السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3790. -- باب: الصيد يرمى بحجر أو بندقة
-- باب: اس شکار کا بیان جسے پتھر یا غلیل (کی گولی) سے مارا جائے۔
حدیث نمبر: 18946
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الْمَقْتُولَةِ بِالْبُنْدُقَةِ: تِلْكَ الْمَوْقُوذَةُ.
زید بن اسلم سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایسا شکار جو غلیل کی گولی (بندقہ، مٹی کا غلہ) سے مارا جائے گویا کہ وہ لکڑی کی چوٹ سے مرا تصور ہوگا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18946]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 18947
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا ⦗٤١٨⦘ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّهُ قَالَ: رَمَيْتُ طَائِرَيْنِ بِحَجَرٍ. قَالَ: فَأَصَبْتُهُمَا، فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَمَاتَ فَطَرَحَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَذَهَبَ عَبْدُ اللهِ يُذَكِّيهِ بِقَدُومٍ فَمَاتَ قَبْلَ أَنْ يُذَكِّيَهُ فَطَرَحَهُ أَيْضًا.
مالک، نافع رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے دو پرندے پتھر سے شکار کیے اور دونوں کو پکڑ بھی لیا، ایک تو مر گیا جس کو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے پھینک دیا اور دوسرا بھی ذبح سے پہلے ہلاک ہو گیا، اس کو بھی پھینک دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18947]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3791. -- باب: صيد المعراض
-- باب: معراض (دھار کے بغیر چوڑے تیر) سے کیے گئے شکار کا بیان۔
حدیث نمبر: 18948
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَرَجُلٌ آخَرُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ النَّخَعِيِّ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَمَيْتَ فَسَمَّيْتَ فَخَرَقَ فَكُلْ وَإِنْ قَتَلَ، وَإِذَا أَصَبْتَ بِعَرْضِهِ فَقَتَلَ فَلَا تَأْكُلْ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قَبِيصَةَ عَنْ سُفْيَانَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ كَمَا مَضَى.
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے نیزہ کی چوڑائی کی جانب سے کیے جانے والے شکار کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو اللہ کا نام لے کر شکار کو نیزہ مارے اور وہ اس کا خون بہا دے تو کھا لو، اگرچہ وہ اسے مار ڈالے، اگر چوڑائی کی جانب سے لگ کر قتل کر دے تو نہ کھاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18948]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18949
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ عَاصِمٌ، وَزَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ:" مَا أَصَبْتَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَمَا أَصَبْتَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، وَزَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ وَغَيْرِهِمَا.
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے نیزے کی چوڑائی کی جانب سے کیے ہوئے شکار کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کو نیزے کی دھار لگے اسے کھا لو اور جس شکار کو نیزے کی چوڑائی کی جانب سے ضرب لگے وہ لکڑی کی چوٹ سے مرا ہوا تصور ہوگا، اسے نہ کھاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18949]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
3792. -- باب: تفسير قوله عز وجل: حرمت عليكم الميتة والدم ولحم الخنزير وما أهل لغير الله به والمنخنقة والموقوذة والمتردية والنطيحة وما أكل السبع إلا ما ذكيتم وما ذبح على النصب وأن تستقسموا بالأزلام
-- باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان کی تفسیر کا بیان: ”تم پر مردار، خون، سور کا گوشت اور وہ جانور حرام کیا گیا ہے جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو، اور گلا گھٹ کر مرنے والا، چوٹ لگ کر مرنے والا، بلندی سے گر کر مرنے والا، سینگ لگ کر مرنے والا، اور وہ جسے درندے نے کھایا ہو سوائے اس کے جسے تم ذبح کر لو، اور جو آستانوں (بتوں) پر ذبح کیا گیا ہو، اور یہ کہ تم تیروں کے ذریعے فال (قسمت) نکالو“۔
حدیث نمبر: 18950
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي هَذِهِ الْآيَةِ قَالَ: {وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللهِ بِهِ} [المائدة: ٣] يَعْنِي: مَا أُهِلَّ لِلطَّوَاغِيتِ كُلِّهَا، {وَالْمُنْخَنِقَةُ} [المائدة: ٣] : الَّتِي تَنْخَنِقُ فَتَمُوتُ، {وَالْمَوْقُوذَةُ} [المائدة: ٣] : الَّتِي ⦗٤١٩⦘ تُضْرَبُ بِالْخَشَبِ حَتَّى تَقِذَهَا فَتَمُوتَ، {وَالْمُتَرَدِّيَةُ} [المائدة: ٣] : الَّتِي تَتَرَدَّى مِنَ الْجَبَلِ فَتَمُوتُ، {وَالنَّطِيحَةُ} [المائدة: ٣] : الشَّاةُ تَنْطَحُ الشَّاةَ، {وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ} [المائدة: ٣] يَقُولُ: مَا أَخَذَ السَّبُعُ فَمَا أَدْرَكْتَ مِنْ هَذَا كُلِّهُ فَتَحَرَّكَ لَهُ ذَنَبٌ أَوْ تَطْرِفُ لَهُ عَيْنٌ فَاذْبَحْ وَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ فَهُوَ حَلَالٌ. وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ مِنْ هَذَا التَّفْسِيرِ قَالَ: هِيَ الْأَصْنَامُ، وَفِي قَوْلِهِ: وَأَنْ تَسْتَقْسِمُوا بِالْأَزْلَامِ يَعْنِي الْقِدَاحَ، كَانُوا يَسْتَقْسِمُونَ بِهَا فِي الْأُمُورِ، ذَلِكُمْ فِسْقٌ يَعْنِي: مَنْ أَكَلَ مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ فَهُوَ فِسْقٌ.
حضرت علی بن ابی طلحہ رحمہ اللہ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد: ﴿مَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ﴾ [سورة المائدة: 3] کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ ہے جو بتوں کے نام پر چھوڑا جائے۔ اور «الْمُنْخَنِقَةُ» ایسا جانور جس کا گلا گھونٹ کر مارا گیا ہو، «الْمَوْقُوذَةُ» ایسا جانور جو لکڑی کی چوٹ سے مارا جائے، «الْمُتَرَدِّيَةُ» ایسا جانور جو پہاڑ سے گر کر مر جائے، «النَّطِيحَةُ» وہ بکری جو دوسری بکری کے سینگ لگنے کی وجہ سے ہلاک ہو جائے، ﴿وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ﴾ [سورة المائدة: 3] جس کو درندے نے پھاڑ کھایا، آپ نے پکڑا تو اس کی دم حرکت کر رہی تھی اور آنکھ بھی متحرک تھی تو اللہ کا نام لے کر ذبح کرو، یہ حلال ہے۔ ایک دوسری جگہ اس کی تفسیر ﴿إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ﴾ [سورة المائدة: 3] ہے کہ ایسے جانور جن میں روح ہو اور تم ذبح کر لو وہ حلال ہے، ﴿وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ﴾ [سورة المائدة: 3] جن کو تھانوں پر ذبح کیا گیا ہو اور ان کے نام پر مشہور کیا گیا ہو، دوسری تفسیر میں ہے کہ یہ بت ہیں، ﴿وَأَنْ تَسْتَقْسِمُوا بِالْأَزْلَامِ﴾ [سورة المائدة: 3] ایسے تیر جن کے ذریعے قسمت کا حال معلوم کرتے ہیں، ﴿ذٰلِكُمْ فِسْقٌ﴾ [سورة المائدة: 3] جس نے ان جانوروں سے کچھ کھایا یہ گناہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18950]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3793. -- باب: ما ذبح لغير الله
-- باب: اس جانور کا بیان جو اللہ کے سوا کسی اور کے لیے ذبح کیا گیا ہو۔
حدیث نمبر: 18951
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ الْعَمِّيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، ثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَقِيَ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ بِأَسْفَلِ بَلْدَحَ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ، فَقَدَّمَ إِلَيْهِ سُفْرَةً فِيهَا لَحْمٌ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا ثُمَّ قَالَ: إِنِّي لَا آكُلُ مِمَّا تَذْبَحُونَ عَلَى أَنْصَابِكُمْ، وَلَا آكُلُ إِلَّا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُعَلَّى بْنِ أَسَدٍ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کی ملاقات زید بن عمرو بن نفیل سے بلدح کی نچلی جانب ہوئی۔ یہ وحی نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کے سامنے دسترخوان پیش کیا جس میں گوشت تھا تو زید نے کھانے سے انکار کر دیا، اور کہا: ”جو تھانوں پر ذبح کیا جائے وہ میں نہیں کھاتا۔ میں تو صرف وہ کھاتا ہوں جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18951]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ٣٠٢٦»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18952
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَمْرٌو هُوَ ابْنُ مَرْزُوقٍ أنبأ شُعْبَةُ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: سُئِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: هَلْ خَصَّكُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ؟ قَالَ: مَا خَصَّنَا بِشَيْءٍ لَمْ يَعُمَّ بِهِ النَّاسَ كَافَّةً إِلَّا مَا كَانَ فِي قِرَابِ سَيْفِي هَذَا. قَالَ: فَأَخْرَجَ صَحِيفَةً فَإِذَا فِيهَا: لَعَنَ اللهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللهِ، وَلَعَنَ اللهُ مَنْ سَرَقَ مَنَارَ الْأَرْضِ، وَلَعَنَ اللهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَيْهِ، وَلَعَنَ اللهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ.
حضرت ابو طفیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے لیے کوئی چیز مخصوص کی ہے؟ فرماتے ہیں: عام لوگوں سے ہمارے لیے کچھ خاص تو نہیں کیا لیکن جو میری تلوار کے میان میں ہے۔ پھر انہوں نے ایک صحیفہ نکالا جس میں تھا کہ: ”اللہ اس پر لعنت فرمائے جو غیر اللہ کے لیے ذبح کرتا ہے اور جو زمین کی علامات کو چوری کرتا ہے اور اپنے والدین پر لعنت کرنے والے شخص پر اور جو بدعتی انسان کو جگہ دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18952]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٩٧٨»
الحكم على الحديث: صحيح
3794. -- باب: ما جاء في البهيمة تريد أن تموت فتذبح
-- باب: اس چوپائے کے متعلق کیا مروی ہے جو مرنے کے قریب ہو تو اسے ذبح کر دیا جائے۔
حدیث نمبر: 18953
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ رَجُلًا ذَبَحَ شَاةً وَهُوَ يَرَى أَنَّهَا قَدْ ⦗٤٢٠⦘ مَاتَتْ فَتَحَرَّكَتْ فَسَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَهُ فَقَالَ: كُلْهَا، فَسَأَلَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَقَالَ لَهُ: لَا تَأْكُلْهَا فَإِنَّ الْمَيْتَةَ قَدْ تَتَحَرَّكُ".
محمد بن زید فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے بکری ذبح کی، اس کے خیال میں وہ مر گئی، لیکن اس نے حرکت کی، اس نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: کھا لو، جب زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا تو انہوں نے کہا: نہ کھاؤ کیونکہ مردہ کبھی حرکت بھی کرتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18953]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18954
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ، مَوْلَى عَقِيلٍ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ شَاةٍ ذُبِحَتْ فَتَحَرَّكَ بَعْضُهَا فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْكُلَهَا، ثُمَّ سَأَلَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ زَيْدٌ: إِنَّ الْمَيْتَةَ، أَظُنُّهُ قَالَ: لَتَتَحَرَّكُ، وَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مَرْفُوعٌ عَنْ زَيْدٍ.
عقیل کے آزاد کردہ غلام ابومرہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ایک ذبح شدہ بکری کا بعض حصہ حرکت کرتا ہے، تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کھانے کی اجازت دی، پھر زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں سوال ہوا تو انہوں نے کہا: مردار میرے خیال میں حرکت کرتا ہے، نہ کھاؤ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18954]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18955
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ حَاضِرَ بْنَ مُهَاجِرٍ أَبَا عِيسَى الْبَاهِلِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ ذِئْبًا نَهَبَ فِي شَاةٍ فَذَكَّوْهَا بِمَرْوَةٍ فَرَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَكْلِهَا.
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کسی بکری میں بھیڑیا کچلیاں گاڑ دیتا ہے، پھر وہ اس کو پتھر سے ذبح کر لیتے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس کے کھانے کی اجازت دی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18955]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف