السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3551. -- باب: الرجل لا يجد ما ينفق
-- باب: اس شخص کے بیان میں جسے جہاد کے لیے خرچ کرنے کو کچھ نہ ملے۔
حدیث نمبر: 17824
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا رِيَاحُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا شَابٌّ مِنَ الثَّنِيَّةِ، فَلَمَّا رَأَيْنَاهُ بِأَبْصَارِنَا قُلْنَا: لَوْ أَنَّ هَذَا الشَّابَّ جَعَلَ شَبَابَهُ وَنَشَاطَهُ وَقُوَّتَهُ فِي سَبِيلِ اللهِ. قَالَ: فَسَمِعَ مَقَالَتَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" وَمَا سَبِيلُ اللهِ إِلَّا مَنْ قَتَلَ؟ مَنْ سَعَى عَلَى وَالِدَيْهِ فَفِي سَبِيلِ اللهِ، وَمَنْ سَعَى عَلَى عِيَالِهِ فَفِي سَبِيلِ اللهِ، وَمَنْ سَعَى عَلَى نَفْسِهِ لِيُعِفَّهَا فَفِي سَبِيلِ اللهِ، وَمَنْ سَعَى عَلَى التَّكَاثُرِ فَهُوَ فِي سَبِيلِ الشَّيْطَانِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے تھے، اچانک ایک نوجوان ثنیہ کی پہاڑیوں سے نمودار ہوا۔ جب ہم نے اس کو دیکھا تو ہم نے کہا: کاش اس جوان کی جوانی، چستی اور قوت اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہو۔ راوی کہتا ہے: ہماری بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن لیا اور فرمایا: ”صرف اللہ کے راستے میں قتل ہونا ہی «سَبِيلِ اللہِ» ”اللہ کا راستہ“ ہے؟ جس نے اپنے والدین کی خدمت کی وہ اس کے راستے میں ہے اور جس نے اپنے خاندان کی کفالت کی وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہے اور جس نے اپنے نفس کی حفاظت کی تاکہ اس کو بچا کر رکھے، وہ بھی اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہے اور جس نے زیادہ مال جمع کرنے کی کوشش کی وہ شیطان کے راستے پر ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17824]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
3552. -- باب: الرجل يكون عليه دين فلا يغزو إلا بإذن أهل الدين
-- باب: اس شخص کے بیان میں جس پر قرض ہو تو وہ قرض خواہوں کی اجازت کے بغیر جہاد پر نہ جائے۔
حدیث نمبر: 17825
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ، بِبَغْدَادَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللهِ كَفَّرَ اللهُ عَنِّي خَطَايَايَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ قُتِلْتَ فِي سَبِيلِ اللهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ كَفَّرَ اللهُ عَنْكَ خَطَايَاكَ". فَلَمَّا جَلَسَ دَعَاهُ، فَقَالَ:" كَيْفَ قُلْتَ؟". فَأَعَادَ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" إِلَّا الدَّيْنَ، كَذَلِكَ أَخْبَرَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ". ⦗٤٤⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ.
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور سوال کیا: اے اللہ کے رسول! اگر میں اللہ کے راستہ میں قتل کر دیا جاؤں کیا اللہ تعالیٰ میرے گناہوں کو معاف کر دے گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اللہ کے راستہ میں اس حال میں قتل ہوا کہ صبر کرنے والا ہو اور ثواب کی امید رکھے اور پیش قدمی کرنے والا ہو پیٹھ دکھانے والا نہ ہو تو اللہ تعالیٰ تیرے گناہوں کو مٹا دے گا۔“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے تو اس کو بلایا اور کہا: ”تو کیا کہتا ہے؟“ اور بات دہرائی اور کہا: ”مگر قرض“ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھے اسی طرح بتایا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17825]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17826
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللهِ يُكَفِّرُ كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا الدَّيْنَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنِ الْمُقْرِئِ، وَقَدْ مَضَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ بِدَيْنِهِ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ".
(الف) سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے راستے میں شہید ہونا تمام خطاؤں کو مٹا دیتا ہے مگر قرض باقی رہتا ہے۔“ (ب) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”مومن کی جان قرض کی وجہ سے لٹکی رہتی ہے حتیٰ کہ وہ اس کی طرف سے ادا کر دیا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17826]
3553. -- باب: الرجل يكون له أبوان مسلمان أو أحدهما فلا يغزو إلا بإذن أهله
-- باب: اس شخص کے بیان میں جس کے مسلمان والدین یا ان میں سے کوئی ایک حیات ہو تو وہ ان کی اجازت کے بغیر جہاد پر نہ جائے۔
حدیث نمبر: 17827
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ بِالْبَصْرَةِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ، وَكَانَ لَا يُتَّهَمُ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَهُ فِي الْجِهَادِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَحَيٌّ وَالِدَاكَ"؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور جہاد کی اجازت مانگنے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تیرے والدین زندہ ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بس انہیں میں جہاد کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17827]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17828
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي أُرِيدُ الْجِهَادَ. قَالَ:" أَحَيٌّ أَبَوَاكَ؟". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:" ارْجِعْ إِلَيْهِمَا فَإِنَّ فِيهِمَا الْمُجَاهِدَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَمْرٍو.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تیرے والدین زندہ ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی طرف جا، ان دونوں میں جہاد کا مقام ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17828]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17829
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ ⦗٤٥⦘ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ نَاعِمًا مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ حَدَّثَه، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ أَوِ الْجِهَادِ أَبْتَغِي الْأَجْرَ مِنَ اللهِ. قَالَ:" فَهَلْ مِنْ وَالِدَيْكَ أَحَدٌ حَيٌّ؟". قَالَ: نَعَمْ، بَلْ كِلَاهُمَا. قَالَ:" فَتَبْتَغِي الْأَجْرَ مِنَ اللهِ؟". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:" فَارْجِعْ إِلَى وَالِدَيْكَ فَأَحْسِنْ صُحْبَتَهُمَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آیا اور کہنے لگا: میں ہجرت یا جہاد پر آپ کی بیعت کرتا ہوں اور اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر کی امید کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تیرے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟“ اس نے کہا: ہاں! دونوں زندہ ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید کرتا ہے؟“ اس نے کہا: ہاں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی طرف لوٹ جا اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17829]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17830
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ التَّمَّارُ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: جِئْتُ أُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَتَرَكْتُ أَبَوَيَّ يَبْكِيَانِ. فَقَالَ:" ارْجِعْ فَأَضْحِكْهُمَا كَمَا أَبْكَيْتَهُمَا".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: ”میں ہجرت پر آپ کی بیعت کرنے آیا ہوں اور اپنے والدین کو روتے ہوئے چھوڑ کر آیا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واپس جا اور ان کو خوش کر جس طرح ان کو رلایا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17830]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 17831
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْيَمَنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي هَاجَرْتُ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ هَجَرْتَ الشِّرْكَ وَلَكِنَّهُ الْجِهَادُ، هَلْ لَكَ أَحَدٌ بِالْيَمَنِ؟". قَالَ: أَبَوَايَ. قَالَ:" أَذِنَا لَكَ؟". قَالَ: لَا. قَالَ:" فَارْجِعْ فَاسْتَأْذِنْهُمَا، فَإِنْ أَذِنَا لَكَ فَجَاهِدْ، وَإِلَّا فَبِرَّهُمَا".
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یمن سے ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنا وطن چھوڑ دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے شرک کو چھوڑ دیا، لیکن (اب باقی) جہاد ہے۔ یمن میں کوئی تیرا رشتہ دار ہے؟“ اس نے عرض کیا: میرے والدین۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ان سے اجازت لی ہے؟“ اس نے عرض کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واپس جا اور ان سے اجازت طلب کر۔ اگر وہ اجازت دیں تو جہاد کر وگرنہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17831]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17832
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا حَجَّاجٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ طَلْحَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ السُّلَمِيِّ، أَنَّ جَاهِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَدْتُ أَنْ أَغْزُوَ وَقَدْ جِئْتُكَ أَسْتَشِيرُكَ. فَقَالَ:" هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ؟". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:" فَالزَمْهَا؛ فَإِنَّ الْجَنَّةَ عِنْدَ رِجْلَيْهَا". ثُمَّ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ الثَّالِثَةَ فِي مَقَاعِدَ شَتَّى فَكَمِثْلِ هَذَا الْقَوْلِ. لَفْظُ حَدِيثِ الصَّغَانِيِّ.
معاویہ بن جاہمہ سلمی فرماتے ہیں کہ جاہمہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے محاذِ جنگ پر جانے کا ارادہ کیا ہے اور آپ کے پاس مشورہ کرنے آیا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تیری ماں زندہ ہے؟“ انہوں نے کہا: ہاں! فرمایا: ”اسی سے وابستہ رہ، جنت اس کے قدموں میں ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دو تین دفعہ کہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17832]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 17833
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ. بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: نَزَلَتْ فِي أَرْبَعِ آيَاتٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ قَالَ: فَقَالَتْ أُمُّ سَعْدٍ: أَلَيْسَ قَدْ أَمَرَ اللهُ بِبِرِّ الْوَالِدَةِ؟ فَوَاللهِ لَا أَطْعَمُ طَعَامًا وَلَا أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّى تَكْفُرَ أَوْ أَمُوتَ. فَكَانُوا إِذَا أَرَادُوا أَنْ يُطْعِمُوهَا أَوْ يَسْقُوهَا شَجَرُوا فَاهَا بِعَصًا، ثُمَّ أَوْجَرُوهَا الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ، فَنَزَلَتْ: {وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا} [العنكبوت: ٨] . أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ.
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ چار آیات میرے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ پھر حدیث کو ذکر کیا۔ اس میں ہے کہ ام سعد نے کہا: ”کیا اللہ نے والدہ کے ساتھ احسان کا حکم نہیں دیا؟ اللہ کی قسم! میں نہ کھاؤں گی نہ پیوں گی حتیٰ کہ تو کفر کرے یا میں مر جاؤں۔“ جب وہ اس کو کھلانا یا پلانا چاہے تو لاٹھی سے اس کا منہ اٹھاتے اور کھانا اور پانی اس کے منہ میں ڈال دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی: ﴿وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا﴾ [سورة العنكبوت: 8] ”اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرنے کی تاکید کی ہے اور اگر وہ تجھ پر زور دیں کہ تو میرے ساتھ اس چیز کو شریک ٹھہرائے جس کا تجھے علم نہیں تو ان کی نہ مان۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17833]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح