السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3778. -- باب: سبب نزول قول الله عز وجل: ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه
-- باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان کے شان نزول کا بیان: ”اور اس میں سے مت کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو“۔
حدیث نمبر: 18896
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: خَاصَمَتِ الْيَهُودُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: تَأْكُلُ مِمَّا قَتَلْنَا وَلَا تَأْكُلُ مِمَّا قَتَلَ اللهُ؟. فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ ⦗٤٠٣⦘} [الأنعام: ١٢١] .
سعید بن جبیر رحمہ اللہ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ یہودیوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جھگڑا کیا اور کہا: آپ وہ کھاتے ہیں جسے ہم ماریں اور وہ نہیں کھاتے جسے اللہ مارے؟ اللہ نے یہ آیت نازل کردی: ﴿وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ﴾ [سورة الأنعام: 121] کہ جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اسے نہ کھاؤ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18896]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18897
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، ثنا سِمَاكٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ} [الأنعام: ١٢١] ، قَالُوا: يَقُولُونَ مَا ذَبَحَ اللهُ فَلَا تَأْكُلُوهُ، وَمَا ذَبَحْتُمْ أَنْتُمْ فَكُلُوهُ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ} [الأنعام: ١٢١] .
عکرمہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَىٰ أَوْلِيَائِهِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ﴾ [سورة الأنعام: 121] ”اور یقیناً شیطان اپنے دوستوں کی طرف وحی کرتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں“ کے متعلق فرماتے ہیں کہ وہ کہتے تھے: جو اللہ ذبح کرے تم وہ نہ کھاؤ اور جو تم خود ذبح کرو وہ کھا لو، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ﴾ [سورة الأنعام: 121] ”اور تم اس میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18897]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
3779. -- باب: الإرسال على الصيد يتوارى عنك ثم تجده مقتولا
-- باب: شکار پر جانور چھوڑنے کا بیان جو تمہاری نظروں سے اوجھل ہو جائے، پھر تم اسے مردہ حالت میں پاؤ۔
حدیث نمبر: 18898
فِيمَا رَوَى أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنِ النُّفَيْلِيِّ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَامِرٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَهْدَى لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَبْيًا، فَقَالَ:" مِنْ أَيْنَ أَصَبْتَ هَذَا؟". قَالَ: رَمَيْتُهُ أَمْسِ فَطَلَبْتُهُ فَأَعْجَزَنِي حَتَّى أَدْرَكَنِي الْمَسَاءُ، فَرَجَعْتُ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ اتَّبَعْتُ أَثَرَهُ فَوَجَدْتُهُ فِي غَارٍ أَوْ فِي أَحْجَارٍ، وَهَذَا مِشْقَصِي فِيهِ أَعْرِفُهُ. قَالَ:" بَاتَ عَنْكَ لَيْلَةً وَلَا آمَنُ أَنْ تَكُونَ هَامَّةٌ أَعَانَتْكَ عَلَيْهِ لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ".
عطاء بن سائب حضرت عامر سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے ہرن کا تحفہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو نے کہاں سے حاصل کیا؟“ دیہاتی نے کہا: کل شام میں نے اس کو تیر مارا، تلاش کرتے کرتے، شام کا وقت ہو گیا، میں واپس پلٹ آیا پھر صبح کے وقت میں نے اس کا پیچھا کیا تو یہ غار یا پتھروں کے اندر پڑا ہوا تھا اور میں نے اپنے تیر کا پھل اس میں پہچان لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک رات تجھ سے غائب رہا، مجھے اطمینان نہیں کہ کسی زہریلے کیڑے نے اسے مارنے میں تیری مدد نہ کی ہو، مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18898]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18899
وَعَنْ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَيْدٍ فَقَالَ: إِنِّي رَمَيْتُهُ مِنَ اللَّيْلِ فَأَعْيَانِي وَوَجَدْتُ سَهْمِي فِيهِ مِنَ الْغَدِ وَقَدْ عَرَفْتُ سَهْمِي. فَقَالَ:" اللَّيْلُ خَلْقٌ مِنْ خَلْقِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ عَظِيمٌ، لَعَلَّهُ أَعَانَكَ عَلَيْهِ شَيْءٌ، انْبِذْهَا عَنْكَ". أَخْبَرَنَا بِهِمَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنْبَأَ أَبُو الْحَسَنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ فَذَكَرَهُمَا.
ابو رزین فرماتے ہیں کہ ایک شخص شکار لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے کہا: میں نے اس کو تیر مارا اور تلاش کرتے کرتے اس نے مجھے تھکا دیا، تو صبح کے وقت میں نے اسے پا لیا اور اپنا تیر پہچان لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات اللہ رب العزت کی عظیم مخلوق ہے، شاید کسی دوسری چیز نے آپ کی مدد کی ہو، اس کو پھینک دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18899]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18900
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْبَاغَنْدِيُّ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَزِينٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا غَابَ عَنْكَ الصَّيْدُ فَصَادَفْتَهُ". وَذَكَرَ هَوَامَّ الْأَرْضِ. وَأَبُو رَزِينٍ هَذَا اسْمُهُ مَسْعُودٌ مَوْلَى شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ وَلَيْسَ بِأَبِي رَزِينٍ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْحَدِيثُ مُرْسَلٌ، قَالَهُ الْبُخَارِيُّ.
ابو رزین نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”جب شکار تجھ سے غائب ہو جائے اور پھر تو اس کو اچانک پا لے“ اور انہوں نے حشرات الارض کا ذکر کیا۔
یہ ابو رزین مسعود ہیں جو شقیق بن سلمہ کے آزاد کردہ غلام ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ابو رزین نہیں، اور یہ حدیث مرسل ہے، یہ بات امام بخاری نے کہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18900]
یہ ابو رزین مسعود ہیں جو شقیق بن سلمہ کے آزاد کردہ غلام ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ابو رزین نہیں، اور یہ حدیث مرسل ہے، یہ بات امام بخاری نے کہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18900]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18901
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الرَّحِيلِ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَمَيْمُونٌ عِنْدَهُ فَقَالَ: أَصْلَحَكَ اللهُ إِنِّي أَرْمِي الصَّيْدَ فَأُصْمِي وَأُنْمِي فَكَيْفَ تَرَى؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:" كُلْ مَا أَصْمَيْتَ وَدَعْ مَا أَنْمَيْتَ".
عمرو بن میمون اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور میمون ان کے پاس موجود تھے۔ اس دیہاتی نے کہا: ”اللہ آپ کی اصلاح کرے، میں شکار کو تیر مار کر اپنے سامنے گراتا ہوں اور زخمی کر کے چھوڑ دیتا ہوں، آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟“ تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جو شکار کا جانور تمہارے سامنے گر کر دم توڑ دے اسے کھاؤ اور جو زخمی ہو کر دور جا گرے اسے نہ کھاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18901]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18902
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ، قَالَ: أَمَرَنِي نَاسٌ مِنْ أَهْلِي أَنْ أَسْأَلَ لَهُمْ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنْ أَشْيَاءَ فَكَتَبْتُهَا فِي صَحِيفَةٍ فَأَتَيْتُهُ لِأَسْأَلَهُ فَإِذَا عِنْدَهُ نَاسٌ يَسْأَلُونَهُ، فَسَأَلُوهُ حَتَّى سَأَلُوهُ عَنْ جَمِيعِ مَا فِي صَحِيفَتِي وَمَا سَأَلْتُهُ عَنْ شَيْءٍ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: إِنِّي مَمْلُوكٌ أَكُونُ فِي إِبِلِ أَهْلِي فَيَأْتِينِي الرَّجُلُ يَسْتَسْقِينِي فَأَسْقِيهِ. قَالَ: لَا. قَالَ: فَإِنْ خَشِيتُ أَنْ يَهْلِكَ؟ قَالَ: فَاسْقِهِ مَا يُبَلِّغُهُ ثُمَّ أَخْبِرْ بِهِ أَهْلَكَ. قَالَ: فَإِنِّي رَجُلٌ أَرْمِي فَأُصْمِي وَأُنْمِي. قَالَ: مَا أَصْمَيْتَ فَكُلْ، وَمَا أَنْمَيْتَ فَلَا تَأْكُلْ. قُلْتُ لِلْحَكَمِ: مَا الْإِصْمَاءُ؟ قَالَ: الْإِقْعَاصُ. قُلْتُ: فَمَا الْإِنْمَاءُ؟ قَالَ: مَا تَوَارَى عَنْكَ. وَقَدْ رُوِيَ هَذَا مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مَرْفُوعًا وَهُوَ ضَعِيفٌ.
عبداللہ بن ابی ہذیل فرماتے ہیں کہ میرے گھر والوں نے مجھے چند چیزوں کے متعلق سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھنے کا کہا۔ میں ایک کاغذ لکھ کر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس اس وقت آیا، جب لوگ ان سے سوال کر رہے تھے۔ جب لوگوں نے میرے لکھے ہوئے تمام سوال کر لیے اور میں نے ان سے کچھ بھی نہ پوچھا تو ایک دیہاتی نے سوال کیا کہ میں ایک غلام ہوں جو اپنے گھر والوں کے اونٹوں کی دیکھ بھال کرتا ہوں، ایک شخص مجھ سے پانی طلب کرتا ہے کیا میں اس کو پانی پلا دوں؟ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نہ پلاؤ، دیہاتی نے کہا: اگر مجھے اس کے ہلاک ہو جانے کا ڈر محسوس ہو۔ فرمایا: اسے اتنا پانی پلاؤ کہ اس کی جان بچ جائے، پھر اپنے گھر والوں کو خبر دو۔ دیہاتی نے کہا: میں شکار کو موقع پر قتل کرتا ہوں اور زخمی بھی کرتا ہوں تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس کو تو موقع پر گرائے کھا لے اور جو زخمی ہو کر کہیں دور جا کر مرے اس کو نہ کھا، میں نے حکم سے پوچھا: «أَصْمَاء» کیا ہے؟ کہتے ہیں: ”موقع پر ہی مار دینا“، میں نے پوچھا: «أَنْمَاء» کیا ہے؟ فرماتے ہیں: ”ایسا شکار جو آپ سے چھپ جائے“۔
یہ روایت ایک دوسری سند سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً بھی مروی ہے، لیکن وہ ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18902]
یہ روایت ایک دوسری سند سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً بھی مروی ہے، لیکن وہ ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18902]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18903
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: مَا أَصْمَيْتَ: مَا قَتَلَتْهُ الْكِلَابُ وَأَنْتَ تَرَاهُ، وَمَا أَنْمَيْتَ: مَا غَابَ عَنْكَ مَقْتَلُهُ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَا يَجُوزُ عِنْدِي فِيهِ إِلَّا هَذَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ جَاءَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٤٠٥⦘ شَيْءٌ فَإِنِّي أَتَوَهَّمُهُ فَيَسْقُطَ كُلُّ شَيْءٍ خَالَفَ أَمْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَقُومَ مَعَهُ رَأْيٌ وَلَا قِيَاسٌ فَإِنَّ اللهَ قَطَعَ الْعُذْرَ لِقَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا الَّذِي تَوَهَّمَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِيمَا.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «إِصْمَاءٌ» ایسا شکار ہے جس کو آپ کے دیکھتے ہوئے کتے ہلاک کر دیں اور «إِنْمَاءٌ» ایسا شکار ہے جو آپ سے غائب ہو کر مرے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک اس میں اس کے سوا کچھ جائز نہیں، الا یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں کچھ منقول ہو، جس کا مجھے گمان ہے، تو پھر ہر وہ چیز جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مخالف ہو وہ ساقط ہو جاتی ہے، رائے اور قیاس اس کے برابر نہیں ہوتا؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے ذریعے عذر ختم کر دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18903]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18904
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي حَمْدَانُ بْنُ عَمْرٍو الْمَوْصِلِيُّ، ثنا غَسَّانُ هُوَ ابْنُ الرَّبِيعِ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا ثَابِتٌ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ، ثنا عَاصِمٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَسَمَّيْتَ فَأَمْسَكَ عَلَيْكَ فَقَتَلَ فَكُلْ، فَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ، وَإِذَا خَالَطَ كِلَابًا لَمْ تَذْكُرِ اسْمَ اللهِ عَلَيْهَا فَأَمْسَكْنَ وَقَتَلْنَ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيُّهَا قَتَلَ، وَإِنْ رَمَيْتَ الصَّيْدَ فَوَجَدْتَهُ بَعْدَ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ لَيْسَ بِهِ إِلَّا أَثَرُ سَهْمِكَ فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَأْكُلَ فَكُلْ، وَإِنْ وَقَعَ فِي الْمَاءِ فَلَا تَأْكُلْ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ يَزِيدَ.
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو اپنا کتا شکار پر اللہ کا نام لے کر چھوڑے اور کتے نے شکار کو قتل کرنے کے بعد کھایا نہیں تو آپ شکار کو کھا لیں۔ اگر کتے نے شکار سے کچھ کھا لیا تب آپ شکار نہ کھائیں، کیونکہ کتے نے شکار اپنے لیے کیا ہے اور جس وقت آپ کے کتے کے ساتھ دوسرے کتے شامل ہو جائیں جن کو چھوڑتے ہوئے اللہ کا نام نہیں لیا گیا، اگر وہ شکار کو قتل کر کے روک لیں، یعنی باقی رکھیں تو آپ نہ کھائیں، کیونکہ آپ کو معلوم نہیں کہ کس نے قتل کیا ہے۔ اگر شکار کو آپ تیر ماریں، ایک یا دو دن کے بعد وہی تیر والا شکار آپ پا لیں، اگر چاہو تو کھا لو، اگر وہ پانی میں گر کر ہلاک ہو جائے تو نہ کھاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18904]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18905
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ عَاصِمٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ فَإِنْ أَدْرَكْتَهُ فَكُلْ إِلَّا أَنْ تَجِدَهُ قَدْ وَقَعَ فِي مَاءٍ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي الْمَاءُ قَتَلَهُ أَوْ سَهْمُكَ، فَإِنْ وَجَدْتَهُ بَعْدَ لَيْلَةٍ أَوْ لَيْلَتَيْنِ فَلَمْ تَجِدْ فِيهِ أَثَرًا غَيْرَ أَثَرِ سَهْمِكَ فَشِئْتَ أَنْ تَأْكُلَ مِنْهُ فَكُلْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى: عَنْ دَاوُدَ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَدِيٍّ.
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے شکار کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آپ اپنا تیر اللہ کا نام لے کر چھوڑیں، اگر آپ شکار کو پا لیں تو کھاؤ، وگرنہ اگر شکار پانی میں گر جائے تو آپ کو معلوم نہیں کہ وہ پانی کی وجہ سے یا آپ کے تیر کی وجہ سے ہلاک ہوا ہے۔ اگر آپ ایک یا دو راتوں کے بعد شکار کو پا لیں اور شکار میں آپ کے تیر کے نشان کے علاوہ کوئی دوسرا نشان نہ ہو، اگر شکار کو آپ کھانا چاہیں تو کھا لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18905]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح