السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4168. -- باب: القافة ودعوى الولد.
-- باب: قیافہ شناس اور بچے کی ولدیت کے دعوے کا بیان۔
حدیث نمبر: 21263
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَلِيطُ أَوْلَادَ الْجَاهِلِيَّةِ بِمَنِ ادَّعَاهُمْ فِي الْإِسْلَامِ، ⦗٤٤٥⦘ قَالَ سُلَيْمَانُ: فَأَتَى رَجُلَانِ كِلَاهُمَا يَدَّعِي وَلَدَ امْرَأَةٍ، فَدَعَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَائِفًا فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا، فَقَالَ الْقَائِفُ: لَقَدِ اشْتَرَكَا فِيهِ، فَضَرَبَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالدِّرَّةِ ثُمَّ قَالَ لِلْمَرْأَةِ: أَخْبِرِينِي خَبَرَكِ، فَقَالَتْ: كَانَ هَذَا لِأَحَدِ الرَّجُلَيْنِ يَأْتِيهَا وَهِيَ فِي إِبِلِ أَهْلِهَا، فَلَا يُفَارِقُهَا حَتَّى يَظُنَّ أَنْ قَدِ اسْتَمَرَّ بِهَا حَمَلٌ، ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهَا فَأُهْرِيقَتْ دَمًا، ثُمَّ خَلَفَ هَذَا - تَعْنِي الْآخَرَ - فَلَا أَدْرِي مِنْ أَيِّهِمَا هُوَ؟ فَكَبَّرَ الْقَائِفُ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلْغُلَامِ:" وَالِ أَيَّهُمَا شِئْتَ".
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جاہلیت کے دور کے جس بچے کا اسلام میں دعویٰ کیا جاتا، اسے اس کا دعویٰ کرنے والے کے ساتھ ملا دیتے۔ سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی ایک عورت کے بچے کا دعویٰ کر رہے تھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قیافہ شناس کو بلایا، اس نے دونوں کو دیکھ کر بتایا کہ یہ دونوں ہی اس میں شریک ہیں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو کوڑے مارے اور عورت سے کہا: آپ مجھے صحیح حقیقت بتائیں، وہ کہنے لگی: یہ آدمی میرے پاس آتا تھا، میں اپنے گھر والوں کے اونٹوں میں ہوتی تھی، جب اس نے حمل کا پختہ خیال اپنے ذہن میں بٹھا لیا، پھر مجھ سے جدا ہو گیا، پھر مجھے خون آ گیا، اس کے بعد دوسرا آنا شروع ہو گیا، مجھے معلوم نہیں کہ دونوں میں سے کس کا ہے، تو قیافہ شناس نے تکبیر کہی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: جس کے ساتھ چاہو چلے جاؤ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21263]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 21264
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَسْلَمَ الْمِنْقَرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: بَاعَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَارِيَةً كَانَ يَقَعُ عَلَيْهَا قَبْلَ أَنْ يَسْتَبْرِئَهَا، فَظَهَرَ بِهَا حَمْلٌ عِنْدَ الْمُشْتَرِي، فَخَاصَمُوهُ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: فَدَعَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَيْهِ الْقَافَةِ، فَنَظَرُوا إِلَيْهِ، فَأَلْحَقُوهُ بِهِ.. وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" أَكُنْتَ تَقَعُ عَلَيْهَا؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَبِعْتَهَا قَبْلَ أَنْ تَسْتَبْرِئَهَا؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" مَا كُنْتَ بِخَلِيقٍ"، قَالَ: فَدَعَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْقَافَةَ فَذَكَرَهُ.
عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک لونڈی فروخت کی۔ وہ استبراء رحم سے پہلے اس سے ہمبستری کرتے تھے تو حمل خریدار کے پاس جا کر ظاہر ہوا تو جھگڑا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قیافہ شناس کو بلایا، اس نے دیکھ کر ان کے ساتھ ملا دیا۔ ایک دوسری جگہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا آپ اس سے ہمبستری کرتے تھے؟ کہتے ہیں: ہاں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو نے استبراء رحم سے پہلے فروخت کر دیا؟ کہنے لگے: ہاں۔ فرمایا: تم ایسا کرنے کے لائق نہ تھے تو پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قیافہ شناس کو بلایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21264]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21265
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ رَجُلَيْنِ اشْتَرَكَا فِي طُهْرِ امْرَأَةٍ، فَوَلَدَتْ وَلَدًا، فَارْتَفَعُوا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَدَعَا لَهُمْ ثَلَاثَةً مِنَ الْقَافَةِ، فَدَعَا بِتُرَابٍ، فَوَطِئَ فِيهِ الرَّجُلَانِ وَالْغُلَامُ، ثُمَّ قَالَ لِأَحَدِهِمْ: انْظُرْ، فَنَظَرَ، فَاسْتَقْبَلَ وَاسْتَعْرَضَ وَاسْتَدْبَرَ، ثُمَّ قَالَ: أُسِرُّ أَمْ أُعْلِنُ؟ فَقَالَ:" بَلْ أَسِرَّ"، فَقَالَ: لَقَدْ أَخَذَ الشَّبَهَ مِنْهُمَا جَمِيعًا، فَمَا أَدْرِي لِأَيِّهِمَا هُوَ؟ فَأَجْلَسَهُ، ثُمَّ قَالَ لِلْآخَرِ: انْظُرْ، فَنَظَرَ وَاسْتَقْبَلَ، وَاسْتَعْرَضَ وَاسْتَدْبَرَ ثُمَّ قَالَ: أُسِرُّ أَمْ أُعْلِنُ؟ فَقَالَ:" بَلْ أَسِرَّ"، فَقَالَ: لَقَدْ أَخَذَ الشَّبَهَ مِنْهُمَا جَمِيعًا، فَمَا أَدْرِي لِأَيِّهِمَا هُوَ؟ فَأَجْلَسَهُ ثُمَّ قَالَ لِلثَّالِثِ: انْظُرْ، فَنَظَرَ فَاسْتَقْبَلَ، وَاسْتَعْرَضَ وَاسْتَدْبَرَ ثُمَّ قَالَ: أُسِرُّ أَمْ أُعْلِنُ؟ فَقَالَ:" بَلْ أَعْلِنْ"، فَقَالَ: لَقَدْ أَخَذَ الشَّبَهَ مِنْهُمَا جَمِيعًا، فَمَا أَدْرِي لِأَيِّهِمَا هُوَ؟ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِنَّا نَقُوفُ الْآثَارَ"، ثَلَاثًا يَقُولُهَا، وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَائِفًا، فَجَعَلَهُ لَهُمَا يَرِثَانِهِ وَيَرِثُهُمَا، فَقَالَ سَعِيدٌ: أَتَدْرِي مَنْ عَصَبَتُهُ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: الْبَاقِي مِنْهُمَا..
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی ایک عورت کے ایک ہی طہر میں شریک ہوئے، اس نے بچہ جنم دیا تو وہ جھگڑا لے کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہوں نے تین قیافہ شناس منگوائے، اور مٹی منگوائی جس پر دونوں آدمی اور بچہ چلے، پھر ان میں سے ایک سے کہا: دیکھو، قیافہ شناس نے (نشانات کو) سامنے سے، پہلو سے اور پیچھے سے دیکھا، پھر کہا: آہستہ بتاؤں یا ظاہر کروں؟ فرمایا: آہستہ بتاؤ، اس نے کہا: مشابہت دونوں کے ساتھ ہے، مجھے معلوم نہیں کہ یہ کس کا ہے، پھر دوسرے نے دیکھا، اس نے بھی کہا: ظاہر کروں یا پوشیدہ رکھوں؟ کہا گیا: پوشیدہ رکھو، (اس نے کہا:) مشابہت دونوں کے ساتھ ہے لیکن معلوم نہ ہو سکا کہ یہ کس کا ہے، پھر تیسرے کو حکم ہوا: دیکھو، اس نے دیکھا اور پوچھا: ظاہر کروں یا پوشیدہ رکھوں؟ فرمایا: ظاہر کرو، اس نے کہا: مشابہت دونوں کے ساتھ ہے لیکن کس کا ہے پتا نہیں چلتا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ فرمایا: ہم (بھی) نشانات پہچانتے ہیں، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خود قیافہ شناس تھے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بچے کو ان دونوں کا وارث بنا دیا اور وہ اس کے وارث ہوں گے، سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (کیا تم جانتے ہو) اس کے عصبات کون ہیں؟ میں نے کہا: نہیں، فرمایا: ان دونوں میں سے جو باقی رہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21265]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 21266
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ⦗٤٤٦⦘ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ:" دَعَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْقَافَةَ فِي رَجُلَيْنِ اشْتَرَكَا فِي امْرَأَةٍ، ادَّعَى كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا الْوَلَدَ، فَقَالُوا: اشْتَرَكَا فِيهِ، فَجَعَلَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَيْنَهُمَا، فَقَالَ سَعِيدٌ: أَتَدْرِي مَنْ يَرِثُهُ؟ قَالَ: آخِرُهُمَا مَوْتًا يَرِثُهُ..
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک قیافہ شناس کو بلایا، جب دو آدمیوں نے ایک عورت کے بچے کے بارے میں دعویٰ کر دیا تو قیافہ شناس نے کہا: دونوں اس میں مشترک ہیں۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دونوں کے درمیان تقسیم کر دیا۔ سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کیا تم جانتے ہو اس کا وارث کون بنے گا؟ فرمایا: جو آخر میں وفات پائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21266]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 21267
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى، أنبأ يَزِيدُ، عَنْ مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي رَجُلَيْنِ وَطِئَا جَارِيَةً فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ، فَجَاءَتْ بِغُلَامٍ، فَارْتَفَعَا إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَدَعَا لَهُ ثَلَاثَةً مِنَ الْقَافَةِ، فَاجْتَمَعُوا عَلَى أَنَّهُ قَدْ أَخَذَ الشَّبَهَ مِنْهُمَا جَمِيعًا، وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَائِفًا يَقُوفُ، فَقَالَ:" قَدْ كَانَتِ الْكَلْبَةُ يَنْزُو عَلَيْهَا الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ وَالْأَصْفَرُ وَالْأَنْمَرُ فَتُؤَدِّي إِلَى كُلِّ كَلْبٍ شَبَهَهُ، وَلَمْ أَكُنْ أَرَى هَذَا فِي النَّاسِ، حَتَّى رَأَيْتُ هَذَا". فَجَعَلَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَهُمَا يَرِثَانِهِ وَيَرِثُهُمَا، وَهُوَ لِلْبَاقِي مِنْهُمَا. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ:" هَاتَانِ الرِّوَايَتَانِ رِوَايَةُ الْبَصْرِيِّينَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُمَرَ، وَرِوَايَتُهُمْ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، كِلْتَاهُمَا مُنْقَطِعَةٌ، وَفِيهِمَا لَوْ صَحَّتَا دَلَالَةٌ مَعَ مَا تَقَدَّمَ عَلَى الْحُكْمِ بِالشَّبَهِ وَالرُّجُوعِ عِنْدَ الِاشْتِبَاهِ إِلَى قَوْلِ الْقَافَةِ، فَأَمَّا إِلْحَاقُهُ الْوَلَدَ بِهِمَا عِنْدَ عَدَمِ الْقَافَةِ، فَالْبَصْرِيُّونَ يَنْفَرِدُونَ بِهِ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَرِوَايَةُ الْحِجَازِيِّينَ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى مَا مَضَى، وَرِوَايَةُ الْحِجَازِيِّينَ عَنْهُ ⦗٤٤٧⦘ أَوْلَى بِالصِّحَّةِ، وَرِوَايَةُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَوْصُولَةٌ، وَرِوَايَةُ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ لَهَا شَاهِدَةٌ، وَكِلَاهُمَا يُثْبِتُ قَوْلَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" وَالِ أَيَّهُمَا شِئْتَ". وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَاطِبٍ يَقُولُ فِي رِوَايَتِهِ:" فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ مُتَّبِعًا لِأَحَدِهِمَا يَذْهَبُ"، وَاللهُ أَعْلَمُ..
حضرت حسن رحمہ اللہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ دو آدمی ایک لونڈی سے حالتِ طہر میں مجامعت کرتے رہے۔ اس نے بچے کو جنم دیا، معاملہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تین قیافہ شناس بلوائے۔ ان سب کا فیصلہ تھا کہ مشابہت سب کے ساتھ ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اندازہ لگایا اور فرمایا: اگر کتیا کے اوپر سیاہ، زرد، چتکبرے کتے چھوڑ دیے جائیں تو ہر ایک سے مشابہت بھی ہو۔ میں نے یہ کبھی نہیں دیکھا تھا لیکن اب دیکھ رہا ہوں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو بچے کا وارث مقرر کیا اور بچہ ان کا وارث ہو گا، اور وہ ان دونوں میں سے باقی رہنے والے کا ہو گا۔
یہ دونوں روایتیں منقطع ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21267]
یہ دونوں روایتیں منقطع ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21267]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21268
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ شَكَّ فِي ابْنٍ لَهُ، فَدَعَا لَهُ الْقَافَةَ..
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں بیٹے کے بارے میں شک تھا تو انہوں نے قیافہ شناس کو بلوایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21268]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21269
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثنا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدًا يُحَدِّثُ عَنْ بَعْضِ وَلَدِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أَنَسًا مَرِضَ مَرَضًا لَهُ، فَشَكَّ فِي حَمْلِ جَارِيَةٍ لَهُ، فَقَالَ:" إِنَّ مُتُّ فَادْعُوا لَهُ الْقَافَةَ، قَالَ: فَصَحَّ.
حمید حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے، ان کو اپنی لونڈی کے حمل کے بارے میں شک تھا۔ کہنے لگے: اگر میں فوت ہو جاؤں تو قیافہ شناس کو بلوا لینا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21269]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21270
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ حَسَنُ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو إِسْمَاعِيلَ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ أَنَّ مُوسَى بْنَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ أَوْصَى فِي مَرَضِهِ، وَشَكَّ فِي حَبَلِ جَارِيَةٍ، فَقَالَ:" انْظُرُوا أَنْ تَدْعُوا لِوَلَدِهَا الْقَافَةَ، قَالَ: فَصَحَّ مِنْ مَرَضِهِ ذَلِكَ.
موسیٰ بن انس بن مالک اپنے والد سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیماری میں وصیت کی اور انہیں اپنی لونڈی کے حاملہ ہونے میں شک تھا، فرمانے لگے: ”اگر ضرورت پڑے تو قیافہ شناس منگوا لینا۔“ راوی کہتے ہیں: پھر وہ اپنی اس بیماری سے صحت یاب ہو گئے۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21270]
حدیث نمبر: 21271
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَمَّنْ أَخْبَرَهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ أَبَا مُوسَى، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَضَى بِالْقَافَةِ.. وَيُذْكَرُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ أَخَذَ بِقَوْلِ الْقَافَةِ.
محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے قیافہ کے ذریعے فیصلہ فرمایا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی قیافہ شناس کی بات قبول فرماتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21271]
4169. -- باب:: الدليل على أن لغلبة الأشباه تأثيرا في الأنساب، وأن لها حكما إذا لم يكن ما هو أقوى منها من فراش، أو غيره.
-- باب: اس بات کی دلیل کہ مشابہت کے غلبے کا نسب میں اثر ہوتا ہے، اور اس کا حکم لاگو ہوتا ہے بشرطیکہ وہاں اس سے زیادہ قوی چیز مثلاً بستر (نکاح) یا کوئی اور چیز موجود نہ ہو۔
حدیث نمبر: 21272
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيَّ مَسْرُورًا تَبْرُقُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ، فَقَالَ:" أَلَمْ ⦗٤٤٨⦘ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا نَظَرَ آنِفًا إِلَى زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، وَإِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَقَالَ: إِنَّ بَعْضَ هَذِهِ الْأَقْدَامِ مِنْ بَعْضٍ"..
عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن خوش خوش ان کے پاس آئے حتیٰ کہ آپ کی پیشانی کی سلوٹیں بھی چمک رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا آپ کو پتہ نہیں کہ قیافہ شناس نے ابھی زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی طرف دیکھ کر کہا: یہ پاؤں ایک دوسرے کا حصہ ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21272]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح