السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4164. -- باب: المتداعيين يتداعيان ما لم يكن في يد واحد منهما، ويقيم كل واحد منهما بينة بدعواه
-- باب: دو دعویٰ کرنے والے کسی ایسی چیز کا دعویٰ کریں جو ان دونوں میں سے کسی کے قبضے میں نہ ہو، اور ان میں سے ہر ایک اپنے دعوے پر گواہ پیش کر دے۔
حدیث نمبر: 21243
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ بُنْدَارٍ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ الضَّبِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، وَعَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: إِنِّي لَجَالِسٌ عِنْدَ أَبِي الدَّرْدَاءِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، وَقَالَ: فِي فَرَسٍ وَجَدَاهُ مَعَ رَجُلٍ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي مِثْلِ هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ بَعْدَ ذِكْرِ الْفَرَسِ:" وَهَذَا مِمَّا أَسْتِخِيرُ اللهَ فِيهِ، وَأَنَا فِيهِ وَاقِفٌ، ثُمَّ قَالَ: لَا يُعْطَى وَاحِدٌ مِنْهُمَا شَيْئًا، وَيُوقَفُ حَتَّى يَصْطَلِحَا. ⦗٤٤٠⦘ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَالْأَصْلُ فِي أَمْثَالِ ذَلِكَ مَا:.
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، انہوں نے اسی طرح کی حدیث بیان کی کہ انہوں نے گھوڑے کے ساتھ ایک آدمی کو بھی پایا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں اس طرح کے مسئلے میں توقف اختیار کرتا ہوں، ان دونوں کو صلح کی صورت میں کچھ دیا جائے ورنہ کچھ بھی نہ دیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21243]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں اس طرح کے مسئلے میں توقف اختیار کرتا ہوں، ان دونوں کو صلح کی صورت میں کچھ دیا جائے ورنہ کچھ بھی نہ دیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21243]
تخریج الحدیث: «حسن۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 21244
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: جَاءَ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْتَصِمَانِ فِي مَوَارِيثَ قَدْ دُرِسَ عَلَيْهَا، وَهَلَكَ مَنْ يَعْرِفُهَا، فَقَالَ:" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، أَقْضِي فِيمَا لَمْ يَنْزِلْ عَلَيَّ فِيهِ شَيْءٌ بِرَأْيِي، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ شَيْئًا مِنْ حَقِّ أَخِيهِ فَإِنَّمَا يَقْتَطِعُ إِسْطَامًا مِنْ نَارٍ"، قَالَ: فَبَكَيَا، وَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: حَقِّي لَهُ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" اذْهَبَا فَاقْسِمَا، وَتَوَخَّيَا الْحَقَّ، ثُمَّ اسْتَهِمَا، ثُمَّ لِيُحْلِلْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا صَاحِبَهُ".
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دو انصاری ایسی وراثت کا جھگڑا لے کر آئے جس کے نشانات مٹ چکے تھے اور جن کو اس کی پہچان تھی وہ فوت ہو گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں انسان ہوں جس کے بارے میں میرے اوپر کچھ نازل نہیں ہوا، میں اپنی رائے سے فیصلہ کروں گا۔ جس کے لیے میں اس کے بھائی کے حق کا فیصلہ فرما دوں تو گویا آگ کا انگارہ دے رہا ہوں۔“ وہ دونوں رو رہے تھے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا حق اس کو دے دیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ آپس میں تقسیم کر لو، حق کا قصد کرو، پھر قرعہ اندازی کر لو، پھر تم میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کو (اپنا حق) معاف کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21244]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
4165. -- باب:: من عرف له أصل ملك فهو على ملكه حتى يعلم زواله عنه ببينة تقوم عليه.
-- باب: جس کی اصل ملکیت تسلیم شدہ ہو، وہ چیز اسی کی ملکیت رہے گی یہاں تک کہ اس کے خلاف قائم ہونے والے کسی گواہ (دلیل) سے اس کا زوال معلوم ہو جائے۔
حدیث نمبر: 21245
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، قَالَ: قِيلَ لِعَطَاءٍ: أَتَقْضِي بِالْأُصُولِ فِي الدُّورِ؟ قَالَ:" نَعَمْ، إِذَا قَامَتِ الْبَيِّنَةُ أَنَّهَا دَارُهُ، لَمْ يَبِعْ وَلَمْ يَهَبْ".. وَرُوِّينَا عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ قَالَ:" أَدْرَكْتُ النَّاسَ يَقْضُونَ بِالْأُصُولِ فِي الدُّورِ". وَعَنْ شُرَيْحٍ، وَعَامِرٍ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُمَا كَانَا يَقْضِيَانِ بِالْأَصْلِ فِي الدُّورِ.
عبدالملک بن ابی سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عطاء رحمہ اللہ سے کہا گیا: کیا آپ گھروں میں اصل کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں؟ فرمانے لگے: ہاں، جب اس بات کی دلیل مل جائے کہ اس نے گھر فروخت یا ہبہ نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21245]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
4166. -- باب:: الرجل يجيء بشاهدين على رجل بحق فلا يمين عليه مع شاهديه.
-- باب: وہ شخص جو کسی پر اپنے حق کے لیے دو گواہ لے آئے تو ان دو گواہوں کے ہوتے ہوئے اس پر کوئی قسم نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 21246
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَا: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ. قَالَ: ثُمَّ أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَ ذَلِكَ: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا} [آل عمران: ٧٧] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، ثُمَّ إِنَّ الْأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ خَرَجَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: مَا يُحَدِّثُكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ فَحَدَّثْنَاهُ بِمَا قَالَ، فَقَالَ: صَدَقَ، لَفِيَّ نَزَلَتْ، كَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ خُصُومَةٌ فِي شَيْءٍ، فَاخْتَصَمْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" شَاهِدَاكَ أَوْ يَمِينُهُ"، فَقُلْتُ: إِنَّهُ إِذًا حَلَفَ، وَلَا يُبَالِي، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ لِيَسْتَحِقَّ بِهَا مَالًا وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ"، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ. ⦗٤٤١⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُثْمَانَ وَقُتَيْبَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”جو قسم اٹھا کر مال کا مستحق بنتا ہے اور وہ جھوٹا ہے تو وہ اللہ سے اس حالت میں ملاقات کرے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہوں گے۔“ پھر اس کی تصدیق اللہ نے نازل فرمائی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [سورة آل عمران: 77] ”وہ لوگ جو اپنی قسموں اور اللہ کے عہد کے عوض تھوڑی قیمت وصول کرتے ہیں۔“
پھر اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ ہماری طرف آئے اور کہنے لگے: ابوعبدالرحمن نے کیا بیان کیا؟ جو انھوں نے بیان کیا ہم نے کہہ دیا، کہنے لگے: یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی۔ میرے اور ایک آدمی کے درمیان جھگڑا تھا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گواہ تیرے ذمہ یا اس سے قسم تم لے لو۔“ میں نے کہا: وہ قسم اٹھا دے گا، اس کو کوئی پروا نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قسم کی وجہ سے مال ہڑپ کرنا چاہا اور وہ جھوٹا ہوا تو وہ اللہ سے اس حالت میں ملاقات کرے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہوگا۔“ اللہ نے اس کی تصدیق نازل کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت کی تلاوت فرمائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21246]
پھر اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ ہماری طرف آئے اور کہنے لگے: ابوعبدالرحمن نے کیا بیان کیا؟ جو انھوں نے بیان کیا ہم نے کہہ دیا، کہنے لگے: یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی۔ میرے اور ایک آدمی کے درمیان جھگڑا تھا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گواہ تیرے ذمہ یا اس سے قسم تم لے لو۔“ میں نے کہا: وہ قسم اٹھا دے گا، اس کو کوئی پروا نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قسم کی وجہ سے مال ہڑپ کرنا چاہا اور وہ جھوٹا ہوا تو وہ اللہ سے اس حالت میں ملاقات کرے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہوگا۔“ اللہ نے اس کی تصدیق نازل کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت کی تلاوت فرمائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21246]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21247
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ خَصْمَانِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ هَذَا انْتَزَى عَلَى أَرْضِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَهُوَ امْرُؤُ الْقَيْسِ بْنُ عَابِسٍ الْكِنْدِيُّ، وَخَصْمُهُ رَبِيعَةُ، فَقَالَ: أَرْضِي أَزْرَعُهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَكَ بَيِّنَةٌ"؟ قَالَ: لَا، قَالَ:" يَمِينُهُ" قَالَ: إِذًا يَذْهَبُ بِهَا، إِنَّهُ لَيْسَ يُبَالِي مَا حَلَفَ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلَّا ذَلِكَ"، فَلَمَّا ذَهَبَ لِيَحْلِفَ قَالَ:" أَمَا إِنَّهُ إِنْ حَلَفَ عَلَى مَالِهِ ظُلْمًا لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ زُهَيْرٍ وَإِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ.
علقمہ بن وائل اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا۔ دو جھگڑا کرنے والے آئے، ایک نے کہا کہ دورِ جاہلیت میں اس نے میری زمین چھین لی تھی: 1 امرء القیس بن عابس اور 2 ربیعہ تھا۔ اس نے کہا: میری زمین ہے، میں کھیتی باڑی کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تیرے پاس دلیل ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوسرا قسم دے گا۔“ وہ کہنے لگا: وہ قسم اٹھا دے گا، اس کو کوئی پروا نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے اب صرف قسم ہی ہے“، جب وہ قسم کے لیے جانے لگا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے ظلم کے ساتھ مال ہڑپ کرنا چاہا تو اللہ سے اس حالت میں ملے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہوں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21247]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 139»
الحكم على الحديث: صحيح
4167. -- باب:: من رأى الحلف مع البينة.
-- باب: جس نے گواہ (دلیل) کے ساتھ قسم اٹھانے کو بھی ضروری سمجھا۔
حدیث نمبر: 21248
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ قَالَ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ حَنَشٍ، أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَرَى الْحَلِفَ مَعَ الْبَيِّنَةِ. كَذَا رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى. وَقَدْ رُوِّينَا فِيمَا مَضَى مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ إِنَّمَا رَآهُ عِنْدَ تَعَارُضِ الْبَيِّنَتَيْنِ، وَاللهُ أَعْلَمُ..
حنش بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ قسم کے ساتھ گواہ کو بھی رکھتے تھے۔
(ب) حنش سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تعارضِ دلائل کے وقت یہ خیال فرماتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21248]
(ب) حنش سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تعارضِ دلائل کے وقت یہ خیال فرماتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21248]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21249
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خِمَيْرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا هِشَامٌ، وَمَنْصُورٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ رَجُلًا ادَّعَى قِبَلَ رَجُلٍ حَقًّا، وَأَقَامَ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ، فَاسْتَحْلَفَهُ شُرَيْحٌ، فَكَأَنَّهُ يَأْبَى الْيَمِينَ، فَقَالَ شُرَيْحٌ:" بِئْسَ مَا تُثْنِي عَلَى شُهُودِكَ".
ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی کی طرف سے حق کا مطالبہ کر دیا اور گواہ بھی پیش کر دیا، تو قاضی شریح نے اس سے قسم کا مطالبہ کیا، گویا وہ قسم سے انکار کر رہا تھا، تو قاضی کہنے لگے: تو اپنے گواہوں کی بری تعریف کر رہا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21249]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21250
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ، أنبأ أَحْمَدُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، قَالَ: شَهِدْتُ شُرَيْحًا وَاخْتَصَمَ إِلَيْهِ رَجُلَانِ ادَّعَى أَحَدُهُمَا قِبَلَ الْآخَرِ دَابَّةً، وَإِنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّهَا دَابَّتُهُ أَنْتَجَهَا، فَسَأَلَهُ شُرَيْحٌ الْبَيِّنَةَ، فَجَاءَهُ بِثَمَانِيَةِ رَهْطٍ فَشَهِدُوا لَهُ، فَقَالَ الَّذِي فِيُ يَدِهِ الدَّابَّةُ: اسْتَحْلِفْهُ، فَقَالَ: احْلِفْ، فَقَالَ لَهُ: أَثْبَتُّ عِنْدَكَ بِثَمَانِيَةٍ مِنَ الشُّهُودِ فَقَالَ شُرَيْحٌ:" لَوْ أَثْبَتَّ عِنْدِي كَذَا وَكَذَا شَاهِدًا مَا قَضَيْتُ لَكَ حَتَّى تَحْلِفَ".
ابومالک اشجعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں قاضی شریح رحمہ اللہ کے پاس آیا، دو آدمی ایک چوپائے کا جھگڑا لے کر آئے کہ چوپائے نے اس کے پاس بچہ دیا ہے۔ قاضی شریح رحمہ اللہ نے گواہ کا مطالبہ کیا۔ وہ آٹھ لوگوں کے گروہ کو بطور گواہ لے آیا۔ جس کے قبضے میں جانور تھا وہ کہنے لگا: ان سے قسم کا مطالبہ کرو، تو قاضی نے ان سے قسم کا مطالبہ کیا۔ وہ کہنے لگا: دیکھو میں نے آٹھ گواہ پیش کر دیے ہیں، تو قاضی شریح رحمہ اللہ کہنے لگے: جتنے مرضی گواہ پیش کر دو، جتنی دیر خود قسم نہ دو گے، آپ کے حق میں فیصلہ نہ کیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21250]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21251
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ، أنبأ أَحْمَدُ، أنبأ سَعِيدٌ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ أَشْعَثُ بْنُ ⦗٤٤٢⦘ سَوَّارٍ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ اسْتَحْلَفَ رَجُلًا مَعَ بَيِّنَةٍ، فَأَبَى أَنْ يَحْلِفَ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُتْبَةَ:" لَا أَقْضِي لَكَ بِمَالٍ لَا تَحْلِفُ عَلَيْهِ".
عون بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایک شخص سے گواہ کے ساتھ قسم کا مطالبہ کیا، اس نے قسم دینے سے انکار کر دیا، تو عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ کہنے لگے: میں تیرے لیے مال کا فیصلہ نہ کروں گا، جب تک تو قسم نہ اٹھائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21251]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21252
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، أنبأ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحَذَّاءُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمَدِينِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ شُرَيْحٍ، قَالَ:" بَيِّنَةُ الطَّالِبِ عَلَى أَصْلِ حَقِّهِ بَرَاءَةُ أَهْلِ الْمَيِّتِ، إِنْ صَاحِبُهُمْ قَدْ أَدَّى يَمِينَ الطَّالِبِ بِاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ: لَقَدْ مَاتَ وَهَذَا الْحَقُّ عَلَيْهِ، وَنَحْنُ نَقُولُ بِهِ فِي الدَّعْوَى إِذَا قَامَتْ عَلَى مَيِّتٍ أَوْ غَائِبٍ أَوْ طِفْلٍ أَوْ مَجْنُونٍ..
عامر رحمہ اللہ، قاضی شریح رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ طالب (دعویٰ کرنے والے) کے اپنے اصل حق پر گواہ (پیش کرنے) کے ساتھ، میت کے گھر والوں کی برأت کے لیے، اگر ان کے صاحب نے (یہ حق) ادا کر دیا ہو، طالب کی قسم (ضروری) ہے کہ «بِاللهِ الَّذِي لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ» ”اللہ کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں“ وہ اس حال میں فوت ہوا کہ یہ حق اس کے ذمہ تھا، اور ہم بھی دعویٰ میں یہی کہتے ہیں جب وہ میت یا غائب یا بچے یا دیوانے کے خلاف قائم کیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21252]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح