السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3658. -- باب: الأسير يؤمن فلا يكون له أن يغتالهم في أموالهم وأنفسهم
-- باب: قیدی کو جب امان دے دی جائے تو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ ان (دشمنوں) کی جانوں اور مالوں کے حوالے سے دھوکہ دہی کرے۔
حدیث نمبر: 18424
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ، خَرَجَتْ سَرِيَّةٌ فَأَخَذُوا إِنْسَانًا مَعَهُ غَنَمٌ يَرْعَاهَا فَجَاؤُوا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يُكَلِّمَهُ بِهِ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: إِنِّي قَدْ آمَنْتُ بِكَ وَبِمَا جِئْتَ بِهِ فَكَيْفَ بِالْغَنَمِ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَإِنَّهَا أَمَانَةٌ وَهِيَ لِلنَّاسِ الشَّاةُ وَالشَّاتَانِ وَأَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ:" احْصِبْ وُجُوهَهَا تَرْجِعْ إِلَى أَهْلِهَا". فَأَخَذَ قَبْضَةً مِنْ حَصْبَاءَ أَوْ تُرَابٍ فَرَمَى بِهِ وَجُوهِهَا فَخَرَجَتْ تَشْتَدُّ حَتَّى دَخَلَتْ كُلُّ شَاةٍ إِلَى أَهْلِهَا، ثُمَّ تَقَدَّمَ إِلَى الصَّفِّ فَأَصَابَهُ سَهْمٌ فَقَتَلَهُ وَلَمْ يُصَلِّ لِلَّهِ سَجْدَةً قَطُّ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَدْخِلُوهُ الْخِبَاءَ"، فَأُدْخِلَ خِبَاءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا فَرَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهِ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ:" لَقَدْ حَسُنَ إِسْلَامُ صَاحِبِكُمْ، لَقَدْ دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَإِنَّ عِنْدَهُ لَزَوْجَتَيْنِ لَهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ". لَمْ أَكْتُبْهُ مَوْصُولًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ، وَقَدْ تَكَلَّمُوا فِيهِ. ورُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِيهِ مُرْسَلًا، وَرُوِي عَنْ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ فِيهِ قِصَّةٌ شَبِيهَةٌ بِهَذِهِ، إِلَّا أَنَّهَا بِإِسْنَادٍ مُرْسَلٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ غزوہ خیبر میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ایک چھوٹا لشکر نکلا، انہوں نے ایک انسان کو پکڑا جو بکریاں چرا رہا تھا۔ اسے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بات چیت کی جو اللہ نے چاہا تو اس شخص نے کہا: میں آپ پر اور جو آپ لے کر آئے ہیں اس پر ایمان رکھتا ہوں، اے اللہ کے رسول! بکریوں کا کیا بنے گا؟ کیونکہ یہ امانت ہے کسی کی ایک اور دو یا اس سے بھی زائد ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ان کے چہروں پر کنکریاں پھینک یہ بکریاں اپنے گھر والوں کے پاس واپس چلی جائیں گی۔“ اس نے کنکریوں یا مٹی کی ایک مٹھی لی اور ان بکریوں کی طرف پھینکی تو وہ بھاگتی ہوئی ہر بکری اپنے مالکوں کے پاس پہنچ گئی۔ پھر یہ شخص مجاہدین کی صف میں کھڑا ہوا تو ایک تیر لگنے کی وجہ سے یہ ہلاک ہوگیا اور اس نے اللہ کے لیے ایک سجدہ بھی نہ کیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کو خیمے میں داخل کر دو“ تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے میں داخل کردیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے اس کے پاس آئے، پھر نکلے تو فرمایا: ”تمہارے ساتھی کا اسلام اچھا تھا، میں اس کے پاس گیا تو اس کی دو بیویاں حور العین سے اس کے پاس موجود تھیں۔“
میں نے اسے موصول (متصل سند کے ساتھ) صرف شرحبیل بن سعد کی روایت سے لکھا ہے، اور محدثین نے ان پر کلام کیا ہے۔ یہ محمد بن اسحاق بن یسار سے ان کے والد کے واسطے سے مرسل بھی مروی ہے، اور ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسا ایک قصہ مروی ہے، مگر وہ مرسل سند سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18424]
میں نے اسے موصول (متصل سند کے ساتھ) صرف شرحبیل بن سعد کی روایت سے لکھا ہے، اور محدثین نے ان پر کلام کیا ہے۔ یہ محمد بن اسحاق بن یسار سے ان کے والد کے واسطے سے مرسل بھی مروی ہے، اور ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسا ایک قصہ مروی ہے، مگر وہ مرسل سند سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18424]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18425
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، قَالَ: خَرَجَ أَبُو الْعَاصِ بْنُ الرَّبِيعِ تَاجِرًا إِلَى الشَّامِ وَكَانَ رَجُلًا مَأْمُونًا، وَكَانَتْ مَعَهُ بَضَائِعُ لِقُرَيْشٍ فَأَقْبَلَ قَافِلًا، فَلَقِيَهُ سَرِيَّةٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَاقُوا عِيرَهُ ⦗٢٤٢⦘ وَأَفْلَتَ، وَقَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا أَصَابُوا فَقَسَمَهُ بَيْنَهُمْ، وَأَتَى أَبُو الْعَاصِ حَتَّى دَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَاسْتَجَارَ بِهَا، وَسَأَلَهَا أَنْ تَطْلُبَ لَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّ مَالِهِ عَلَيْهِ وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّرِيَّةَ فَسَأَلَهُمْ، فَرَدُّوا عَلَيْهِ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ فَأَدَّى عَلَى النَّاسِ مَا كَانَ مَعَهُ مِنْ بَضَائِعِهِمْ، حَتَّى إِذَا فَرَغَ قَالَ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ هَلْ بَقِيَ لِأَحَدٍ مِنْكُمْ مَعِي مَالٌ لَمْ أَرُدَّهُ عَلَيْهِ؟ قَالُوا: لَا، فَجَزَاكَ اللهُ خَيْرًا قَدْ وَجَدْنَاكَ وَفِيًّا كَرِيمًا. فَقَالَ: أَمَا وَاللهِ مَا مَنَعَنِي أَنْ أُسْلِمَ قَبْلَ أَنْ أَقْدَمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا تَخَوُّفًا أَنْ تَظُنُّوا أَنِّي إِنَّمَا أَسْلَمْتُ لِأَذْهَبَ بِأَمْوَالِكُمْ، فَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ: فِي الْمُسْلِمِ إِذَا أُسِرَ وَلَمْ يُؤَمِّنُوهُ وَلَمْ يَأْخُذُوا عَلَيْهِ أَنَّهُمْ آمِنُونَ مِنْهُ فَلَهُ أَخْذُ مَا قَدَرَ عَلَيْهِ مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَإِفْسَادُهُ وَالْهَرَبُ مِنْهُمْ قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رَوَيْنَا حَدِيثَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْمَرْأَةِ الْمُسْلِمَةِ الَّتِي أَخَذَتِ النَّاقَةَ وَهَرَبَتْ عَلَيْهَا.
عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم فرماتے ہیں کہ ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ شام کی جانب تجارت کی غرض سے نکلے اور یہ ایک امانت دار شخص تھے۔ ان کے پاس قریش کا مال بھی تھا۔ جب قافلہ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر نے اس قافلے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر دیا اور مال آپس میں تقسیم کر لیا۔ ابو العاص رضی اللہ عنہ نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس آ کر پناہ طلب کی اور ان سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے مال اور لوگوں کے مال کو واپس کرنے کا مطالبہ کریں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سریے والوں کو بلا کر پوچھا تو انہوں نے مال واپس کر دیا۔ ابو العاص رضی اللہ عنہ نے مکہ آ کر لوگوں کے مال واپس کر دیے۔ فارغ ہونے کے بعد کہنے لگے: ”اے قریش کے گروہ! کیا کسی کا مال ہے کہ میں نے واپس نہ کیا ہو؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ ہم نے تجھے معزز ادا کرنے والا پایا ہے۔“ پھر کہا: ”میں نے اسلام صرف اس ڈر سے نہ قبول کیا کہ کہیں تم یہ نہ کہو کہ ہمارے مال ہڑپ کرنا چاہتا تھا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ مسلم کے بارے میں فرماتے ہیں: جب قیدی بنایا جائے اور امان بھی نہ دی ہو اور وعدہ بھی نہ لیا ہو تو وہ ان کے مال کو حسبِ قدرت لے سکتا ہے، خراب کرے یا لے کر بھاگ جائے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث روایت کی ہے جو اس مسلمان عورت کے بارے میں ہے جو اونٹنی لے کر اس پر بھاگ نکلی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18425]
امام شافعی رحمہ اللہ مسلم کے بارے میں فرماتے ہیں: جب قیدی بنایا جائے اور امان بھی نہ دی ہو اور وعدہ بھی نہ لیا ہو تو وہ ان کے مال کو حسبِ قدرت لے سکتا ہے، خراب کرے یا لے کر بھاگ جائے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث روایت کی ہے جو اس مسلمان عورت کے بارے میں ہے جو اونٹنی لے کر اس پر بھاگ نکلی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18425]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3659. -- باب: الأسير يستعين به المشركون على قتال المشركين
-- باب: اس قیدی کا بیان جس سے مشرکین، دیگر مشرکین کے خلاف جنگ میں مدد لیں۔
حدیث نمبر: Q18426
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَدْ قِيلَ يُقَاتِلُهُمْ، قَدْ قَاتَلَ الزُّبَيْرُ وَأَصْحَابٌ لَهُ بِبِلَادِ الْحَبَشَةِ مُشْرِكِينَ عَنْ مُشْرِكِينَ، وَلَوْ قَالَ قَائِلٌ: يَمْتَنِعُ عَنْ قِتَالِهِمْ لِمَعَانٍ ذَكَرَهَا الشَّافِعِيُّ كَانَ مَذْهَبًا، وَلَا نَعْلَمُ خَبَرَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَثْبُتُ، وَلَوْ ثَبَتَ كَانَ النَّجَاشِيُّ مُسْلِمًا كَانَ آمَنَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ..
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کہا گیا ہے کہ وہ ان سے لڑے گا، (کیونکہ) سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور ان کے کچھ ساتھیوں نے حبشہ کے علاقے میں مشرکین کی طرف سے (دوسرے) مشرکین سے جنگ کی تھی، اور اگر کوئی کہنے والا یہ کہے کہ وہ ان وجوہات کی بنا پر ان کے ساتھ لڑنے سے باز رہے گا جو امام شافعی رحمہ اللہ نے ذکر کی ہیں تو یہ بھی ایک مذہب ہے، اور ہم نہیں جانتے کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ والی خبر ثابت ہے، اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو نجاشی مسلمان تھے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا چکے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھی تھی۔“... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: Q18426]
حدیث نمبر: 18426
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: لَمَّا ضَاقَتْ عَلَيْنَا مَكَّةُ فَذَكَرَتِ الْحَدِيثَ فِي هِجْرَتِهِمْ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ وَمَا كَانَ مِنْ بِعْثَةِ قُرَيْشٍ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ وَعَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ إِلَى النَّجَاشِيِّ لِيُخْرِجَهُمْ مِنْ بِلَادِهِ وَيَرُدَّهُمْ عَلَيْهِمْ، وَمَا كَانَ مِنْ دُخُولِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَأَصْحَابِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ عَلَى النَّجَاشِيِّ قَالَ: فَقَالَ النَّجَاشِيُّ: هَلْ مَعَكُمْ شَيْءٌ مِمَّا جَاءَ بِهِ؟ فَقَالَ لَهُ جَعْفَرٌ: نَعَمْ. فَقَرَأَ عَلَيْهِ صَدْرًا مِنْ كهيعص فَبَكَى وَاللهِ النَّجَاشِيُّ حَتَّى أَخْضَلَ لِحْيَتَهُ، وَبَكَتْ أَسَاقِفَتُهُ حَتَّى أَخْضَلُوا مَضَاجِعَهُمْ، ⦗٢٤٣⦘ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ هَذَا الْكَلَامَ لَيَخْرُجُ مِنَ الْمِشْكَاةِ الَّتِي جَاءَ بِهِ مُوسَى، انْطَلِقُوا رَاشِدِينَ. ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي تَصْوِيرِهِمَا لَهُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ فِي عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنَّهُ عَبْدٌ، فَدَخَلُوا عَلَيْهِ وَعِنْدَهُ بَطَارِقَتُهُ فَقَالَ: مَا تَقُولُونَ فِي عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ؟ فَقَالَ لَهُ جَعْفَرٌ: نَقُولُ: هُوَ عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ وَكَلِمَتُهُ وَرُوحُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ الْعَذْرَاءِ الْبَتُولِ. فَدَلَّى النَّجَاشِيُّ يَدَهُ إِلَى الْأَرْضِ فَأَخَذَ عُوَيْدًا بَيْنَ أُصْبُعَيْهِ فَقَالَ: مَا عَدَا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ مَا قُلْتَ هَذَا الْعُوَيْدَ. ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَتْ: فَلَمْ يَنْشَبْ أَنْ خَرَجَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنَ الْحَبَشَةِ يُنَازِعُهُ فِي مُلْكِهِ، فَوَاللهِ مَا عَلِمْتُنَا حَزِنَّا حُزْنًا قَطُّ كَانَ أَشَدَّ مِنْهُ فَرَقًا مِنْ أَنْ يَظْهَرَ ذَلِكَ الْمَلِكُ عَلَيْهِ فَيَأْتِي مَلِكٌ لَا يَعْرِفُ مِنْ حَقِّنَا مَا كَانَ يَعْرِفُ، فَجَعَلْنَا نَدْعُو اللهَ وَنَسْتَنْصِرُهُ لِلنَّجَاشِيِّ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ سَائِرًا فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: مَنْ رَجُلٌ يَخْرُجُ فَيَحْضُرُ الْوَقْعَةَ حَتَّى يَنْظُرَ عَلَى مَنْ تَكُونُ؟ فَقَالَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَكَانَ مِنْ أَحْدَثِهِمْ سِنًّا: أَنَا. فَنَفَخُوا لَهُ قِرْبَةً فَجَعَلَهَا فِي صَدْرِهِ، ثُمَّ خَرَجَ يَسْبَحُ عَلَيْهَا فِي النِّيلِ حَتَّى خَرَجَ مِنَ الشِّقَّةِ الْأُخْرَى إِلَى حَيْثُ الْتَقَى النَّاسُ، فَحَضَرَ الْوَقْعَةَ وَهَزَمَ اللهُ ذَلِكَ الْمَلِكَ وَقَتْلَهُ وَظَهَرَ النَّجَاشِيُّ عَلَيْهِ، فَجَاءَنَا الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَجَعَلَ يُلِيحُ إِلَيْنَا بِرِدَائِهِ وَيَقُولُ: أَلَا أَبْشِرُوا فَقَدْ أَظْهَرَ اللهُ النَّجَاشِيَّ، فَوَاللهِ مَا فَرِحْنَا بِشَيْءٍ فَرَحَنَا بِظُهُورِ النَّجَاشِيِّ.
ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام، سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ جب مکہ کی زمین ہمارے اوپر تنگ ہو گئی، پھر انھوں نے اپنی ہجرتِ حبشہ کا قصہ ذکر کیا اور قریش کا عمرو بن عاص اور عبداللہ بن ابی ربیعہ کو نجاشی کے پاس روانہ کرنا تاکہ وہ مسلمانوں کو اپنے ملک سے نکال دے اور ان کے پاس واپس کر دے اور سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور دیگر ساتھی نجاشی کے پاس گئے تو نجاشی نے پوچھا: وہ نبی جو کچھ لے کر آئے ہیں کیا اس میں سے کچھ تمہارے پاس ہے؟ تو سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں، اور سورہ مریم کی ابتدائی آیات پڑھ کر سنائیں تو نجاشی کی روتے روتے داڑھی تر ہوگئی اور ان کے پادریوں کے روتے ہوئے مصاحف بھی تر ہوگئے۔ اس نے کہا کہ یہ کلام تو وہیں سے آتا ہے جس طرح سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تھا۔ تم ہدایت یافتہ ہو کر چلو۔ پھر انہوں نے ان دونوں (قریشی قاصدوں) کی وہ بات ذکر کی جو انہوں نے نجاشی کے سامنے پیش کی کہ یہ لوگ سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو بندہ کہتے ہیں۔ چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نجاشی کے پاس آئے جبکہ اس کے پاس اس کے سردار (بطارقہ) موجود تھے، تو اس نے پوچھا: تم سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ تو سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم کہتے ہیں کہ وہ اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور اس کا کلمہ اور اس کی روح ہیں، جسے اللہ نے کنواری پاکدامن سیدتنا مریم رضی اللہ عنہا کی طرف ڈالا، تو نجاشی نے اپنا ہاتھ زمین کی طرف بڑھا کر اپنی دو انگلیوں کے درمیان ایک تنکا پکڑا اور کہا: جو تم نے کہا ہے، سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اس سے اس تنکے کے برابر بھی بڑھ کر نہ تھے۔ پھر اس نے حدیث ذکر کی۔ سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ حبشہ کا ایک شخص اس کی بادشاہت کے بارے میں جھگڑا کرتے ہوئے اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔ اللہ کی قسم! ہمیں اس سے زیادہ سخت غم کبھی نہیں ہوا، اس ڈر سے کہ کہیں وہ دوسرا بادشاہ اس پر غلبہ حاصل نہ کرلے اور ایسا بادشاہ آجائے جو ہمارے حقوق کو نہ جانتا ہو جن کو یہ جانتا ہے۔ ہم نے اللہ سے دعا کی اور نجاشی کے لیے مدد طلب کر رہے تھے۔ نجاشی اس کے مقابلے کے لیے نکلا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک دوسرے سے کہنے لگے: کون اس واقعہ میں حاضر ہو کر دیکھے گا کہ کیا بنتا ہے؟ تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے حامی بھری۔ یہ ابھی نوجوان تھے۔ انھوں نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے لیے ایک مشکیزے میں ہوا بھر دی، جسے انہوں نے اپنے سینے کے نیچے رکھا اور اس پر تیر کر انھوں نے دریائے نیل کو عبور کرلیا اور دوسری جانب جا پہنچے جہاں لڑائی ہو رہی تھی۔ جنگ ہوئی تو اللہ نے اس بادشاہ کو شکست دی اور وہ مارا گیا۔ نجاشی کو فتح نصیب ہوئی تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے چادر ہلا کر ہمیں اطلاع دی۔ وہ کہہ رہے تھے کہ اللہ نے نجاشی کو فتح نصیب فرمائی ہے، تو ہمیں نجاشی کی فتح کی بڑی خوشی ہوئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18426]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3660. -- باب: الأسير يؤخذ عليه أن يبعث إليهم بفداء ويعود في إسارهم
-- باب: قیدی سے اس شرط پر عہد لینے کا بیان کہ وہ انہیں فدیہ بھیجے گا اور دوبارہ ان کی قید میں لوٹ آئے گا۔
حدیث نمبر: Q18427
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: رُوِيَ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ: يَعُودُ فِي إِسَارِهِمْ إِنْ لَمْ يُعْطِهِمُ الْمَالَ. قَالَ: وَمَنْ ذَهَبَ مَذْهَبَ الْأَوْزَاعِيِّ وَمَنْ قَالَ بِقَوْلِهِ فَإِنَّمَا يَحْتَجُّ فِيمَا أَرَاهُ بِمَا رُوِيَ عَنْ بَعْضِهِمْ أَنَّهُ رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَالَحَ أَهْلَ الْحُدَيْبِيَةِ أَنْ يَرُدَّ مَنْ جَاءَهُ مِنْهُمْ بَعْدَ الصُّلْحِ مُسْلِمًا، فَجَاءَهُ أَبُو جَنْدَلٍ فَرَدَّهُ إِلَى أَبِيهِ، وَأَبُو بَصِيرٍ فَرَدَّهُ فَقَتَلَ أَبُو بَصِيرٍ الْمَرْدُودَ مَعَهُ، ثُمَّ جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: قَدْ وَفَّيْتُ لَهُمْ وَنَجَّانِي اللهُ مِنْهُمْ، فَلَمْ يَرُدَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَتَرَكَهُ، فَكَانَ بِطَرِيقِ الشَّامِ يَقْطَعُ عَلَى كُلِّ مَالٍ لِقُرَيْشٍ حَتَّى سَأَلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَضُمَّهُ إِلَيْهِ لِمَا نَالَهُمْ مِنْ أَذَاهُ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَهَذَا حَدِيثٌ قَدْ رَوَاهُ بَعْضُ أَهْلِ الْمَغَازِي كَمَا وَصَفْتُ، وَلَا يَحْضُرُنِي ذِكْرُ إِسْنَادِهِ..
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”امام اوزاعی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ: ’اگر وہ انہیں مال نہ دے تو ان کی قید میں واپس لوٹ جائے۔‘“
انہوں نے (مزید) فرمایا: ”اور جو شخص امام اوزاعی رحمہ اللہ کا مذہب اختیار کرے اور جو ان کے قول کا قائل ہو، تو میرے خیال میں وہ صرف اس روایت سے استدلال کرتا ہے جو ان میں سے بعض سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل حدیبیہ سے اس بات پر صلح کی تھی کہ صلح کے بعد ان میں سے جو شخص مسلمان ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے گا آپ اسے واپس لوٹا دیں گے، چنانچہ سیدنا ابو جندل رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے والد کی طرف لوٹا دیا، اور سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (بھی) لوٹا دیا، پھر ابو بصیر نے اس شخص کو قتل کر دیا جس کے ساتھ انہیں واپس بھیجا گیا تھا، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: ’میں نے ان کے ساتھ (عہد) پورا کر دیا اور اللہ نے مجھے ان سے نجات دے دی۔‘ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں واپس نہیں لوٹایا اور نہ اس پر ان کی سرزنش کی، بلکہ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا، چنانچہ وہ شام کے راستے پر (رہ کر) قریش کے ہر مال (تجارتی قافلے) پر حملہ کرتے رہے، یہاں تک کہ قریش نے ان کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے پاس بلا لیں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور یہ حدیث بعض اہل مغازی (سیرت نگاروں) نے اسی طرح روایت کی ہے جیسے میں نے بیان کی ہے، اور اس کی سند کا ذکر اس وقت مجھے یاد نہیں۔“... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: Q18427]
انہوں نے (مزید) فرمایا: ”اور جو شخص امام اوزاعی رحمہ اللہ کا مذہب اختیار کرے اور جو ان کے قول کا قائل ہو، تو میرے خیال میں وہ صرف اس روایت سے استدلال کرتا ہے جو ان میں سے بعض سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل حدیبیہ سے اس بات پر صلح کی تھی کہ صلح کے بعد ان میں سے جو شخص مسلمان ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے گا آپ اسے واپس لوٹا دیں گے، چنانچہ سیدنا ابو جندل رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے والد کی طرف لوٹا دیا، اور سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (بھی) لوٹا دیا، پھر ابو بصیر نے اس شخص کو قتل کر دیا جس کے ساتھ انہیں واپس بھیجا گیا تھا، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: ’میں نے ان کے ساتھ (عہد) پورا کر دیا اور اللہ نے مجھے ان سے نجات دے دی۔‘ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں واپس نہیں لوٹایا اور نہ اس پر ان کی سرزنش کی، بلکہ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا، چنانچہ وہ شام کے راستے پر (رہ کر) قریش کے ہر مال (تجارتی قافلے) پر حملہ کرتے رہے، یہاں تک کہ قریش نے ان کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے پاس بلا لیں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور یہ حدیث بعض اہل مغازی (سیرت نگاروں) نے اسی طرح روایت کی ہے جیسے میں نے بیان کی ہے، اور اس کی سند کا ذکر اس وقت مجھے یاد نہیں۔“... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: Q18427]
حدیث نمبر: 18427
قَالَ الشَّيْخُ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، فَذَكَرَ حَدِيثَ صُلْحِ الْحُدَيْبِيَةِ، وَذَكَرَ فِيهِ قِصَّةَ أَبِي جَنْدَلٍ وَأَبِي بَصِيرٍ بِنَحْوٍ مِنْ هَذَا وَأَتَمَّ مِنْهُ ⦗٢٤٤⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَإِنَّمَا رَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا جَنْدَلٍ إِلَيْهِمْ؛ لَأَنَّهُ كَانَ لَا يَخَافُ عَلَيْهِ فِي الرَّدِّ لِمَكَانِ أَبِيهِ، وَكَذَلِكَ أَشَارَ عَلَى أَبِي بَصِيرٍ بِالرُّجُوعِ إِلَيْهِمْ فِي الِابْتِدَاءِ لِذَلِكَ وَاللهُ أَعْلَمُ وَسَيَرِدُ كَلَامُ الشَّافِعِيِّ إِنْ شَاءَ اللهُ عَلَيْهِ فِي كِتَابِ الْجِزْيَةِ.
مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم رضی اللہ عنہما نے صلحِ حدیبیہ کی حدیث ذکر کی، اس میں ابو جندل رضی اللہ عنہ اور ابو بصیر رضی اللہ عنہ کا واقعہ ذکر کیا اور وہ اس سے زیادہ مکمل بھی ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو جندل رضی اللہ عنہ کو صرف اس لیے واپس فرمایا کہ ان کے والد کے مقام کی وجہ سے واپس کرنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے بارے میں کوئی خطرہ نہ تھا، اور اسی وجہ سے ابتدا میں ابو بصیر رضی اللہ عنہ کو بھی واپس جانے کا مشورہ دیا تھا، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18427]
شیخ فرماتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو جندل رضی اللہ عنہ کو صرف اس لیے واپس فرمایا کہ ان کے والد کے مقام کی وجہ سے واپس کرنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے بارے میں کوئی خطرہ نہ تھا، اور اسی وجہ سے ابتدا میں ابو بصیر رضی اللہ عنہ کو بھی واپس جانے کا مشورہ دیا تھا، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18427]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ٢٨٣٤٢»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18428
وَفِي مِثْلِ هَذَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو صَادِقٍ الْعَطَّارُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا رَافِعٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ أَقْبَلَ بِكِتَابٍ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَلَمَّا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُلْقِيَ فِي قَلْبِي الْإِسْلَامُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي وَاللهِ لَا أَرْجِعُ إِلَيْهِ أَبَدًا. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَا أَخِيسُ بِالْعَهْدِ، وَلَا أَحْبِسُ الْبُرُدَ وَلَكِنِ ارْجِعْ فَإِنْ كَانَ فِي قَلْبِكَ الَّذِي فِي قَلْبِكَ الْآنَ فَارْجِعْ". قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَيْهِمْ ثُمَّ أَقْبَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمْتُ قَالَ بُكَيْرٌ: وَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَبَا رَافِعٍ كَانَ قِبْطِيًّا.
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قریش کا خط نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ راوی کہتے ہیں: جب میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام پختہ ہو گیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں واپس نہ جاؤں گا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إِنِّي لَا أَخِيسُ بِالْعَهْدِ، وَلَا أَحْبِسُ الْبُرُدَ» ”میں عہد کو نہیں توڑتا اور نہ ہی قاصد کو روکتا ہوں۔ جاؤ! اگر آپ کے دل میں یہی بات ہے تو واپس پلٹ آنا۔“ کہتے ہیں: میں واپس چلا گیا اور واپس آ کر مسلمان ہو گیا اور سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ قبطی آدمی تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18428]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18429
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ، ثنا أَبُو الطُّفَيْلِ، ثنا حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: مَا مَنَعَنِي أَنْ أَشْهَدَ بَدْرًا إِلَّا أَنِّي خَرَجْتُ أَنَا وَأَبِي حُسَيْلٍ. قَالَ: فَأَخَذَنَا كُفَّارُ قُرَيْشٍ فَقَالُوا: إِنَّكُمْ تُرِيدُونَ مُحَمَّدًا، فَقُلْنَا: مَا نُرِيدُهُ مَا نُرِيدُ إِلَّا الْمَدِينَةَ فَأَخَذُوا عَلَيْنَا عَهْدَ اللهِ وَمِيثَاقَهُ لَنَنْصَرِفَنَّ إِلَى الْمَدِينَةِ وَلَا نُقَاتِلُ مَعَهُ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْنَاهُ الْخَبَرَ فَقَالَ:" انْصَرِفَا، نَفِي لَهُمْ بِعَهْدِهِمْ، وَنَسْتَعِينُ بِاللهِ عَلَيْهِمْ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَذَا لِأَنَّهُ لَمْ يُؤَدِّ انْصِرَافُهُمَا إِلَى تَرْكِ فَرْضٍ إِذْ لَمْ يَكُنْ خُرُوجُهُمَا وَاجِبًا عَلَيْهِمَا، وَلَا إِلَى ارْتِكَابِ مَحْظُورٍ، وَالْعَوْدُ إِلَيْهِمْ وَالْإِقَامَةُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ مِمَّا لَا يَجُوزُ إِذَا كَانَ يَخَافُ الْفِتْنَةَ عَلَى نَفْسِهِ فِي الْعَوْدِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں بدر میں حاضر نہ ہوا، اس وجہ سے کہ میں اور میرے والد حسیل نکلے تو کفار قریش نے ہمیں پکڑ لیا، انہوں نے کہا: تم محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا ارادہ رکھتے ہو؟ ہم نے نفی میں جواب دیا کہ ہم مدینہ جانا چاہتے ہیں تو انہوں نے ہم سے اللہ کا عہد و پیمان لیا کہ ہم مدینہ جائیں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر لڑائی نہ کریں گے، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آ کر بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مدینہ جاؤ ہم وعدہ کی پاسداری کریں گے اور ان کے خلاف اللہ سے مدد طلب کریں گے“
شیخ فرماتے ہیں: یہ اس لیے ہے کہ ان دونوں کے واپس جانے سے کسی فرض کا ترک لازم نہیں آیا، کیونکہ ان پر نکلنا واجب نہ تھا، اور نہ ہی کسی حرام کا ارتکاب لازم آیا، جبکہ کفار کی طرف لوٹنا اور ان کے درمیان رہنا جائز نہیں جب لوٹنے میں اپنے بارے میں فتنے کا ڈر ہو، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18429]
شیخ فرماتے ہیں: یہ اس لیے ہے کہ ان دونوں کے واپس جانے سے کسی فرض کا ترک لازم نہیں آیا، کیونکہ ان پر نکلنا واجب نہ تھا، اور نہ ہی کسی حرام کا ارتکاب لازم آیا، جبکہ کفار کی طرف لوٹنا اور ان کے درمیان رہنا جائز نہیں جب لوٹنے میں اپنے بارے میں فتنے کا ڈر ہو، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18429]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٧٨٧»
الحكم على الحديث: صحيح
3661. -- باب: ما يجوز للأسير أو من قدم ليقتل والرجل بين الصفين في ماله
-- باب: قیدی یا جسے قتل کے لیے پیش کیا گیا ہو اور وہ شخص جو دو صفوں (لشکروں) کے درمیان کھڑا ہو، ان کے لیے اپنے مال میں کیا تصرف جائز ہے۔
حدیث نمبر: 18430
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ بَعْضُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ مُسْرِفًا، قَدَّمَ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ يَوْمَ الْحَرَّةِ لِيَضْرِبَ عُنُقَهُ فَطَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا، فَسَأَلُوا أَهْلَ الْعِلْمِ فَقَالُوا: لَهَا نِصْفُ الصَّدَاقِ وَلَا مِيرَاثَ لَهَا.
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسرف نے یزید بن عبداللہ کو حرہ کے دن قتل کے لیے پیش کیا۔ انہوں نے اپنی غیر مدخول بہا عورت کو طلاق دے دی۔ انہوں نے اہل علم سے پوچھا تو وہ فرماتے ہیں کہ اس کو آدھا حق مہر ملے گا اور وراثت نہ ملے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18430]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18431
وَبِإِسْنَادِهِ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ، أنبأ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَامَّةَ صَدَقَاتِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَصَدَّقَ بِهَا وَفَعَلَ أُمُورًا وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ يَوْمَ الْجَمَلِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ اللهُ وَابْنِ الْمُسَيِّبِ رَحِمَهُ اللهُ أَنَّهُمَا قَالَا: إِذَا كَانَ الرَّجُلُ عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ يُقَاتِلُ فَمَا صَنَعَ فَهُوَ جَائِزٌ. وَرُوِي عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ اللهُ: عَطِيَّةُ الْحُبْلَى جَائِزَةٌ حَتَّى تَجْلِسَ بَيْنَ الْقَوَابِلِ. وَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَابْنُ الْمُسَيِّبِ: عَطِيَّةُ الْحَامِلِ جَائِزَةٌ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَبِهَذَا كُلِّهِ نَقُولُ. قَالَ الشَّيْخُ: حَدِيثُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدْ رَوَيْنَاهُ فِي كِتَابِ الْوَصَايَا بِطُولِهِ.
ہشام اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے اکثر صدقات (اوقاف) جنگِ جمل کے دن اپنے گھوڑے کی پیٹھ پر کھڑے ہو کر صدقہ کیے اور (اسی حالت میں) کئی کام سر انجام دیے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز اور سعید بن مسیب رحمہما اللہ سے مروی ہے کہ ان دونوں نے فرمایا: جب آدمی اپنے گھوڑے کی پیٹھ پر قتال کر رہا ہو تو وہ جو بھی (تصرف) کرے جائز ہے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حاملہ کا عطیہ جائز ہے یہاں تک کہ وہ (ولادت کے لیے) دائیوں کے درمیان بیٹھ جائے۔ قاسم بن محمد اور سعید بن مسیب رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ حاملہ کا عطیہ دینا جائز ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم ان سب باتوں کے قائل ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18431]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز اور سعید بن مسیب رحمہما اللہ سے مروی ہے کہ ان دونوں نے فرمایا: جب آدمی اپنے گھوڑے کی پیٹھ پر قتال کر رہا ہو تو وہ جو بھی (تصرف) کرے جائز ہے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حاملہ کا عطیہ جائز ہے یہاں تک کہ وہ (ولادت کے لیے) دائیوں کے درمیان بیٹھ جائے۔ قاسم بن محمد اور سعید بن مسیب رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ حاملہ کا عطیہ دینا جائز ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم ان سب باتوں کے قائل ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18431]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف