین کے ساتھ قیام کیا تو وہ اللہ کے ذمہ سے بری ہو گیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17750]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17751
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي بَجِيلَةَ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يُبَايِعُ النَّاسَ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ ابْسُطْ يَدَكَ حَتَّى أُبَايِعَكَ، وَاشْتَرِطْ عَلَيَّ، فَأَنْتُ أَعْلَمُ بِالشَّرْطِ مِنِّي. قَالَ:" أُبَايِعُكَ عَلَى أَنْ تَعْبُدَ اللهَ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتُنَاصِحَ الْمُؤْمِنَ، وَتُفَارِقَ الْمُشْرِكَ".
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ لوگوں سے بیعت لے رہے تھے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! اپنا ہاتھ پھیلائیے تاکہ میں آپ کی بیعت کروں اور مجھ پر شرط بھی لگائیے جو آپ میرے بارے میں مناسب جانیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں آپ کی اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ آپ اللہ کی عبادت کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اور مؤمن کی خیر خواہی کریں اور مشرک سے الگ رہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17751]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17752
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسَ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ بِالْمِرْبَدِ إِذْ أَتَى عَلَيْنَا أَعْرَابِيٌّ شَعِثُ الرَّأْسِ مَعَهُ قِطْعَةُ أَدِيمٍ أَوْ قِطْعَةُ جِرَابٍ، فَقُلْنَا: كَأَنَّ هَذَا لَيْسَ مِنْ أَهْلِ الْبَلَدِ، فَقَالَ: أَجَلْ لَا، هَذَا كِتَابٌ كَتَبَهُ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ الْقَوْمُ: هَاتِ، فَأَخَذْتُهُ فَقَرَأْتُهُ فَإِذَا فِيهِ:" بِسْمِ ⦗٢٣⦘ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ رَسُولِ اللهِ لِبَنِي زُهَيْرِ بْنِ أُقَيْشٍ، قَالَ أَبُو الْعَلَاءِ: وَهُمْ حِيُّ مِنْ عُكْلٍ، إِنَّكُمْ إِنْ شَهِدْتُمْ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَقَمْتُمُ الصَّلَاةَ، وَآتَيْتُمُ الزَّكَاةَ، وَفَارَقْتُمُ الْمُشْرِكِينَ، وَأَعْطَيْتُمْ مِنَ الْغَنَائِمِ الْخُمُسَ، وَسَهْمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفِيَّ، وَرُبَّمَا قَالَ: وَصَفِيَّهُ، فَأَنْتُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللهِ وَأَمَانِ رَسُولِهِ".
سیدنا یزید بن عبداللہ بن شخیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک دفعہ اونٹوں کے باڑے میں تھے کہ ہمارے پاس ایک دیہاتی آیا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے، اس کے پاس ایک کھال کا ٹکڑا تھا یا چمڑے کا، تو ہم نے کہا: لگتا ہے کہ یہ ہمارے شہر کا نہیں ہے، اس نے کہا: ہاں، میں تمہارے شہر کا نہیں ہوں، میرے پاس ایک خط ہے جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوا کر دیا تھا، تو قوم نے کہا: دکھاؤ! تو میں نے اس سے وہ لے لیا اور اس کو پڑھا تو اس میں یہ عبارت لکھی ہوئی تھی: ” «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“، یہ خط محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بنی زہیر بن اقیش کے لیے ہے“، ابو العلاء رحمہ اللہ نے کہا کہ یہ عکل قبیلے میں سے ایک قبیلہ ہے، ”اگر تم «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”لا الہ الا اللہ“ کی گواہی دے دو اور نماز قائم کرنے لگ جاؤ اور زکاۃ ادا کرنے لگ جاؤ اور مشرکین سے الگ ہو جاؤ اور مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ادا کرنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ اور صفی (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے منتخب حصہ) ادا کرنا، جب تم یہ کرنے لگ جاؤ گے تو تم اللہ اور اس کے رسول کی امان میں آ جاؤ گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17752]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3542. -- باب: ما جاء في عذر المستضعفين
-- باب: کمزوروں (مستضعفین) کے عذر کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: Q17753
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا، فَأُولَئِكَ عَسَى اللهُ أَنْ يَعْفُوَ عَنْهُمْ وَكَانَ اللهُ عَفُوًّا غَفُورًا} [النساء: 99] . قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: يُقَالُ: عَسَى مِنَ اللهِ وَاجِبٌ.
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا، فَأُولَئِكَ عَسَى اللهُ أَنْ يَعْفُوَ عَنْهُمْ وَكَانَ اللهُ عَفُوًّا غَفُورًا﴾ ”مگر وہ کمزور مرد، عورتیں اور بچے جو نہ کوئی تدبیر کر سکتے ہیں اور نہ (نکلنے کا) کوئی راستہ پاتے ہیں، تو امید ہے کہ اللہ ان سے درگزر فرمائے، اور اللہ تعالیٰ بہت معاف کرنے والا، بڑا بخشنے والا ہے۔“ [سورة النساء: 98-99]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ’عسیٰ‘ (امید ہے) کا لفظ یقینی (اور لازمی) ہوتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: Q17753]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ’عسیٰ‘ (امید ہے) کا لفظ یقینی (اور لازمی) ہوتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: Q17753]
حدیث نمبر: 17753
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كُلُّ عَسَى فِي الْقُرْآنِ فَهِيَ وَاجِبَةٌ".
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قرآن مجید میں جتنے بھی «عَسَى» استعمال ہوئے ہیں، یہ واجب کے معنیٰ میں استعمال ہوئے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17753]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17754
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ} [النساء: ٩٨] ، قَالَ:" كُنْتُ وَأُمِّي مِمَّنْ عَذَرَ اللهُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ.
ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس آیت کریمہ کی تلاوت کی: ﴿إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا﴾ [سورة النساء: 98] اور کہا کہ میں اور میری والدہ ان لوگوں میں شامل تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے معذور قرار دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17754]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ١٣٥٧»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17755
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ:" أَنَا وَأُمِّي مِنَ الْمُسْتَضْعَفِينَ، كَانَتْ أُمِّي مِنَ النِّسَاءِ، وَأَنَا مِنَ الْوِلْدَانِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُفْيَانَ.
عبیداللہ بن ابی یزید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ میں اور میری والدہ ﴿الْمُسْتَضْعَفِينَ﴾ [سورة النساء: 98] میں سے تھے، میری والدہ عورتوں میں اور میں بچوں میں شامل تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17755]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17756
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَمَّا اجْتَمَعْنَا لِلْهِجْرَةِ اتَّعَدْتُ أَنَا وَعَيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ وَهِشَامُ بْنُ الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ، وَقُلْنَا: الْمِيعَادُ بَيْنَنَا التَّنَاضِبُ مِنْ أَضَاةِ بَنِي ⦗٢٤⦘ غِفَارٍ، فَمَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمْ لَمْ يَأْتِهَا فَقَدْ حُبِسَ فَلْيَمْضِ صَاحِبَاهُ، فَأَصْبَحْتُ عِنْدَهُ أَنَا وَعَيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ وَحُبِسَ عَنَّا هِشَامٌ وَفُتِنَ فَافْتُتِنَ، بِالْمَدِينَةِ فَكُنَّا نَقُولُ: مَا اللهُ بِقَابِلٍ مِنْ هَؤُلَاءِ تَوْبَةً، قَوْمٌ عَرَفُوا اللهَ وَآمَنُوا بِهِ، وَصَدَّقُوا رَسُولَهُ ثُمَّ رَجَعُوا عَنْ ذَلِكَ لِبَلَاءٍ أَصَابَهُمْ مِنَ الدُّنْيَا، وَكَانُوا يَقُولُونَ لِأَنْفُسِهِمْ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمْ: {قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللهِ} [الزمر: ٥٣] ، إِلَى قَوْلِهِ: {مَثْوًى لَلْمُتَكَبِّرِينَ} [الزمر: ٦٠] ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَكَتَبْتُهَا بِيَدِي كِتَابًا، ثُمَّ بَعَثْتُ بِهَا إِلَى هِشَامٍ، فَقَالَ هِشَامُ بْنُ الْعَاصِ: فَلَمَّا قَدِمَتْ عَلَيَّ خَرَجْتُ بِهَا إِلَى ذِي طُوًى، فَجَعَلْتُ أَصْعَدُ بِهَا وَأُصَوِّبُ لِأَفْهَمَهَا، فَقُلْتُ: اللهُمَّ فَهِّمْنِيهَا، وَفَرَقْتُ إِنَّمَا أُنْزِلَتْ فِينَا لِمَا كُنَّا نَقُولُ فِي أَنْفُسِنَا، وَيُقَالُ فِينَا، فَرَجَعْتُ فَجَلَسْتُ عَلَى بَعِيرِي فَلَحِقْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُتِلَ هِشَامٌ شَهِيدًا بِأَجْنَادِينَ فِي وِلَايَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ہجرت کے لیے اکٹھے ہوئے تو میں نے، عیاش بن ابی ربیعہ اور ہشام بن عاص نے آپس میں طے کیا کہ ہم بنی غفار کے تالاب کے پاس تناضب کے مقام پر صبح صبح اکٹھے ہو کر وہیں سے مدینہ کو ہجرت کریں گے، تو جو صبح کے وقت وہاں نہ پہنچا اور اس کو روک لیا گیا تو اس کے دونوں ساتھی سفر شروع کر دیں گے، وہ کہتے ہیں کہ میں اور عیاش بن ابی ربیعہ اس جگہ پر پہنچ گئے اور ہشام بن عاص کو قید کر لیا گیا اور اس کو سخت تکلیفوں میں ڈالا گیا اور وہ ان تکلیفوں اور فتنوں میں گھر گیا۔ جب ہم مدینہ پہنچے تو ہم کہا کرتے تھے کہ اللہ ان لوگوں کی توبہ قبول کرنے والا نہیں ہے کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ انہوں نے اللہ کو پہچانا اور اس پر ایمان لائے اور اس کے رسولوں کی تصدیق کی، پھر دنیا کی مصیبتوں اور تکلیفوں کی وجہ سے اس سے پھر گئے، اور وہ اپنے بارے میں (بھی یہی) کہا کرتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیات نازل کیں: ﴿قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ﴾ [سورة الزمر: 53] اس قول تک ﴿أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِينَ﴾ [سورة الزمر: 60] ”اے نبی! میرے بندوں سے کہہ دو، جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم و زیادتی کر لی ہے کہ وہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں، بیشک اللہ تعالیٰ سارے گناہ معاف کرنے والا ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کو میں نے اپنے ہاتھ سے ایک خط میں لکھ کر ہشام کی طرف بھیج دیا۔ پھر ہشام بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ خط میرے پاس آیا تو میں اسے لے کر ذی طوی کی طرف نکل گیا اور میں اس کو اوپر سے نیچے تک (پڑھتا) اور اللہ سے دعا کرتا: ”یا اللہ! مجھے اس کی سمجھ عطا فرما“، تو پھر میں نے پہچان لیا کہ یہ ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہیں کیونکہ ہم اپنے بارے میں (یہی) کہا کرتے تھے۔ پھر کہتے ہیں کہ میں اس کے بعد لوٹا اور اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملا۔ آخر کار سیدنا ہشام رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اور ان کے لشکر میں اجنادین کے مقام پر شہید ہوئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17756]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 17757
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا أَحْمَدُ، ثنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي حَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ،، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:" أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِيمَنْ كَانَ يُفْتَنُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ: {ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ هَاجَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا فُتِنُوا ثُمَّ جَاهَدُوا وَصَبَرُوا إِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَحِيمٌ} [النحل: ١١٠] .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ آیت: ﴿ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ هَاجَرُوا مِن بَعْدِ مَا فُتِنُوا ثُمَّ جَاهَدُوا وَصَبَرُوا إِنَّ رَبَّكَ مِن بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾ [سورة النحل: 110] ”جن لوگوں نے فتنے میں ڈالے جانے کے بعد ہجرت کی اور جہاد کیا اور صبر کا ثبوت دیا، بے شک تیرا پروردگار ان باتوں کے بعد انہیں بخشنے والا اور مہربان ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہیں مکہ میں ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17757]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف