السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4214. -- باب:: ما جاء في ولد المدبرة من غير سيدها بعد تدبيرها
-- باب: مدبرہ لونڈی کے اس بچے کا بیان جو تدبیر (آقا کی موت کے بعد آزادی کے وعدے) کے بعد آقا کے علاوہ کسی اور سے پیدا ہو۔
حدیث نمبر: 21590
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ بُكَيْرٍ، أَنَّ ابْنَ الْمُسَيِّبِ، وَأَبَا سَلَمَةَ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَا:" وَلَدُ الْمُدَبَّرَةِ بِمَنْزِلَةِ أُمِّهِمْ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَالْقَوْلُ الثَّانِي: أَنَّهُمْ مَمْلُوكُونَ، قَالَ: وَقَدْ قَالَ هَذَا غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ..
ابن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہما اللہ دونوں کہتے ہیں کہ مدبرہ کی اولاد اپنی ماں کے مرتبہ میں ہے (یعنی آزادی اور غلامی کے مسئلہ میں)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المدبر/حدیث: 21590]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21591
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ قَالَ:" أَوْلَادُ الْمُدَبَّرَةِ مَمْلُوكُونَ" قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَالَهُ غَيْرُ أَبِي الشَّعْثَاءِ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ..
ابوالشعثاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مدبرہ کی اولاد غلام ہی ہوتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المدبر/حدیث: 21591]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21592
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ كَانَ يَقُولُ فِي الْمُدَبَّرَةِ:" وَلَدُهَا عَبِيدٌ، كَحَائِطِكَ الَّذِي تَصَدَّقْتَ بِهِ إِذَا مُتَّ، لَكَ ثَمَرُهُ مَا عِشْتَ". وَكَانَ عَطَاءٌ يَقُولُ:" وَكَإِبِلِكَ تَصَدَّقْتَ بِهَا إِذَا مُتَّ، فَلَكَ وَلَدُهَا وَلَبَنُهَا مَا عِشْتَ". وَرُوِّينَاهُ، عَنْ مَكْحُولٍ..
عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابو شعثاء رحمہ اللہ مدبرہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس کی اولاد غلام ہے، اس باغ کی مانند جو آپ نے مرنے کے بعد صدقہ کر دیا، جب تک زندہ رہو تو اس کا پھل ملے گا اور عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جیسے آپ اونٹ اپنے مرنے کے بعد صدقہ کرتے ہیں، اپنی زندگی میں اس کے بچے اور دودھ آپ حاصل کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المدبر/حدیث: 21592]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21593
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا زَاهِرٌ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: حَضَرْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ فَاخْتُصِمَ إِلَيْهِ فِي أَوْلَادِ الْمُدَبَّرَةِ، فَاسْتَشَارَ مَنْ حَوْلَهُ، فَقَالَ رَجُلٌ: يُبَاعُ أَوْلَادُهَا، فَإِنَّ الرَّجُلَ يَتَصَدَّقُ بِالنَّخْلِ، فَيَأْكُلُ مِنْ ثَمَرِهَا، وَقَالَ آخَرُ قَوْلًا نَقَضًا لِلَّذِي قَالَ ⦗٥٣٣⦘ صَاحِبُهُ، قَالَ: الْمُدَبَّرَةُ يَكُونُ وَلَدُهَا بِمَنْزِلَتِهَا، قَدْ يَهْدِي الرَّجُلُ الْبَدَنَةَ فَتُنْتَجُ فَيَنْحَرُ وَلَدَهَا مَعَهَا، قَالَ عِكْرِمَةُ:" فَقَامَ وَلَمْ يَقْضِ فِيهِمْ بِشَيْءٍ". وَقَدْ رُوِيَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ مَا دَلَّ عَلَى هَذَا الْقَوْلِ..
عکرمہ بن خالد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں عبدالملک بن مروان رحمہ اللہ کے پاس حاضر ہوا تو ان کے پاس مدبرہ کی اولاد کا جھگڑا لایا گیا، تو انہوں نے اپنے اردگرد والوں سے مشورہ کیا۔ ایک آدمی نے کہا: اس کی اولاد فروخت کی جائے گی، کیونکہ آدمی کھجور صدقہ کرتا ہے لیکن اس کا پھل کھاتا ہے، اور دوسرے نے اس کی بات کاٹی، کہنے لگا: مدبرہ کی اولاد اپنی ماں کے مرتبہ میں ہے، کبھی کبھی آدمی قربانی کرتا ہے، وہ جننے والی ہوتی ہے تو اس کے بچے بھی ساتھ ذبح کر دیتا ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: وہ کھڑے ہوئے اور کوئی فیصلہ نہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المدبر/حدیث: 21593]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21594
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: ابْنَةُ عَمٍّ لِي أَعْتَقَتْ جَارِيَتَهَا عَنْ دُبُرٍ، وَلَا مَالَ لَهَا غَيْرُهَا، قَالَ:" لِتَأْخُذْ مِنْ رَحِمِهَا". زَادَ فِيهِ غَيْرُهُ:" مَا دَامَتْ حَيَّةً".
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میرے چچا کی بیٹی نے اپنی لونڈی کو اپنی موت کے بعد آزاد قرار دیا (یعنی مدبرہ بنایا)، اس کے پاس دوسرا کوئی مال نہیں تھا۔ فرمایا: وہ اس کے رحم سے حاصل کرے جب تک وہ زندہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المدبر/حدیث: 21594]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21595
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، قَالَ فِي أَوْلَادِ الْمُدَبَّرَةِ:" إِذَا مَاتَ السَّيِّدُ فَلَا نَرَاهُمْ إِلَّا أَحْرَارًا"، قَالَ: وَقَالَ عَطَاءٌ: أَوْلَادُ الْمُدَبَّرَةِ عَبِيدٌ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ حُبْلَى يَوْمَ دُبِّرَتْ. قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ أَصْحَابُنَا: فَهَذَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ جَعَلَ وَلَدَهَا مِيرَاثًا، وَعَلَّقَ الْقَوْلَ فِيهِ جَابِرٌ، وَصَرَّحَ بِذَلِكَ عَطَاءٌ، وَجَابِرُ بْنُ زَيْدٍ أَبُو الشَّعْثَاءِ..
ابوزبیر نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ وہ مدبرہ کی اولاد کے بارے میں کہہ رہے تھے کہ سید کی وفات کے بعد وہ آزاد ہیں۔ (ب) عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مدبرہ کی اولاد غلام ہے، لیکن جس دن اس کو مدبرہ بنایا گیا اس دن وہ حاملہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المدبر/حدیث: 21595]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
4215. -- باب:: ما جاء في إعتاق الكافر وتدبيره.
-- باب: کافر کے غلام آزاد کرنے اور اسے مدبر بنانے کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 21596
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ عَتَاقَةٍ وَصِلَةِ رَحِمٍ، هَلْ لِي فِيهَا مِنْ أَجْرٍ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَسْلَمْتَ عَلَى مَا سَلَفَ لَكَ مِنْ خَيْرٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مَعْمَرٍ.
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ، سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا کیا خیال ہے ان کاموں کے بارے میں جو میں جاہلیت میں عبادت کے طور پر کیا کرتا تھا، یعنی غلام آزاد کرنا اور صلہ رحمی، کیا مجھے ان میں کوئی اجر ملے گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اسلام قبول کیا ہے اس پر جو بھلائی پہلے گزر چکی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المدبر/حدیث: 21596]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21597
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ شَيْئًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ قَالَ هِشَامٌ: يَعْنِي: أَتَبَرَّرُ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَسْلَمْتَ عَلَى صَالِحِ مَا سَلَفَ ⦗٥٣٤⦘ لَكَ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَا أَدَعُ شَيْئًا صَنَعْتُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لِلَّهِ إِلَّا صَنَعْتُ لِلَّهِ فِي الْإِسْلَامِ مِثْلَهُ، قَالَ: فَكَانَ أَعْتَقَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِائَةَ رَقَبَةٍ، فَأَعْتَقَ فِي الْإِسْلَامِ مِثْلَهَا مِائَةَ رَقَبَةٍ، وَسَاقَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِائَةَ بَدَنَةٍ، وَسَاقَ فِي الْإِسْلَامِ مِائَةَ بَدَنَةٍ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَابْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ.
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا کیا خیال ہے، ان کاموں کے بارے میں جو میں جاہلیت میں عبادت کے طور پر کیا کرتا تھا؟ ہشام کہتے ہیں: یعنی میں انہیں نیکی کے طور پر کرتا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اس بھلائی پر اسلام قبول کیا جو پہلے گزر چکی۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کام میں جاہلیت خالص اللہ کے لیے کیا کرتا تھا، اسلام کے اندر بھی ویسے ہی کروں گا۔ انہوں نے جاہلیت میں سو غلام آزاد کیے تھے تو قبولِ اسلام کے بعد بھی سو غلام آزاد کیے۔ اگر جاہلیت میں سو اونٹ کی قربانی دی تھی تو اسلام میں بھی سو اونٹ کی قربانی دی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المدبر/حدیث: 21597]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
4216. -- باب:: ما جاء في تدبير الصبي ووصيته.
-- باب: نابالغ بچے کے (اپنے غلام کو) مدبر بنانے اور اس کی وصیت کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 21598
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ هَهُنَا غُلَامًا يَفَاعًا لَمْ يَحْتَلِمْ مِنْ غَسَّانَ وَوَارِثُهُ بِالشَّامِ وَهُوَ ذُو مَالٍ، وَلَيْسَ لَهُ هَهُنَا إِلَّا ابْنَةُ عَمٍّ لَهُ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" فَلْيُوصِ لَهَا"، فَأَوْصَى لَهَا بِمَالٍ يُقَالُ لَهُ بِئْرُ جُشَمٍ، قَالَ عَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ: فَبِعْتُ ذَلِكَ الْمَالَ بِثَلَاثِينَ أَلْفًا، وَابْنَةُ عَمِّهِ الَّتِي أَوْصَى لَهَا هِيَ أُمُّ عَمْرِو بْنُ سُلَيْمٍ.
عمرو بن سلیم زرقی رحمہ اللہ نے خبر دی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: یہاں غسان کا ایک قریب البلوغ لڑکا ہے جو ابھی بالغ نہیں ہوا، اس کا وارث شام میں ہے، وہ مال دار ہے اور یہاں اس کی صرف ایک چچا کی بیٹی ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر وہ اس کے لیے وصیت کر دے۔ چنانچہ اس نے اس کے لیے ایک مال کی وصیت کی، جس کو بئرِ جشم کہا جاتا ہے، عمرو بن سلیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ مال میں نے تیس ہزار میں فروخت کیا۔ اس کے چچا کی بیٹی جس کے لیے اس نے وصیت کی تھی، وہ عمرو بن سلیم کی والدہ تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المدبر/حدیث: 21598]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن مالك»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21599
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَنَّ غُلَامًا مِنْ غَسَّانَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ بِالْمَدِينَةِ وَوَارِثُهُ بِالشَّامِ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ فُلَانًا يَمُوتُ، أَفَيُوصِي؟ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" نَعَمْ فَلْيُوصِ"، قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ: وَكَانَ الْغُلَامُ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ، أَوِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً، فَأَوْصَى بِمَالٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ: بِئْرُ جُشَمٍ، فَبَاعَهَا أَهْلُهَا بِثَلَاثِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ.
ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غسان کا ایک غلام تھا، مدینہ میں اس کی موت کا وقت آگیا اور اس کے ورثاء شام میں تھے۔ یہ خبر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ملی۔ کہا گیا: فلاں مر رہا ہے، کیا وہ وصیت کر لے؟ تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ وصیت کر لے۔ ابوبکر بن محمد کہتے ہیں کہ بچے کی عمر ۱۰ سال یا ۱۲ سال تھی۔ اس نے بئرِ جشم مال کی وصیت کر دی تو اس کے ورثاء نے اس کو ۳۰ ہزار درہم میں فروخت کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المدبر/حدیث: 21599]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح