🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
4169. -- باب:: الدليل على أن لغلبة الأشباه تأثيرا في الأنساب، وأن لها حكما إذا لم يكن ما هو أقوى منها من فراش، أو غيره.
-- باب: اس بات کی دلیل کہ مشابہت کے غلبے کا نسب میں اثر ہوتا ہے، اور اس کا حکم لاگو ہوتا ہے بشرطیکہ وہاں اس سے زیادہ قوی چیز مثلاً بستر (نکاح) یا کوئی اور چیز موجود نہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21273
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
لیث سے اسی سند کے ساتھ اسی کی مثل روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21273]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21274
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عَمْرٍو الْمُسْتَمْلِي، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ مُسَافِعِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي قِصَّةِ احْتِلَامِ الْمَرْأَةِ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَهَلْ يَكُونُ الشَّبَهُ إِلَّا مِنْ قِبَلِ ذَلِكَ؟ إِذَا عَلَا مَاؤُهَا مَاءَ الرَّجُلِ أَشَبَهَ الْوَلَدُ أَخْوَالَهُ، وَإِذَا عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَهَا أَشْبَهَ الْوَلَدُ أَعْمَامَهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عورت کے احتلام کے قصے کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَهَلْ يَكُونُ الشَّبَهُ إِلَّا مِنْ قِبَلِ ذَلِكَ إِذَا عَلَا مَاؤُهَا مَاءَ الرَّجُلِ شَبَهَ الْوَلَدُ أَخْوَالَهُ وَإِذَا عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَهَا أَشْبَهَ الْوَلَدُ أَعْمَامَهُ» ”اور کیا مشابہت اسی کے علاوہ کسی اور چیز سے ہوتی ہے؟ جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آ جائے تو بچہ اپنے ماموؤں کے مشابہ ہوتا ہے اور جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آ جائے تو بچہ اپنے چچاؤں کے مشابہ ہوتا ہے“۔
اسے مسلم نے صحیح میں یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ کی حدیث سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21274]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21275
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ"؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" مَا أَلْوَانُهَا"؟ قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ:" هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَأَنَّى كَانَ ذَلِكَ"؟ قَالَ: أُرَاهُ عِرْقًا نَزَعَهُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَعَلَّ ابْنَكَ هَذَا نَزْعَةُ عِرْقٌ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا اور اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میری بیوی نے ایک سیاہ رنگ کا لڑکا جنا ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”ان کے رنگ کیا ہیں؟“ اس نے عرض کیا: سرخ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا ان میں کوئی «أَوْرَقَ» ”خاکستری“ رنگ کا بھی ہے؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تو وہ کہاں سے آگیا؟“ اس نے عرض کیا: میرا خیال ہے کہ «عِرْقًا نَزَعَهُ» ”کسی رگ نے اسے کھینچ لیا ہو گا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید تمہارے اس بیٹے کو بھی «نَزَعَهُ عِرْقٌ» ”کسی رگ نے کھینچ لیا ہو۔“
اسے بخاری نے صحیح میں اسماعیل بن ابی اویس سے روایت کیا ہے اور اسے مسلم نے زہری سے دوسری سند کے ساتھ نقل کیا ہے۔
[صحیح۔ اس سے پہلے گزر چکی ہے] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21275]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21276
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فِي قِصَّةِ اللِّعَانِ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْصِرُوهَا، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَبْيَضَ سَبِطًا قَضِيءَ الْعَيْنَيْنِ فَهُوَ لِهِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ جَعْدًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ"، قَالَ: فَأُنْبِئْتُ أَنَّهَا جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ جَعْدًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُثَنًّى.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے لعان کے قصے میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَبْصِرُوهَا، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَبْيَضَ سَبِطًا قَضِيءَ الْعَيْنَيْنِ فَهُوَ لِهِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ جَعْدًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ ابْنِ سَحْمَاءَ» ”تم اسے دیکھتے رہنا، پس اگر وہ سفید رنگت والا، سیدھے بالوں والا اور چندھی آنکھوں والا بچہ جنے تو وہ ہلال بن امیہ کا ہے، اور اگر وہ سرمئی آنکھوں والا، گھنگھریالے بالوں والا اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنے تو وہ شریک بن سحماء کا ہے“۔ انہوں نے کہا: پھر مجھے بتایا گیا کہ اس عورت نے سرمئی آنکھوں والا، گھنگھریالے بالوں والا اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ ہی جنا۔
اسے مسلم نے الصحیح میں محمد بن مثنی سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21276]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21277
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ⦗٤٤٩⦘ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ، قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي قِصَّةِ اللِّعَانِ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْصِرُوهَا، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ الْعَيْنَيْنِ، سَابِغَ الْأَلْيَتَيْنِ، خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ، فَجَاءَتْ بِهِ كَذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلَا مَا مَضَى مِنْ كِتَابِ اللهِ لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ تہمت لگائی، پھر انہوں نے لعان کے قصے میں حدیث ذکر کی، (راوی نے) کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَبْصِرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ الْعَيْنَيْنِ سَابِغَ الْإِلْيَتَيْنِ خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ ابْنِ سَحْمَاءَ» ”اسے دیکھتے رہو، پس اگر وہ ایسا بچہ جنے جس کی آنکھیں سرمگیں ہوں، سرین بھرے ہوئے ہوں اور پنڈلیاں گوشت سے بھری ہوئی ہوں تو وہ شریک بن سحماء کا ہے“۔ پھر اس نے ویسا ہی بچہ جنا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَوْلَا مَا مَضَى مِنْ كِتَابِ اللَّهِ لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ» ”اگر اللہ کی کتاب کا (حکم) پہلے نہ گزر چکا ہوتا تو میرا اور اس کا ایک معاملہ ہوتا“۔
اسے بخاری نے صحیح میں محمد بن بشار سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21277]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21278
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي غُلَامٍ، فَقَالَ سَعْدٌ: هَذَا يَا رَسُولَ اللهِ ابْنُ أَخِي عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَهِدَ إِلِيَّ أَنَّهُ ابْنُهُ، انْظُرْ إِلَى شَبَهِهِ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: هَذَا أَخِيُ يَا رَسُولَ اللهِ، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي مِنْ وَلِيدَتِهِ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَبَهِهِ، فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ، فَقَالَ:" هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ بِنْتَ زَمْعَةَ"، فَلَمْ يَرَ سَوْدَةَ قَطُّ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما کا ایک لڑکے کے بارے میں جھگڑا ہوا تو سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا بیٹا ہے، اس نے مجھ سے عہد کیا تھا کہ یہ اسی کا بیٹا ہے، آپ اس کی شباہت ملاحظہ فرمائیں۔“ اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ میرا بھائی ہے، یہ میرے والد کے بستر پر ان کی لونڈی سے پیدا ہوا ہے۔“ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی شباہت دیکھی تو اس میں عتبہ کی واضح شباہت پائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبد! یہ لڑکا تمہارا ہی (بھائی) ہے، «الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ» ”بچہ بستر والے کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہے“ اور اے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا! تم اس سے پردہ کرو۔“ چنانچہ اس (لڑکے) نے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو کبھی نہیں دیکھا۔
اسے بخاری اور مسلم نے صحیح میں قتیبہ بن سعید سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21278]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21279
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: حَجَّ بِنَا أَبُو الْوَلِيدِ وَنَحْنُ سَبْعَةٌ وَلَدُ سِيرِينَ، فَمَرَّ بِنَا عَلَى الْمَدِينَةِ، فَأُدْخِلْنَا عَلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، فَقَالَ لَهُ: هَؤُلَاءِ بَنُو سِيرِينَ، قَالَ: فَقَالَ زَيْدٌ:" هَذَانِ لِأُمٍّ، وَهَذَانِ لِأُمٍّ، وَهَذَانِ لِأُمٍّ، وَهَذَا لِأُمٍّ، قَالَ: فَمَا أَخْطَأَ، وَكَانَ يَحْيَى بْنُ سِيرِينَ أَخَا مُحَمَّدٍ لِأُمِّهِ..
محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ابو ولید نے حج کیا اور ہم سیرین کے سات بیٹے تھے، مدینہ سے ہمارا گزر ہوا تو ہم زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ وہ کہنے لگے: یہ دو ایک ماں کے ہیں، یہ دو ایک ماں کے ہیں۔ یہ دو ایک ماں کے ہیں اور یہ ایک ماں کا ہے۔ انہوں نے غلطی نہ کی تھی؛ کیونکہ یحییٰ بن سیرین محمد کے بھائی ان کی والدہ سے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21279]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4170. -- باب:: ما يستدل به على أن الولد الواحد لا يكون مخلوقا من ماء رجلين.
-- باب: ان دلائل کا بیان جن سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ ایک بچہ دو مردوں کے پانی (نطفے) سے پیدا نہیں ہو سکتا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21280
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَخْتَرِيُّ الرَّزَّازُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ:" إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللهُ إِلَيْهِ الْمَلَكَ، فَيَنْفُخُ فِيهِ الرُّوحَ، ثُمَّ يُؤْمَرُ بِأَرْبَعٍ: اكْتُبْ رِزْقَهُ وَعَمَلَهُ وَأَجَلَهُ، وَشَقِيٌّ هُوَ أَمْ سَعِيدٌ، وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونَ بَيْنَهُ ⦗٤٥٠⦘ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُهَا، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ، عَنِ الْأَعْمَشِ. فَأَخْبَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ جَمِيعَ خَلْقِهِ بَعْدَ أَرْبَعِينَ يَكُونُ عَلَقَةً أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ثُمَّ جَمِيعُهُ بَعْدَ الثَّمَانِينَ يَكُونُ مُضْغَةً أَرْبَعِينَ يَوْمًا، وَمَنْ جَعَلَ الْوَلَدَ مِنَ اثْنَيْنِ أَجَازَ أَنْ يَكُونَ بَعْضُهُ مَاءً، وَبَعْضُهُ عَلَقَةً، وَبَعْضُهُ مَاءً، أَوْ عَلَقَةً، وَبَعْضُهُ مُضْغَةً، وَذَلِكَ بِخِلَافِ الظَّاهِرِ..
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صادق المصدوق صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً تم میں سے ہر ایک 40 دن تک اپنی ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے، پھر 40 دن جما ہوا خون ہوتا ہے، پھر 40 دن تک گوشت کا لوتھڑا، پھر اللہ فرشتے کو بھیج کر روح ڈلواتا ہے، پھر چار چیزوں کا حکم دیا جاتا ہے: اس کا رزق، عمل، عمر، خوش بخت ہے یا بدبخت لکھا جائے۔“ اللہ کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، ”تم جہنم والے اعمال کرتے ہو، صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو لکھا (یعنی تقدیر) اس پر سبقت لے جاتا ہے، اس کا خاتمہ جنتیوں والے اعمال کرتے ہوئے ہوتا ہے، جس کی وجہ سے جنت میں داخل ہو جاتا ہے اور تم میں سے کوئی ایک جنتیوں والے اعمال کرتا ہے، صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ باقی رہ جاتا ہے تو تقدیر سبقت لے جاتی ہے اور وہ جہنمیوں والے عمل کر کے جہنم میں داخل ہو جاتا ہے۔“
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ چالیس دن کے بعد اس کی پوری تخلیق چالیس دن تک جما ہوا خون رہتی ہے، پھر اسی دن کے بعد پوری کی پوری چالیس دن تک گوشت کا لوتھڑا رہتی ہے، اور جو شخص بچے کو دو (مردوں) سے قرار دیتا ہے وہ یہ جائز سمجھتا ہے کہ اس کا کچھ حصہ پانی ہو اور کچھ جما ہوا خون، یا کچھ جما ہوا خون ہو اور کچھ گوشت کا لوتھڑا، اور یہ ظاہر (حدیث) کے خلاف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21280]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4171. -- باب:: من قال: يقرع بينهما إذا لم يكن قافة.
-- باب: جس نے کہا: اگر قیافہ شناس موجود نہ ہو تو ان دونوں (دعویداروں) کے درمیان قرعہ اندازی کی جائے گی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21281
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ الثَّوْرِيُّ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ بِالْيَمَنِ فِي ثَلَاثَةٍ وَقَعُوا عَلَى امْرَأَةٍ فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ، فَسَأَلَ اثْنَيْنِ: أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ؟ فَقَالَا: لَا، ثُمَّ سَأَلَ اثْنَيْنِ، فَقَالَ: أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ؟ قَالَا: لَا، ثُمَّ سَأَلَ اثْنَيْنِ فَقَالَ: أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ؟ قَالَا: لَا، قَالَ: فَعَلِيٌّ كُلَّمَا سَأَلَ اثْنَيْنِ: أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ؟ قَالَا: لَا، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالَّذِي صَارَتْ عَلَيْهِ الْقُرْعَةُ، وَجَعَلَ عَلَيْهِ ثُلُثَيِ الدِّيَةِ، قَالَ: فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ. هَذَا الْحَدِيثُ مِمَّا يُعَدُّ فِي أفْرَادِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ.
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تین آدمی آئے جو ایک عورت پر طہر کی حالت میں واقع ہوئے۔ انہوں نے دو سے سوال کیا: کیا تم بچے کا اقرار کرتے ہو؟ تو انہوں نے انکار کر دیا۔ پھر دوبارہ دونوں سے سوال کیا: کیا تم بچے کا اقرار کرتے ہو؟ انہوں نے پھر نفی میں جواب دیا۔ پھر دو سے سوال ہوا: کیا بچے کا اقرار کرتے ہو؟ تو انہوں نے نفی میں جواب دیا۔ پھر ان کے درمیان قرعہ ڈالا گیا۔ پھر جس کے نام کا قرعہ نکلا، بچے کو اس کے ساتھ ملا دیا اور اس پر 2/3 دیت ڈال دی۔ یہ قصہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنا ہنسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھ ظاہر ہوگئی۔
یہ حدیث ان روایات میں شمار ہوتی ہے جنہیں عبدالرزاق نے سفیان ثوری سے اکیلے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21281]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21282
وَالْمَشْهُورُ فِي هَذَا الْبَابِ مَا: أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْخَلِيلِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالَ: إِنَّ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ أَتَوْا عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَخْتَصِمُونَ إِلَيْهِ فِي وَلَدٍ، وَقَدْ وَقَعُوا عَلَى امْرَأَةٍ فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ، فَقَالَ لِلِاثْنَيْنِ مِنْهُمَا: طَيِّبَا بِالْوَلَدِ لِهَذَا، فَغَلَبَا، ثُمَّ قَالَ لِلِاثْنَيْنِ: طَيِّبَا بِالْوَلَدِ لِهَذَا، فَغَلَبَا، فَقَالَ: أَنْتُمْ شُرَكَاءُ مُتَشَاكِسُونَ، إِنِّي مُقْرِعٌ بَيْنَكُمْ، فَمَنْ قَرَعَ فَلَهُ الْوَلَدُ، وَعَلَيْهِ لِصَاحِبَيْهِ ثُلُثَا الدِّيَةِ، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَجَعَلَهُ لِمَنْ قَرَعَ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَضْرَاسُهُ، أَوْ قَالَ: نَوَاجِذُهُ. أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ، عَنْ مُسَدَّدٍ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ الْكُوفِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ مَتْرُوكٌ، وَالْأَجْلَحُ بْنُ عَبْدِ اللهِ قَدْ رَوَى عَنْهُ الْأَئِمَّةُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ ⦗٤٥١⦘ الْمُبَارَكِ وَيَحْيَى بْنُ الْقَطَّانِ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَحْتَجَّ بِهِ الشَّيْخَانِ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ الْخَلِيلِ يَنْفَرِدُ بِهِ، وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِي إِسْنَادِهِ وَرَفْعِهِ..
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا کہ ایک آدمی یمن سے آیا، اس نے کہا کہ یمن کے تین آدمیوں کا گروہ ایک بچے کا جھگڑا لے کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہوں نے ایک ہی طہر میں ایک عورت سے صحبت کی تھی، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دو سے بات کی، لیکن وہ بضد رہے، پھر دوسروں سے بات کی، وہ بھی بضد تھے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم برابر کے شریک ہو، میں تمہارے درمیان قرعہ اندازی کر دوں گا، جس کے نام قرعہ نکلا بچہ اس کا ہوگا اور اس کے ذمہ باقی ساتھیوں کے لیے دو تہائی دیت ہوگی“، تو قرعہ ڈال کر ان کا فیصلہ فرمایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں۔
محمد بن سالم کوفی نے بھی اسے شعبی سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور محمد بن سالم متروک ہے۔ اجلح بن عبداللہ سے اگرچہ ائمہ ثوری، ابن مبارک اور یحییٰ بن قطان نے روایت کی ہے، لیکن شیخین بخاری و مسلم نے اس سے حجت نہیں پکڑی، اور عبداللہ بن خلیل اسے روایت کرنے میں منفرد ہے اور اس کی سند اور مرفوع ہونے میں اس پر اختلاف کیا گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21282]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں