🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
4079. -- باب:: ما جاء في خير الشهداء
-- باب: بہترین گواہوں کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20596
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا هَاشِمُ بْنُ الْجُنَيْدِ أَبُو صَالِحٍ الْبَذَشِيُّ الْقُومِسِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ شَهَادَةٌ فَلَا يَقُلْ: لَا أَشْهَدُ بِهَا إِلَّا عِنْدَ إِمَامٍ، وَلَكِنَّهُ يَشْهَدُ، لَعَلَّهُ يَرْجِعُ وَيَرْعَوِي". هَذَا مَوْقُوفٌ، وَهُوَ الصَّحِيحُ، وَقَدْ رُوِيَ مَرْفُوعًا وَلَا يَصِحُّ رَفْعُهُ.
عمرو بن دینار، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جس کے پاس گواہی ہو وہ یہ نہ کہے کہ میں یہ گواہی صرف امام کے پاس ہی دوں گا، بلکہ وہ گواہی دے شاید کہ وہ باز آ جائے یا رک جائے۔
یہ موقوف ہے اور یہی صحیح ہے، یہ مرفوعاً بھی روایت کیا گیا ہے لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20596]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20597
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خِمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ شَهَادَةٌ فَلَمْ يَشْهَدْ بِهَا حَيْثُ رَآهَا أَوْ حَيْثُ عَلِمَ، فَإِنَّمَا يَشْهَدُ عَلَى ضِغْنٍ". هَذَا مُنْقَطِعٌ فِيمَا بَيْنَ الثَّقَفِيِّ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
محمد بن عبیداللہ ثقفی فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خط لکھا: جس کے پاس گواہی ہو اور اس نے (واقعہ) دیکھتے وقت یا جانتے وقت اس کی گواہی نہ دی، تو وہ (بعد میں) کینہ کی بنا پر ہی گواہی دیتا ہے۔
یہ روایت ثقفی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20597]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4080. -- باب:: كراهية التسارع إلى الشهادة وصاحبها بها عالم حتى يستشهده
-- باب: گواہی دینے میں جلد بازی کرنے کی کراہت جبکہ گواہ کو اس کا علم ہو یہاں تک کہ اس سے گواہی طلب کی جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20598
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ، وَأَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأُمَوِيُّ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ، وَأَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ قَالُوا: ثنا أَبُو قِلَابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ السَّمَّانُ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيْدَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ"، قَالَ: وَلَا أَدْرِي قَالَ فِي الثَّالِثَةِ، أَوْ فِي الرَّابِعَةِ:" ثُمَّ يَخْلُفُ بَعْدَهُمْ خَلْفٌ يَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ، وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَزْهَرَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین لوگ میرے زمانہ کے ہیں، پھر جو ان کے ساتھ ملیں، پھر جو ان کے ساتھ ملیں۔“ راوی کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں تیسری یا چوتھی مرتبہ بھی کہا۔ ”پھر ان کے بعد لوگ آئیں گے، ان کی گواہی قسم سے سبقت لے جائے گی اور قسم گواہی سے سبقت لے جائے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20598]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20599
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، وَأَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَنْشَأُ قَوْمٌ يَنْذِرُونَ وَلَا يُوفُونَ، وَيَحْلِفُونَ وَلَا يُسْتَحْلَفُونَ، وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ، وَيَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ، وَيَفْشُو فِيهُمُ السِّمَنُ" قَالَ أَبُو الْفَضْلِ فِي حَدِيثِهِ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ سَلَمَةَ يَقُولُ:" يَحْلِفُونَ" لَيْسَ إِلَّا فِي حَدِيثِ هِشَامٍ مِنْ أَصْحَابِ قَتَادَةَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ بِزِيَادَتِهِ وَهَذِهِ زِيَادَةٌ يَنْفَرِدُ بِهَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا دور بہترین ہے، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے۔ پھر ایسی قوم آئے گی جو نذریں مانیں گے لیکن پوری نہیں کریں گے، قسم اٹھائیں گے لیکن ان سے قسم طلب نہیں کی جائے گی، خیانت کریں گے اور امین نہیں ہوں گے، گواہی دیں گے لیکن ان سے گواہی طلب نہیں کی جائے گی اور ان میں موٹاپا عام ہو گا۔“
ابوالفضل اپنی حدیث میں نقل فرماتے ہیں کہ میں نے احمد بن سلمہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ ”وہ قسم اٹھائیں گے“ کے الفاظ قتادہ کے شاگردوں میں سے صرف ہشام کی حدیث میں ہیں۔ یہ اضافہ صرف معاذ بن ہشام اپنے والد سے بیان کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20599]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20600
وَقَدْ حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ ⦗٢٧٠⦘ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِي بُعِثْتُ فِيهِمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَأْتِي قَوْمٌ يَنْذِرُونَ وَلَا يُوفُونَ، وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ، وَيَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ، وَيَفْشُو فِيهُمُ السِّمَنُ". هَكَذَا رَوَاهُ سَائِرُ أَصْحَابِ هِشَامٍ، لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْحَلِفِ، وَذِكْرُ الْحَلِفِ فِيهِ إِنْ كَانَ حَفِظَهُ مُعَاذٌ يُوَافِقُ حَدِيثَ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَقَدْ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِذَلِكَ فِي الشَّهَادَةِ أَنْ يَشْهَدَ بِمَا لَمْ يَشْهَدْ عَلَيْهِ، وَلَمْ يَعْلَمْهُ، فَيَكُونَ شَاهِدَ زُورٍ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ وَالْعِصْمَةُ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کا بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے، جس میں میں مبعوث کیا گیا، پھر ان کے بعد والا، پھر ان کے بعد والا، پھر ایسی قوم آئے گی جو نذریں مانیں گے اور پوری نہ کریں گے، خیانت کریں گے امانت دار نہ ہوں گے، گواہی دیں گے لیکن ان سے گواہی طلب نہ کی جائے گی، ان میں موٹاپا عام ہوگا۔“ اس طرح ہشام کے تمام شاگرد نقل فرماتے ہیں لیکن قسم کا تذکرہ نہیں، اگر معاذ کو یاد ہو تو اس میں قسم کا تذکرہ ہے، وہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی موافقت کرتے ہیں۔ ممکن ہے کہ گواہی کے بارے میں اس سے مراد یہ ہو کہ وہ ایسی بات کی گواہی دے جس کا اس نے مشاہدہ نہیں کیا اور نہ ہی وہ اسے جانتا ہے، تو وہ جھوٹا گواہ ہو جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20600]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4081. -- باب:: ما على من دعي ليشهد
-- باب: جسے گواہی دینے کے لیے بلایا جائے اس پر کیا ذمہ داری لازم ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q20601
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا} [البقرة: 282] ..
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا﴾ ”اور جب گواہوں کو (گواہی کے لیے) بلایا جائے تو وہ انکار نہ کریں۔“ [سورة البقرة: 282] ... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: Q20601]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20601
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، وَخَالِدٌ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ:" إِذَا دُعِيَ لِيَشْهَدَ، وَإِذَا دُعِيَ لِيُقِيمَهَا، كِلَاهُمَا"، زَادَ فِيهِ غَيْرُهُ، عَنِ الْحَسَنِ:" فَإِنَّ النَّاسَ كُلَّهُمْ لَوْ أَبَوْا أَنْ يَشْهَدَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ لَمْ يَسَعْهُمْ ذَلِكَ". وَقَدْ ذَهَبَ جَمَاعَةٌ مِنَ الْمُفَسِّرِينَ إِلَى أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ فِي إِقَامَةِ الشَّهَادَةِ، وَالْآيَةُ مُحْتَمِلَةٌ لِلْوَجْهَيْنِ جَمِيعًا، كَمَا ذَهَبَ إِلَيْهِ الْحَسَنُ، وَهُوَ فِي التَّحَمُّلِ فَرْضٌ عَلَى الْكِفَايَةِ، فَإِذَا قَامَ بِهِ وَبِالْكِتَابَةِ مَنْ يَكْفِي أُخْرِجَ مَنْ تَخَلَّفَ مِنَ الْمَأْثَمِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
یونس بن عبید حضرت حسن رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ (یہ حکم) دونوں صورتوں میں ہے: جب گواہ بننے کے لیے بلایا جائے اور جب گواہی ادا کرنے کے لیے بلایا جائے۔
نوٹ: دوسرے راوی حسن سے یہ اضافہ بھی بیان کرتے ہیں کہ اگر تمام لوگ ایک دوسرے کے حق میں گواہی دینے سے انکار کر دیں تو ان کے لیے یہ جائز نہ ہوگا۔
مفسرین کی ایک جماعت کہتی ہے کہ یہ آیت گواہی ادا کرنے کے بارے میں ہے، اور آیت میں دونوں معنوں کا احتمال ہے، جیسا کہ حضرت حسن رحمہ اللہ کا موقف ہے۔ گواہ بننا فرضِ کفایہ ہے، جب اتنے لوگ اسے اور لکھنے کو انجام دے دیں جو کافی ہوں تو پیچھے رہنے والے گناہ سے نکل جاتے ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20601]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4082. -- باب:: ولا يضار كاتب ولا شهيد
-- باب: کسی کاتب اور کسی گواہ کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20602
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ} [البقرة: ٢٨٢] قَالَ:" أَنْ يَجِيءَ فَيَدْعُوَ الْكَاتِبَ وَالشَّهِيدَ، فَيَقُولَانِ: إِنَّا عَلَى حَاجَةٍ فَيُضَارَّ بِهِمَا، فَقَالَ: قَدْ أُمِرْتُمَا أَنْ تُجِيبَا، فَلَا يُضَارَّهُمَا".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے قول ﴿وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ﴾ [سورة البقرة: 282] ”کہ کاتب اور گواہ کو تکلیف نہ دی جائے“ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ گواہ اور کاتب کو طلب کیا جائے تو وہ کہیں: ہم مصروف ہیں، وہ کہتا ہے کہ تم کو حکم دیا گیا ہے کہ جب تمہیں طلب کیا جائے تو ضرور آؤ۔ ان دونوں کو تنگ نہ کیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20602]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20603
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: {وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا} [البقرة: ٢٨٢] يَقُولُ:" مَنِ احْتِيجَ إِلَيْهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَدْ شَهِدَ عَلَى شَهَادَةٍ، أَوْ كَانَتْ عِنْدَهُ شَهَادَةٌ، فَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَأْبَى إِذَا مَا دُعِيَ"، ثُمَّ ⦗٢٧١⦘ قَالَ بَعْدَ هَذَا:" {وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ} [البقرة: ٢٨٢] ، وَالْإِضْرَارُ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ وَهُوَ عَنْهُ غَنِيٌّ: إِنَّ اللهَ قَدْ أَمَرَكَ أَنْ لَا تَأْبَى إِذَا مَا دُعِيتَ، فَيُضَارَّهُ بِذَلِكَ وَهُوَ مَكْفِيٌّ بِغَيْرِهِ، فَنَهَاهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ وَقَالَ: {وَإِنْ تَفْعَلُوا فَإِنَّهُ فُسُوقٌ بِكُمْ} [البقرة: ٢٨٢] يَعْنِي بِالْفُسُوقِ الْمَعْصِيَةَ".
علی بن ابی طلحہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا﴾ [سورة البقرة: 282] ”گواہ انکار نہ کرے جب اس کو بلایا جائے“ کے متعلق فرماتے ہیں: جب مسلمانوں کو اس کی گواہی کی ضرورت ہو تب وہ گواہی سے انکار نہ کرے، اس کے بعد یہ فرمایا ﴿وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ﴾ [سورة البقرة: 282] ”کہ کاتب اور گواہ کو تنگ نہ کیا جائے۔“
نقصان پہنچانا یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے سے، حالانکہ اسے اس کی ضرورت نہیں ہوتی، کہتا ہے کہ اللہ کا حکم ہے کہ تو انکار نہ کرے جب گواہی کے لیے طلب کیا جائے۔ وہ اس کو تکلیف دیتا ہے، حالانکہ اس کے بغیر بھی کفایت ہو جاتی ہے تو اللہ نے اس کو منع کر دیا ﴿وَإِنْ تَفْعَلُوا فَإِنَّهُ فُسُوقٌ بِكُمْ﴾ [سورة البقرة: 282] ”اگر تم نے ایسا کیا تو تم گناہ گار ہو جاؤ گے۔“ فسوق سے مراد نافرمانی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20603]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20604
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ ح وَأَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ فِرَاسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّيْبُلِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: قَرَأَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: {وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ} [البقرة: ٢٨٢] قَالَ سُفْيَانُ:" هُوَ الرَّجُلُ يَأْتِي الرَّجُلَ فَيَقُولُ: اكْتُبْ لِي، فَيَقُولُ: أَنَا مَشْغُولٌ، انْظُرْ غَيْرِي، وَلَا يُضَارَّهُ، يَقُولُ: لَا أُرِيدُ إِلَّا أَنْتَ، لِيَنْظُرْ غَيْرَهُ، وَالشَّهِيدُ أَنْ يَأْتِيَ الرَّجُلَ يُشْهِدُهُ عَلَى الشَّيْءِ، فَيَقُولُ: إِنِّي مَشْغُولٌ، فَانْظُرْ غَيْرِي، فَلَا يُضَارَّهُ فَيَقُولُ: لَا أُرِيدُ إِلَّا أَنْتَ، لِيُشْهِدْ غَيْرَهُ". لَيْسَ فِي رِوَايَةِ ابْنِ قَتَادَةَ قَوْلُ سُفْيَانَ.
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ﴿وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ﴾ [سورة البقرة: 282] پڑھا: ”کہ کاتب اور گواہ کو پریشان نہ کیا جائے۔“ سفیان فرماتے ہیں کہ ایک آدمی دوسرے کے پاس آتا ہے، وہ کہتا ہے: ”مجھے لکھ دو۔“ وہ کہتا ہے: ”میں مصروف ہوں، میرے علاوہ کسی دوسرے کو تلاش کر لو۔“ تو وہ اسے یہ کہہ کر تکلیف نہ دے کہ: ”میں تو صرف تمہیں ہی چاہتا ہوں۔“ بلکہ کسی دوسرے کو تلاش کر لے۔ اور گواہ کے پاس کوئی آتا ہے کہ اسے کسی چیز پر گواہ بنائے، وہ کہتا ہے کہ: ”میں مصروف ہوں، کسی اور کو لے جاؤ۔“ تو وہ اسے یہ کہہ کر تکلیف نہ دے کہ: ”میں تو صرف تیری گواہی چاہتا ہوں۔“ بلکہ کسی اور کو گواہ بنا لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20604]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں