🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
4175. -- باب: أخذ الرجل حقه ممن يمنعه إياه.
-- باب: آدمی کا اپنا حق اس شخص سے وصول کرنا جو اسے اس سے روکتا ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21301
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ، ثنا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ تَبْعَثُنَا فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ لَا يَقْرُونَنَا، فَمَا تَرَى فِي ذَلِكَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَأُمِرَ لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ فَاقْبَلُوا، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا فَخُذُوا مِنْهُمْ حَقَّ الضَّيْفِ الَّذِي يَنْبَغِي لَهُمْ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ وَغَيْرِهِ، عَنِ اللَّيْثِ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ.
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ہم کو روانہ کرتے ہیں، اگر ہم کسی قوم کے پاس جاتے ہیں اور وہ ہماری مہمان نوازی نہیں کرتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم کسی قوم کے پاس جاؤ اور وہ تمہاری مہمانی کریں جو مہمان کے شایانِ شان ہے تو قبول کر لو، اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو مہمان کا مناسب حق لے سکتے ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21301]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21302
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو كَامِلٍ، أَنَّ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، حَدَّثَهُمْ قَالَ: ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ الْمَكِّيِّ، قَالَ: كُنْتُ أَكْتُبُ لِفُلَانٍ نَفَقَةَ أَيْتَامٍ كَانَ وَلِيَّهُمْ، فَغَالَطُوهُ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ، فَأَدَّاهَا إِلَيْهِمْ، فَأَدْرَكْتُ لَهُمْ أَمْوَالَهُمْ مِثْلَهَا، قَالَ: قُلْتُ: اقْبِضِ الْأَلْفَ الَّذِي ذَهَبُوا بِهِ مِنْكَ، قَالَ: لَا، حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ ⦗٤٥٧⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَدِّ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ".
یوسف بن ماہک مکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں فلاں شخص کے لیے یتیموں کا خرچہ لکھا کرتا تھا جن کا وہ والی تھا۔ انہوں نے (حساب میں) اس سے ایک ہزار درہم کا دھوکہ کیا تو اس نے وہ رقم انہیں ادا کر دی، پھر مجھے ان کے مال میں سے اتنی ہی رقم مل گئی۔ میں نے کہا: ”جو ہزار درہم وہ تم سے لے گئے تھے وہ لے لو۔“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ کیونکہ میرے والد نے مجھے بیان کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ» ”اس کو ادا کرو جو آپ کو امین بنائے، اس سے خیانت نہ کرو جو آپ سے خیانت کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21302]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21303
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ النَّخَعِيُّ، أنبأ شَرِيكٌ، وَقَيْسٌ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ"، قَالَ أَبُو الْفَضْلِ: قُلْتُ لِطَلْقٍ: أَكْتُبُ شَرِيكًا وَأَدَعُ قَيْسًا، قَالَ: أَنْتَ أَعْلَمُ. الْحَدِيثُ الْأَوَّلُ فِي حُكْمِ الْمُنْقَطِعِ، حَيْثُ لَمْ يَذْكُرْ يُوسُفُ بْنُ مَاهَكٍ اسْمَ مَنْ حَدَّثَهُ، وَلَا اسْمَ مَنْ حَدَّثَ عَنْهُ مَنْ حَدَّثَهُ، وَحَدِيثُ أَبِي حُصَيْنٍ تَفَرَّدَ بِهِ عَنْهُ شَرِيكٌ الْقَاضِي، وَقَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَقَيْسٌ ضَعِيفٌ، وَشَرِيكٌ لَمْ يَحْتَجَّ بِهِ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ، وَإِنَّمَا ذَكَرَهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الشَّوَاهِدِ، وَرُوِيَ، عَنْ أَبِي حَفْصٍ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَذَا ضَعِيفٌ، لِأَنَّ مَكْحُولًا لَا يَسْمَعْ مِنْ أَبِي أُمَامَةَ شَيْئًا، وَأَبُو حَفْصٍ الدِّمَشْقِيُّ هَذَا مَجْهُولٌ، وَرُوِيَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مُنْقَطِعٌ..
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تجھے امین خیال کرے اس کی امانت ادا کر اور جو کوئی تجھ سے خیانت کرے تو آپ خیانت نہ کریں۔“ ابوفضل کہتے ہیں: میں نے طلق سے کہا: میں شریک کے لیے لکھتا ہوں اور قیس کو چھوڑ دیتا ہوں۔ فرمایا: آپ بہتر جانتے ہیں۔
پہلی حدیث منقطع کے حکم میں ہے، کیونکہ یوسف بن ماہک نے نہ اس شخص کا نام ذکر کیا جس نے انہیں حدیث بیان کی اور نہ اس کا جس سے اس نے روایت کی۔ ابو حصین کی حدیث کو ان سے صرف شریک قاضی اور قیس بن ربیع نے روایت کیا ہے، قیس ضعیف ہے اور شریک سے اکثر محدثین نے حجت نہیں پکڑی، امام مسلم بن حجاج نے انہیں صرف شواہد میں ذکر کیا ہے۔ یہ روایت ابو حفص دمشقی سے، انہوں نے مکحول سے، انہوں نے ابو امامہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی روایت کی گئی ہے، اور یہ ضعیف ہے، کیونکہ مکحول نے ابو امامہ سے کچھ نہیں سنا اور یہ ابو حفص دمشقی مجہول ہے۔ نیز یہ حسن سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی مروی ہے اور یہ منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21303]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21304
وَرَوَاهُ أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ، عَنِ ابْنِ شَوْذَبٍ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسٍ، مَرْفُوعًا. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْعَطَّارُ الْحِيرِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرٍ، ثنا سُلَيْمَانُ الْخَصَّافُ، أَنَّ أَيُّوبَ بْنَ سُوَيْدٍ، حَدَّثَهُمْ فَذَكَرَهُ..
ایضاً۔
اسے ایوب بن سوید نے، جو ضعیف ہے، ابن شوذب سے، انہوں نے ابو التیاح سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21304]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21305
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ:" لَيْسَ بِثَابِتٍ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِنْكُمْ، وَلَوْ كَانَ ثَابِتًا لَمْ يَكُنْ فِيهِ حُجَّةٌ عَلَيْنَا، ثُمَّ سَاقَ الْكَلَامَ إِلَى أَنْ قَالَ: إِذَا دَلَّتِ السُّنَّةُ وَإِجْمَاعُ كَثِيرٍ مِنْ أَهْلِ ⦗٤٥٨⦘ الْعِلْمِ عَلَى أَنْ يَأْخُذَ الرَّجُلُ حَقَّهُ لِنَفْسِهِ سِرًّا مِنَ الَّذِي هُوَ عَلَيْهِ فَقَدْ دَلَّ أَنَّ ذَلِكَ لَيْسَ بِخِيَانَةٍ، الْخِيَانَةُ أَخْذُ مَا لَا يَحِلُّ أَخْذُهُ، فَلَوْ خَانَنِي دِرْهَمًا فَقُلْتُ: قَدِ اسْتَحَلَّ خِيَانَتِي، لَمْ يَكُنْ لِي أَنْ آخُذَ مِنْهُ عَشَرَةَ دَرَاهِمَ مُكَافَأَةً بِخِيَانَتِهِ لِي، وَكَانَ لِي أَنْ آخُذَ دِرْهَمًا، وَلَا أَكُونَ بِهَذَا خَائِنًا ظَالِمًا كَمَا كُنْتُ خَائِنًا ظَالِمًا بِأَخْذِ تِسْعَةٍ مَعَ دِرْهَمِي، لِأَنَّهُ لَمْ يَخُنْهَا".
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث تمہارے محدثین کے ہاں ثابت نہیں ہے۔ اگر ثابت ہو بھی تو بھی یہ ہمارے خلاف دلیل نہیں بن سکتی۔ پھر دورانِ گفتگو فرمایا: سنت اور اکثر اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ آدمی اپنا حق اپنے مخالف سے چھپا کر لے سکتا ہے، تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایسا کرنا خیانت نہیں ہے۔ اگر میں کہوں کہ اس نے مجھ سے ایک درہم میں خیانت کی ہے، پھر میرے لیے اس کے بدلے میں دس دراہم تک خیانت کرنا جائز نہیں ہے۔ البتہ میں ایک درہم لے سکتا ہوں اور اس میں میں خائن نہیں ہوں گا، جیسا کہ میں 9 درہم لے کر خائن بن جاتا جن میں اس نے خیانت نہیں کی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21305]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں