السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3779. -- باب: الإرسال على الصيد يتوارى عنك ثم تجده مقتولا
-- باب: شکار پر جانور چھوڑنے کا بیان جو تمہاری نظروں سے اوجھل ہو جائے، پھر تم اسے مردہ حالت میں پاؤ۔
حدیث نمبر: 18916
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، أَنَّ عُمَيْرَ بْنَ سَلَمَةَ الضَّمْرِيَّ أَخْبَرَهُ عَنِ الْبَهْزِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ وَهُوَ مُحْرِمٌ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ أَفْنَاءِ الرَّوْحَاءِ إِذَا حِمَارُ وَحْشٍ عَقِيرٌ، فَذَكَرَهُ الْقَوْمُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
عمیر بن سلمہ ضمری ایک بہزی شخص رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حالتِ احرام میں روحاء کے جنگل کے بعض حصے سے گزرے تو وہاں ایک زخمی وحشی گدھا موجود تھا، تو لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18916]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
3780. -- باب: الرجل يدرك صيده حيا
-- باب: اس شخص کا بیان جو اپنے شکار کو زندہ پا لے۔
حدیث نمبر: 18917
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ يَعْنِي الْجَارُودِيَّ، ثنا أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ، فَإِنْ أَمْسَكَ عَلَيْكَ فَأَدْرَكْتَهُ حَيًّا فَاذْبَحْهُ، وَإِنْ أَدْرَكْتَهُ قَدْ قُتِلَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ فَكُلْهُ، وَإِنْ وَجَدْتَ مَعَ كَلْبِكَ كَلْبًا غَيْرَهُ وَقَدْ قُتِلَ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيُّهُمَا قَتَلَهُ، وَإِنْ رَمَيْتَ سَهْمَكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ، وَإِنْ غَابَ عَنْكَ يَوْمًا فَلَمْ تَجِدْ فِيهِ إِلَّا أَثَرَ سَهْمِكَ فَكُلْ إِنْ شِئْتَ، وَإِنْ وَجَدْتَهُ غَرِيقًا فِي الْمَاءِ فَلَا تَأْكُلْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ شُجَاعٍ.
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو شکار پر اپنے کتے کو چھوڑے تو اللہ کا نام لے، اگر کتا شکار کو تیرے لیے باقی رکھے اور شکار کو تو زندہ پالے تو ذبح کر اور اگر کتے نے شکار کو قتل کر کے کھایا نہیں تو وہ شکار کھا لو۔ اگر تو اپنے کتے کے ساتھ کسی دوسرے کتے کو پائے کہ اس نے شکار کو قتل کر دیا ہے تو آپ نہ کھائیں کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ کس نے قتل کیا ہے اور اگر تو شکار کو تیر مارے تو اللہ کا نام لے۔ اگر شکار تجھ سے ایک دن غائب رہے اور اس میں تو اپنے تیر کا نشان پائے چاہے تو کھا لے، اگر آپ اس کو پانی میں ڈوبا ہوا پاتے ہیں تو پھر نہ کھائیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18917]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
3781. -- باب: غير المعلم إذا أصاب صيدا
-- باب: غیر سدھایا ہوا جانور جب کوئی شکار پکڑے تو اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 18918
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضُ صَيْدٍ أَصِيدُ بِالْكَلْبِ الْمُكَلَّبِ وَبِالْكَلْبِ الَّذِي لَيْسَ بِمُكَلَّبٍ، فَأَخْبِرْنِي مَاذَا يَحِلُّ لَنَا مِمَّا يَحْرُمُ عَلَيْنَا مِنْ ذَلِكَ. فَقَالَ: أَمَّا مَا صَادَ كَلْبُكَ الْمُكَلَّبُ فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكَ عَلَيْكَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ، وَأَمَّا مَا صَادَ كَلْبُكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُكَلَّبٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ مِنْهُ، وَمَا لَمْ تُدْرِكْ ذَكَاتَهُ فَلَا تَأْكُلْ مِنْهُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئِ عَنْ حَيْوَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ. وَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ حَيْوَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: أَصِيدُ بِكَلْبِي الْمُعَلَّمِ وَبِكَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ.
ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارا علاقہ شکار والا ہے۔ میں وہاں سدھائے ہوئے اور بغیر سدھائے ہوئے کتوں سے شکار کرتا ہوں۔ آپ ہمیں بتائیں ہمارے لیے اس میں سے کیا حلال ہے اور کیا حرام؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو سدھایا ہوا کتا شکار کرے اور تیرے لیے شکار کو روک بھی لے تو اللہ کا نام لے کر کھا لو اور جو غیر سدھایا ہوا کتا شکار کرے، اگر آپ شکار کو ذبح کر لیں تو کھا لو، اگر ذبح کا موقع نہ مل سکے تو نہ کھاؤ۔“
(ب) حیوہ کی حدیث میں ہے کہ میں سدھائے اور غیر سدھائے کتوں سے شکار کرتا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18918]
(ب) حیوہ کی حدیث میں ہے کہ میں سدھائے اور غیر سدھائے کتوں سے شکار کرتا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18918]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
3782. -- باب: المسلم يرسل كلبه المعلم على صيد فخالطه ما لم يرسله مسلم
-- باب: مسلمان اپنا سدھایا ہوا کتا شکار پر چھوڑے، پھر اس کے ساتھ کوئی ایسا (جانور) شامل ہو جائے جسے کسی مسلمان نے نہ چھوڑا ہو (تو اس کا حکم)۔
حدیث نمبر: 18919
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ فَقُلْتُ: أُرْسِلُ كَلْبِي فَأَجِدُ مَعَ كَلْبِي كَلْبًا آخَرَ لَا أَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَ. فَقَالَ:" لَا تَأْكُلْهُ فَإِنَّكَ إِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ شُعْبَةَ..
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے بارے میں پوچھا کہ میں اپنا کتا شکار پر چھوڑتا ہوں تو اس کے ساتھ کوئی دوسرا کتا بھی پاتا ہوں، مجھے معلوم نہیں کہ دونوں میں سے کس نے شکار کو پکڑا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو شکار کو نہ کھا؛ کیونکہ تو نے اپنے کتے کو چھوڑتے وقت اللہ کا نام لیا تھا، دوسرے کتے پر نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18919]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18920
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أُرْسِلُ كَلْبِي عَلَى الصَّيْدِ، فَذَكَرَهُ. ⦗٤١٠⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ.
حضرت عدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنے کتے کو شکار پر چھوڑتا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18920]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18921
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ عَاصِمٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ: عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِنْ خَالَطَ كَلْبُكَ كِلَابًا فَقَتَلْنَ وَلَمْ يَأْكُلْنَ لَا تَأْكُلْ مِنْهُ شَيْئًا فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيُّهَا قَتَلَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ.
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے حدیث کو ذکر کیا جس میں یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تیرا کتا دوسرے کتوں کے ساتھ مل کر شکار کو قتل کر دے اور اس شکار کو کھائے نہیں تو آپ اس سے کچھ نہ کھائیں کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ کس نے اس کو قتل کیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18921]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3783. -- باب: من رمى صيدا أو طعنه أو أرسل كلبا فقطعه قطعتين أو قطع رأسه أو بطنه أو صلبه
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے کسی شکار پر تیر چلایا، یا اسے نیزہ مارا، یا کتا چھوڑا اور اس نے اس کے دو ٹکڑے کر دیے، یا اس کا سر، یا پیٹ یا کمر کاٹ دی۔
حدیث نمبر: 18922
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ سَيْفٍ، حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ عَائِذُ اللهِ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا فِي أَرْضِ صَيْدٍ فَأَرْمِي بِقَوْسِي فَمِنْهُ مَا أُدْرِكُ ذَكَاتَهُ وَمِنْهُ مَا لَا أُدْرِكُ ذَكَاتَهُ وَأُرْسِلُ كَلْبِي الْمُكَلَّبَ فَمِنْهُ مَا أُدْرِكُ ذَكَاتَهُ وَمِنْهُ مَا لَمْ أُدْرِكْ ذَكَاتَهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ وَكَلْبُكَ وَيَدُكَ فَكُلْ ذَكِيٌّ وَغَيْرُ ذَكِيٍّ".
سیدنا ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ہم شکار کے علاقے میں رہتے ہیں، میں اپنی کمان سے شکار کرتا ہوں، بعض اوقات ذبح کا موقع مل جاتا ہے اور کبھی ذبح کرنے کا موقع نہیں ملتا، اور میں اپنا سدھایا ہوا کتا چھوڑتا ہوں، بعض اوقات ذبح کا موقع مل جاتا ہے اور کبھی ذبح کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تیری کمان، کتا، ہاتھ تجھ پر لوٹ دے اسے کھا لو ذبح ہو یا نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18922]
تخریج الحدیث: «حسن۔ تقدم برقم ١٨٨٨٣»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 18923
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ حَدَّثَهُ أَنَّ مَوْلًى لِشُرَحْبِيلَ ابْنِ حَسَنَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، وَحُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ صَاحِبَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولَانِ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَلَّ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ".
عقبہ بن عامر جہنی اور حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شکار حلال ہے جو تیری قوس واپس کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18923]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3784. -- باب: ما قطع من الحي فهو ميتة
-- باب: جو حصہ زندہ جانور سے کاٹ لیا جائے وہ مردار ہے۔
حدیث نمبر: 18924
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَالنَّاسُ يَجُبُّونَ أَسْنِمَةَ الْإِبِلِ وَيَقْطَعُونَ أَلْيَاتِ الْغَنَمِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا قُطِعَ مِنَ الْبَهِيمَةِ وَهِيَ حَيَّةٌ فَهُوَ مَيْتَةٌ".
سیدنا ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو لوگ اونٹوں کی کوہان اور بکریوں کی چکیاں (دُمیں) کاٹ لیتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو گوشت زندہ جانور سے کاٹا گیا وہ مردار کے حکم میں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18924]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3785. -- باب: ما جاء في صيد المجوسي
-- باب: مجوسی کے شکار کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 18925
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:" كُلْ مِنْ صَيْدِ أَهْلِ الْكِتَابِ وَلَا تَأْكُلْ مِنْ صَيْدِ الْمَجُوسِ".
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اہل کتاب کا شکار کھا لو لیکن مجوس کا شکار نہ کھاؤ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18925]