السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3785. -- باب: ما جاء في صيد المجوسي
-- باب: مجوسی کے شکار کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 18926
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْإِسْفِرَايِينِيُّ بِهَا، أنبأ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ، ح وَأنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، حَدَّثَنِي الصُّوفِيُّ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُؤَدِّبُ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: نُهِينَا عَنْ صَيْدِ كَلْبِ الْمَجُوسِيِّ وَطَائِرِهِ. ورَوَاهُ أَيْضًا وَكِيعٌ، عَنْ شَرِيكٍ، غَيْرَ أَنَّ الْحَجَّاجَ بْنَ أَرْطَاةَ لَا يُحْتَجُّ بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ. وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَأَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" نَهَى عَنْ ذَبِيحَةِ الْمَجُوسِيِّ وَصَيْدِ كَلْبِهِ وَطَائِرِهِ". ⦗٤١٢⦘ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ مَنْ لَا يُحْتَجُّ بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ: ”مجوس کے کتے اور پرندے کے شکار سے ہمیں منع کیا گیا ہے۔“ (ب) سیدنا جابر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ: ”مجوس کے ذبیحہ اور ان کے کتے اور پرندے کے شکار سے منع فرمایا گیا۔“
البتہ حجاج بن ارطاۃ قابلِ حجت نہیں ہے، واللہ اعلم۔ اس سند میں ایسا راوی ہے جو قابلِ حجت نہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18926]
البتہ حجاج بن ارطاۃ قابلِ حجت نہیں ہے، واللہ اعلم۔ اس سند میں ایسا راوی ہے جو قابلِ حجت نہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18926]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3786. -- باب: ما جاء في ذكاة ما لا يقدر على ذبحه إلا برمي أو سلاح
-- باب: اس جانور کے ذبیحے (ذکاۃ) کا بیان جسے تیر مارنے یا ہتھیار کے بغیر ذبح کرنا ممکن نہ ہو۔
حدیث نمبر: 18927
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّاغَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا لَيْسَ مَعَنْا مُدًى. قَالَ:" مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللهِ فَكُلْ لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ، أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ". قَالَ: وَأَصَابَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهْبًا فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ فَسَعَوْا لَهُ فَلَمْ يَسْتَطِيعُوهُ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِهَذِهِ الْإِبِلِ - أَوْ قَالَ: النَّعَمِ - أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَمَا عَلَيْكُمْ بِهَا فَاصْنَعُوا بِهَا هَكَذَا" وَتَرَدَّى بَعِيرٌ فِي بِئْرٍ فَلَمْ يَسْتَطِيعُوا أَنْ يَنْحَرُوهُ إِلَّا مِنْ قِبَلِ شَاكِلَتِهِ فَاشْتَرَى مِنْهُ ابْنُ عُمَرَ عَشِيرًا بِدِرْهَمَيْنِ. وَقَالَ لَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ وَأَبُو سَعِيدٍ فِي الْفَوَائِدِ: تَعْشِيرًا أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَغَيْرِهِ.
عبایہ بن رفاعہ اپنے دادا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کل ہم دشمن سے ملنے والے ہیں، ہمارے پاس چھری نہیں ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو خون بہائے اور جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اسے کھا لیں، لیکن دانت اور ناخن سے ذبح نہ کریں، کیونکہ دانت ہڈی ہے جبکہ ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مال غنیمت ملا جس میں سے ایک اونٹ بھاگ گیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پکڑنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوئے تو ایک شخص نے تیر مار کر روک لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعض اونٹ بھاگ جاتے ہیں جس طرح جنگلی جانور ہوتے ہیں، اگر ان میں کوئی قابو نہ آئے تو اسے اس طرح تیر مارا جائے۔“ ایک اونٹ کنویں میں گر گیا، صحابہ اس کو کوکھ کی جانب کے سوا کہیں سے نحر نہ کر سکے تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے دو درہم کے بدلے اس کا دسواں حصہ خرید لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18927]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18928
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ الثَّقَفِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ مِنْ تِهَامَةَ وَقَدْ جَاعَ الْقَوْمُ فَأَصَابُوا إِبِلًا وَغَنَمًا فَانْتَهَى إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ نُصِبَتِ الْقُدُورُ فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقُدُورِ فَأُكْفِئَتْ، ثُمَّ قَسَمَ بَيْنَهُمْ فَعَدَلَ عَشْرًا مِنَ الْغَنَمِ بِبَعِيرٍ. قَالَ: فَنَدَّ بَعِيرٌ مِنْ إِبِلِ الْقَوْمِ وَلَيْسَ فِي الْقَوْمِ إِلَّا خَيْلٌ يَسِيرَةٌ، فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِهَذِهِ الْإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا". وَعَنْ عَبَايَةَ عَنْ رَافِعٍ قَالَ: قُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنْا مُدًى أَفَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ ⦗٤١٣⦘ عَلَيْهِ فَكُلْ مَا خَلَا السِّنَّ وَالظُّفُرَ، وَسَأُخْبِرُكَ عَنْ ذَلِكَ، أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ زَائِدَةَ..
سیدنا عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج اپنے دادا سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم تہامہ کے علاقے ذوالحلیفہ میں تھے، لوگ بھوکے تھے انہیں اونٹ اور بکریاں ملیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ہانڈیاں چولہوں پر تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہانڈیوں کو انڈیلنے کا حکم دیا۔ پھر تقسیم فرمائی، ایک اونٹ دس بکریوں کے برابر رکھا۔ راوی فرماتے ہیں کہ ایک اونٹ بھاگ گیا لیکن لوگوں کے پاس کمزور سا گھوڑا تھا، ایک شخص نے تیر مار کر اسے روک لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعض اونٹ بھاگ جاتے ہیں جس طرح جنگلی جانور ہوتے ہیں، اگر ان میں کوئی قابو نہ آئے تو اس طرح تیر مارا جائے۔“
(ب) سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم کل کے دن دشمن سے ملنے والے ہیں اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، کیا ہم سرکنڈوں کے ساتھ ذبح کرسکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چیز خون بہائے اور اس پر «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کا نام“ لیا گیا ہو تو اسے کھانا جائز ہے، البتہ دانت اور ناخن نہ ہو اور میں تمہیں اس کے بارے میں بتاتا ہوں؛ دانت ہڈی ہے اور ناخن حبشہ کی چھری ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18928]
(ب) سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم کل کے دن دشمن سے ملنے والے ہیں اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، کیا ہم سرکنڈوں کے ساتھ ذبح کرسکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چیز خون بہائے اور اس پر «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کا نام“ لیا گیا ہو تو اسے کھانا جائز ہے، البتہ دانت اور ناخن نہ ہو اور میں تمہیں اس کے بارے میں بتاتا ہوں؛ دانت ہڈی ہے اور ناخن حبشہ کی چھری ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18928]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18929
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْبَاغَنْدِيُّ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَأَصَابَ النَّاسُ إِبِلًا وَغَنَمًا. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ. قَالَ عَبَايَةُ: ثُمَّ إِنَّ نَاضِحًا تَرَدَّى بِالْمَدِينَةِ فَذُبِحَ مِنْ قِبَلِ شَاكِلَتِهِ فَأَخَذَ مِنْهُ ابْنُ عُمَرَ عَشِيرًا بِدِرْهَمَيْنِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قَبِيصَةَ حَدِيثَ السِّنِّ وَأَخْرَجَاهُ بِطُولِهِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سُفْيَانَ.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ذوالحلیفہ مقام پر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ لوگوں کو اونٹ اور بکریاں ملیں۔ عبایہ کہتے ہیں کہ مدینہ میں اونٹ کنویں میں گر گیا، وہ کوکھ کی جانب سے ذبح کر دیا گیا تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے دسواں حصہ دو درہم کے بدلے میں خرید لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18929]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18930
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبُو مَرْوَانَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ حَرَامٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُحَمَّدٍ ابْنَيْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِيهِمَا، أَنَّهُ قَالَ: مَرَّتْ عَلَيْنَا بَقَرَةٌ مُمْتَنِعَةٌ نَافِرَةٌ لَا تَمُرُّ عَلَى أَحَدٍ إِلَّا نَطَحَتْهُ وَشَدَّتْ عَلَيْهِ، فَخَرَجْنَا عَلَيْهِ نُكِدُّهَا حَتَّى بَلَغْنَا الصَّمَّاءَ وَمَعَنَا غُلَامٌ قِبْطِيٌّ لِبَنِي حَرَامٍ وَمَعَهُ مُشْتَمَلٌ فَشَدَّتْ عَلَيْهِ لِتَنْطَحَهُ فَضَرَبَهَا أَسْفَلَ مِنَ الْمَنْحَرِ وَفَوْقَ مَرْجِعِ الْكَتِفِ فَرَكِبَتْ رَدْعَهَا فَلَمْ يُدْرَكْ لَهَا ذَكَاةٌ. قَالَ جَابِرٌ: فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَأْنَهَا فَقَالَ:" إِذَا اسْتَوْحَشَتِ الْإِنْسِيَّةُ وَتَمَنَّعَتْ فَإِنَّهُ يُحِلُّهَا مَا يُحِلُّ الْوَحْشِيَّةَ، ارْجِعُوا إِلَى بَقَرَتِكُمْ وَكُلُوهَا". فَرَجَعْنَا إِلَيْهَا فَاجْتَزَرْنَاهَا.
عبد الرحمن اور محمد، حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے دونوں بیٹے، اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک بھاگی ہوئی سرکش گائے ہمارے پاس سے گزری، وہ جس کے پاس سے بھی گزرتی تو اسے ٹکر مارتی اور اس پر حملہ کرتی تھی۔ ہم اس کے پیچھے نکلے اور اسے تھکاتے ہوئے صماء تک پہنچ گئے۔ ہمارے ساتھ بنو حرام کا ایک قبطی غلام تھا جس کے پاس ایک چھوٹی تلوار تھی، گائے نے اسے ٹکر مارنے کے لیے اس پر حملہ کیا تو اس نے اسے نحر کی جگہ سے نیچے اور کندھے کے جوڑ سے اوپر مارا، تو وہ منہ کے بل گر پڑی اور اسے ذبح کرنے کا موقع نہ مل سکا۔ جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا حال بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب پالتو جانور وحشی بن جائے اور قابو میں نہ آئے تو جو چیز وحشی جانور کو حلال کرتی ہے وہی اسے بھی حلال کر دیتی ہے، اپنی گائے کی طرف لوٹ جاؤ اور اسے کھا لو۔“ چنانچہ ہم اس کی طرف لوٹے اور اسے ذبح کر کے اس کا گوشت بنا لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18930]
حدیث نمبر: 18931
أَخْبَرَنَا الْإِمَامُ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الشَّافِعِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْعُشَرَاءِ الدَّارِمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَمَا تَكُونُ الذَّكَاةُ إِلَّا فِي الْحَلْقِ وَاللَّبَّةِ؟ قَالَ:" وَأَبِيكَ لَوْ طَعَنْتَ فِي فَخِذِهَا لَأَجْزَأَ عَنْكَ". ⦗٤١٤⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا فِي الْمُتَرَدِّي وَأَشْبَاهِهِ.
ابو عشراء دارمی اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ذبح صرف حلق سے کیا جاتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اس کی ران میں نیزہ مار دیتا تو وہ بھی تجھے کافی ہوتا۔“
شیخ فرماتے ہیں کہ یہ کنویں میں گرنے والے جانور اور اس کے مشابہ اشیاء میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18931]
شیخ فرماتے ہیں کہ یہ کنویں میں گرنے والے جانور اور اس کے مشابہ اشیاء میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18931]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18932
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:" مَا أَعْجَزَكَ مِنَ الْبَهَائِمِ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الصَّيْدِ أَنْ تَرْمِيَهُ".
عکرمہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ جو چوپائے قابو میں نہ آئیں، وہ شکار کے قائم مقام ہیں کہ آپ ان کو نیزہ ماریں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18932]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18933
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ثنا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: إِنَّ بَعِيرًا لِي نَدَّ فَطَعَنْتُهُ بِرُمْحٍ. فَقَالَ: أَهْدِ لِي عَجُزَهُ".
حبیب بن ابی ثابت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میرا اونٹ بھاگ گیا تھا، میں نے اس کو نیزہ مارا تھا۔ فرمایا: مجھے اس کی سرین ہدیہ میں دینا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18933]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18934
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ غَضْبَانَ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْبَجَلِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَدِمَ النَّاسُ الْكُوفَةَ فَأَعْرَسَ رَجُلٌ مِنَ الْحِيِّ فَاشْتَرَى جَزُورًا فَنَدَّتْ فَذَهَبَتْ ثُمَّ اشْتَرَى أُخْرَى فَخَشِيَ أَنْ تَنِدَّ فَعَرْقَبَهَا وَذَكَرَ اسْمَ اللهِ فَمَاتَتْ، فَأَتَوْا عَبْدَ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلُوهُ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَأْكُلُوا، فَوَاللهِ مَا طَابَتْ أَنْفُسُ الْحِيِّ أَنْ يَأْكُلُوا مِنْهَا شَيْئًا حَتَّى جَعَلُوا لَهُ مِنْهَا بِضْعَةً، ثُمَّ أَتَوْهُ بِهَا فَأَكَلَ، وَرَجَعَ الْحِيُّ إِلَى طَعَامِهِمْ فَأَكَلُوا.
غضبان یعنی ابن یزید بجلی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگ کوفہ آئے، وہاں محلی (قبیلے) کے ایک شخص نے شادی کی اور ایک اونٹنی خریدی، وہ بھاگ گئی۔ پھر اس نے دوسری خریدی تو اس کے بھاگ جانے کے ڈر سے اس کی کونچیں کاٹ دیں اور اللہ کا نام لیا اور وہ مر گئی، تو انہوں نے آ کر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے اسے کھانے کا حکم دیا، لیکن قبیلے کے لوگ اس وقت تک کھانے پر تیار نہ ہوئے جب تک اس کا ایک ٹکڑا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس نہ لائے، جب انہوں نے اسے کھا لیا تو قبیلے کے لوگ بھی اسے کھانے پر تیار ہو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18934]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3787. -- باب: ما يذكى به
-- باب: جس چیز کے ذریعے ذبح کیا جا سکتا ہے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 18935
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي سَعِيدٍ: عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَيْسَتْ مَعَنْا مُدًى أَنُذَكِّي بِاللِّيطِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ عَلَيْهِ اسْمُ اللهِ فَكُلُوا إِلَّا مَا كَانَ مِنْ سِنٍّ أَوْ ظُفُرٍ فَإِنَّ السِّنَّ عَظْمٌ مِنَ الْإِنْسَانِ وَالظُّفُرَ مُدَى الْحَبَشِ".
عبایہ بن رافع سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم کل دشمن سے ملنے والے ہیں اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں۔ کیا ہم بانس کے چھلکے وغیرہ سے ذبح کر لیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چیز خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو کھاؤ، لیکن جو ناخن اور دانت سے ذبح کیا گیا ہو اسے نہ کھاؤ، کیونکہ دانت انسان کی ہڈی ہے جبکہ ناخن حبشہ کی چھری ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18935]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم»
الحكم على الحديث: صحيح