السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3556. -- باب: ما جاء في تجهيز الغازي وأجر الجاعل
-- باب: غازی کو سامانِ جنگ مہیا کرنے اور اجرت مقرر کرنے والے کے اجر و ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 17844
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، فَذَكَرَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ:" مَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكَ، وَلَكِنِ ائْتِ فُلَانًا". فَأَتَاهُ فَحَمَلَهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ:" مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ".
اعمش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس کچھ نہیں جو میں تم کو سواروں کے لیے دوں، ہاں تم فلاں آدمی کے پاس جاؤ۔“ وہ گیا، اس آدمی نے اس کو سواری دے دی۔ یہ آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلائی کی طرف راہنمائی کرنے والا اور اس پر عمل کرنے والا اجر میں برابر ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17844]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17845
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالَا: ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ الْكِنْدِيِّ التُّجِيبِيِّ، عَنِ ابْنِ شُفَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لِلْغَازِي أَجْرُهُ، وَلِلْجَاعِلِ أَجْرُهُ وَأَجْرُ الْغَازِي". وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" قَفْلَةٌ كَغَزْوَةٍ".
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غازی کے لیے اس کا اجر ہے اور (غازی کو) خرچ دے کر بھیجنے والے کے لیے اس کا اپنا اجر بھی ہے اور غازی کا اجر بھی۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(جہاد سے) واپس لوٹنا بھی جہاد کی طرح ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17845]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17846
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ أَبُو النَّضْرِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو زُرْعَةَ يَحْيَى بْنُ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: نَادَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَخَرَجْتُ إِلَى أَهْلِي وَأَقْبَلْتُ، وَقَدْ خَرَجَ أَوَّلُ صَحَابَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَفِقْتُ فِي الْمَدِينَةِ أُنَادِي، أَلَا مَنْ يَحْمِلُ رَجُلًا لَهُ سَهْمُهُ؟ فَنَادَى شَيْخٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ:" لَنَا سَهْمُهُ عَلَى أَنْ نَحْمِلَهُ عُقْبَتَهُ وَطَعَامُهُ مَعَنَا". قُلْتُ: نَعَمْ، فَسِرْ عَلَى بَرَكَةِ اللهِ، فَخَرَجْتُ مَعَ خَيْرِ صَاحِبٍ حَتَّى أَفَاءَ اللهُ عَلَيْنَا، فَأَصَابَنِي قَلَائِصُ فَسُقْتُهُنَّ حَتَّى أَتَيْتُهُ، فَخَرَجَ، فَقَعَدَ عَلَى حَقِيبَةٍ مِنْ حَقَائِبِ إِبِلِهِ، ثُمَّ قَالَ:" سُقْهُنَّ مُدْبِرَاتٍ"، ثُمَّ قَالَ:" سُقْهُنَّ مُقْبِلَاتٍ"، فَقَالَ:" مَا أَرَى قَلَائِصَكَ إِلَّا كِرَامًا". قَالَ: إِنَّمَا هِيَ غَنِيمَتُكَ الَّتِي شَرَطْتُ. قَالَ:" خُذْ قَلَائِصَكَ ابْنَ أَخِي، فَغَيْرَ سَهْمِكَ أَرَدْنَا". ⦗٥٠⦘ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: فَغَيْرَ سَهْمِكَ أَرَدْنَا يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ أَرَادَ أَنَّا لَمْ نَقْصِدْ بِمَا فَعَلْنَا الْإِجَارَةَ، وَإِنَّمَا قَصَدْنَا الِاشْتِرَاكَ فِي الْأَجْرِ وَالثَّوَابِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے لیے منادی فرمائی۔ میں اپنے گھر گیا، جب واپس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی ساتھی جا چکے تھے۔ میں نے مدینہ کا چکر لگایا اور اعلان کیا کہ جو شخص ایک آدمی کو سواری دے، اس کا حصہ سواری دینے والے کا ہو گا۔ انصار کے ایک معزز آدمی نے کہا کہ اس کا حصہ ہمارا ہو گا، اس کے بدلے میں ہم اس کو سواری دیں گے اور اس کا کھانا ہمارے ساتھ ہو گا۔ میں نے اسے قبول کر لیا، اس نے کہا: چلو اللہ کی برکت کے ساتھ۔ میں اپنے بہترین ساتھی کے ساتھ نکلا، ہمیں لڑائی کے بغیر ہی مال ملا اور مجھے کچھ اونٹنیاں ملیں۔ میں ان کو ہانکتا ہوا اس کے پاس آیا، وہ نکلا اور اونٹ کے کجاوے پر بیٹھ گیا۔ پھر اس نے کہا: ان کو پیچھے کی طرف ہانکو، پھر کہا: ان کو آگے کی طرف ہانکو۔ اور کہا کہ آپ کی اونٹنیاں بہترین ہیں، تو میں نے کہا: یہ وہ نفع ہے جس کی میں نے آپ کے ساتھ شرط لگائی تھی، یہ غنیمت آپ ہی کی ہے۔ تو اس نے کہا: اے میرے بھتیجے! اپنی اونٹنیاں لے جاؤ، ہم نے اس کے علاوہ حصہ کا ارادہ کیا تھا۔ شیخ رحمہ اللہ کہتے ہیں «فَغَيْرَ سَهْمِكَ أَرَدْنَا» کا مطلب ہے کہ ہم اجرت میں حصہ نہیں چاہتے تھے بلکہ ہمارا مقصد تو اجر و ثواب میں شریک ہونا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17846]
3557. -- باب: من استأجر إنسانا للخدمة في الغزو
-- باب: اس شخص کے بیان میں جس نے جہاد میں خدمت کے لیے کسی انسان کو اجرت پر رکھا۔
حدیث نمبر: 17847
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا بَشِيرُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ دُرَيْكٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُنْيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُنِي فِي سَرَايَاهُ، فَبَعَثَنِي ذَاتَ يَوْمٍ وَكَانَ رَجُلٌ يَرْحَلُ لِي، فَقُلْتُ لَهُ: ارْحَلْ، فَقَالَ: مَا أَنَا بِخَارِجٍ مَعَكَ. قُلْتُ: لِمَ؟ قَالَ: حَتَّى تَجْعَلَ لِي ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ. قُلْتُ: الْآنَ حِينَ وَدَّعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَنَا بِرَاجِعٍ إِلَيْهِ ارْحَلْ وَلَكَ ثَلَاثَةُ دَنَانِيرَ، فَلَمَّا رَجَعْتُ مِنْ غَزَاتِي ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْطِهَا إِيَّاهُ، فَإِنَّهَا حَظُّهُ مِنْ غَزَاتِهِ". وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الْقَسْمِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُنْيَةَ فِي مَعْنَاهُ.
سیدنا یعلیٰ بن منیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے غزوات میں بھیجتے تھے، ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روانہ کیا، ایک آدمی میری سواری پر کجاوہ کسا کرتا تھا، میں نے اس سے کہا: سواری تیار کرو اور چلو، اس نے کہا: میں تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گا، میں نے کہا: کیوں؟ اس نے کہا: پہلے میرے لیے تین دینار مقرر کرو، میں نے کہا: اب تو میں نکل گیا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہیں جاؤں گا، سواری تیار کرو اور تجھے تین دینار ملیں گے، جب میں لڑائی سے واپس آیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا ذکر کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس کو دے دو، یہی لڑائی سے اس کا حصہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17847]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
3558. -- باب: الإمام لا يجمر بالغزى
-- باب: امام غازیوں کو محاذِ جنگ پر مسلسل طویل عرصے تک نہ روکے رکھے۔
حدیث نمبر: Q17848
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" فَإِنْ جَمَّرَهُمْ فَقَدْ أَسَاءَ وَيَجُوزُ لِكُلِّهِمْ خِلَافُهُ وَالرُّجُوعُ"..
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”پس اگر (امام) انہیں (سرحد پر) طویل مدت تک روکے رکھے اور گھر واپس نہ آنے دے تو اس نے برا کیا، اور ان سب کے لیے جائز ہے کہ وہ اس کی مخالفت کریں اور (اپنے گھروں کو) لوٹ جائیں۔“... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: Q17848]
حدیث نمبر: 17848
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا أَبُو صَالِحٍ يَعْنِي مَحْبُوبَ بْنَ مُوسَى، ثنا الْفَزَارِيُّ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي فِرَاسٍ، قَالَ: خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ:" أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ إِلَيْكُمْ عُمَّالِي لِيَضْرِبُوا أَبْشَارَكُمْ، وَلَا لِيَأْخُذُوا أَمْوَالَكُمْ، وَلَكِنْ بَعَثْتُهُمْ لِيُعَلِّمُوكُمْ دِينَكُمْ وَسُنَّتَكُمْ، فَمَنْ فُعِلَ بِهِ غَيْرُ ذَلِكَ فَلْيَرْفَعْهُ إِلِيَّ فَأَقُصَّهُ مِنْهُ، أَلَا لَا تَضْرِبُوا الْمُسْلِمِينَ فَتُذِلُّوهُمْ وَلَا تَمْنَعُوهُمْ فَتُكْفِرُوهُمْ، وَلَا تُجَمِّرُوهُمْ فَتَفْتِنُوهُمْ، وَلَا تُنْزِلُوهُمُ الْغِيَاضَ فَتُضَيِّعُوهُمْ".
سیدنا ابو فراس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ میں ہمیں کہا: اے لوگو! میں عمال کو تمہارے پاس اس لیے نہیں بھیجتا کہ وہ تمہاری کھالوں (جسموں) پر ماریں اور تمہارے مال کو لے لیں، ان کو اس لیے بھیجتا ہوں کہ وہ تم کو دین سکھائیں اور سنت سکھائیں، اگر ان میں سے کوئی اس کے علاوہ کام کرے تو اس کا معاملہ مجھ تک پہنچاؤ، میں اس سے بدلہ لوں گا۔ خبردار! مسلمانوں کو مار کر ان کو ذلیل نہ کرو، مسلمانوں کو بار بار ٹوک کر اور منع کر کے کفر پر مجبور نہ کریں اور گھروں کو واپسی سے مجاہدین کو نہ روکیں، اگر روکو گے تو وہ فتنہ میں مبتلا ہو جائیں گے اور مجاہدین کو مشکل راستوں پر ڈال کر ضائع نہ کرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17848]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17849
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، أنبأ ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ جَيْشًا مِنَ الْأَنْصَارِ كَانُوا بِأَرْضِ فَارِسَ مَعَ أَمِيرِهِمْ، وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُعْقِبُ الْجُيُوشَ فِي كُلِّ عَامٍ، فَشُغِلَ عَنْهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا مَرَّ الْأَجَلُ قَفَلَ أَهْلُ ⦗٥١⦘ ذَلِكَ الثَّغْرِ، فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ وَأَوْعَدَهُمْ وَهُمْ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: يَا عُمَرُ إِنَّكَ غَفَلْتَ عَنَّا، وَتَرَكْتَ فِينَا الَّذِي أَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِعْقَابِ بَعْضِ الْغَزِيَّةِ بَعْضًا".
عبداللہ بن کعب بن مالک انصاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انصار کا لشکر اپنے امیر کے ساتھ فارس میں تھا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ ایک سال بعد لشکر کو واپس بلاتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان سے غافل ہو گئے۔ جب مقررہ وقت گزر گیا تو سرحد والے لوگ لوٹ آئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان پر سختی کی اور انہیں دھمکایا، حالانکہ یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے۔ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ہم سے غافل ہو گئے اور آپ نے ہمارے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کو ترک کر دیا کہ ”لشکر کو تھوڑا تھوڑا کر کے واپس لایا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17849]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه السجستاني»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17850
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَسَمِعَ امْرَأَةً تَقُولُ:.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ رات کو نکلے، انہوں نے ایک عورت کی آواز سنی، وہ شعر پڑھ رہی تھی: رات لمبی ہو گئی اور اس کے اطراف سیاہ ہو گئے ہیں، میری راتوں کی نیند اڑا دی ہے اس بات نے کہ میرا حبیب (محبوب) نہیں ہے، اللہ کی قسم! اگر اللہ نہ ہوتا تو میں اس کی دیکھ بھال کرتی اور اس چارپائی کے پہلو حرکت کرتے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: عورت زیادہ سے زیادہ اپنے خاوند کے بغیر کتنا صبر کر سکتی ہے؟ انہوں نے کہا: چھ ماہ یا چار ماہ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں کسی لشکر کو اس سے زیادہ نہیں روکوں گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17850]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: عورت زیادہ سے زیادہ اپنے خاوند کے بغیر کتنا صبر کر سکتی ہے؟ انہوں نے کہا: چھ ماہ یا چار ماہ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں کسی لشکر کو اس سے زیادہ نہیں روکوں گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17850]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3559. -- باب: شهود من لا فرض عليه القتال
-- باب: اس شخص کا جنگ میں حاضر ہونا جس پر قتال فرض نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 17851
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، أَنَّ نَجْدَةَ كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ؟ وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ؟ فَقَالَ:" قَدْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ فَيُدَاوِينَ الْجَرْحَى، وَلَمْ يَكُنْ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ، وَلَكِنْ يُحْذَيْنَ مِنَ الْغَنِيمَةِ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ كَمَا مَضَى قَالَ الشَّافِعِيُّ:" وَمَحْفُوظٌ أَنَّهُ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِتَالَ الْعَبِيدُ وَالصِّبْيَانُ وَأَحْذَاهُمْ مِنَ الْغَنِيمَةِ".
حضرت نجدہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو لکھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے ساتھ مل کر لڑائی کی ہے؟ اور کیا ان کو حصہ دیا ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: عورتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر کے ساتھ ہوتی تھیں اور وہ زخمیوں کا علاج معالجہ کرتی تھیں، لیکن ان کے لیے مال غنیمت سے حصہ نہیں ہوتا تھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو عطیۃً کچھ دے دیتے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: درست بات یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لڑائی میں غلام اور بچے بھی ہوتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو غنیمت سے عطیۃً دیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17851]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: درست بات یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لڑائی میں غلام اور بچے بھی ہوتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو غنیمت سے عطیۃً دیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17851]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17852
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يَسْأَلُهُ عَنِ الْعَبْدِ وَالْمَرْأَةِ يَحْضُرَانِ الْمَغْنَمَ، هَلْ لَهُمَا مِنَ الْمَغْنَمِ شَيْءٌ؟ قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ:" لَيْسَ لَهُمَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يُحْذَيَا". ⦗٥٢⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، وَذَكَرَ أَبُو يُوسُفَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، يَسْأَلُهُ عَنِ الصَّبِيِّ مَتَى يَخْرُجُ مِنَ الْيُتْمِ؟ وَمَتَى يُضْرَبُ لَهُ بِسَهْمِهِ؟ فَقَالَ:" إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنَ الْيُتْمِ إِذَا احْتَلَمَ، وَيُضْرَبُ لَهُ بِسَهْمٍ".
حضرت نجدہ رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو لکھا کہ کیا غلام اور عورت کا مالِ غنیمت میں حصہ ہے؟ تو انہوں نے ان کو لکھا کہ ان دونوں کا کوئی حصہ نہیں ہے مگر یہ کہ ان کو «عَطِيَّةً» ”عطیہ“ دیا جائے۔
ابو یوسف رحمہ اللہ نے اس حدیث کے بارے میں اسماعیل بن امیہ رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے ان کو لکھا اور بچے کے بارے میں سوال کیا کہ کب وہ یتیمی سے نکلتا ہے اور اس کے لیے مالِ غنیمت سے حصہ دیا جاتا ہے؟ انہوں نے کہا: جب بچہ بالغ ہو جائے تو وہ یتیم نہیں رہتا، اس سے نکل جاتا ہے اور اس کے لیے مالِ غنیمت میں حصہ بھی ہوگا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17852]
ابو یوسف رحمہ اللہ نے اس حدیث کے بارے میں اسماعیل بن امیہ رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے ان کو لکھا اور بچے کے بارے میں سوال کیا کہ کب وہ یتیمی سے نکلتا ہے اور اس کے لیے مالِ غنیمت سے حصہ دیا جاتا ہے؟ انہوں نے کہا: جب بچہ بالغ ہو جائے تو وہ یتیم نہیں رہتا، اس سے نکل جاتا ہے اور اس کے لیے مالِ غنیمت میں حصہ بھی ہوگا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17852]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح