السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3652. -- باب: الأرض إذا كانت صلحا رقابها لأهلها وعليها خراج يؤدونه فأخذها منهم مسلم بكراء
-- باب: وہ زمین جو صلح کے ذریعے حاصل ہو، اس کی ملکیت اس کے مالکان کی ہو اور ان پر خراج ہو جسے وہ ادا کرتے ہوں، پھر کوئی مسلمان اسے ان سے کرائے پر لے لے (تو اس کا حکم)۔
حدیث نمبر: 18396
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، وَحَجَّاجٌ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبٍ هُوَ ابْنُ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي أَكُونُ بِالسَّوَادِ فَأَتَقَبَّلُ وَلَا أُرِيدُ أَنْ أَزْدَادَ، إِنَّمَا أُرِيدُ أَنْ أَدْفَعَ عَنْ نَفْسِي، فَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: {قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ} [التوبة: ٢٩] إِلَى {حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ} [التوبة: ٢٩] عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ" لَا تَنْزِعِ الصَّغَارَ مِنْ أَعْنَاقِهِمْ فَتَجْعَلَهُ فِي عُنُقِكَ".
حبیب بن ابی ثابت فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، جب ایک شخص نے ان سے پوچھا اور کہا: ”میں سواد کا رہنے والا ہوں، میں (خراجی زمین) ٹھیکے پر لیتا ہوں لیکن زیادہ کمانے کا ارادہ نہیں رکھتا، صرف اپنا دفاع کرنا چاہتا ہوں۔“ تو انہوں نے یہ آیت پڑھی: ﴿قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ﴾ [سورة التوبة: 29] ”تم ان لوگوں سے لڑائی کرو جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے“ سے لے کر ”یہاں تک کہ وہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں“ تک، اور فرمایا: ”ان کی گردنوں سے ذلت اتار کر اپنی گردن میں مت ڈالو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18396]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18397
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ⦗٢٣٦⦘ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ إِذَا سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ يَأْخُذُ الْأَرْضَ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ بِمَا عَلَيْهَا مِنَ الْخَرَاجِ يَقُولُ:" لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَوْ لَا يَنْبَغِي لِمُسْلِمٍ أَنْ يَكْتُبَ عَلَى نَفْسِهِ الذُّلَّ وَالصَّغَارَ".
نافع، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جو ذمی آدمی سے زمین خرید لیتا ہے کہ کیا اس کے ذمہ جزیہ ہے؟ تو وہ فرماتے ہیں: کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے اوپر اس ذلت کو مسلط کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18397]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18398
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ مَيْمُونَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:" مَا يَسُرُّنِي أَنَّ الْأَرْضَ كُلَّهَا لِي بِجِزْيَةٍ خَمْسَةِ دَرَاهِمَ أُقِرُّ فِيهَا بِالصَّغَارِ عَلَى نَفْسِي".
میمون بن مہران حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ مجھے اچھا نہیں لگتا کہ جزیہ کی تمام زمین مجھے پانچ درہم کے بدلے ملے کہ میں اپنے آپ کو اس ذلت میں برقرار رکھوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18398]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 18399
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ قَالَ:" مَنْ أَقَرَّ بِالطَّسْقِ فَقَدْ أَقَرَّ بِالصَّغَارِ".
قاسم حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ: ”جس نے ٹیکس کا اقرار کیا تو اس نے ذلت کا اقرار کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18399]
3653. -- باب: من كره شراء أرض الخراج
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے خراجی زمین خریدنے کو ناپسند کیا ہے۔
حدیث نمبر: 18400
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سُفْيَانَ الْعُقَيْلِيِّ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" لَا تَشْتَرُوا رَقِيقَ أَهْلِ الذِّمَّةِ فَإِنَّهُمْ أَهْلُ خَرَاجٍ يُؤَدِّي بَعْضُهُمْ عَنْ بَعْضٍ، وَأَرْضِيهِمْ فَلَا تَبْتَاعُوهَا، وَلَا يُقِرَّنَّ أَحَدُكُمْ بِالصَّغَارِ بَعْدَ إِذْ نَجَّاهُ اللهُ مِنْهُ". قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: أَرَادَ فِيمَا نَرَى أَنَّهُ إِذَا كَانَتْ لَهُ مَمَالِيكُ وَأَرْضٌ وَأَمْوَالٌ ظَاهِرَةٌ كَانَتْ أَكْثَرَ لِجِزْيَتِهِ، وَكَانَتْ سُنَّةُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِيهِمْ إِنَّمَا كَانَتْ يَضَعُ الْجِزْيَةَ عَلَى قَدْرِ الْيَسَارِ وَالْعُسْرِ، فَلِهَذَا كَرِهَ أَنْ يُشْتَرَى رَقِيقُهُمْ، وَأَمَّا شِرَاءُ الْأَرْضِ فَإِنَّهُ ذَهَبَ فِيهِ إِلَى الْخَرَاجِ كَرِهَ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، أَلَا تَرَاهُ يَقُولُ: وَلَا يُقِرَّنَّ أَحَدُكُمْ بِالصَّغَارِ بَعْدَ إِذْ نَجَّاهُ اللهُ مِنْهُ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَقَدْ رَخَّصَ فِي ذَلِكَ بَعْدَ عُمَرَ رِجَالٌ مِنْ أَكَابِرِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَكَانَتْ لَهُ أَرْضٌ بِرَاذَانَ، وَخَبَّابُ بْنُ الْأَرَتِّ وَغَيْرُهُمَا.
ابو عیاض حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ تم ذمی شخص سے غلام نہ خریدو، کیونکہ وہ جزیہ دینے والے لوگ ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے ادا کرتے ہیں اور ان کی زمینیں بھی نہ خریدو اور تم میں سے کوئی اپنے آپ کو ذلت میں کیوں ڈالتا ہے جب اللہ رب العزت نے اس کو نجات دے دی ہے۔
ابو عبید فرماتے ہیں: ہمارے خیال میں ان کی مراد یہ تھی کہ جب ذمی کے پاس غلام، زمین اور ظاہری مال ہوں تو اس کا جزیہ زیادہ ہوتا ہے، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا طریقہ یہ تھا کہ وہ ان پر آسانی اور تنگی کے حساب سے جزیہ مقرر کرتے تھے۔ اس وجہ سے انہوں نے ان کے غلاموں کو خریدنا ناپسند کیا، اور زمین کے خریدنے میں ان کی نظر خراج پر تھی، انہوں نے ناپسند کیا کہ یہ خراج مسلمانوں پر ہو۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ وہ فرماتے ہیں: تم میں سے کوئی اپنے آپ کو ذلت میں نہ ڈالے جب کہ اللہ نے اس کو نجات دے دی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بعد کبارِ صحابہ، جن میں حضرت عبداللہ بن مسعود، جن کی زمین راذان میں تھی، اور خباب بن ارت رضی اللہ عنہما وغیرہ شامل ہیں، انہوں نے اس بارے میں رخصت دی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18400]
ابو عبید فرماتے ہیں: ہمارے خیال میں ان کی مراد یہ تھی کہ جب ذمی کے پاس غلام، زمین اور ظاہری مال ہوں تو اس کا جزیہ زیادہ ہوتا ہے، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا طریقہ یہ تھا کہ وہ ان پر آسانی اور تنگی کے حساب سے جزیہ مقرر کرتے تھے۔ اس وجہ سے انہوں نے ان کے غلاموں کو خریدنا ناپسند کیا، اور زمین کے خریدنے میں ان کی نظر خراج پر تھی، انہوں نے ناپسند کیا کہ یہ خراج مسلمانوں پر ہو۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ وہ فرماتے ہیں: تم میں سے کوئی اپنے آپ کو ذلت میں نہ ڈالے جب کہ اللہ نے اس کو نجات دے دی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بعد کبارِ صحابہ، جن میں حضرت عبداللہ بن مسعود، جن کی زمین راذان میں تھی، اور خباب بن ارت رضی اللہ عنہما وغیرہ شامل ہیں، انہوں نے اس بارے میں رخصت دی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18400]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18401
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا عُبَيْدٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَشْتَرِيَ مِنْ أَرْضِ الْخَرَاجِ شَيْئًا، وَيَقُولُ: عَلَيْهَا خَرَاجُ الْمُسْلِمِينَ".
قتادہ رحمہ اللہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ جزیہ کی زمین میں سے کچھ بھی خریدنے کو ناپسند کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ مسلمانوں کا جزیہ ان کے ذمہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18401]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18402
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ كُلَيْبِ بْنِ وَائِلٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: اشْتَرَيْتُ أَرْضًا. قَالَ: الشِّرَاءُ حَسَنٌ. قَالَ: قُلْتُ: فَإِنِّي أُعْطِي مِنْ كُلِّ جَرِيبِ أَرْضٍ دِرْهَمًا وَقَفِيزًا مِنْ طَعَامٍ. قَالَ: وَلَا تَجْعَلْ فِي عُنُقِكَ صَغَارًا.
کلیب بن وائل فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: میں نے زمین خریدی ہے، تو انہوں نے فرمایا: زمین خریدنا اچھا ہے۔ کہتے ہیں: میں نے کہا کہ میں ہر زمین کی کھیتی کے عوض ایک درہم اور ایک کھانے کا قفیز (پیمانہ) ادا کرتا ہوں، تو انہوں نے کہا کہ ذلت کو اپنے گلے میں نہ ڈالو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18402]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
3654. -- باب: من رخص في شراء أرض الخراج
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے خراجی زمین خریدنے کی اجازت دی ہے۔
حدیث نمبر: 18403
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: اشْتَرَى عَبْدُ اللهِ أَرْضًا مِنْ أَرْضِ الْخَرَاجِ قَالَ: فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهَا يَعْنِي دُهْقَانَهَا: أَنَا أَكْفِيكَ إِعْطَاءَ خَرَاجِهَا وَالْقِيَامَ عَلَيْهَا.
قاسم بن عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جزیے والی زمین خریدی تو اس زمین کے مالک یعنی اس کے دہقان نے ان سے یہ بات کہی کہ میں آپ کی جانب سے جزیہ ادا کروں گا اور زمین کی دیکھ بھال بھی کروں گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18403]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18404
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا حَفْصٌ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: اشْتَرَى عَبْدُ اللهِ أَرْضَ الْخَرَاجِ مِنْ دُهْقَانٍ وَعَلَى أَنْ يَكْفِيَهُ خَرَاجَهَا.
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ایک دہقان (زمیندار) سے جزیہ کی زمین خریدی اور شرط رکھی کہ وہ اس کا جزیہ ادا کرتے رہیں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18404]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18405
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، حَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: اشْتَرَى الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مِلْحَةً أَوْ مِلْحًا، وَاشْتَرَى الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَرِيدَيْنِ مِنْ أَرْضِ الْخَرَاجِ وَقَالَ: قَدْ رَدَّ إِلَيْهِمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرْضَهُمْ وَصَالَحَهُمْ عَلَى الْخَرَاجِ الَّذِي وَضَعَهُ عَلَيْهِمْ.
ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے نمک کی زمین خریدی اور حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے خراج والی زمین میں سے دو برید (مسافت کا پیمانہ) زمین خریدی، راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے زمین واپس کر دی اور جزیہ پر صلح کر لی جو انہوں نے ان پر مقرر کیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18405]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف