🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3562. -- باب: من يبدأ بجهاده من المشركين
-- باب: مشرکین میں سے کس کے خلاف جہاد کی ابتدا کی جائے گی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17882
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، وَعَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَغَهُ أَنَّ بَنِي الْمُصْطَلِقِ يَجْمَعُونَ لَهُ، وَقَائِدُهُمُ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي ضِرَارٍ أَبُو جُوَيْرِيَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَزَلَ بِالْمُرَيْسِيعِ مَاءٌ مِنْ مِيَاهِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَأَعَدُّوا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَزَاحَفَ النَّاسُ فَاقْتَتَلُوا، فَهَزَمَ اللهُ بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَقُتِلَ مَنْ قُتِلَ مِنْهُمْ، وَنَفَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْنَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ وَنِسَاءَهُمْ، وأَقَامَ عَلَيْهِ مِنْ نَاحِيَةِ قُدَيْدٍ إِلَى السَّاحِلِ. قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: غَزَاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَعْبَانَ سَنَةَ سِتٍّ".
عبداللہ بن ابی بکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ بنو مصطلق والے لشکر تیار کر رہے ہیں اور ان کی قیادت ام المؤمنین سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کے والد حارث بن ابی ضرار کر رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مریسیع نامی کنویں پر پہنچے، یہ بنو مصطلق کے کنوؤں میں سے ایک تھا، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لڑائی کی تیاری کی اور لوگ ایک دوسرے کے قریب ہونا شروع ہوئے۔ پھر لڑائی ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق کو شکست دی۔ ان میں سے کچھ قتل ہوئے اور ان کے بچے، مال اور عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زائد حاصل کیں اور قدید کے ساحل کی طرف سے ان پر حملہ کیا تھا۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ چھ ہجری کو ہوا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17882]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17883
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، قَالَا: أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الدُّعَاءِ قَبْلَ الْقِتَالِ، قَالَ:" فَكَتَبَ إِنَّمَا كَانَ ذَاكَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، قَدْ أَغَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ وَأَنْعَامُهُمْ تُسْقَى عَلَى الْمَاءِ، فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ وَسَبَى سَبْيَهُمْ، وَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ - أَحْسَبُهُ قَالَ: جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ. حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَكَانَ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" وَبَلَغَهُ أَنَّ خَالِدَ بْنَ سُفْيَانَ بْنِ نُبَيْحٍ يَجْمَعُ لَهُ، فَأَرْسَلَ ابْنَ أُنَيْسٍ فَقَتَلَهُ وَقُرْبَهُ عَدُوٌّ أَقْرَبُ مِنْهُ".
ابن عون کہتے ہیں: میں نے نافع کو خط لکھ کر پوچھا کہ قتال (لڑائی) سے قبل دعا (دعوت) کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے لکھا: یہ ابتدائے اسلام میں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق پر شب خون مارا (رات کو حملہ کیا) اور وہ بے خبر تھے جبکہ ان کے جانوروں کو پانی پلایا جا رہا تھا، تو لڑائی کے اہل لوگوں کو قتل کر دیا گیا اور بچوں کو قیدی بنا لیا گیا۔ اس دن (راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے انہوں نے کہا) سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے میں آئیں۔ یہ حدیث مجھے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کی، اور وہ اس لشکر میں شامل تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب یہ خبر آئی کہ خالد بن سفیان بن نبیح لشکر تیار کر رہا ہے تو اس طرف ابن انیس رضی اللہ عنہ کو بھیجا گیا۔ انہوں نے اس کو قتل کر دیا جبکہ اس کے قریب بھی دشمن موجود تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17883]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17884
أَخْبَرْنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنِ عَمْرٍو أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُنَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَالِدِ بْنِ سُفْيَانَ الْهُذَلِيِّ وَكَانَ نَحْوَ عُرَنَةَ وَعَرَفَاتٍ، فَقَالَ:" اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ". قَالَ: فَرَأَيْتُهُ وَحَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ، فَقُلْتُ: إِنِّي لَأَخَافُ أَنْ يَكُونَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ مَا أَنْ أُؤَخِّرَ الصَّلَاةَ، فَانْطَلَقْتُ أَمْشِي وَأَنَا أُصَلِّي أُومِي إِيمَاءً نَحْوَهُ، فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْهُ قَالَ لِي: مَنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ، بَلَغَنِي ⦗٦٦⦘ أَنَّكَ تَجْمَعُ لِهَذَا الرَّجُلِ، فَجِئْتُكَ فِي ذَاكَ. قَالَ: إِنِّي لَفِي ذَاكَ. فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً، حَتَّى إِذَا أَمْكَنَنِي عَلَوْتُهُ بِسَيْفِي حَتَّى بَرَكَ".
سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کے بیٹے اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خالد بن سفیان کی طرف بھیجا، وہ عرنہ اور عرفات کی طرف تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اسے قتل کرو۔“ یہ کہتے ہیں: میں نے اس کو دیکھا تو اس وقت عصر کی نماز کا وقت آگیا، میں نے سوچا کہ میرے اور اس کے درمیان معاملے میں نماز کے مؤخر ہونے کا خدشہ ہے، تو میں نماز پڑھتے ہوئے اس کی طرف چل پڑا اور (رکوع و سجود کے لیے) اشارہ کرتا رہا، جب میں اس کے قریب ہو گیا تو اس نے مجھے کہا: تو کون ہے؟ میں نے کہا: عرب ہوں، مجھے خبر ملی ہے کہ تو اس شخص کے خلاف لشکر جمع کر رہا ہے تو میں بھی اسی سلسلے میں تیرے پاس آیا ہوں، اس نے کہا: میں یہ کام کر رہا ہوں، تو میں کچھ دیر اس کے ساتھ چلا جب میں نے اس پر موقع پایا تو اپنی تلوار سے اس پر حملہ کر دیا حتیٰ کہ وہ مر گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17884]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3563. -- باب: ما يبدأ به من سد أطراف المسلمين بالرجال
-- باب: مسلمانوں کی سرحدوں کو جنگجو جوانوں سے محفوظ کرنے کی ابتدا کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17885
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى الْقُرَشِيِّ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ رَابَطَ يَوْمًا وَلَيْلَةً فِي سَبِيلِ اللهِ كَانَ لَهُ أَجْرُ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ، وَمَنْ مَاتَ مُرَابِطًا أُجْرِيَ لَهُ مِثْلُ الْأَجْرِ وَأُجْرِيَ عَلَيْهِ الرِّزْقُ وَأُومِنَ الْفِتَانَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ..
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بندہ ایک دن اور رات کو اللہ کے راستے میں پہرہ دیتا ہے اس کو ایک ماہ کے روزوں اور قیام کا ثواب ملتا ہے اور اگر کوئی پہرہ دیتے ہوئے مر جائے تو اس کا یہ اجر جاری رہتا ہے اور اس کا رزق جاری رکھا جاتا ہے اور اس کو فتنوں سے محفوظ کر دیا جاتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17885]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17886
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدٌ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ، عَنْ سَلْمَانَ الْخَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
سیدنا سلمان خیر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17886]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17887
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا هِشَامُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا، وَالرَّوْحَةُ يَرُوحُهَا الْعَبْدُ فِي سَبِيلِ اللهِ أَوِ الْغَدْوَةُ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا، وَمَوْضِعُ سَوْطِ أَحَدِكُمْ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُنِيرٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ هَاشِمٍ.
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دن اللہ کے لیے پہرہ دینا ساری دنیا سے بہتر ہے، اور اللہ کے راستے میں ایک بار سفر کرنا، صبح یا شام کو، یہ بھی دنیا اور جو اس پر ہے اس سے بہتر ہے، اور ایک کوڑے کے برابر جگہ جنت میں اگر کسی کے لیے ہو تو وہ بھی ساری دنیا سے بہتر ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17887]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17888
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ثنا أَبُو عَقِيلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى عُثْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: إِنِّي كُنْتُ كَتَمْتُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرَاهِيَةَ تَفَرُّقِكُمْ عَنِّي، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أُحَدِّثَكُمُوهُ ⦗٦٧⦘ لِيَخْتَارَ امْرُؤٌ مِنْكُمْ لِنَفْسِهِ مَا بَدَا لَهُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللهِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ يَوْمٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَنَازِلِ".
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے غلام ابو صالح فرماتے ہیں کہ میں نے منبر پر عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے ایک حدیث تم سے چھپائی ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، اس خوف سے چھپائی ہے کہ تم سب مجھے چھوڑ کر نہ چلے جاؤ۔ پھر مجھے خیال آیا کہ میں بیان کرتا ہوں تاکہ ہر بندہ اختیار کرے اس کو جو اس کو اچھا لگے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”اللہ کے راستہ میں ایک دن کا پہرہ دوسرے مقام پر ہزار دن کے پہرے سے بہتر ہے۔“ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اسے حسن صحیح کہا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17888]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3564. -- باب: ما يفعله الإمام من الحصون والخنادق وكل أمر دفع العدو قبل انتيابه
-- باب: امام کے قلعے اور خندقیں بنانے اور دشمن کے حملے سے قبل اس کے دفاع کی خاطر کیے جانے والے تمام اقدامات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17889
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ إِمْلَاءً وَأَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي قِرَاءَةً، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، أنبأ الْقَعْنَبِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَحْفِرُ الْخَنْدَقَ وَنَنْقُلُ التُّرَابَ عَلَى أَكْتَافِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ، فَاغْفِرْ لِلْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ قُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ.
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، ہم خندق کھود رہے تھے اور مٹی کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر نکال رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«اَللّٰهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ، فَاغْفِرْ لِلْمُهَاجِرَةِ وَالْأَنْصَارِ» ”اے اللہ! نہیں ہے کوئی اچھی زندگی مگر آخرت کی بہتر زندگی، اے اللہ! بخش دے مہاجرین اور انصار کو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17889]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17890
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ حَوْلَ الْمَدِينَةِ وَيَنْقُلُونَ التُّرَابَ عَلَى مُتُونِهِمْ، وَيَقُولُونَ:.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مہاجرین و انصار مدینہ کے ارد گرد خندق کھود رہے تھے اور اپنی کمر پر مٹی اٹھا کر نکال رہے تھے اور وہ کہتے تھے: ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کی جب تک ہم زندہ رہیں گے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جواب دیتے تھے:
«اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَةِ، فَبَارِكْ فِي الْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَةِ» ”اے اللہ! کوئی بھلائی نہیں ہے مگر آخرت کی بھلائی، اے اللہ! انصار و مہاجرین میں برکت ڈال۔“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: انہیں دو مٹھی بھر جو دیے جاتے اور ان کا سالن بنایا جاتا تھا جو بدبودار ہوتا تھا اور وہ حلق میں اٹک جاتا تھا اور اس کی بو اچھی نہ تھی، وہی لوگوں کے سامنے رکھ دیا جاتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17890]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3565. -- باب: ما يجب على الإمام من الغزو بنفسه أو بسراياه في كل عام على حسن النظر للمسلمين حتى لا يكون الجهاد معطلا في عام إلا من عذر
-- باب: مسلمانوں کی مصلحت کے پیشِ نظر امام پر ہر سال خود یا اپنے لشکروں کے ذریعے جہاد کرنا واجب ہے تاکہ کسی عذر کے بغیر کسی سال بھی جہاد معطل نہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17891
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تَضَمَّنَ اللهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ لَا يَخْرُجُهُ إِلَّا إِيمَانًا بِهِ وَتَصْدِيقًا بِرَسُولِهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ يُرْجِعَهُ إِذَا رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ نَائِلًا مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي مَا تَخَلَّفْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَرِيرٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اس شخص کو ضمانت دیتا ہے جو اللہ کے راستہ میں نکلا، اللہ پر ایمان کی حالت میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرتا ہو اس بات کی کہ اس کو جنت میں داخل کرے گا یا اس کو واپس لائے گا، جب وہ واپس اپنے گھر کی طرف آئے گا تو وہ اجر اور غنیمت پانے والا ہوگا، مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر میری امت پر گراں نہ ہوتا تو میں کسی لڑائی میں پیچھے نہ رہتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17891]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں