السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3662. -- باب: صلاة الأسير إذا قدم ليقتل
-- باب: قیدی کو جب قتل کے لیے پیش کیا جائے تو اس کی نماز کا بیان۔
حدیث نمبر: 18432
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أُسَيْدِ بْنِ جَارِيَةَ حَلِيفُ بَنِي زُهْرَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ رَهْطٍ عَلَيْنَا، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتِ بْنِ أَبِي الْأَقْلَحِ وَهُوَ جَدُّ عَاصِمٍ، يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَانْطَلَقُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْهَدَةِ بَيْنَ عُسْفَانَ وَمَكَّةَ ذُكِرُوا لِحَيٍّ مِنْ هُذَيْلٍ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو لِحْيَانَ، فَنَفَرُوا لَهُمْ بِمِائَةِ رَجُلٍ رَامٍ فَاتَّبَعُوا آثَارَهُمْ حَتَّى وَجَدُوا مَأْكَلَهُمُ التَّمْرَ فَقَالُوا: هَذَا تَمْرُ يَثْرِبَ فَلَمَّا أَحَسَّ بِهِمْ عَاصِمٌ وَأَصْحَابُهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ لَجَؤُوا إِلَى قَرْدَدٍ يَعْنِي فَأَحَاطَ بِهِمُ الْقَوْمُ فَقَالُوا: انْزِلُوا وَلَكُمُ الْعَهْدُ وَالْمِيثَاقُ أَنْ لَا يُقْتَلَ مِنْكُمْ أَحَدٌ، فَقَالَ عَاصِمٌ: أَمَّا أَنَا فَوَاللهِ لَا أَنْزِلُ فِي ذِمَّةِ كَافِرٍ الْيَوْمَ، اللهُمَّ بَلِّغْ عَنَّا نَبِيِّكَ السَّلَامَ. فَقَاتَلُوهُمْ فَقُتِلَ مِنْهُمْ سَبْعَةٌ، وَنَزَلَ ثَلَاثَةٌ عَلَى الْعَهْدِ وَالْمِيثَاقِ، فَلَمَّا اسْتَمْكَنُوا مِنْهُمْ حَلُّوا أَوْتَارَ قِسِيِّهِمْ وَكَتَّفُوهُمْ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ مِنْهُمْ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ قَالَ: هُوَ وَاللهِ أَوَّلُ الْغَدْرِ. فَعَالَجُوهُ فَقَتَلُوهُ وَانْطَلَقُوا بِخُبَيْبِ بْنِ عَدِيٍّ، وَزَيْدِ بْنِ الدَّثِنَةِ، فَانْطَلَقُوا بِهِمَا إِلَى مَكَّةَ فَبَاعُوهُمَا، وَذَلِكَ بَعْدَ وَقْعَةِ بَدْرٍ، فَاشْتَرَى بَنُو الْحَارِثِ خُبَيْبًا وَكَانَ قَتَلَ الْحَارِثَ يَوْمَ بَدْرٍ، قَالَتِ ابْنَةُ الْحَارِثِ: وَكَانَ خُبَيْبٌ أَسِيرًا عِنْدَنَا فَوَاللهِ إِنْ رَأَيْتُ أَسِيرًا قَطُّ كَانَ خَيْرًا مِنْ خُبَيْبٍ، وَاللهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ قِطْفًا مِنْ عِنَبٍ وَمَا بِمَكَّةَ يَوْمَئِذٍ مِنْ ثَمَرَةٍ، وَإِنْ هُوَ إِلَّا رِزْقٌ رَزَقَهُ اللهُ خُبَيْبًا. قَالَتْ: فَاسْتَعَارَ مِنِّي مُوسًى يَسْتَحِدُّ بِهِ لِلْقَتْلِ. قَالَتْ: فَأَعَرْتُهُ إِيَّاهُ وَدَرَجَ بُنَيٌّ لِي وَأَنَا غَافِلَةٌ فَرَأَيْتُهُ مُجْلِسَهُ عَلَى صَدْرِهِ. قَالَتْ: فَفَزِعْتُ فَزْعَةً عَرَفَهَا خُبَيْبٌ. ⦗٢٤٦⦘ قَالَتْ: فَفَطِنَ بِي فَقَالَ: أَتَحْسَبِينَنِي أَنِّي قَاتِلُهُ؟ مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَهُ. قَالَتْ: فَلَمَّا أَجْمَعُوا عَلَى قَتْلِهِ قَالَ لَهُمْ: دَعُونِي أُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ. قَالَتْ: فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ: لَوْلَا أَنْ تَحْسَبُوا أَنَّ بِي جَزَعًا لَزِدْتُ. قَالَ: فَكَانَ خُبَيْبٌ أَوَّلَ مَنْ سَنَّ الصَّلَاةَ لِمَنْ قُتِلَ صَبْرًا، ثُمَّ قَالَ: اللهُمَّ أَحْصِهِمْ عَدَدًا، وَاقْتُلْهُمْ بَدَدًا، وَلَا تُبْقِ مِنْهُمْ أَحَدًا. وَأَنْشَأَ يَقُولُ:.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس افراد کا ایک وفد روانہ کیا جن کا امیر عاصم بن ثابت بن ابی اقلح رضی اللہ عنہ کو بنایا، یہ عاصم بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے نانا تھے، جب وہ چلے یہاں تک کہ جب عسفان اور مکہ کے درمیان ایک بلند جگہ پر پہنچے تو قبیلہ ہذیل کی ایک شاخ جسے بنو لحیان کہا جاتا تھا ان کے سامنے ان کا تذکرہ کیا گیا، چنانچہ ان کے تقریباً سو تیر اندازوں نے ان کا پیچھا کیا اور انہیں کھجوریں کھاتے ہوئے پا لیا، انہوں نے کہا: ”یہ یثرب کی کھجوریں ہیں“، جب عاصم رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے محسوس کر لیا کہ ان لوگوں نے انہیں گھیر لیا ہے تو انہوں نے کہا: ”تم نیچے اتر آؤ، تمہارے لیے عہد و پیمان ہے کہ ہم تم میں سے کسی کو قتل نہیں کریں گے“، عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں کسی کافر کے عہد و پیمان پر نہیں اتروں گا، اے اللہ! ہماری جانب سے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام پہنچا دینا“، پس انہوں نے ان سے قتال کیا اور سات صحابہ شہید ہو گئے، تین افراد نے ان کے عہد و پیمان کو قبول کر لیا، جب کفار ان پر غالب آ گئے تو انہوں نے ان کی کمانوں کی تندیاں اتار کر ان کے بازو پچھلی جانب باندھ لیے، جب ان تینوں میں سے ایک نے دیکھا تو کہنے لگا: ”یہ پہلا دھوکا ہے“، تو انہوں نے اسے وہیں شہید کر ڈالا، پھر وہ خبیب بن عدی اور زید بن دثنہ رضی اللہ عنہما کو مکہ لے آئے اور انہیں فروخت کر دیا، یہ جنگ بدر کے بعد کا واقعہ ہے، بنو حارث بن عامر بن نوفل نے خبیب رضی اللہ عنہ کو خرید لیا کیونکہ خبیب رضی اللہ عنہ نے ہی بدر کے دن حارث کو قتل کیا تھا، حارث کی بیٹی کہتی ہے کہ خبیب رضی اللہ عنہ ہمارے پاس قیدی تھے، اللہ کی قسم! میں نے خبیب رضی اللہ عنہ سے بہتر کوئی قیدی نہیں دیکھا، اللہ کی قسم! میں نے انہیں انگور کا خوشہ کھاتے ہوئے دیکھا جبکہ وہ بیڑیوں میں جکڑے ہوئے تھے اور اس وقت مکہ میں کوئی پھل میسر نہ تھا، یہ وہ رزق تھا جو اللہ رب العزت نے خبیب رضی اللہ عنہ کو عطا کیا تھا، وہ کہتی ہیں: خبیب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے استرا مانگا تاکہ قتل ہونے کی تیاری کے لیے زیرِ ناف بال صاف کریں، میں نے انہیں دے دیا، پھر میرا چھوٹا بیٹا میری غفلت کی وجہ سے رینگتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا، جب میں نے دیکھا تو وہ ان کی ران پر بیٹھا ہوا تھا اور استرا ان کے ہاتھ میں تھا، میں یہ دیکھ کر بے حد گھبرائی جسے خبیب رضی اللہ عنہ پہچان گئے اور فرمایا: ”کیا تم یہ گمان رکھتی ہو کہ میں اسے قتل کر دوں گا؟ ان شاء اللہ میں ایسا کرنے والا نہیں ہوں“، وہ کہتی ہیں کہ جب تمام لوگ انہیں قتل کرنے کے لیے جمع ہو گئے تو انہوں نے کہا: ”مجھے دو رکعت نماز پڑھ لینے دو“، چنانچہ خبیب رضی اللہ عنہ نے دو رکعت نماز ادا کی اور فرمانے لگے: ”اگر تم میرے بارے میں یہ خیال نہ کرتے کہ میں ڈر گیا ہوں تو میں مزید نماز ادا کرتا“، راوی کہتے ہیں کہ خبیب رضی اللہ عنہ پہلے انسان ہیں جنہوں نے باندھ کر قتل کیے جانے والے مسلمان کے لیے نماز پڑھنے کی سنت جاری کی اور پھر یہ بددعا کی: ”اے اللہ! ان کو شمار کر لے اور ان کو ایک ایک کر کے قتل کرنا، ان میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑنا“، اور وہ یہ اشعار پڑھ رہے تھے:
”مجھے کوئی پروا نہیں جب میں حالتِ اسلام میں قتل کیا جاؤں کہ کسی پہلو بھی اللہ کی راہ میں مجھے پچھاڑا جائے“
”اور یہ سب اللہ کی رضا کے لیے ہے، اگر وہ چاہے گا تو کٹے ہوئے اعضا کے جوڑوں میں برکت عطا فرما دے گا“، راوی کہتے ہیں کہ قریش نے عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کی لاش کا ایک ٹکڑا لانے کے لیے کچھ لوگ بھیجے تاکہ ان کی پہچان ہو سکے، کیونکہ انہوں نے بدر کے دن ان کے ایک بڑے سردار کو قتل کیا تھا، تو اللہ رب العزت نے بھڑوں کا ایک غول چھتری کی مانند بھیج دیا جس نے ان کے قاصدوں سے ان کی حفاظت کی، چنانچہ وہ ان کے جسم کا کوئی حصہ نہ لے جا سکے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18432]
”مجھے کوئی پروا نہیں جب میں حالتِ اسلام میں قتل کیا جاؤں کہ کسی پہلو بھی اللہ کی راہ میں مجھے پچھاڑا جائے“
”اور یہ سب اللہ کی رضا کے لیے ہے، اگر وہ چاہے گا تو کٹے ہوئے اعضا کے جوڑوں میں برکت عطا فرما دے گا“، راوی کہتے ہیں کہ قریش نے عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کی لاش کا ایک ٹکڑا لانے کے لیے کچھ لوگ بھیجے تاکہ ان کی پہچان ہو سکے، کیونکہ انہوں نے بدر کے دن ان کے ایک بڑے سردار کو قتل کیا تھا، تو اللہ رب العزت نے بھڑوں کا ایک غول چھتری کی مانند بھیج دیا جس نے ان کے قاصدوں سے ان کی حفاظت کی، چنانچہ وہ ان کے جسم کا کوئی حصہ نہ لے جا سکے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18432]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ٣٠٤٥»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18433
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ، يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، أنبأ ابْنُ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّ حَلِيفُ بَنِي زُهْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ مُخْتَصَرًا دُونَ الشِّعْرِ وَدُونَ قِصَّةِ عَاصِمٍ فِي آخِرِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِطُولِهِ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ أُسَيْدِ بْنِ جَارِيَةَ وَهُوَ عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ أُسَيْدِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّ، وَقِيلَ عُمَرُ بْنُ أُسَيْدٍ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: الْأَوَّلُ أَصَحُّ، يَعْنِي: عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ أُسَيْدٍ أَصَحُّ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ وَمَعْمَرٌ وَيُونُسُ وَغَيْرُهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس کے ہم معنی مختصر حدیث ذکر کی، جس میں اشعار اور عاصم رضی اللہ عنہ کے قصے کا ذکر نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18433]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3663. -- باب: المسلم يدل المشركين على عورة المسلمين
-- باب: اس مسلمان کا بیان جو مسلمانوں کے کمزور پہلوؤں اور خفیہ رازوں کی نشاندہی مشرکین کو کرے۔
حدیث نمبر: 18434
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ الطُّوسِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَالزُّبَيْرَ وَالْمِقْدَادَ فَقَالَ:" انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا كِتَابٌ". فَخَرَجْنَا تَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا، فَإِذَا ⦗٢٤٧⦘ نَحْنُ بِظَعِينَةٍ فَقُلْنَا: أَخْرِجِي الْكِتَابَ، فَقَالَتْ: مَا مَعِي كِتَابٌ، فَقُلْنَا لَهَا: لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَتُلْقِينَّ الثِّيَابَ، فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا فَأَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا فِيهِ: مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى أُنَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِمَّنْ بِمَكَّةَ، يُخْبِرُ بِبَعْضِ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا هَذَا يَا حَاطِبُ"؟ قَالَ: لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ، إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهَا، وَكَانَ مَنْ مَعَكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لَهُمْ قَرَابَاتٌ يَحْمُونَ بِهَا قَرَابَاتِهِمْ، وَلَمْ يَكُنْ لِي بِمَكَّةَ قَرَابَةٌ فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِكَ أَنْ أَتَّخِذَ عِنْدَهُمْ يَدًا، وَاللهِ مَا فَعَلْتُهُ شَكًّا فِي دِينِي وَلَا رِضًا بِالْكُفْرِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ قَدْ صَدَقَ". فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ". وَنَزَلَتْ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ} [الممتحنة: ١] . أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ جَمَاعَةٍ عَنْ سُفْيَانَ.
عبید اللہ بن ابی رافع سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو روانہ فرمایا اور ہدایت فرمائی: ”تم روضہ خاخ نامی جگہ جاؤ، وہاں ایک مسافر عورت ہوگی جس کے پاس ایک خط ہے۔“ ہم نے اپنے گھوڑے دوڑائے اور جب وہاں پہنچے تو واقعی ایک عورت تھی۔ ہم نے اس سے کہا: ”خط نکالو۔“ وہ کہنے لگی: ”میرے پاس کوئی خط نہیں ہے۔“ ہم نے کہا: ”خط نکالو، وگرنہ ہم تلاشی لے کر تمہیں تنگ کریں گے۔“ تو اس نے اپنی مینڈھیوں (بالوں کی چوٹیوں) سے وہ خط نکال کر ہمیں دے دیا۔ ہم اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس خط میں لکھا تھا کہ یہ حاطب بن ابی بلتعہ کی جانب سے مشرکینِ مکہ کے کچھ لوگوں کی طرف ہے، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض ارادوں کی خبر دی گئی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اے حاطب! یہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ میرے بارے میں جلدی نہ فرمائیں، میں قریش میں محض ایک حلیف تھا، ان میں سے (اصلاً) نہ تھا، جبکہ آپ کے ساتھ جو مہاجرین ہیں، مکہ میں ان کی رشتہ داریاں ہیں جن کی وجہ سے وہ لوگ اپنے اہل و عیال اور اموال کی حفاظت کرتے ہیں۔ چونکہ مکہ میں میرا کوئی قریبی رشتہ دار نہیں تھا، اس لیے میں نے چاہا کہ ان پر کوئی احسان کر دوں (تاکہ وہ اس کے بدلے میرے رشتہ داروں کی حفاظت کریں)۔ اللہ کی قسم! میں نے یہ کام اپنے دین میں شک کرتے ہوئے یا اسلام کے بعد کفر کو پسند کرنے کی وجہ سے ہرگز نہیں کیا ہے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے تم سے سچ کہا ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ عرض کرنے لگے: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جنگِ بدر میں شریک ہوا ہے، اور آپ کو کیا معلوم، اللہ رب العزت نے اہل بدر کے احوال سے واقف ہو کر فرما دیا ہے: «اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ» ”تم جو چاہو عمل کرو، یقیناً میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے““ اور یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ﴾ [سورة الممتحنة: 1]
”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، تم میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ کہ تم ان کی جانب محبت کے پیغام بھیجتے ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18434]
”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، تم میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ کہ تم ان کی جانب محبت کے پیغام بھیجتے ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18434]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18435
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، وَحَيَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ السُّلَمِيِّ، أَنَّهُمَا كَانَا يَتَنَازَعَانِ فِي عَلِيٍّ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَكَانَ حَيَّانُ يُحِبُّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكَانَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحِبُّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ يَعْنِي عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَتَبَ حَاطِبُ بْنُ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى مَكَّةَ: إِنَّ مُحَمَّدًا يُرِيدُ أَنْ يَغْزُوَكُمْ بِأَصْحَابِهِ فَخُذُوا حِذْرَكُمْ. وَدَفَعَ كِتَابَهُ إِلَى امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا: سَارَّةُ، فَجَعَلَتْهُ فِي إِزَارِهَا أَوْ فِي ذُؤَابَةٍ مِنْ ذَوَائِبِهَا فَانْطَلَقَتْ، فَأَطْلَعَ اللهُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ، قَالَ عَلِيٌّ: فَبَعَثَنِي وَمَعِيَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ وَأَبُو مَرْثَدٍ الْغَنَوِيُّ، وَكُلُّنَا فَارِسٌ قَالَ:" انْطَلِقُوا فَإِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَهَا بِرَوْضَةِ كَذَا وَكَذَا فَفَتِّشُوهَا فَإِنَّ مَعَهَا كِتَابًا إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ مِنْ حَاطِبٍ". فَانْطَلَقْنَا فَوَافَقْنَاهَا فَقُلْنَا: هَاتِي الْكِتَابَ الَّذِي مَعَكِ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ، فَقَالَتْ: مَا مَعِي كِتَابٌ. قَالَ: قُلْتُ: مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ، لَتُخْرِجِنَّهُ أَوْ لَأُجَرِّدَنَّكِ، فَلَمَّا عَرَفَتْ أَنِّي فَاعِلٌ أَخْرَجَتِ الْكِتَابَ، فَأَخَذْنَاهُ فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَتَحَهُ فَقَرَأَهُ فَإِذَا فِيهِ: مِنْ حَاطِبٍ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ مُحَمَّدًا يُرِيدُكُمْ فَخُذُوا حِذْرَكُمْ وَتَأَهَّبُوا. أَوْ كَمَا قَالَ، فَلَمَّا قَرَأَ الْكِتَابَ أَرْسَلَ إِلَى حَاطِبٍ فَقَالَ لَهُ:" أَكَتَبْتَ هَذَا الْكِتَابَ؟" قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:" فَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟" قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَمَا وَاللهِ مَا كَفَرْتُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَإِنِّي لِمُؤْمِنٌ بِاللهِ وَرَسُولِهِ، وَمَا حَمَلَنِي عَلَى مَا صَنَعْتُ مِنْ كِتَابِي إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِكَ إِلَّا وَلَهُ هُنَاكَ بِمَكَّةَ مَنْ يَدْفَعُ عَنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ، وَلَمْ يَكُنْ لِي هُنَاكَ أَحَدٌ يَدْفَعُ عَنْ أَهْلِي وَمَالِي، فَأَحْبَبْتُ ⦗٢٤٨⦘ أَنْ أَتَّخِذَ عِنْدَ الْقَوْمِ يَدًا، وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّ اللهَ سَيُظْهِرُ رَسُولَهُ عَلَيْهِمْ. قَالَ: فَصَدَّقَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَبِلَ قَوْلَهُ، قَالَ: فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ دَعْنِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ؛ فَإِنَّهُ قَدْ خَانَ اللهَ وَالْمُؤْمِنِينَ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عُمَرُ إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ، وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللهَ اطَّلَعَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ هُشَيْمٍ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِدْرِيسَ وَغَيْرِهِ عَنْ حُصَيْنٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" تَجَافَوْا لِذَوِي الْهَيْئَاتِ". وَقِيلَ فِي الْحَدِيثِ مَا لَمْ يَكُنْ حَدًّا فَإِذَا كَانَ هَذَا مِنَ الرَّجُلِ ذِي الْهَيْئَةِ وَقِيلَ بِجَهَالَةٍ كَمَا كَانَ هَذَا مِنْ حَاطِبٍ بِجَهَالَةٍ وَكَانَ غَيْرَ مُتَّهَمٍ أَحْبَبْتُ أَنْ يُتَجَافَى لَهُ، وَإِذَا كَانَ مِنْ غَيْرِ ذِي الْهَيْئَةِ كَانَ لِلْإِمَامِ وَاللهُ أَعْلَمُ تَعْزِيرُهُ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حاطب بن ابی بلتعہ نے مکہ والوں کو خط لکھا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تم پر حملہ کرنا چاہتے ہیں، اپنا دفاع کرو اور یہ خط دے کر سارہ نامی عورت کو روانہ کر دیا تو اس نے خط کو میڈھیوں کے اندر چھپا لیا۔ وہ چل پڑی، ادھر اللہ رب العزت نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دے دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو مرثد غنوی رضی اللہ عنہ، تمام شاہسواروں کو بھیج دیا اور فرمایا: ”تم فلاں جگہ ایک عورت کو ملو گے، اس کی تلاشی لینا، اس کے پاس حاطب کی جانب سے مکہ والوں کے نام ایک خط ہے۔“ کہتے ہیں: ہم چلے، اسی جگہ ہم نے عورت کو پایا، ہم نے کہا: مکہ والوں کے نام خط ہے وہ نکال دے۔ اس نے کہا: میرے پاس کوئی خط نہیں۔ کہتے ہیں: میں نے کہا: نہ تو میں جھوٹ بولتا ہوں اور نہ میں تکذیب کرتا ہوں، تو خط نکال دے یا میں تیرے کپڑے اتار دوں گا۔ جب اس نے جان لیا کہ یہ ایسا ہی کریں گے تو اس نے خط نکال دیا، تو ہم لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھول کر پڑھا تو اس میں تھا کہ حاطب کی جانب سے مکہ والوں کی طرف کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تم پر حملہ کا ارادہ رکھتے ہیں، تم اپنے دفاع کی تیاری کرو۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خط پڑھا تو حاطب کو بلایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو نے یہ خط لکھا؟“ اس نے کہا: ہاں۔ پوچھا: ”تجھے کس چیز نے اس پر ابھارا؟“ تو حاطب نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اسلام لانے کے بعد میں نے کفر نہیں کیا، میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں، میں نے خط صرف اس لیے لکھا کہ مکہ میں میرے اہل و مال کا دفاع کرنے والا کوئی نہیں، جس طرح دوسرے صحابہ کے مکہ میں موجود ہیں، میں صرف ان لوگوں پر احسان کرنا چاہتا تھا اور مجھے اس بات کا بھی یقین ہے کہ اللہ اپنے رسول کو غلبہ دیں گے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تصدیق کی اور عذر قبول کر لیا۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے قتل کی اجازت طلب کی کیونکہ اس نے اللہ اور مومنوں سے خیانت کی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! یہ بدری ہے، تمہیں کیا معلوم کہ اللہ نے ان پر جھانک لیا اور فرمایا: جو تمہارا دل چاہے عمل کرو میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ ”معزز لوگوں (کی لغزشوں) سے درگزر کرو۔“ اس حدیث کے بارے میں کہا گیا ہے کہ (یہ درگزر اس وقت ہے) جب تک وہ حد (والا جرم) نہ ہو۔ پس جب یہ کام کسی معزز آدمی سے ہو اور کہا گیا ہے کہ لاعلمی میں ہو، جیسے حاطب رضی اللہ عنہ سے لاعلمی میں ہوا اور وہ متہم نہ تھے، تو میں پسند کرتا ہوں کہ اس سے درگزر کیا جائے، اور اگر وہ معزز آدمی نہ ہو تو امام کو، واللہ اعلم، اسے تعزیری سزا دینے کا اختیار ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18435]
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ ”معزز لوگوں (کی لغزشوں) سے درگزر کرو۔“ اس حدیث کے بارے میں کہا گیا ہے کہ (یہ درگزر اس وقت ہے) جب تک وہ حد (والا جرم) نہ ہو۔ پس جب یہ کام کسی معزز آدمی سے ہو اور کہا گیا ہے کہ لاعلمی میں ہو، جیسے حاطب رضی اللہ عنہ سے لاعلمی میں ہوا اور وہ متہم نہ تھے، تو میں پسند کرتا ہوں کہ اس سے درگزر کیا جائے، اور اگر وہ معزز آدمی نہ ہو تو امام کو، واللہ اعلم، اسے تعزیری سزا دینے کا اختیار ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18435]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
3664. -- باب: الجاسوس من أهل الحرب
-- باب: حربی کافروں کے جاسوس کا بیان۔
حدیث نمبر: 18436
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ الْإِيَادِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنِ ابْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَيْنٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَهُوَ فِي سَفَرٍ قَالَ: فَجَلَسَ فَتَحَدَّثَ عِنْدَ أَصْحَابِهِ ثُمَّ انْسَلَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اطْلُبُوهُ فَاقْتُلُوهُ". قَالَ: فَسَبَقْتُهُمْ إِلَيْهِ فَقَتَلْتُهُ وَأَخَذْتُ سَلَبَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ.
ابن سلمہ بن اکوع اپنے والد (سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ سفر کے دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مشرکین کا جاسوس آیا، وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس بیٹھ کر باتیں کرتا رہا، پھر کھسک گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پکڑ کر قتل کر دو۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے اس کو قتل کر کے اس کا سامان لے لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18436]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18437
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو هَمَّامٍ الدَّلَّالُ فِي مَسْجِدِ الْبَصْرَةِ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، عَنِ الْفُرَاتِ بْنِ حَيَّانَ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ بِقَتْلِهِ، وَكَانَ عَيْنًا لِأَبِي سُفْيَانَ وَحَلِيفًا أَظُنُّهُ قَالَ: لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَمَرَّ عَلَى حَلْقَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: إِنِّي مُسْلِمٌ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ يَقُولُ: إِنِّي مُسْلِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْهُمْ رِجَالًا نَكِلُهُمْ إِلَى إِيمَانِهِمْ مِنْهُمُ الْفُرَاتُ بْنُ حَيَّانَ".
حارثہ بن مضرب، فرات بن حیان رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قتل کا حکم دیا تھا اور وہ ابوسفیان کا جاسوس اور میرا گمان ہے کہ راوی نے کہا: ایک انصاری شخص کا حلیف تھا۔ وہ انصار کی ایک مجلس کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا: ”میں مسلمان ہوں“ تو ان میں سے ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کہتا ہے کہ میں مسلم ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک ان میں سے بعض افراد ایسے ہیں جنہیں ہم ان کے ایمان کے سپرد کر دیتے ہیں، ان میں سے فرات بن حیان بھی ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18437]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم برقم ١١٦٨٣١»
الحكم على الحديث: ضعيف
3665. -- باب: الأسير يستطلع منه خبر المشركين
-- باب: اس قیدی کا بیان جس سے مشرکین کی خبریں اور معلومات حاصل کی جائیں۔
حدیث نمبر: 18438
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو ⦗٢٤٩⦘ عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَدَبَ أَصْحَابَهُ فَانْطَلَقَ إِلَى بَدْرٍ، فَإِذَا هُمْ بِرَوَايَا قُرَيْشٍ فِيهَا عَبْدٌ أَسْوَدُ لِبَنِي الْحَجَّاجِ، فَأَخَذَهُ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلُوا يَسْأَلُونَهُ أَيْنَ أَبُو سُفْيَانَ؟ فَيَقُولُ: وَاللهِ وَاللهِ مَا لِي بِشَيْءٍ مِنْ أَمْرِهِ عِلْمٌ وَلَكِنْ هَذِهِ قُرَيْشٌ قَدْ جَاءَتْ فِيهِمْ أَبُو جَهْلٍ، وَعُتْبَةُ وَشَيْبَةُ ابْنَا رَبِيعَةَ، وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ، فَإِذَا قَالَ لَهُمْ ذَلِكَ ضَرَبُوهُ فَيَقُولُ: دَعُونِي دَعُونِي أُخْبِرْكُمْ، فَإِذَا تَرَكُوهُ قَالَ: وَاللهِ مَا لِي بِأَبِي سُفْيَانَ مِنْ عِلْمٍ وَلَكِنْ هَذِهِ قُرَيْشٌ قَدْ أَقْبَلَتْ، فِيهِمْ أَبُو جَهْلٍ، وَعُتْبَةُ وَشَيْبَةُ ابْنَا رَبِيعَةَ، وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ قَدْ أَقْبَلُوا، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهُوَ يَسْمَعُ ذَلِكَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّكُمْ لَتَضْرِبُونَهُ إِذَا صَدَقَكُمْ، وَتَدَعُونَهُ إِذَا كَذَبَكُمْ، هَذِهِ قُرَيْشٌ قَدْ أَقْبَلَتْ لِتَمْنَعَ أَبَا سُفْيَانَ". قَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا"، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى الْأَرْضِ، وَهَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا"، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى الْأَرْضِ، وهَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا"، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى الْأَرْضِ، فَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا جَاوَزَ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ مَوْضِعِ يَدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِأَرْجُلِهِمْ فَسُحِبُوا فَأُلْقُوا فِي قَلِيبِ بَدْرٍ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ حَمَّادٍ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کو لے کر بدر کی جانب چلے، اچانک بنو حجاج کا ایک سیاہ غلام، جو قریش کے لیے پانی بھر رہا تھا، سامنے آیا، اسے صحابہ کرام نے پکڑ لیا اور اس سے پوچھنے لگے کہ ابوسفیان کہاں ہے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے کوئی علم نہیں، لیکن یہ قریشی ہیں، جن میں ابوجہل، عتبہ، شیبہ اور امیہ بن خلف شامل ہیں، جب وہ یہ بات کہتا تو صحابہ اسے مارتے، وہ کہتا: مجھے چھوڑو، مجھے چھوڑو، میں تمہیں بتاتا ہوں، جب وہ اسے چھوڑ دیتے تو وہ (پھر) کہتا: اللہ کی قسم! مجھے ابوسفیان کے بارے میں کوئی علم نہیں، لیکن یہ قریشی آ رہے ہیں جن میں عتبہ، شیبہ اور امیہ بن خلف موجود ہیں، وہ اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم حالت نماز میں یہ باتیں سن رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جب اس نے تم سے سچ بولا تو تم اسے مارنے لگے اور جب اس نے تم سے جھوٹ بولا تو تم نے اسے چھوڑ دیا، یہ قریش ہی آ رہے ہیں تاکہ وہ ابوسفیان کو تم سے بچا سکیں“، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ فلاں کے گرنے کی جگہ ہے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر ہاتھ رکھ کر فرمایا: ”یہ جگہ فلاں کی قتل گاہ ہے اور یہ فلاں کی قتل گاہ ہے“، اللہ کی قسم! ان میں سے کوئی ایک بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے (نشان زدہ) ہاتھ والی جگہ سے ذرہ برابر ادھر ادھر نہ ہوا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں حکم دیا اور انہیں پاؤں سے پکڑ کر (گھسیٹا گیا اور) بدر کے ایک کنویں میں پھینک دیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18438]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٧٧٩»
الحكم على الحديث: صحيح
3666. -- باب: بعث العيون والطلائع من المسلمين
-- باب: مسلمانوں کی طرف سے جاسوس اور ہراول دستے بھیجنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18439
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ، ثنا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُسَيْسَةَ عَيْنًا يَنْظُرُ مَا صَنَعَ عِيرُ أَبِي سُفْيَانَ. قَالَ: فَجَاءَ وَمَا فِي الْبَيْتِ أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَدَّثَهُ الْحَدِيثَ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي النَّضْرِ كَمَا مَضَى.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسیسہ کو جاسوس بنا کر بھیجا کہ وہ ابوسفیان کے قافلہ کی حرکات کو نوٹ کر لے، راوی کہتے ہیں: جب وہ آیا تو میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی گھر میں موجود نہیں تھا۔۔۔ پھر اس نے حدیث بیان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18439]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٩٠١»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18440
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ:" مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ؟" فَقَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ؟" فَقَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا. ثُمَّ قَالَ:" مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ؟" فَقَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ". ⦗٢٥٠⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الثَّوْرِيِّ.
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ احزاب کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کی خبر میرے پاس کون لائے گا؟“ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”میرے پاس قوم کی خبر کون لائے گا؟“ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”میرے لیے لوگوں کی جاسوسی کون کرے گا؟“ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر رضی اللہ عنہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18440]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18441
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: نَدَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَهُمْ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَهُمْ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ". قَالَ سُفْيَانُ: وَزَادَ فِيهِ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ وَابْنُ عَمَّتِي. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ الْمَدِينِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ عَنْ سُفْيَانَ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کے دن لوگوں کو آواز دی تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے «لَبَّيْكَ» کہا۔ پھر دوسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو پکارا تو زبیر رضی اللہ عنہ نے «لَبَّيْكَ» کہا۔ پھر تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی تو زبیر رضی اللہ عنہ نے «لَبَّيْكَ» کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کے لیے ایک مخلص ساتھی ہوتا ہے اور میرا مخلص ساتھی زبیر (رضی اللہ عنہ) ہے۔“ (ب) ہشام بن عروہ بیان کرتے ہیں: ”میرا حواری زبیر (رضی اللہ عنہ) ہے اور میری پھوپھی کا بیٹا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18441]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح