السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4213. -- باب:: وطء المدبرة.
-- باب: مدبرہ (لونڈی) سے ہم بستری کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 21581
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ دَبَّرَ جَارِيَتَيْنِ لَهُ، فَكَانَ يَطَؤُهُمَا وَهُمَا مُدَبَّرَتَانِ...
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کی دو لونڈیاں مدبرہ تھیں، وہ ان سے مجامعت کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المدبر/حدیث: 21581]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21582
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، فَذَكَرَاهُ بِمِثْلِهِ.
نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی کی مثل ذکر کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المدبر/حدیث: 21582]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
4214. -- باب:: ما جاء في ولد المدبرة من غير سيدها بعد تدبيرها
-- باب: مدبرہ لونڈی کے اس بچے کا بیان جو تدبیر (آقا کی موت کے بعد آزادی کے وعدے) کے بعد آقا کے علاوہ کسی اور سے پیدا ہو۔
حدیث نمبر: Q21583
ذَكَرَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، فِيهِمْ قَوْلَيْنِ: أَحَدُهُمَا: أَنَّهُمْ بِمَنْزِلَتِهَا يَعْتِقُونَ بِعِتْقِهَا، وَيُرَقُّونَ بِرِقِّهَا"، قَالَ: وَقَدْ قَالَ هَذَا بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ..
امام شافعی رحمہ اللہ نے ان (کی اولاد) کے بارے میں دو قول ذکر کیے ہیں: ”ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اسی (اپنی ماں) کے درجے میں ہیں، اس کے آزاد ہونے سے آزاد ہوں گے اور اس کے غلام رہنے سے غلام رہیں گے۔“
(امام شافعی رحمہ اللہ نے) فرمایا: ”اور یہ بات بعض اہل علم نے بھی کہی ہے...“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المدبر/حدیث: Q21583]
(امام شافعی رحمہ اللہ نے) فرمایا: ”اور یہ بات بعض اہل علم نے بھی کہی ہے...“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المدبر/حدیث: Q21583]
حدیث نمبر: 21583
أَخْبَرَنَا أَبُوحَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا حَجَّاجٌ، ثنا لَيْثٌ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، مَوْلَى الْحُرَقَةِ بَطْنٌ مِنْ بُطُونِ جُهَيْنَةَ قَالَ: أَنْكَحَ سَيِّدُ جَدَّتِي عَبْدًا لَهُ، ثُمَّ أَعْتَقَهَا عَنْ دُبُرٍ وَقَدْ وَلَدَتْ أَوْلَادًا بَعْدَ عِتْقِهَا عَنْ دُبُرٍ، ثُمَّ تُوُفِّيَ سَيِّدُهَا فَخَاصَمَتْ إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَضَى أَنَّ مَا وَلَدَتْ قَبْلَ أَنْ تُدَبَّرَ عَبِيدٌ، وَمَا وَلَدَتْ بَعْدَ التَّدْبِيرِ يَعْتِقُونَ بِعِتْقِهَا.
ابونضر فرماتے ہیں کہ عبدالرحمن بن یعقوب حرقہ قبیلہ جہینہ کے غلام تھے، وہ فرماتے ہیں کہ میری دادی کے سردار نے ایک غلام کا نکاح کر دیا اور بعد میں اس کو مدبر کر دیا، آزادی کے بعد اس کے ہاں اولاد ہوئی، پھر اس کا سردار فوت ہو گیا، تو جھگڑا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے فیصلہ فرمایا کہ جو مدبر ہونے سے پہلے کی اولاد ہے وہ غلام ہے اور جو تدبیر کے بعد کی اولاد ہے وہ آزاد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المدبر/حدیث: 21583]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21584
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" وَلَدُ الْمُدَبَّرَةِ بِمَنْزِلَتِهَا، يَعْتِقُونَ بِعِتْقِهَا، وَيُرَقُّونَ بِرِقِّهَا...
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ کہتے تھے کہ مدبرہ کی اولاد اپنی ماں کی جگہ ہے، اولاد اپنی ماں کی آزادی کی وجہ سے آزاد اور غلامی کی وجہ سے غلام رہے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المدبر/حدیث: 21584]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 21585
رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ:" الْمُدَبَّرَةُ وَلَدُهَا بِمَنْزِلَتِهَا إِذَا وَلَدَتْ، وَهِيَ مُدَبَّرَةٌ". أَخْبَرَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْغَزِّيُّ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا سُفْيَانُ فَذَكَرَهُ.
سفیان ثوری رحمہ اللہ، حضرت عبیداللہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ مدبرہ کی اولاد اپنی ماں کے مرتبہ پر ہے، جب اس نے جنم دیا وہ مدبرہ تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المدبر/حدیث: 21585]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 21586
وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ، ثنا زَاهِرٌ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا رَوْحٌ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ:" مَا أَرَى أَوْلَادَ الْمُدَبَّرَةِ إِلَّا بِمَنْزِلَةِ أُمِّهِمْ".
ابوزبیر نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ فرماتے تھے: میرا خیال ہے کہ مدبرہ کی اولاد اپنی ماں کے مرتبہ میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المدبر/حدیث: 21586]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21587
وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ، أنبأ زَاهِرٌ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّهُمْ قَالُوا:" وَلَدُ الْمُدَبَّرَةِ بِمَنْزِلَةِ أُمِّهِمْ".
عطاء، طاؤس، مجاہد اور سعید بن جبیر رحمہم اللہ یہ سب کہتے ہیں کہ مدبرہ کی اولاد اس کی ماں کے مرتبہ پر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المدبر/حدیث: 21587]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21588
وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ، أنبأ زَاهِرٌ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْغَزِّيُّ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، فِي الْمُدَبَّرَةِ وَأُمِّ الْوَلَدِ:" أَوْلَادُهُمَا بِمَنْزِلَتِهِمَا". وَرُوِّينَاهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَالزُّهْرِيِّ وَالنَّخَعِيِّ..
داؤد بن ابی ہند رحمہ اللہ، شعبی رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ مدبرہ اور ام الولد، ان دونوں کی اولاد ان کے مرتبہ میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المدبر/حدیث: 21588]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21589
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَقُولُ:" إِذَا دَبَّرَ الرَّجُلُ جَارِيَتَهُ فَإِنَّ لَهُ أَنْ يَطَأَهَا، وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَبِيعَهَا، وَلَا يَهَبَهَا، وَوَلَدُهَا بِمَنْزِلَتِهَا".
یحییٰ بن سعید نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ جب آدمی اپنی لونڈی کو مدبر کرتا ہے، تو اس کے لیے اس سے وطی (یعنی مجامعت) کرنا جائز ہے، لیکن وہ اس کو فروخت اور ہبہ نہ کرے اور اس کی اولاد اس کے مرتبہ پر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المدبر/حدیث: 21589]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح