صحيح الجامع الصغير وزيادته سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
898. ارحم من في الأرض يرحمك من في السماء
جو زمین میں ہے اس پر رحم کرو، وہ تم ....
حدیث نمبر: 896
«ارحم من في الأرض يرحمك من في السماء»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”جو زمین میں ہے اس پر رحم کرو، وہ تم پر رحم کرے گا جو آسمان میں ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 896]
”جو زمین میں ہے اس پر رحم کرو، وہ تم پر رحم کرے گا جو آسمان میں ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 896]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [طب] عن جرير [طب ك] عن ابن مسعود. الروض 600، الصحيحة 925: الطيالسي، طس، طص، أبو نعيم، خط.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
899. ارحموا ترحموا واغفروا يغفر لكم، ويل لأقماع القول ويل للمصرين ....
(لوگوں پر) رحم کرو تم پر (بھی) رحم کیا جائے ....
حدیث نمبر: 897
«ارحموا ترحموا واغفروا يغفر لكم، ويل لأقماع القول ويل للمصرين الذين يصرون على ما فعلوا وهم يعلمون»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”(لوگوں پر) رحم کرو تم پر (بھی) رحم کیا جائے گا، اور معاف کرو تمہیں (بھی) معاف کیا جائے گا۔ تباہی ہے بات کو محض سن کر نکال دینے والوں کے لیے، اور ہلاکت ہے ان اڑ جانے والوں (ضد کرنے والوں) کے لیے جو اپنے کیے (گناہوں) پر جان بوجھ کر اصرار کرتے ہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 897]
”(لوگوں پر) رحم کرو تم پر (بھی) رحم کیا جائے گا، اور معاف کرو تمہیں (بھی) معاف کیا جائے گا۔ تباہی ہے بات کو محض سن کر نکال دینے والوں کے لیے، اور ہلاکت ہے ان اڑ جانے والوں (ضد کرنے والوں) کے لیے جو اپنے کیے (گناہوں) پر جان بوجھ کر اصرار کرتے ہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 897]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم خد هب] عن ابن عمرو. الصحيحة 482.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
900. أرسل ملك الموت إلى موسى فلما جاءه صكه ففقأ عينه ....
موت کا فرشتہ موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف بھیجا گیا، ....
حدیث نمبر: 898
"أرسل ملك الموت إلى موسى فلما جاءه صكه ففقأ
عينه فرجع إلى ربه فقال: أرسلتني إلى عبد لا يريد الموت فرد الله إليه عينه، وقال ارجع إليه وقل له: يضع يده على متن ثور فله بما غطت يده بكل شعرة سنة. قال: أي رب! ثم ماذا؟ قال: ثم الموت. قال: فالآن، فسأل الله أن يدنيه من الأرض المقدسة رمية بحجر فلو كنت ثم لأريتكم قبره إلى جانب الطريق تحت الكثيب الأحمر"
عينه فرجع إلى ربه فقال: أرسلتني إلى عبد لا يريد الموت فرد الله إليه عينه، وقال ارجع إليه وقل له: يضع يده على متن ثور فله بما غطت يده بكل شعرة سنة. قال: أي رب! ثم ماذا؟ قال: ثم الموت. قال: فالآن، فسأل الله أن يدنيه من الأرض المقدسة رمية بحجر فلو كنت ثم لأريتكم قبره إلى جانب الطريق تحت الكثيب الأحمر"
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”موت کا فرشتہ موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف بھیجا گیا، جب وہ ان کے پاس آیا تو انہوں نے اسے تھپڑ مارا اور اس کی آنکھ پھوڑ دی۔ وہ اپنے رب کے پاس واپس گیا اور عرض کیا: تو نے مجھے ایسے بندے کی طرف بھیجا جو موت نہیں چاہتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ ٹھیک کر دی اور فرمایا: ان کے پاس واپس جاؤ اور ان سے کہو کہ وہ اپنا ہاتھ کسی بیل کی پیٹھ پر رکھیں، پس جتنے بالوں کو ان کا ہاتھ ڈھانپ لے گا، ہر بال کے بدلے انہیں ایک سال کی عمر ملے گی۔ انہوں نے پوچھا: اے میرے رب! پھر کیا ہوگا؟ اللہ نے فرمایا: پھر موت ہے۔ انہوں نے عرض کیا: تو پھر ابھی (موت دے دے)۔ چنانچہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انہیں ارضِ مقدس (بیت المقدس) کے اتنا قریب کر دے جتنا پتھر پھینکنے کا فاصلہ ہوتا ہے۔ اگر میں وہاں ہوتا تو تمہیں راستے کے کنارے سرخ ٹیلے کے نیچے ان کی قبر ضرور دکھاتا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 898]
”موت کا فرشتہ موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف بھیجا گیا، جب وہ ان کے پاس آیا تو انہوں نے اسے تھپڑ مارا اور اس کی آنکھ پھوڑ دی۔ وہ اپنے رب کے پاس واپس گیا اور عرض کیا: تو نے مجھے ایسے بندے کی طرف بھیجا جو موت نہیں چاہتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ ٹھیک کر دی اور فرمایا: ان کے پاس واپس جاؤ اور ان سے کہو کہ وہ اپنا ہاتھ کسی بیل کی پیٹھ پر رکھیں، پس جتنے بالوں کو ان کا ہاتھ ڈھانپ لے گا، ہر بال کے بدلے انہیں ایک سال کی عمر ملے گی۔ انہوں نے پوچھا: اے میرے رب! پھر کیا ہوگا؟ اللہ نے فرمایا: پھر موت ہے۔ انہوں نے عرض کیا: تو پھر ابھی (موت دے دے)۔ چنانچہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انہیں ارضِ مقدس (بیت المقدس) کے اتنا قریب کر دے جتنا پتھر پھینکنے کا فاصلہ ہوتا ہے۔ اگر میں وہاں ہوتا تو تمہیں راستے کے کنارے سرخ ٹیلے کے نیچے ان کی قبر ضرور دکھاتا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 898]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم ق ن] عن أبي هريرة.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
901. أرض الجنة خبزة بيضاء
جنت کی زمین سفید روٹی (کی طرح) ہوگی (یعنی قیامت ....
حدیث نمبر: 899
«أرض الجنة خبزة بيضاء»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”جنت کی زمین سفید روٹی (کی طرح) ہوگی (یعنی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو ایک بہت بڑی روٹی بنا دے گا جسے اہل جنت کھائیں گے)۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 899]
”جنت کی زمین سفید روٹی (کی طرح) ہوگی (یعنی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو ایک بہت بڑی روٹی بنا دے گا جسے اہل جنت کھائیں گے)۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 899]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [أبو الشيخ في العظمة] عن جابر. الصحيحة 1438: حم.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
902. ارضخي ما استطعت ولا توعي فيوعي الله عليك
جتنا ہو سکے تھوڑا تھوڑا کر کے (اللہ کی راہ ....
حدیث نمبر: 900
«ارضخي ما استطعت ولا توعي فيوعي الله عليك»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”جتنا ہو سکے تھوڑا تھوڑا کر کے (اللہ کی راہ میں) دیتی رہو اور (مال کو) گن گن کر نہ رکھو، ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تم پر بند کر دے گا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 900]
”جتنا ہو سکے تھوڑا تھوڑا کر کے (اللہ کی راہ میں) دیتی رہو اور (مال کو) گن گن کر نہ رکھو، ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تم پر بند کر دے گا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 900]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [م ن] عن أسماء بنت أبي بكر. مختصر مسلم 551.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
903. أرضوا مصدقيكم
اپنے صدقات (زکوٰۃ) وصول کرنے والوں کو راضی رکھو۔
حدیث نمبر: 901
«أرضوا مصدقيكم»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اپنے صدقات (زکوٰۃ) وصول کرنے والوں کو راضی رکھو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 901]
”اپنے صدقات (زکوٰۃ) وصول کرنے والوں کو راضی رکھو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 901]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم م د ن] عن جرير. مختصر مسلم 509.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
904. ارفع إزارك واتق الله
اپنی ازار (تہبند یا شلوار) کو (ٹخنوں سے) اونچا رکھو ....
حدیث نمبر: 902
«ارفع إزارك واتق الله»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اپنی ازار (تہبند یا شلوار) کو (ٹخنوں سے) اونچا رکھو اور اللہ سے ڈرو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 902]
”اپنی ازار (تہبند یا شلوار) کو (ٹخنوں سے) اونچا رکھو اور اللہ سے ڈرو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 902]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [طب] عن الشريد بن سويد. الصحيحة 1441: حم، الطحاوي.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
905. ارفعوا عن بطن عرنة وارفعوا عن بطن محسر
وادی عرنہ کے نشیبی حصے سے ہٹ کر رہو اور ....
حدیث نمبر: 903
«ارفعوا عن بطن عرنة وارفعوا عن بطن محسر»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”وادی عرنہ کے نشیبی حصے سے ہٹ کر رہو اور وادی محسر کے نشیبی حصے سے بھی ہٹ کر رہو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 903]
”وادی عرنہ کے نشیبی حصے سے ہٹ کر رہو اور وادی محسر کے نشیبی حصے سے بھی ہٹ کر رہو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 903]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [ك هق] عن ابن عباس. الصحيحة 1534: ابن خزيمة، الطحاوي.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
906. ارفعوا عن بطن محسر وعليكم بمثل حصا الخذف
وادی محسر کے نشیبی حصے سے ہٹ کر رہو اور ....
حدیث نمبر: 904
«ارفعوا عن بطن محسر وعليكم بمثل حصا الخذف»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”وادی محسر کے نشیبی حصے سے ہٹ کر رہو اور (رمی کے لیے) چٹکی سے پھینکی جانے والی چھوٹی کنکریاں استعمال کرو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 904]
”وادی محسر کے نشیبی حصے سے ہٹ کر رہو اور (رمی کے لیے) چٹکی سے پھینکی جانے والی چھوٹی کنکریاں استعمال کرو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 904]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم هق] عن ابن عباس. الصحيحة 1534: الطحاوي.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
907. أرقاءكم أرقاءكم فأطعموهم مما تأكلون وألبسوهم مما تلبسون وإن جاءوا ....
اپنے ماتحتوں (غلاموں) کا خیال رکھو، اپنے ماتحتوں کا خیال ....
حدیث نمبر: 905
«أرقاءكم أرقاءكم فأطعموهم مما تأكلون وألبسوهم مما تلبسون وإن جاءوا بذنب لا تريدون أن تغفروه فبيعوا عباد الله ولا تعذبوهم»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اپنے ماتحتوں (غلاموں) کا خیال رکھو، اپنے ماتحتوں کا خیال رکھو! انہیں وہی کھلاؤ جو تم خود کھاتے ہو اور وہی پہناؤ جو تم خود پہنتے ہو، اور اگر وہ کوئی ایسا گناہ (یا غلطی) کر بیٹھیں جسے تم معاف نہیں کرنا چاہتے تو اللہ کے ان بندوں کو فروخت کر دو، لیکن انہیں سزائیں (تکلیفیں) نہ دو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 905]
”اپنے ماتحتوں (غلاموں) کا خیال رکھو، اپنے ماتحتوں کا خیال رکھو! انہیں وہی کھلاؤ جو تم خود کھاتے ہو اور وہی پہناؤ جو تم خود پہنتے ہو، اور اگر وہ کوئی ایسا گناہ (یا غلطی) کر بیٹھیں جسے تم معاف نہیں کرنا چاہتے تو اللہ کے ان بندوں کو فروخت کر دو، لیکن انہیں سزائیں (تکلیفیں) نہ دو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 905]
تخریج الحدیث: «(حسن) ... [حم ابن سعد] عن زيد بن الخطاب1. الصحيحة 740.»
قال الشيخ الألباني: حسن